Wednesday, 3 January 2024

 

عظیم علمی و دینی شخصیات اور علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

ثناءاللہ صادق تیمی

آج سے کئی سال قبل مؤقر عربی رسالہ " ثقافۃ الھند " کے مولانا آزاد نمبر کے لیے میں نے ایک مقالہ لکھا تھا ۔ اس میں  امام الھند کی کتاب " تذکرہ " کی روشنی میں ان کی زندگی کا جائزہ لیا گيا تھا ۔ میں نےاس میں لکھا تھا کہ امام الھند بزرگوں کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں جیسے انہیں تذکروں میں  ان کا بھی تذکرہ موجود ہو، وہ انہيں کے ساتھ خود کو پاتے ہوں اور انہیں کے جیسے بننا چاہتے ہوں ۔

حسن اتفاق یہ ہے کہ ہمارے محسن ومربی علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ کے خود نوشت سوانح حیات  کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی کچھ یہی احساس دامنگیر رہا ۔ آپ نے محدثین کا تذکرہ جس محبت اور جوش سے لکھا ہے اس سے خود آپ کی شخصیت بھی جلوہ گر ہوتی ہے ۔ یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ ہمارے مربی جن بزرگوں سے بہت متاثر رہے ہیں ان میں ایک نام اما م الھند مولانا ابوالکلام آزاد کا بھی ہے ۔

علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی کو جاننے والے اور ان کے خود نوشت سوانح " کاروان حیات " سے استفادہ کرنے والے یقینا جانتے ہوں گے کہ انہوں نے بھرپور علمی اور عملی زندگی جی ہے ۔ جامعہ امام ابن تیمیہ ، کلیۃ خدیجہ الکبری لتعلیم البنات اور ڈی ایم ایل پبلک اسکول کو دیکھ کر سوائے اندھے متعصب کے کوئی بھی ان کا قائل ہوجائے گا اور اگر اوپر سے اس کے سامنے آپ کی علمی و ادبی تصنیفات بھی ہوں تو رشک کیے بنا نہ رہ سکے گا ۔

ہر بڑے انسان کی کوئی نہ کوئی ایسی مابہ الامتیاز چيز ہوتی ہے جو اس کی شخصیت کا بنیادی فیچر بن جاتی ہے جس کے ذریعے اسے دور سے پہچانا جاسکتا ہے اور اس کی شناخت کی جاسکتی ہے ۔علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ کی زندگی کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ آپ کی شخصیت کا سب سے نمایاں اور قابل ذکر فیچر کتاب وسنت سے محبت اور دین اسلام کی سربلندی کی چاہت ہے اور جیسے ہر ایک کام کے پیچھے یہی بنیادی سبب کارفرما ہے ۔ آپ اگر ان کے ذریعے کیے گئے کاموں پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد ان کی تصنیفات و تالیفات پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال لیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی اور اگر آپ کو الصادق الامین ، اھتمام المحدثین ، تیسیر الرحمن لبیان القرآن اور کاروان حیات کے مطالعہ کا موقع مل جائے توآپ کا رواں رواں اس کی گواہی دینے لگے گا ۔

علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ کی شخصیت کا بنیادی محور یہی ہے ۔ یہیں سے کسی کے ساتھ ان کے تعلقات کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے ۔ کاروان حیات شروع سے اخیر تک پڑھ جائیے آپ کو قدم قدم پر اس کی شہادیتیں بکھری ہوئی ملیں گی ۔ چنانچہ جب وہ اپنے خاندان کے افراد کا ذکر تے ہیں تو ان بزرگوں کو یاد کرتے ہیں جو کتاب وسنت پر عمل کرنے والے اور اللہ کی عبادت میں زندگی کھپانے والے تھے ۔اپنے دادا کا بار بار ذکر خیر کرتے ہیں کہ وہ تحریک شہیدین کا حصہ تھے اور اٹھارہ سال کا عرصہ اسی راہ میں لگایا تھا ، دارالعلوم احمد یہ سلفیہ کے اپنے اساتذہ کا محبت وعقیدت کے ساتھ تذکرہ چھیڑتے ہیں اور اپنی ممنوینت کا اظہار کرتے ہيں کہ انہوں نے آپ کے اندر کتاب وسنت کی محبت اندر تک اتاردی ۔کتاب وسنت سے محبت اور شوکت اسلام کا یہی جذبہ ہے کہ وہ ہر اس آدمی سے محبت کرتے ہیں جو انہیں اس راہ کا راہی نظر آتا ہے ، شاہ فیصل کے بارے میں کاروان حیات میں جس جوش عقیدت سے آپ نے لکھا ہے اس سے یہ حقیقت اور بھی مترشح ہوتی ہے کیوں کہ شاہ فیصل ایک طرح سے  شوکت اسلام اور غلبہ دین کی علامت بن گئے تھے ۔

