Wednesday, 1 January 2025

 بوڑھی آنکھوں کی فراست

ساگر تیمی
مجھے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا آئے ہوئے ۔ حکیم صاحب کو میں نے پیشگی اطلاع دے دی تھی ۔ بازار کے ایک طرف ، شور و ہنگامہ سے دور ، ان کے بوسیدہ سے مطب کے سامنے ایک دو اور لوگ بھی تھے ، مطب کا پرانا ناہموار دروازہ ،تھا تو بند لیکن اتنا کھلا ہوا تھا کہ اندر موجود لوگوں کی جھلکیاں دکھائی پڑ جا رہی تھیں۔ لگ رہا تھا کہ کوئی جوڑا اندر ہے ۔ مجھے اب غصہ آنے لگا تھا ، وہ تو خیر کہیے کہ جو دو تین لوگ انتظار کر رہے تھے ان میں سے ایک کی گود میں ایک بڑا پیارا سا بچہ بھی تھا، وہ جتنا پیارا تھا ، اتنا ہی شوخ تھا، میری طرف دیکھ کر وہ اپنے چہرے کو ایسے بنا رہا تھا جیسے مجھے چڑھانے کی کوشش کررہا ہو اور مجھے اس کی یہ ادا بہت اچھی لگ رہی تھی ۔ میں نے بھی اسے منہ بنا بنا کر چڑھانا شروع کردیا تھا اور ہم دونوں کے بیچ مقابلہ آرائی ہونے لگی تھی ۔ منہ بنانے سے نکل کر اب وہ زبان چلانے پر آ گيا تھا اور میرے انہماک کا یہ عالم تھا کہ میں بھی بلی کی آواز نکالنے لگ گیا تھا۔ میری آواز نے ان تین لوگوں کو چونکا دیا تھا جو اب تک اپنی اپنی باری کے انتظار میں ہم دونوں کے کھیل سے مکمل غافل تھے ، اب جب آوازوں نے انہیں غفلت سے بیدار کیا تو انہیں اپنی ہنسی پر قابو پانے میں دیر لگی۔
میری بغل میں بیٹھا ہوا آدمی کچھ زیادہ ہی پریشان تھا ۔ معلوم ہوا کہ اس کی بیٹی کی شادی کو پانچ سال ہوگئے ہیں اور کوئی اولاد اب تک نہیں ہوئی ۔ بیٹی کو کہیں طلاق نہ ہوجائے ، اس لیے وہ زیادہ فکر مند تھا ۔ اسے کسی نے بتایا تھا کہ حکیم صاحب کے پاس بہت اچھا علاج ہے، کئی لوگوں کو شفا ملی ہے اور ان کی گود یہاں آنے سے بھر گئی ہے ۔ میں نے حکیم صاحب کی تعریف کی اور اسے دعائیں دیں کہ ان شاءاللہ تعالی وہ ضرور نانا بنے گا ۔ ابھی وہ اپنا اور بھی غم بانٹنا چاہتا تھا کہ حکیم صاحب کے مطب کا دروازہ کھلا ۔ جوان سال مرد و عورت نکلے اور حکیم صاحب نے مجھے اشارے سے اندر بلا لیا۔
اس سے پہلے کہ میں اپنی خفگی کا اظہار کرتا ، حکیم صاحب نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چائے پیش کی ، نگاہوں سے معذرت کی اور پھر نہ معلوم انہیں کیا سوجھی کہ مجھ سے کچھ پوچھے بغیر ہی گفتگو شروع کردی ۔حکیم صاحب وہی کوئی ساٹھ کے پیٹے میں رہے ہوں گے ۔ چہرے پر بھر کلا داڑھی تھی ، آنکھوں پر عینک جس سے ان کا چہرا خاصا سنجیدہ نظر آتا تھا، کرتا پاجامہ پر ایک بھورے رنگ کی صدری ، دھان پان سے آدمی ۔ سر پر ٹوپی اور پیشانی پر سجدے کا نشان ۔ گفتگو کرتے ہوئے کسی نکتے پر مسکراتے تو اچھے لگتے تھے ۔
ماسٹر صاحب ! کیا کہوں ؟ آپ کو انتظار کرنا پڑا لیکن مجھے آج ایسی خوشی ملی ہے کہ میں آپ کو بتائے بنا رہ بھی نہیں سکتا۔ یہ جو جوڑا گیا ہے ، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ میں نے نوٹس کیا تھا کہ وہ ہنستے مسکراتے نکلے تھے ۔ میں نے کہا : حکیم صاحب ! وہ خوش وخرم تھے ۔ ماشاءاللہ ہنستے مسکراتے جا رہے تھے ۔ مجھے تو یہ حیرانی ہے کہ آپ ان کے ساتھ پچھلے دو گھنٹے سے اندر کیوں بند تھے ؟ حکیم صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ مزید پھیل گئی اور آنکھوں کی چمک میں جیسے اور رونق سی بڑھ گئی ۔اس بار وہ تھوڑے اور اچھے لگے ۔
ماسٹر صاحب ! آج سے ایک سال قبل یہ دونوں میرے پاس آئے تھے ۔ دونوں ایک دوسرے سے پریشان تھے ، ایک دوسرے کی صورت نہیں دیکھنا چاہتے تھے ، دونوں کو باہم شکایتیں ہی شکایتیں تھیں ۔ ان کی شادی کو تین سال ہوگئے تھے لیکن ان کے بیچ کچھ بھی دلچسپ نہیں تھا۔ وہ کسی بھی طرح اس رشتے کے بندھن سے نکلنا چاہتے تھے ۔ دونوں کو لگتا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے ہیں ۔ ان کے والدین کو میرے بارے میں پتہ تھا، انہوں نے مجھ سے گزارش کی تھی اور میں انہیں اس حیثیت سے دیکھ رہا تھا کہ کہیں کوئی طبی پریشانی تو نہیں ۔ وہ دونوں فٹ تھے ۔ میں نے جب انہیں ٹٹولا تو کھلا کہ اصلا ان دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں ہے ۔
