بوڑھی آنکھوں کی فراست
Wednesday, 1 January 2025
Sunday, 28 July 2024
Indian Muslims are in need to be vigilant. BJP ruled states try their best to divide the nation on religious lines. The order to disclose the owner's name of hotels and food sellers in the name of religious sanctity of religious travelers, is nothing but a crystal-clear violation of constitution and secular character of the nation. RSS plan is clear, Yogi Adityanath is the face of violent Hindutva politics known in the cercle as Bulldozer Baba. Supreme Court has shown them the path by staying the order but the community needs to stand for its rights and honors.
Saturday, 20 April 2024
لڑنے سے پہلے
عقل مند زیادہ سے زیادہ مد مقابل سے لڑتا ہے ۔ سامنے خود سے زیادہ طاقتور ہو تو مڈبھیڑ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور تب تک نہیں ٹکراتا جب تک مقابلے کی سکت پیدا نہیں کر لیتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھود کر اسلحوں اور قوتوں سے لیس بڑی تعداد کے دشمن کے راست مقابلے سے بچنے کی کامیاب کوشش کی ، صلح حدیبیہ میں بظاہر تھوڑا پیچھے ہٹ کر کفار مکہ کی کڑی شرطوں کو قبول کر کے صلح کی اور بہت جلد یہ نتیجہ نگاہوں کے سامنے آ گیا کہ یہ اسٹریٹجی کتنی کامیاب رہی کہ پھر جب اہل مکہ نے صلح کے دفعات کی خلاف ورزی کی تو نہ صرف یہ کہ مکہ پر چڑھائی کی گئی بلکہ فتح و نصرت سے سرفراز بھی ہوئے ۔
Monday, 1 April 2024
وقار اور انسان
انسان کو باوقار ہونا
چاہیے ۔ باوقار ہونے کا یہ قطعا مطلب نہیں ہے کہ آدمی متکبر یا مغرور ہوبلکہ اس کا
سادہ مطلب یہ ہے کہ اس کی اپنی نظر میں اس
کا اپنا ایک خاص مقام ہو ، اس کی اپنی اخلاقی حیثیت ہو اور وہ اپنے اس رتبے کی سدا
حفاظت کرتا ہو۔باوقار ہونے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ کے پاس آپ کی جگہ اور مقام کے حساب سے مطلوب صلاحیت ہو
، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ کسی جگہ پر ہوں ، آپ کے پاس مطلوب لیاقت بھی نہیں اور آپ
اپنے وقار کی بھی حفاظت کر لے جائیں ۔صاحب خرد جگہ کے مطابق یا تو صلاحیت پیدا
کرلیتا ہے یا پھر سلیقے سے جگہ ہی بدل لیتا ہے ۔
اس کے ساتھ یہ بہت
ضروری ہے کہ آپ اخلاقی اصول و آداب کے پابند ہوں ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی مسجد
کے امام ہیں ، تقریراچھی کرتے ہیں ، تلاوت اچھی ہے ، اپنے فریضے کے معاملے میں
پابندبھی ہیں لیکن اگر جہاں تہاں اٹھتے بیٹھتے ہیں ، ہوٹلوں میں جب تب بیٹھ کر عام
لوگوں کے ساتھ باتیں بناتے ہیں اور اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ کب کہاں جایا
جاسکتا ہے اور کب کہاں جانا مخصوص سماجی آداب کے خلاف ہے تو آپ کو آپ کے حصے کا
وقار نہيں مل پائے گا ۔ لوگ آپ کو ہلکے میں لے لیں گے ۔ ایک امام کو اتنا ہی بے
تکلف ہونا چاہیے کہ لوگ اس سے اپنے مسائل دریافت کرسکیں ، اتنا نہیں کھلنا چاہیے
کہ لوگ اس کی ہیبت ، مقام اور حیثیت ہی بھول جائیں ۔توازن کی اس کمی سے بہت سے لوگ
اپنے حصے کے جائز احترام سے بھی محظوظ
نہیں ہوپاتے ۔
آدمی کے وقارکا تعلق
اس کے سماجی زندگی سے بھی ہے ۔اگر آپ جیسے تیسے رہتے ہیں تو آپ کے ساتھ کسی کا حد
سے نکل جانا نسبتا آسان ہو جاتا ہے ۔شخصی وقار اور ہیبت بہت سے برے ارادے کے لوگوں
کو آپ سے دور رکھتی ہے لیکن جب وہ ہیبت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اپنے ارادے کے
مطابق اقدام پر اتارو ہوجانا مستبعد نہیں ہوتا۔یوں یہ شخصی خوبی سماجی اہمیت کی
بھی حامل ہے ۔