آپ لکھتے ہیں " لو‏گوں نے انہيں گولی مارے جانے کے کئی اسباب ووجوہ بیان کیے ہیں لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ انہوں نے امت اسلامیہ کو جگانا شروع کردیا تھا اور خلافت راشدہ کے پیٹرن پر خلافت اسلامیہ یا اتحاد المسلمین کی آواز اٹھائی تھی اور اس کی پہلی کانفرنس پاکستان میں ہوئی تھی جس میں یوغنڈا کے صدر عیدی امین نے شاہ فیصل کا ہاتھ پکڑ کر نہایت عزت واحترام کے ساتھ اٹھایا تھا اور کانفرنس میں شریک تمام زعمائے اسلام کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ آئيے ، ہم سب مل کر انہیں اپنا خلیفہ بنالیں اور جواب میں شاہ فیصل نے کہا تھا کہ ابھی وقت نہيں آيا۔ یعنی ہمیں یہی کچھ کرنا ہے لیکن ابھی ایسا کرنا قبل از وقت ہوگا "

 " کاروان حیات " میں علامہ نے اپنے بہت سے اساتذہ کو یاد کیا ہے لیکن جن کا تعلق کتاب وسنت اور توحید و اتباع سے رہا ہے ان کے بارے میں لکھتے ہوئے آپ کے قلم کی جولانی دیدنی ہے ، محبت و مودت اور احترام و عقیدت کے پھول نچھاور کرتے چلے جاتے ہیں اور جن کے یہاں تقلید و جمود کے جراثیم پائے جاتے ہیں ان کے ذکر میں احترام و ادب کے باوجود وہ کیفیت آہی جاتی ہے جو کتاب وسنت اور توحید و اتباع کا جذبہ رکھنے والوں کے یہاں آجائے گی ۔

جن عظیم علمی و دینی شخصیات سےآپ کا رشتہ رہا ان میں ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی ، مولانا مختار احمد ندوی ، مولانا حفیظ الرحمن عمری اور  علامہ احسان الہی ظہیر بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ آپ ان تمام شخصیات کو جاننے کی کوشش کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ سب کے سب مختلف حیثیتوں سے کتاب وسنت کی اطاعت کے داعی اور شوکت اسلام کے لیے کام کرنے والے ہیں ۔ کاروان حیات میں علامہ نے ان تما م سے  اپنی محبت کا ذکر جس طرح سے کیا ہے اس سے خود ان کی شخصیت کو سمجھنے میں بہت آسانی ہوجاتی ہے ۔ ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی تو خیر سے ان کے محسن تھے اور مولانا مختار احمد ندوی ان کے بزرگ لیکن شیخ حفیظ الرحمن عمری اور علامہ احسان الہی ظہیر تو ساتھی تھے لیکن جس انداز میں ان کی خوبیوں اور علمی فتوحات کا اعتراف کیا ہے وہ یقینا بہت خاصے کی چيز ہے ۔

ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی  رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں " ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ ایک ممتاز سلفی عالم اور ماہر وموثر خطیب بھی تھے ، اپنی تقریروں کے ذریعہ مجلس پر چھاجاتے تھے ۔ توحید باری تعالی اور اتباع قرآن وسنت پر ان کی ساحرانہ تقریریں بہت مشہور ہیں ۔ مطب اور دارالعلوم کی گوناگوں مشغولیتوں کے باجود علاقے میں گھوم گھو م کر دعوت و ارشاد کا کام کرنا انہی کا خاصہ تھا "کاروان حیات ص 43

امام الھند اور شیخ حفیظ الرحمن عمری کو دیکھیے کس طرح یاد کرتے ہيں " اسی سرزمین مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم پر میں برادر گرامی قدر جناب شیخ حفیظ الرحمن عمری حفظہ اللہ کے ساتھ رشتہ اخوت و محبت میں بندھ گیا اور انہوں نے ہی امام الھند کی کتابوں کے مطالعہ کی رغبت دلائی ، چنانچہ میں امام الھند  کی کتابیں ہندوپاک سے منگاکر اور احباب سے حاصل کرکے پڑھنے لگا اور روزانہ ڈیرھ دوبجے رات تک ان کا مطالعہ کرنے لگا اور امام الھند کے انقلابی اور تجدیدی افکار مجھ میں اثر کرنے لگے اور جب ہندوستان جاتا تو انہی کے لب ولہجہ اور اسلوب خاص میں اپنی گفتگو اور تقریروں کو ڈھالنے لگا اور غیر شعوری طور پر امام الھند میرے آئڈیل بن گئے ۔ ان کی سلفیت ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے غایت درجہ ان کی محبت اور اپنے خاندان کی قبرپرستی ، پیر پرستی اور سلفیوں سے ان لوگوں کی انتہا درجہ کی نفرت کے باوجود ان کا برملا اعلان حق پرستی اور قرآن وسنت کو اپنی تالیفات میں سب کچھ پر مقدم رکھنے کا شیوہ انقلاب انگیز میرے اور ان کے درمیان قدر مشترک بن گیا " کاروان حیات ص 73

علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کی ایک تقریر پر اپنا تاثریوں رقم کرتے ہیں "  ۔۔۔ پھر اس اللہ کے شیر کی تقریر شروع ہوگئی اور مسلک اہل حدیث کی حقانیت پر قرآن وسنت سےدلائل کا ایک انبار لگانے لگے اور ان سے استدلال واقامت حجت کے ایسے ایسے محیرالعقول اور اچھوتے اطوار واسالیب بیان کرنے لگے کہ مجھے لگا یہ دلائل و براہین میں آج اپنی زندگی میں پہلی بار سن رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ علامہ رحمہ اللہ کی اس تقریر کو سننے کے بعد ان کے رعب و جلال کا ایک ملا جلا تاثر میرے قلب و نظر کی گہرائیوں میں ثبت ہوچکا تھا اور ل نے گواہی دے دی کہ علامہ  رحمہ اللہ ایک تاریخ ساز شخصیت کے مالک ہو چکے ہیں اور میدان خطابت میں ان کا اس زمانہ میں کوئی ثانی نہیں " کاروان حیات ص 93- 94

علامہ قرآن وسنت کے عالم بھی ہیں اور ان کے شیدائی بھی ۔ زندگی کے تمام مسائل کا حل انہيں قرآن وسنت میں موجود نظر آتا ہے ۔ وہ ان تمام فقہا محدثين سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے قرآن وسنت سے مسائل مستنبط کیے ، ہر معاملے میں قرآن وسنت کو رواج دیا ، منطق وفلسفہ کی بجائے آيات و احادیث کو محور بنایا اور تقلید و آرائے رجال کی پروا نہیں کی   بلکہ ہر ہر معاملے میں قرآن وسنت کو عام کرنے کا کام کیا ۔

مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں " مولانا جیسا باغیرت سلفی میں نےبہت کم  دیکھا ہے ۔ قرآن وسنت کی رفعت وبلندی کے سلسلہ میں وہ کبھی کسی مدارات و مجاملت کو گوارہ نہیں کرتے تھے ۔ ان کے تعلقات بہت سے غیر سلفی علماء اور مفکرین ودعاۃ سے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارے بزرگوں کی زندگیوں سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے لیکن ان حضرات کی مجلسوں میں بھی موقع پاکر ضرور قرآن وسنت اور فکر سلفیت کی بات کرتے اور چوں کہ نہایت ہی ذہین آدمی تھے اس لیے اپنی بات مختلف انداز میں پیش کرنے کی پوری استعداد و صلاحیت رکھتے تھے اور کبھی کسی سے مرعوب نہيں ہوتے تھے اور نہ اپنی بات  کہنے میں ہچکچاتے تھے " کاروان حیات ص 510-511

مولانا مختار احمد ندوی کے بارے میں ہی  گفتگو کرتے ہوئے دعائیہ کلمات میں لکھتے ہیں  " رب العالمین ! تیرے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تیرا و عدہ ہے کہ تو ان دو آدمیوں کو بھی اپنے عرش کے سایہ میں قیامت کے دن جگہ دے گا جنہوں نے دنیا میں ایک دوسرے سے تیری خاطر محبت کی ہوگی ۔ اے اللہ ! اگر جانتا ہے کہ ہم دونوں کی محبت تیری خاطر تھی تو ہم دونوں کو قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے دینا " کاروان حیات ص 512-513

آپ نے امام الانبیاء محمد بن عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حقیقی آئیڈیل ماننے کے بعد جن بزرگوں کو بطور آئيڈیل پیش کیا ہے اور جن سے اپنی محبت کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں ان میں امام اہل السنۃ والجماعہ احمد بن حنبل ، امام المحدثین والفقہاء محمد بن اسماعیل بخاری ، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ، آپ کے استاذ اور مرشد سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ، محدث عصر حاضر محمد ناصرالدین البانی اور امام الھند ابوالکلام آزاد ہيں ۔اور ان تمام عظمائے اسلام کے یہاں قدر مشترک اگر کوئی چیز ہے تو وہ جذبہ محبت رسول اور اتباع قرآن وسنت ہی ہے ۔ آپ نے ان تمام شخصیات پر لکھتے ہوئے دل نکال کر رکھ دیا ہے ، ایک ایک لفظ سے محبت ٹپکی پڑتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا تذکرہ لکھتے ہوئے وہ بالکل کسی اور دنیا میں چلے گئے ہیں ۔آپ نے بصراحت لکھا بھی ہے کہ آپ کی محبت کی بنیاد یہی ہے کہ یہ تمام کے تمام اعاظم قرآن وسنت کو ہی ہر ایک مسئلے کا حل سمجھتے ہیں ، سنت رسول کو ہی عام کرنے کا کام کرتے ہیں اور کسی بھی محاذ پر قرآن وسنت سے سر مو انحرا ف نہیں کرتے ۔اپنے خود نوشت سوانح میں اگر کوئی شخص اپنے آئيڈیل بزرگوں پر دوسو صفحات لکھے اور وہ بھی انتہائی درجے کی محبت اور ولولہ کے ساتھ تو سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کے یہاں عقیدہ و عمل اور فکر ونظر کی ترویج و اشاعت کتنا زیادہ معنی رکھتی ہے ۔