حکیم صاحب نے اپنی بات روک کر میری طرف دیکھا ۔ اپنے بقیہ مریضوں کو اندر بلایا ، دوائيں جاری رکھنے کو کہا اور پندرہ دن بعد پھر آنے کا کہہ کر میری طرف متوجہ ہوئے ۔ ماسٹر صاحب! آپ مصروف تو نہیں ہیں نا؟
میرا حال یہ تھا کہ میں ان کی کہانی میں کھویا ہوا تھا ، ویسے بھی آج کی میں نے چھٹی لی ہوئی تھی ، اس لیے میں نے انہیں بتلایا کہ میں مصروف نہیں ہوں ۔ انہوں نے ایک اور چائے میری طرف بڑھاتے ہوئے گفتگو آگے بڑھائی ۔ ماسٹر صاحب ! بات یہ تھی کہ لگ بھگ چھ مہینے تک وہ دونوں خوش وخرم تھے ، ان کے بیچ وہ سب کچھ تھا جو میاں بیوی کے بیچ ہونا چاہیے لیکن لگ بھگ شادی کے چھ مہینے بعد ان کے معاملات بگڑنے شروع ہوئے ۔ پہلے جیسا اکسائٹمنٹ نہیں رہا، ساری چيزيں سرد پڑتی گئیں ، لڑکا بھی جب کام میں مصروف ہوا تو اسے بس کام ہی کام سوجھنے لگا اور لڑکی جب توجہ سے محروم ہوئی تو چرچری ہوگئی ، بےچاری فون سے بھی کب تک دل بہلاتی ۔ رفتہ رفتہ صورت حال یہ پیدا ہوئی کہ دونوں ساتھ تو تھے لیکن جیسے ساتھ نہیں تھے ۔ ان کے درمیان محبت کا گلاب مرجھاتا چلا گيا ۔ توتو میں میں سے لڑائی جھگڑے تک کی نوبت آ گئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تنگ آگر علاحدہ ہونے کا آپشن ڈھونڈنے لگے ۔ انہیں یہ لگ رہا تھا کہ علاحدگی ہی انہیں خوشی دے سکتی ہے ۔
میرا تجربہ بتلا رہا تھا کہ انہیں کوئی طبی مسئلہ نہیں ہے ۔ دونوں اپنی بھرپور جوانی میں تھے ، لڑکا اسمارٹ تھا اور لڑکی خوب صورت، وہ تو آپ نے دیکھا ہی ہے ۔ ان کے بیچ رشتہ مضبوط رہنا چاہیے تھا لیکن بات ایسی نہیں تھی ۔ میں نے دونوں کو کھل کر باتیں کرنے دیں ۔ وہ دیر تک ایک دوسرے کی خامیاں گناتے رہے ۔ میں نے اس بیچ انہیں لڑنے بھی دیا ، وہ باتوں باتوں میں کھل گئے تھے ۔ میرے لیے یہ ایک پریشان کن صورت حال تھی لیکن میں چاہتا تھا کہ دل کا غبار نکل جائے تو اچھا ہے ۔
میں نے حکیم صاحب کو ٹوکا : حکیم صاحب ! پھر کیا ہوا ؟ یہ کایہ پلٹ کیسے ہوئی ؟ آپ میرے صبر کا امتحان ہی لیں گے یا کچھ وضاحت بھی کریں گے ؟
حکیم صاحب مسکرائے اور بات جاری رکھی ۔۔۔۔ لڑکی نے مجھ سے کہا : انکل ، یہ اگر اس زمین کا آخری آدمی بھی ہوگا تو میں اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہوں گی ۔ لڑکے نے جھٹ کہا : بول تو ایسے رہی ہے جیسے میں اس ڈائن کے ساتھ رہنے کو مرا جا رہا ہوں ۔ حکیم صاحب ! مجھے رات بھر نیند نہیں آتی ، دن بھر کام کرتا ہوں ، گھر آتا ہوں تو مزيد پریشان ہو جاتا ہوں ، اس کی زبان سے الفاظ نہیں زہر نکلتے ہیں ۔ یہ عورت بیوی بننے کے لائق ہی نہیں ۔ آپ کو اگر علاج کرنا ہی ہے تو خدارا ہماری طلاق کروا دیں ۔ ماسٹر صاحب ! طلاق کے نام سے لڑکی تھوڑی سی گھبرائی ضرور لیکن ایسا لگا کہ جیسے ایک کیفیت آئی اور گئی۔ اس نے جیسے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا : انکل ، یہ نیک کام جلد کر دیں ۔ میں ایسے بھی اس آدمی کی صورت دیکھنا نہیں چاہتی ۔ یہ صرف چیخنا چلانا جانتا ہے ، اس کی ناک پرہمیشہ صرف غصہ رہتا ہے ، اسے معلوم بھی نہیں کہ پیار کسے کہتے ہیں ، محبت کس چڑیا کا نام ہے ؟ یہ ذلیل آدمی شوہر بننے کے لائق ہی نہیں ۔ میری قسمت پھوٹی تھی کہ مجھے اس کے کھونٹے سے باندھ دیا گيا ۔
ماسٹر صاحب ! میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میں ان کا کیا کروں کہ میرے والد قبلہ آ گئے ۔ وہ اندر سے اس جوڑے کی بات سن رہے تھے ۔ انہوں نے مجھے اندر جانے کا کہا اور پھر خود بھی ان دونوں کے سر پر ہاتھ پھیر کر میرے پاس آ گئے اور کہا کہ تم اپنے مطب میں بیٹھنا لیکن ان کا علاج میں کروں گا۔ ان کا علاج طبی اصولوں سے نہيں دینی اصولوں سے ہوگا تبھی یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے باعث سکون ہوں گے ۔ والد صاحب قبلہ خود بڑے حکیم تھے ، میں نے ان کا حکم مانا ۔ وہ اندر آئے ۔ مجھے اپنی جگہ بیٹھنے کا حکم دیا ۔ خود ان دونوں کے بیچ بیٹھ گئے ۔ دونوں کو غور سے دیکھا ، مسکرائے اور کہا : آپ دونوں دل کے اچھے ہیں ، اللہ نے اچھی شکلیں دی ہیں ، پڑھے لکھے بھی معلوم پڑتے ہیں ، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے ہیں ۔ بچی تمہارا باپ میرا شاگرد ہے اور اس کے بچے کا دادا میرا ساتھی تھا ۔ میں تمہارے معاملات طے کرا دوں گا ۔ طلاق ہو جائے گی اور تم دونوں اپنی راہ الگ کرسکوگے ۔ الگ راہ سے تمہارے مسائل حل ہوں گے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا۔ البتہ اس سے قبل تمہیں میری ایک بات ماننی پڑے گی۔