باوقار آدمی زندگی کے
اصول و آداب کا پابند ہوتا ہے ۔ اس کے یہاں سچائی
ہوتی ہے ، وہ جھوٹ اور دروغ سے دور رہتا ہے ، وعدہ خلافی نہیں کرتااور اپنی
باتوں کا پابند ہوتا ہے ۔ آپ اگر باوقار زندگی جینا چاہتے ہيں تو آپ کو اچھے اخلاق
و آداب سے آراستہ ہونا چاہیے ۔ ان تمام چيزوں سے بچنا چاہیے جو انسان کے وقار کو
ٹھیس پہنچاتی ہیں جیسےاپنی معیشت کو منظم کریں ۔ اپنے اخراجات کو اپنی آمدنی کے اندر
رکھیں ، قرض لینے سے بچیں ، اس لیے کہ اگر خرچ آمدنی سے بڑھے تو آپ قرض لینے پر
مجبورہوں گےاور قرض دار آدمی کے لیے اپنے وقار کی حفاظت آسان نہیں ۔
وقار کا تعلق انسان
کے مال و منال اور علم و آگہی سے کم اور اس کے برتاؤ، رکھ رکھاؤ اور آداب و اخلاق
سے زیادہ ہے ۔ آپ کو بہت سے لوگ مل جائیں گے جو علم میں اونچے مقام پر نظر آئیں گے
لیکن ان کا کوئی وقار نہیں ہوگا ، وہیں بہت سے پیسہ والے مل جائیں گے جن کی کوئی
حیثیت نظر نہيں آئے گی جب کہ کم علم والے اور کم پیسے والے اپنے اعتبار ووقار کی
بلندی پر نظر آسکتے ہیں ۔علم کو وقار کے ذریعہ زیادہ کاگر بنایا جاسکتاہے جب کہ
وقار نہ ہو تو علم کی افادیت مجروح ہو سکتی ہے ۔
ساگر تیمی
موسی نبی کا واقعہ قرآن میں پڑھیں
موسی نبی کا واقعہ قرآن میں پڑھیں
آدم سے بھول ہو گئی رستہ بھٹک گیا
آدم سے بھول ہو گئی رستہ بھٹک گیا
Wednesday, 6 March 2024
ہمیں آپ کو جو کچھ بھی ملتا ہے وہ اللہ کا فضل ہے ۔ اللہ کی
نعمت پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور نعمت کی قدرکرنی چاہیے ۔ بڑے بڑے بول بولنے
سے گریز کرنا چاہیے ۔ دیکھا جاتا ہے کہ انسان جب نعمتوں میں ہوتا ہے تو وہ ایسی
باتیں بھی کرتا ہے جن میں ایک قسم کا غرور شامل ہوتا ہے ۔عجیب وغریب قسم کے نخرے
اور چونچلے سننے کو ملتے ہیں اور آدمی بھول جاتا ہے کہ اس کے حالات بدل بھی سکتے
ہیں ۔ 'میں تو ہمیشہ برانڈیڈ ہی استعمال کرتا ہوں' ، 'میں کبھی نچلے درجے کے ہوٹل
میں نہیں ٹھہرتا' ، 'نہ معلوم لوگ ایسی خستہ گاڑیوں میں کیسے بیٹھتے ہیں' ، 'میں ایسی
سستی چيزیں استعمال کروں تو میرا جسم ہی قبول نہیں کرتا'۔ یہ اور اس قسم کے جملے
در اصل کبر وتعلی کی کوکھ سے نکلتے ہیں ، آدمی اس میں اپنی بڑائی دیکھتا ہے لیکن
اصلا وہ اپنی عجیب وغریب نادانی کا مظاہرہ کررہا ہوتا ہے ۔ کسی کے ساتھ کوئی طبی استثنائی
صورت ہو پھر بھی اسے بطور احساس تفاخر بیان کرنے سےبچنا چاہیے ۔
آپ جس کسی انسان کے سامنے تعلی سے پر ان احساسات کا اظہار
کرتے ہیں ، اس کی نظروں سے گر جاتے ہیں ،
وہ اظہار کرے یا نہ کرے لیکن آپ کے بارےمیں اس کی رائے بن جاتی ہے کہ آپ ایک متکبر
انسان ہیں اور دوسرا بھاری نقصان یہ ہوتا ہے کہ اللہ بھی آپ سے ناراض ہوتا ہے ۔
اللہ کوبندوں کا تکبر بالکل پسند نہیں ۔ پوری کائنات کا اصل مالک تو اللہ ہی ہے ،
آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کا انعام ہے ، وہ دینے والا چھین لینے پر بھی قادر
ہے ۔ ہم نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں ایسے کئی لوگوں کو رسوائی جھیلتے دیکھا ہے ۔
اللہ کی کسی بھی نعمت پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ، اپنے
سے کمتر بندوں کو دیکھنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے نوازا
ہوا ہے ، اگر اپنے سےکمتر کسی انسان کو دیکھ کر کبر وغرور کا ذہن بنے تو فورا
اپنےسے برتر لوگوں کو دیکھ کر یہ احساس بیدار کرلینا چاہیے کہ بہت سے ہم سے بھی
آگے ہیں ۔نخرے ، چونچلے نعمتوں کے دنوں میں اچھے لگتے ہيں لیکن جب حالات بدلتے ہیں
تو یہی نخرے عذاب بن جاتے ہیں ۔ ایسی کسی بھی چيز سے دوری بنا کر رکھنا چاہیے جس
کا انجام برا ہو ۔
ساگر تیمی