عظیم دینی اور علمی شخصیات سے علامہ کے تعلقات کی گیرائی و گہرائی اور کتاب وسنت کے علمبرادروں سے آپ کی محبت و الفت کا مشاہدہ کرنا ہو تو آپ جامعہ امام ابن تیمیہ کا ایک مرتبہ دورہ کرلیجیے ۔ یہ دیکھیے اصل ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ  ہے ۔ کلیہ کا نام کلیۃ السید نذیر حسین لاصول الدین ہے۔ بنات کا نام کلیۃ خدیجۃ الکبری لتعلیم البنات ہے ۔شعبہ حفظ کا نام زیدبن ثابت لتحفیظ القرآن ہے ۔ لائبریری کا نام مولانا ابوالکلام آزاد سنٹرل لائبریری ہے ۔ بحث و تحقیق کے ادارے کا نام علامہ ابن باز للدرسات الاسلامیہ ہے ، کانفرنس ہال کا نام علامہ البانی ہال ہے اور جامع مسجد کا نام جامع احمد بن حنبل ہے ۔

ان عظیم دینی و علمی شخصیات سے تعلق کی بنیاد جہاں دعوت قرآن وسنت اور  توحید و اتباع کا جذبہ فراواں ہے وہیں معاصر شخصیات سے  خود علامہ کو بھی بہت محبت والفت اور وقار و احترام ملا ہے اور اس کی مثالیں ہمیں  ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی ، علامہ احسان الہی ظہیر ، مولانا حفیظ الرحمن عمری اور مولانا مختار احمد ندوی سے لے کر علامہ البانی ، سماحۃ الشیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ اورسماحۃ الشیخ  ابن باز ہر ایک کے یہاں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ آپ نے جہاں ان بزرگوں اور دوستوں سے قرآن وسنت کی محبت کی بنیاد پر محبت کی ہے وہیں ان لوگوں نے بھی آپ کو اسی محبت کا مستحق سمجھا ہے ۔

قرآن وسنت اور دعوت توحید کی اشاعت کا یہی جذبہ ہے جو آپ کو ان تمام لوگوں کے ذکر خیر پر ابھارتا ہے جن کے اندر یہ خوبی کسی درجے میں پائی جاتی ہے ۔ اس مضمون میں مذکور علما و دعاۃ اور اساطین کے علاوہ آپ نے اپنے جن اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ، ان سے بھی یہی کچھ مترشح ہوتا ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ اس راہ میں جن لوگوں سے آپ کو تعاون ملا ان کو بھی آپ اسی طرح یاد کرتے ہیں ۔ یہاں بطور خاص اخلاق الرحمن قدوائی صاحب کا ذکر مناسب ہوگا جن کو آپ نے بڑی محبتوں سے یاد کیا ہے ۔ ہم او رآپ اس تعلق کو پڑھ کر یقینا دونوں شخصیات کی عظمت کے قائل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے بارے میں آپ لکھتے ہیں " ایک بار دہلی میں انہوں نے میری دعوت کی ، میں ڈاکٹر خالد انور تیمی کے ساتھ ان کے گھر پہنچا ۔وہاں سے ہم دونوں کو اپنی گاڑی میں بیٹھا کر ایک ایسے بڑے ہائی کلاس ریسٹورنٹ میں لے گئے جہاں ہم غریبوں کی تکریم کی خاطر پہلے سے انہوں نے ایک بڑی دعوت کا انتظام کررکھا تھا ، ہم اپنی ذرہ نوازی پر جھینپتے رہے اور وہ ایک کریم النفس میزبان کی طرح ہماری خاطر مدارات میں لگے رہے اور جب ان کی گاڑی رکی تو فورا باہر نکل کر میری طرف کا دروازہ کھول کر ایک خانساما کی طرح کھڑے ہوگئے اور میں شرم سے پانی پانی ہوگيا اور ان سے کہا کہ آپ میرے حال پر رحم کیجیے اور ایسا نہ کیجیے تو کہنے لگے کہ اللہ کے جس ایک بندہ نے اتنی بڑی اسلامک یونیورسٹی بنائی ہے وہ میری ہر تکریم کے مستحق ہیں " کاروان حیات ص 506-507 

دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی ہمارے محسن ومربی علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں اعلا مقام دے اور جن بزرگوں سے آپ نے اللہ کے لیے محبت کی ان کے ساتھ آپ کو جنت میں رفاقت نصیب ہو۔ آمین

 

Wednesday, 13 September 2023

 We as a religious community have chosen to hide our religion from other communities. Yesterday evening I happened to join a session with a new Muslim preacher of Islam. He was a christian and Allah Almighty blessed him with guidance. He searched for the truth and reason behind his existence and in order to know it , he studied Bible, discussed many things with father and when found no answer tried to change the source and read Hinduism, Buddhism and other religions. He was very much confused that how it is possible for Jesus to be son of God, God and the soul. He wanted to reach to the Almighty, Jesus himself used to worship because when he is worshipping God how could he be a God?

He was brought up in a christian family that had biased and terribly negative thoughts about Islam so it took time for him to approach Islam for his quest of truth. But disappointed from every religion and ideology when he eventually tried to get close to Islam and read Quran, Muslims were in his way to stop him from reading the final book of Allah. But Allah paved the way and when he read Quran he got his questions answered and was able to find the purpose of life. He embraced Islam and tried his best to learn the basics of the religion and started preaching it . He is doing the same and has been successful to bring about 2500 people to Allah and to Islam. He was boycotted by his dears and nears, they made him fell isolated and hopeless but his beliefs were strong and he faced all the hardships with greater courage and patience.
When he narrated his story and some other new Muslims stories it was worth noting, eyes were full of tears and hearts were full of affection. He reminded Muslims of their holy duty and the greatest blessings they have; their religion Islam but with great amount of sorrows he was forced to say that Muslims hide it through their unislamic character and through their ignorance of religion. They must try to preach it, and make efforts to make it a known religion for every person on the planet.
Sanaullah Sadiq Taimi

 میرا شدت سے یہ احساس ہے کہ کوئی بھی نظام تعلیم جو اصل زندگی کے بنیادی تقاضوں سے دور ہو ، اس سے آراستہ لوگ سماجی سطح پر بڑا اثر ڈالنے میں ناکام ہوں گے ۔ اس تناظر میں ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے دینی تعلیم کا جو ڈھانچہ استوار کیا ہے ، وہ بنیادی انسانی ضرورتوں کے کتنا قریب ہے اور طلبہ کو اس زندگی سے کس حد تک آگاہ کرپاتا ہے ۔

سمجھنے کی بات یہ بھی ہے کہ کوئی بھی تعلیم اگر زندگی کے حقائق سے ہم آہنگ نہ ہو یا اس زندگی کو بہتر سمت دینے کی صلاحیت سے مالا مال نہ ہو تو اپنی افادیت کھودے گی ۔ بر صغیر کی حد تک دیکھیے تو دینی تعلیم کے ادارے اس نہج پر استوار ہیں کہ وہاں کے پڑھنے والوں کو عام زندگی سے کم کم ہی واسطہ پڑتا ہے ، اوپر سے عام زندگی کے تقاضوں کو پڑھایا بھی کم کم ہی جاتا ہے ، دینی اداروں میں عملی مشق کی کوئی چيز نہيں پائی جاتی ، کھیت کھلیان ، تجارت، ملازمت تو دور کبھی دعوتی مشق کا بھی موقع نہیں نکلتا۔ یہ بات سننے میں شاید اچھی نہ لگے لیکن بالعموم جس معاشرے کو جاکر سدھارنے کا ذمہ دینی اداروں کے فیض یافتگان کو اٹھانا ہوتا ہے وہ اس معاشرے سے آگاہ ہی نہیں ہوتے ۔
کبھی اس حیثیت سے غور کیجیے کہ سب سے زیادہ عام زندگی میں ضرورت کس چيز کی پڑتی ہے ؟ معیشت کی ، اسی پر زندگی استوار ہوتی ہے ، اب ذرا اس پر غور کیجیے کہ دینی اداروں میں معیشت کی کتنی تعلیم دی جاتی ہے ؟ آج جو اصطلاحات رائج ہیں ، ان سے ہم کس حد تک واقف ہوتے ہیں ؟ کیا ان دینی اداروں کے فارغین واقعی اس معاملے میں رہنمائی کا فريضہ انجام دے سکنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں ؟
ہم جس ملک میں رہتے ہیں کیا اس ملک کے نظام حکومت سے آگاہ ہوتے ہیں ؟ اس نظام حکومت کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اس پر کیا کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں ؟ کیا خود ہم اپنی بنیادی ضرورتیں بطور خود پوری کرسکتے ہيں ؟ کیا ہمارا تعلیمی نظام اس معاملے میں ہمیں آگہی سے آراستہ کرتا ہے ؟ کیا اس قسم کے معاملات میں ہم دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکنے کی حالت میں ہوتے ہیں ؟
ہم نے نصاب کی تجدید کاری کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ ہمارے طلبہ کو برائے نام انگریزی ، ہندی اور سائنس آ جائے جب کہ ہمارا دھیان اس پر ہونا چاہیے کہ جب ہمارے یہاں سے تعلیم پاکر ایک فارغ التحصیل معاشرے میں جائے تو وہ واقعی عالم ہو۔ اس پر بہت غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر آپ سماج اور اس کی ضرورتوں کو جان نہيں رہے ہوں گے تو رہنمائی کا فريضہ انجام کیسے دیں گے ؟
ان تلخ سچائیوں کے ساتھ ہم نے بالعموم اخلاقی نظام ایسا رکھا ہے کہ بھولا بھالا دکھنے والا یا اس کی اداکاری کرنے والا طالب علم اچھے اخلاق کا مالک سمجھ لیا جاتا ہے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شعور وآگہی کے تقاضوں کے تحت جس قسم کے سوالات پنپتے ہیں اور جن سے ایک صحت مند ڈسکورس کی سبیل نکلتی ہے ، وہ یہ خاص ماحول پنپنے نہيں دیتا اور بہت سی ذہانتیں یوں ہی دم توڑ دیتی ہیں ۔
ارباب اختیار کو ان حقائق پر غور کی نظر ڈالنی چاہیے ۔ تعلیم اگر زندگی سے ہم آہنگ نہ ہو تو چاہے جتنا ہنگامہ برپا کیا جائے ، وہ اپنی افادی حیثیت منوانے سے رہ جائے گی ۔ دو صدیوں کا لگ بھگ عرصہ ہورہا ہے ، جب سے یہ نظام رائج ہے ، دو صدیوں کے تجربات کی روشنی میں ان نکات پر غور کرنا ضروری بھی ہے اور مجبوری بھی ورنہ شاید یہ ڈھانچہ ہی باقی نہ بچے۔
رہے نام اللہ کا
ثناءاللہ صادق تیمی