ان دونوں میں یہ جرات نہیں تھی کہ وہ ابا کے سامنے نہ کہہ سکیں ۔ محسوس ہوتا تھا کہ ان کی شخصیت کے سحر میں وہ کھو گئے ہیں ۔ ابو صوم وصلاۃ اور ذکر واذکار کے بڑے پابند تھے ۔
ابو نے ان کے سامنے بس تین باتیں رکھیں تھیں ۔ ایک یہ کہ لڑکا بہر صورت وقت پر گھر آئے گا ، مسکراتا ہوا آئے گا اور وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ خرید کر لیتا ہوا آئے گا۔ دونوں میاں بیوی لازما ایک ہی بستر پر سوئيں گے اور ساتھ ہی کھانا کھائيں گے۔صبح بیوی شوہر کو ناشتہ کھلا کر رخصت کرےگی اور رات کا کھانا اپنے ہاتھوں سے بنائے گی ۔ دونوں جب تک ساتھ رہیں گے سوائے کہیں ضروری بات کرنے کے فون استعمال نہیں کریں گے ۔ انہوں نے انہیں بتایا تھا کہ اس طریقے سے علاحدگی کی راہ آسان ہو جائے گی ۔ گھروالوں اور ججوں کے سامنے مسئلہ کھڑا نہیں ہوگا، کیوں کہ تب یہ ثابت کرنے میں آسانی ہوگی کہ یہ دونوں اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے الگ ہو رہے ہیں ۔
ماسٹرصاحب ! انہوں نے وعدہ کرلیا ۔ ابو نے انہیں یاد دلایا کہ اگر وہ عمل نہیں کر سکے تو وہ ان کی کوئی مدد نہیں کر سکیں گے ۔ اس کے بعد وہ دونوں آج آئے تھے ۔ دونوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی رونما ہو چکی ہے ، دونوں ایک دوسرے سے بے حد پیار کرتے ہیں ، لڑکی تین مہینے ہوئے امید سے ہے ۔ ان کے چہرے کی بشاشت اور آنکھوں کی چمک نے آج میرا ایمان بڑھا دیا ۔ میں نے جان بوجھ کر آپ کو باہر بیٹھنے دیا تھا، ان کی داستان اتنی اچھی تھی کہ میں ان کی کہانی میں کھو گيا تھا ۔ مجھے خود پر رشک آ رہا تھا کہ یہ نیکی میرے والد کے ہاتھوں انجام پائی ۔ وہ دونوں بتا رہے تھے کہ پندرہ بیس دن کے اندر اندر انہیں سمجھ میں آ گیا تھا کہ ابو نے انہیں ازدواجی زندگی جینے کا سلیقہ سکھایا ہے ، علاحدگی کی بات تو بس بات بھرتھی ۔ ان کی زندگی میں بہار تھی ، حسن تھا ، مستیاں تھیں ، مسرتوں کے لمحات تھے اور اب تو الحمد للہ ان کی محبت کے اس گلشن میں ایک پھول بھی کھلنے والا ہے ۔ وہ دونوں ابوکا شکریہ ادا کرنے آئے تھے ۔ داستان ہی ایسی تھی کہ بڑھتی چلی گئی ۔ جب اس دن آئے تھے تب بھی دونوں بولے جا رہے تھے ، آج آئے تب بھی دونوں بول رہے تھے ، تب زہر گھول رہے تھے اور آج جیسے ان کی باتوں سے موتی جھڑ رہے تھے ۔میرے لیے اور ابو کے لیے ان دونوں کی آنکھوں میں احساس ممنونیت کے ساتھ لب پر شکریہ کے بار بار آنے والے الفاظ تھے ۔ انہوں نے مجھے ایک بڑا قیمتی تحفہ بھی دیا ۔یہ دیکھیے یہ برانڈیڈگھڑی انہوں نے ہی دی ہے ۔ اے کاش آج ابو بھی زندہ ہوتے ، انہیں کتنی خوشی ملتی !!!
ماسٹر صاحب ! اب آپ بتائیں ، آپ کس لیے مجھ سے ملنا چاہ رہے تھے ۔ آپ نے ہمارے بچوں کو پڑھایا ہے ، کوئی مسئلہ ہے تو کھل کر بتائیں ۔ ان شاءاللہ تعالی ہم بہت اچھی طرح علاج کریں گے ۔
میں انہیں کیا بتاتا کہ میرے تمام مسائل کا حل تو وہ مجھے اس داستان میں سنا ہی چکے ہیں ۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ان کی چائے کی تعریف کی اور گھر آیا تو لکھن حلوائی کی وہ جلیبی لے آیا جو ہم اپنی محبتوں کے زمانے میں ایک دوسرے کو کھلایا کرتے تھے ۔ میرے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اور جلیبی دیکھ کر صائمہ کی آنکھوں میں وہی چمک اور مسرت آئی جو برسوں پہلے آيا کرتی تھی لیکن پھر جیسے اس نے اس فرحت کو دبا لیا ۔ میں نے ایک جلیبی نکالی ، آدھی خود کھائی اورآدھی اس کے منہ میں ڈال دی ۔ پہلے تو وہ خود میں تھوڑی الجھی ، ادھر ادھر دیکھا اور جلیبی کھاتے ہوئے یوں میری بانہوں میں جھول گئی جیسے وہ بھی کب سے اسی لمحے کا انتظار کر رہی تھی ۔