 مسلم پرسنل لابورڈ کے نئے صدر کا انتخاب

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مسلم پرسنل لا بورڈ کے نئے صدر منتخب کیے گئے ہیں ۔ اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ انتخاب اتفاق رائے سے ہوا ہے ۔ مولانا رابع حسنی ندوی کے انتقال کے بعد سے یہ بات گردش میں تھی کہ مولانا ارشد مدنی بورڈ کے صدر ہونے جارہے ہیں ، بعض ذرائع سے یہ بات بھی سامنےآئی کہ ارشد صاحب نے منع کردیا ۔ ان کے منع کرنےکے بعد کئی نام تھے جن پر غور کیا گيا بلکہ کئی تجویزیں بھی سامنے آئیں لیکن مانا جارہا تھا کہ ارشد صاحب کے منع کرنے کے بعد سب سے مقبول نام خالد سیف اللہ صاحب کا ہی تھا۔ مجھے دو تین روز قبل انتہائی موثوق بہ ذریعہ سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ خالد سیف اللہ رحمانی بورڈ کے صدر ہونے جارہے ہیں ۔
سوشل میڈیا پر جیسا کہ ہوتا آیا ہے مبارکبادی کے ساتھ رد وقدح کا سلسلہ جاری ہے ۔ بڑی تعداد کو لگتا ہے کہ انتخاب بہت اچھا ہوا ہے اور خالد صاحب اس کے لیے موزوں شخصیت ہیں ، وہیں ایک تعداد ایسی بھی ہے جو مسلم پرسنل لاء پر احناف میں دیوبندی مکتب فکر کی اجارہ داری کے طور پراس انتخاب کو دیکھ رہی ہے ۔ یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آخر کوئی بریلوی ، اہل حدیث یا کسی اور مکتب فکر کا معتبر عالم صدر کیوں نہيں ہوسکتا؟
میرے خیال میں یہ باتیں بس باتیں بھر ہیں ۔ زمینی سطح پر حقائق کو اگر ذہن میں رکھا جائے تو اس قسم کی باتیں عام نہ ہوں ۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ آزادی سے لے کر آج تک ملی قیادت احناف میں دیوبندی مکتب فکر کے پاس ہی ہے ،مسلم پرسنل لاء ہو ، جمعیت علمائے ہند ہو یا یہاں تک کہ مجلس مشاورت ہو ، ان تمام کی قیادت انہیں کے ہاتھ میں ہے اور ساری کوتاہیوں اور کمیوں کے باجود بہت حد تک عملی طور پر یہی ممکن بھی ہے ۔
انسان آرزو پالنے کے لیے آزاد ہے لیکن وہی آرزوئیں پوری ہوتی ہیں جو حقائق کے قریب ہوں ۔ غور کی نظر ڈالیے تو شیعہ سنی کے بیچ کا تفاوت واضح نظر آ جائے گا ، اتنی بڑی سنی برادری پر کوئی شیعہ سربراہ ہو ، نظری طور پر جیسا خوش کن نظر آئے ، عملا ممکن نہيں ۔ اہل حدیث حضرات کی تعداد معلوم ہے ، دیوبندیوں اور بریلویوں کے مقابلے میں ظاہر ہے کہ بہت کم تعداد میں ہیں اور یہاں آپ تعداد سے صرف نظر نہيں کرسکتے ۔ رہ گئی بات دیوبندی اور بریلوی حضرات کی تو یہاں یہ سوال جائز ہوسکتا تھا لیکن بریلویوں نے لگاتار خود کو ملت سے جس طرح کاٹ کر رکھا ہے ، تکفیر و علاحدگی کے رویے اپنائے ہیں ، ویسے میں یہ امکان لگ بھگ معدوم ہی ہوجاتا ہے ۔یوں جب آپ ان تمام امور پر دھیان دیں گے تو سمجھ میں آئے گا کہ ان تمام اداروں کا سربراہ ہو نہ ہو ، کوئی دیوبندی ہی ہوگا الا یہ کہ کوئی غیر دیوبندی استثنائی طور پر اپنی اہلیت ثابت کرلے جائے اور ملت اسے بطور سربراہ قبول کرلے تو اور بات ہے ۔