Sunday, 28 July 2024

 Indian Muslims are in need to be vigilant. BJP ruled states try their best to divide the nation on religious lines. The order to disclose the owner's name of hotels and food sellers in the name of religious sanctity of religious travelers, is nothing but a crystal-clear violation of constitution and secular character of the nation. RSS plan is clear, Yogi Adityanath is the face of violent Hindutva politics known in the cercle as Bulldozer Baba. Supreme Court has shown them the path by staying the order but the community needs to stand for its rights and honors.

The recent onslaught at Madrasa system is something which can't be ignored. This is fundamental right of a citizen to decide his education institution, it is his right to open a Madrasa and run it and inculcate religious education. None can object or deny anyone his fundamental rights. The community leaders should wake up and should not leave any stone unturned to save the rights of the community. They should contact opposition leaders, civil society and make it a clear point, at the same time they should not ignore the need to make the community aware through different means.
After 2024 general election result it seems that BJP regimes are taking revenge from Muslims, the incident of mob lynching is increasing, the targeting of Muslim homes is increasing and the governments are doing every thing that hurts them.
This is the time of action, sacrifice and courage. If political leaders don't have the courage the community leaders particularly Ulemas should step up and lead from the front. This is a continued battle; don't rest otherwise you will be wiped out.
Sagar Taimi

Saturday, 20 April 2024

لڑنے سے پہلے

 عقل مند زیادہ سے زیادہ مد مقابل سے لڑتا ہے ۔ سامنے خود سے زیادہ طاقتور ہو تو مڈبھیڑ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور تب تک نہیں ٹکراتا جب تک مقابلے کی سکت پیدا نہیں کر لیتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھود کر اسلحوں اور قوتوں سے لیس بڑی تعداد کے دشمن کے راست مقابلے سے بچنے کی کامیاب کوشش کی ، صلح حدیبیہ میں بظاہر تھوڑا پیچھے ہٹ کر کفار مکہ کی کڑی شرطوں کو قبول کر کے صلح کی اور بہت جلد یہ نتیجہ نگاہوں کے سامنے آ گیا کہ یہ اسٹریٹجی کتنی کامیاب رہی کہ پھر جب اہل مکہ نے صلح کے دفعات کی خلاف ورزی کی تو نہ صرف یہ کہ مکہ پر چڑھائی کی گئی بلکہ فتح و نصرت سے سرفراز بھی ہوئے ۔

دنیا کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یونین اور یو ایس اے دنیا کی دو بڑی طاقتیں تھیں جن کے بیچ سرد جنگ جاری رہی ۔ سوویت اتحاد افغانستان میں جا کر دس سالوں تک برسر پیکار رہا، امریکہ نے موقع کا فائدہ اٹھایا ، افغان میں لڑنے والوں کی مدد کی اور سوویت اتحاد دس سالوں تک لڑنے کے بعد شکست سے دو چار ہوا۔
اس شکست کے ساتھ ہی امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور رہ گیا ۔ پورے تیس سالوں تک اس نے دنیا میں من مانی کی ، روس اس درمیان خاموش رہا ، جب تب اقوام متحدہ میں ویٹو کرنے کے علاوہ اس نے کچھ بہت دھماکے دار نہیں کیا لیکن جب امریکہ بھی افغانستان پر حملہ آور ہوا ، لگ بھگ بیس سالوں تک لڑتا رہا لیکن نتیجہ بر عکس طور پر یہی رونما ہوا کہ وہ جنہیں شکست دینے گیا تھا انہیں کے ہاتھوں میں ملک چھوڑ کر اسے بھاگنے میں عافیت محسوس ہوئی تو دنیا سمیت روس نے بھی سمجھ لیا کہ سپر پاور اب کہاں کھڑا ہے ؟ اس نے یوکرین پر حملہ بول دیا ۔ حال یہ ہے کہ پورا یوروپ اس صورت حال سے پریشان ہے ۔ یہاں سیکھنے کا پہلو یہ ہے کہ روس نے انتظار کیا ۔ ملکوں کی زندگی میں تیس سال کم نہیں ہوتے ۔ آپ تیاری کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں اور حماقت کرنا چاہیں تو بغیر تیاری کے الجھ کر خود کو بھاری نقصان سے دو چار کر سکتے ہیں ۔
اس معاملے میں ایک روشن مثال ہندوستان کی ہے ۔ آزادی کے بعد بھارت نے پاکستان اور چین سے جنگیں لڑیں اور ان جنگوں سے سیکھا کہ یہ ہمارے لیے نقصان کا راستہ ہے ۔ چین نے انڈیا کی زمین پر قبضہ کر لیا ، حزب اختلاف ہنگامہ کرتا رہا لیکن وزیر اعظم مودی نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے چین سے مڈبھیڑ کی نوبت آئے ۔ اپنی طاقت کا اشتہار دینے والے وزیر اعظم نے چین سے لڑنے کی حماقت نہیں کی اور الٹے یہ مان لیا کہ ہماری زمین پر قبضہ ہی نہیں ہوا ہے ۔
عالم اسلام کے پاس سمجھداری سے کام لینے کا بھی راستہ کھلا ہوا ہے اور حماقت کا بھی ۔ تیاری کرنے والے ہنگامہ نہیں کرتے اور جب تیاری ہو چکی ہو تو انہیں دبنے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن بغیر تیاری کے میدان میں کودنے کی بے جا جرات صرف بے وقوف ہی کرتے ہیں ۔
ساگر تیمی

Monday, 1 April 2024

وقار اور انسان

 

انسان کو باوقار ہونا چاہیے ۔ باوقار ہونے کا یہ قطعا مطلب نہیں ہے کہ آدمی متکبر یا مغرور ہوبلکہ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ  اس کی اپنی نظر میں اس کا اپنا ایک خاص مقام ہو ، اس کی اپنی اخلاقی حیثیت ہو اور وہ اپنے اس رتبے کی سدا حفاظت کرتا ہو۔باوقار ہونے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ کے پاس  آپ کی جگہ اور مقام کے حساب سے مطلوب صلاحیت ہو ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ کسی جگہ پر ہوں ، آپ کے پاس مطلوب لیاقت بھی نہیں اور آپ اپنے وقار کی بھی حفاظت کر لے جائیں ۔صاحب خرد جگہ کے مطابق یا تو صلاحیت پیدا کرلیتا ہے یا پھر سلیقے سے جگہ ہی بدل لیتا ہے ۔