اس لیے میری نظر میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا انتخاب ٹھیک ہے ، ویسے بھی وہ اس ادارے سے پہلے سے منسلک ہیں ، ان کے چچا قاضی مجاہد الاسلام صاحب بھی اس کے صدر رہ چکبے ہیں ، یہ خود سکریٹری کی حیثیت سے فريضہ انجام دے رہے تھے ، امید کی جانی چاہیے کہ وہ بورڈ کے پلیٹ فارم سے ملت کو فائدہ پہنچا سکیں گے ۔
ان تمام باتوں کے ساتھ ایک بات البتہ کہنی ضروری ہے کہ یہ بہرحال مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے تو اس میں ملت کی نمائندگی کا رویہ ضرور اپنایا جانا چاہیے ، یعنی ٹھیک ہے کہ اہم ترین پوسٹ احناف میں دیوبندی گروپ کے پاس ہو لیکن بقیہ مناصب میں دوسرے گروہوں کی بھی شمولیت ہونی چاہیے اور اسے نظر آنا چاہیے ۔ بورڈ اس پر عمل پیراں بھی رہا ہے ، اسے مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے یعنی اہل حدیث ، بریلوی یا شیعہ حضرات کو بھی یہ ضرور لگناچاہیے کہ یہ ان کا بھی بورڈ ہے ۔دوسری بات یہ کہ جب مسائل سامنے آئیں تو اس وقت بھی ملت کے تمام مکاتب فکر کو ذہن میں رکھ کر اقدامات کیے جائیں ،بورڈ کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی ہوگی کہ وہ تمام مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویدار ہے اور قیادت کی بھی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ کسی بھی قضیے کے لیے لڑتے ہوئے ملت کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بنے کمزور کرنے کا نہیں ۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان نازک گھڑیوں میں بورڈ کو واقعی اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے اور اس انتخاب کو ملت کے حق میں کارگر بنائے ۔
ثناءاللہ صادق تیمی
All reactions:
Amanullah Sadique Taimi, Asif Tanveer Taimi and 147 others
36
13
Like
Comment
Share

 اظہار حق سب کے بس کا روگ نہیں ۔ یہ کام ہر زمانے میں اولو العزم افراد نے ہی انجام دیا ہے اور وہی انجام دیتے رہیں گے ۔ حق کا اظہار ہر زمانے میں جوکھم بھرا رہا ہے اور ہر زمانے میں جوکھم بھرا رہے گا ۔ ہر زمانے میں حق کہنے والوں سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ وہ حق کہنے سے پہلے حق کہنے کا سلیقہ ضرور سیکھیں ۔ حق کہنا ہمت کی بات ہے لیکن نادان اپنی نادانیوں سے اظہار حق سے اپنا بھی نقصان کرتا ہے اور حق کا بھی نقصان کر دیتا ہے لیکن وہ اس زعم میں پھٹا جا رہا ہوتا ہے کہ اس نے اظہار حق کا فریضہ انجام دیا ہے جب کہ دانا شخص اظہار حق کا یہی کام اس حکمت ، شعور اور قوت سے انجام دیتا ہے کہ کم از کم حق کا نقصان نہیں ہوتا ۔ وہ حق کہنے سے پہلے حق کہنے کے سلیقے کو برتنا سیکھتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ اسے کتنا بولنا ہے اور کہاں پر بولنا ہے اور بولنے پر ہونے والے اثرات کو بھی ذہن میں رکھتا ہے ۔