اس کے ساتھ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اخلاقی اصول و آداب کے پابند ہوں ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی مسجد کے امام ہیں ، تقریراچھی کرتے ہیں ، تلاوت اچھی ہے ، اپنے فریضے کے معاملے میں پابندبھی ہیں لیکن اگر جہاں تہاں اٹھتے بیٹھتے ہیں ، ہوٹلوں میں جب تب بیٹھ کر عام لوگوں کے ساتھ باتیں بناتے ہیں اور اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ کب کہاں جایا جاسکتا ہے اور کب کہاں جانا مخصوص سماجی آداب کے خلاف ہے تو آپ کو آپ کے حصے کا وقار نہيں مل پائے گا ۔ لوگ آپ کو ہلکے میں لے لیں گے ۔ ایک امام کو اتنا ہی بے تکلف ہونا چاہیے کہ لوگ اس سے اپنے مسائل دریافت کرسکیں ، اتنا نہیں کھلنا چاہیے کہ لوگ اس کی ہیبت ، مقام اور حیثیت ہی بھول جائیں ۔توازن کی اس کمی سے بہت سے لوگ اپنے حصے کے جائز احترام سے بھی محظوظ  نہیں ہوپاتے ۔

آدمی کے وقارکا تعلق اس کے سماجی زندگی سے بھی ہے ۔اگر آپ جیسے تیسے رہتے ہیں تو آپ کے ساتھ کسی کا حد سے نکل جانا نسبتا آسان ہو جاتا ہے ۔شخصی وقار اور ہیبت بہت سے برے ارادے کے لوگوں کو آپ سے دور رکھتی ہے لیکن جب وہ ہیبت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اپنے ارادے کے مطابق اقدام پر اتارو ہوجانا مستبعد نہیں ہوتا۔یوں یہ شخصی خوبی سماجی اہمیت کی بھی حامل ہے ۔

باوقار آدمی زندگی کے اصول و آداب کا پابند ہوتا ہے ۔ اس کے یہاں سچائی  ہوتی ہے ، وہ جھوٹ اور دروغ سے دور رہتا ہے ، وعدہ خلافی نہیں کرتااور اپنی باتوں کا پابند ہوتا ہے ۔ آپ اگر باوقار زندگی جینا چاہتے ہيں تو آپ کو اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ ہونا چاہیے ۔ ان تمام چيزوں سے بچنا چاہیے جو انسان کے وقار کو ٹھیس پہنچاتی ہیں جیسےاپنی معیشت کو منظم  کریں ۔ اپنے اخراجات کو اپنی آمدنی کے اندر رکھیں ، قرض لینے سے بچیں ، اس لیے کہ اگر خرچ آمدنی سے بڑھے تو آپ قرض لینے پر مجبورہوں گےاور قرض دار آدمی کے لیے اپنے وقار کی حفاظت آسان نہیں ۔

وقار کا تعلق انسان کے مال و منال اور علم و آگہی سے کم اور اس کے برتاؤ، رکھ رکھاؤ اور آداب و اخلاق سے زیادہ ہے ۔ آپ کو بہت سے لوگ مل جائیں گے جو علم میں اونچے مقام پر نظر آئیں گے لیکن ان کا کوئی وقار نہیں ہوگا ، وہیں بہت سے پیسہ والے مل جائیں گے جن کی کوئی حیثیت نظر نہيں آئے گی جب کہ کم علم والے اور کم پیسے والے اپنے اعتبار ووقار کی بلندی پر نظر آسکتے ہیں ۔علم کو وقار کے ذریعہ زیادہ کاگر بنایا جاسکتاہے جب کہ وقار نہ ہو تو علم کی افادیت مجروح ہو سکتی ہے ۔

ساگر تیمی

موسی نبی کا واقعہ قرآن میں پڑھیں

 موسی نبی کا واقعہ قرآن میں پڑھیں

ساگر تیمی
ہم تو کہيں گے آپ بھی رمضان میں پڑھیں
گھر میں ہوں بند یا کہيں میدان میں پڑھیں
ہوگا اضافہ آپ کے ایمان میں پڑھیں
موسی نبی کا واقعہ قرآن میں پڑھیں
فرعون چاہتا تھا کہ بچوں کا قتل ہو
کوئی بچے نہیں کہ کہیں اس کا قتل ہو
بیٹی بچائی جائے مگر بیٹا قتل ہو
یوں اس کے مارے جانے کا اندیشہ قتل ہو
لیکن اسے اللہ کی حکمت پتہ نہیں
موسی پہ کیسی ہونی ہے رحمت پتہ نہیں
اس کے ہی گھر میں ملنی ہے عزت پتہ نہيں
اس نور سے چھٹے گی یہ ظلمت پتہ نہيں
موسی جواں ہوئے تو جوانی نےشان لی
ظالم کو ایک گھونسا لگایا تو جان لی
سازش کی اطلاع ملی موسی نے مان لی
یوں شہر سے نکلنے کی بندے نے ٹھان لی
نکلے جو دور چور تھکن سے ہوئے نڈھال
پروردگار میرے نکلنے کی رہ نکال
کنویں میں اپنی قوت بازو سے ڈول ڈال
موسی نے لڑکیوں کی حیا کا رکھا خیال
شادی کی بات طے ہوئی انعام بھی ملا
بکری چرانے کا انہیں اک کام بھی ملا
لوٹے جو اپنے ملک تو اکرام بھی ملا
لینے گئے جو آگ تو پیغام بھی ملا
اب حکم یہ ملا کہ محبت کی راہ چل
ظلم وستم کے بیچ بھی حکمت کی راہ چل
فرعون کی طرف بھی تو دعوت کی راہ چل
لے ساتھ اپنے بھائی کو عظمت کی راہ چل
جب معجزہ دکھایا گيا حق تھا سامنے
جادوگروں کو لایا گيا حق تھا سامنے
سجدے میں سر جھکایا گيا حق تھا سامنے
فرعون کا سہارا گيا حق تھا سامنے
پھر معرکہ ہوا تو بڑا معجزہ ہوا
موسی کےلیے بحر میں بھی راستہ ہوا
فرعون دریا برد ہوا واقعہ ہوا
مرنے کو مرگيا مگر عبرت کدہ ہوا
اللہ کےنبی کی مگر تھی عجیب قوم
بچھڑے کو پوجنے لگی یہ بدنصیب قوم
ظلمت سے کب نکلتی بھلا یہ غریب قوم
پھانسی پہ خود ہی چڑھنے لگی بے صلیب قوم
جاہل تھی من وسلوی سے انکار کردیا
نعمت ملی تو اس کو بھی بے کار کردیا
لڑنے کی بات آئی تو تکرار کردیا
یوں ہر قدم پہ ظلم کا انبار کردیا
ملعون یوں ہوئی کہ تکبر میں مست تھی
پستی میں ڈوبتی گئی ذلت پرست تھی
بندر بنایا رب نے کہ ظلمت میں سخت تھی
یعنی کہ بود ہوگئی حالاں کہ ہست تھی
موسی کی زندگی سے نصیحت بھی لیجیے
حق کی ہی جیت ہوگی یہ عبرت بھی لیجیے
یعنی غلط سے لڑنے کی قوت بھی لیجیے
چلنا ہے حق کی رہ پہ تو ہمت بھی لیجیے
جینے کی راہ جیت کا عنوان سیکھیے
ہر ہر قدم پہ فتح کا امکان سیکھیے
جنت میں کیسے جائےگا انسان سیکھیے
ساگر کی بات مانیے قرآن سیکھیے

آدم سے بھول ہو گئی رستہ بھٹک گیا

 آدم سے بھول ہو گئی رستہ بھٹک گیا

ساگر تیمی
اللہ نے یہ چاہا کہ عالم سجایا جائے
آدم بنایا جائے خلیفہ بنایا جائے
اللہ کے فرشتوں نے لیکن یہ بات کی
ہم ہیں تو کس لیے کوئی دوجا بنایا جائے
اللہ نے دکھا دیا حکمت کی بات ہے
آدم وہ جانتا ہے جو عزت کی بات ہے
اللہ گر نہ چاہے تو کیا جانیں فرشتے
آدم کا ہونا رب کی مشیئت کی بات ہے
پھر حکم یہ ہوا کہ فرشتے ہوں سجدہ ریز
ابلیس بھی یہی کرے ہو جائے سجدہ ریز
مانا ملائکہ نے تو ابلیس نے کہا
مٹی کے آگے آگ کیوں ہو جائے سجدہ ریز
مٹی تو پست ہے سدا پستی میں جائے گی
جب بھی اٹھے گی آگ بلندی میں جائے گی
میں آدم خاکی کو بڑا کیسے سمجھ لوں
یہ ٹیس دور تک میری ہستی میں جائے گی
اللہ کو پسند نہیں آئی یہ تمکنت
لکھ دی گئی سدا کے لیے اس کی مذمت
اس نے بھی آدمی سے عداوت کی ٹھان لی
اور مانگ لی اللہ سے اس کی بھی اجازت
آدم کو اس کے رب نے تو جنت میں گھر دیا
نعمت کی زندگی دی محبت نگر دیا
حوا کو اس کی بیوی بنا کر قدیر نے
یوں زندگی کو ساری عنایت سے بھر دیا
جنت کی ساری نعمتیں آدم کے واسطے
ساری عنایتیں رہیں آدم کے واسطے
بس ایک ہی درخت سے روکا گیا اسے
ویسے تھیں ساری راحتیں آدم کے واسطے
ابلیس کو مگر نہیں بھائی یہ عنایت
اس نے یہ چاہا کیوں نہ ہو آدم کو بھی کلفت
آکر ملا تو پیار سے کہنے لگا ذلیل
کھالے درخت سے کہ ہمیشہ رہے نعمت
آدم میں تیرا دوست ہوں ، سچا ہوں ، یار ہوں
تیرے لیے میں کب سے بہت بے قرار ہوں
میرا کہا جو مان تو راحت میں رہے گا
میں ہوں تیرا صدیق تیرا غم گسار ہوں
روکا گیا ہے تجھ کو کہ محروم تو رہے
ایسا نہ ہو کہ واقعی محروم تو رہے
جنت میں اک درخت ہی تو ہے بہت عظیم
اس سے رہے جو دور تو محروم تو رہے
آدم سے بھول ہوگئی رستہ بھٹک گیا
دشمن کی میٹھی باتوں سے بندہ بھٹک گیا
جنت سے یوں نکالا گیا بے ستر ہوا
اب سوچ ہی رہا ہے کہ کیسا بھٹک گيا
آيا زمین پر تو ندامت بڑی ہوئی
اللہ بخش دے کہ خجالت بڑی ہوئی
ہم نے ہی اپنے نفس پہ یہ ظلم ہے کیا
کر درگزر کہ ہم سے حماقت بڑی ہوئی
بخشے گا تو نہیں تو ہم ہو جائیں گے تباہ
ہم سے تو ہو گیا ہے بہت ہی بڑا گناہ
لیکن تمہاری ذات غفور رحیم ہے
بخشش سے کر سفید یہ اعمال سب سیاہ
اللہ نے قبول کی آدم کی سب دعا
لغزش تو ہوگئی مگر سچی ہے یہ وفا
آنسو گرے تو رب نے رکھی لاج اشک کی
انسان بھول جاتا ہے لیکن یہی ادا
آدم کے واقعے میں نصیحت کی بات ہے
شیطان سے ہماری عداوت کی بات ہے
ساگر خدا کی مان لے شیطاں سے دور رہ
تیرے لیے یہی تو خلافت کی بات ہے

Wednesday, 6 March 2024

 

ہمیں آپ کو جو کچھ بھی ملتا ہے وہ اللہ کا فضل ہے ۔ اللہ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور نعمت کی قدرکرنی چاہیے ۔ بڑے بڑے بول بولنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ دیکھا جاتا ہے کہ انسان جب نعمتوں میں ہوتا ہے تو وہ ایسی باتیں بھی کرتا ہے جن میں ایک قسم کا غرور شامل ہوتا ہے ۔عجیب وغریب قسم کے نخرے اور چونچلے سننے کو ملتے ہیں اور آدمی بھول جاتا ہے کہ اس کے حالات بدل بھی سکتے ہیں ۔ 'میں تو ہمیشہ برانڈیڈ ہی استعمال کرتا ہوں' ، 'میں کبھی نچلے درجے کے ہوٹل میں نہیں ٹھہرتا' ، 'نہ معلوم لوگ ایسی خستہ گاڑیوں میں کیسے بیٹھتے ہیں' ، 'میں ایسی سستی چيزیں استعمال کروں تو میرا جسم ہی قبول نہیں کرتا'۔ یہ اور اس قسم کے جملے در اصل کبر وتعلی کی کوکھ سے نکلتے ہیں ، آدمی اس میں اپنی بڑائی دیکھتا ہے لیکن اصلا وہ اپنی عجیب وغریب نادانی کا مظاہرہ کررہا ہوتا ہے ۔ کسی کے ساتھ کوئی طبی استثنائی صورت ہو پھر بھی اسے بطور احساس تفاخر بیان کرنے سےبچنا چاہیے ۔

آپ جس کسی انسان کے سامنے تعلی سے پر ان احساسات کا اظہار کرتے ہیں ، اس کی نظروں  سے گر جاتے ہیں ، وہ اظہار کرے یا نہ کرے لیکن آپ کے بارےمیں اس کی رائے بن جاتی ہے کہ آپ ایک متکبر انسان ہیں اور دوسرا بھاری نقصان یہ ہوتا ہے کہ اللہ بھی آپ سے ناراض ہوتا ہے ۔ اللہ کوبندوں کا تکبر بالکل پسند نہیں ۔ پوری کائنات کا اصل مالک تو اللہ ہی ہے ، آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کا انعام ہے ، وہ دینے والا چھین لینے پر بھی قادر ہے ۔ ہم نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں ایسے کئی لوگوں کو رسوائی جھیلتے دیکھا ہے ۔

اللہ کی کسی بھی نعمت پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ، اپنے سے کمتر بندوں کو دیکھنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے نوازا ہوا ہے ، اگر اپنے سےکمتر کسی انسان کو دیکھ کر کبر وغرور کا ذہن بنے تو فورا اپنےسے برتر لوگوں کو دیکھ کر یہ احساس بیدار کرلینا چاہیے کہ بہت سے ہم سے بھی آگے ہیں ۔نخرے ، چونچلے نعمتوں کے دنوں میں اچھے لگتے ہيں لیکن جب حالات بدلتے ہیں تو یہی نخرے عذاب بن جاتے ہیں ۔ ایسی کسی بھی چيز سے دوری بنا کر رکھنا چاہیے جس کا انجام برا ہو ۔

ساگر تیمی