آپ ارد گرد نظر دوڑائیں گے تو آپ کو یہ بات سمجھ آئے گی کہ یہ بھی حق پر ظلم ہی ہے کہ اس کے حامی اپنی نادانیوں سے اس کا نقصان کر رہے ہیں ۔ جب کبھی آپ یہ دیکھیں کہ آپ جس حق کے لیے کھڑے تھے آپ کے اظہار حق میں کی گئی نادانی کی وجہ سے اب ساری بحث حق کی بجائے آپ کے اس جوش ، غیر صائب اسلوب یا کسی نازیبا بات کی طرف مڑ گئی ہے تو آپ کو حق کہنے کے طریقے پر ایک بار سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔
ایک بات اور نوٹ کرنے کی ہے کہ انسان کو بہر صورت اظہار حق کے سلسلے میں بھی اپنی نیت کا جائزہ لینا چاہیے ۔ یعنی یہ دیکھنا چاہیے کہ اظہار حق کا مقصد واقعی حق کی نصرت ہی ہے کوئی اور وجہ نہیں ۔ یہ مقصد ذہن میں اتنا محکم ہونا چاہیے کہ وہ خود آدمی کی رہنمائی کر سکے کہ اظہار حق کا کون سا پیرایہ کہاں پر کیسا رکھنا ہے ۔ ایک بات اور بھی سمجھنی ضروری ہے کہ اظہار حق میں حکمت مقصود ہے ہر وقت نرمی یا ہر وقت سخت کلامی نہیں یعنی نرمی کی ضرورت ہو تو نرمی اور دو ٹوک گفتگو کی ضرورت ہو تو دو ٹوک گفتگو ۔ اصل امتحان یہی ہے کہ آدمی اس ضرورت کو سمجھ سکے ۔
ساگر تیمی

 آب زمزم : بندے کی غذا بھی مریض کی شفا بھی

ثناءاللہ صادق تیمی
زمزم کا پانی نام آتے ہی ایک خاص قسم کا تقدس اور ایک خاص قسم کی روحانیت اپنا سایہ دراز کر دیتی ہے ۔ جب ابراہیم خلیل علیہ السلام نے اپنی بیوی ہاجر اور بیٹے اسماعیل کو مکہ مکرمہ جیسے بے آب وگیاہ مقام پہ چھوڑ دیا اور بچے کو پیاس کی شدت نے ستایا تو ماں پانی کی تلاش میں صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا دوڑتی پھریں ، اللہ کی رحمت جوش میں آئی ، اس نے جبریل امین علیہ السلام کو بھیجا ، انہوں نے ایڑی رگڑی اور زمزم کا چشمہ ابل پڑا۔
اس پانی کی شرعی و دینی اہمیت ہے اور اس کی ایسی خصوصیات ہیں جو دوسرے پانی میں نہیں پائی جاتیں ۔ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل بھی اہل جاہلیت اس پانی کی اہمیت و فضیلت کے قائل تھے اور اسلام میں بھی اس کی فضیلت وارد ہوئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور اس کے پینے کی اہمیت بتلائی ۔ مسلم شریف کی ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یہ بابرکت ہے اور کھانے والے کی غذا ہے " ایک دوسری حدیث میں ہے کہ یہ " بیماری کی شفا ہے " (طیالسی ) ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " آب زمزم اس چيز کےلیے ہے جس کے لیے پیا جائے " (سنن ابن ماجہ) ۔ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ مکہ میں ایک مہینے رہے اور ان کی غذا آب زمزم ہی تھا۔ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ آب زمزم کو پانی اور غذا کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔ابن عباس رضی اللہ عنھما کے سلسلے میں آتا ہے کہ جب وہ آب زمزم پیتے تھے تو کہتے تھے : اے اللہ ہم تجھ سے نفع بخش علم ، کشادہ رزق اور ہر بیماری سےشفا مانگتے ہیں ۔
علماء نے آب زمزم پینے کے آداب بھی بتائے ہیں کہ اسے بسم اللہ کہہ کر پیا جائے ، تین سانسوں میں پیا جائے ، اتنا پیا جائے کہ آدمی آسودہ ہوجائے اور پینے کے بعد الحمد للہ کہا جائے ۔ آب زمزم کے سلسلسے میں بھی یہی ادب ہے کہ اسے بیٹھ کر پیا جائے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں جو یہ آیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے انہیں زمزم پلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے تو در اصل یہ بیان جواز کے لیے ہے ۔یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ آب زمزم کھڑے ہو کر پینا ہی سنت ہے ۔
اماں عائشہ رضی اللہ عنھا شیشی میں بھر کر زمزم کا پانی لے جاتی تھیں ، اور کہا کرتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈھویا تھا ، آپ مریضوں کو یہ پانی پلاتے تھے اور ان پر انڈیلتے تھے ۔(ترمذی )بعض روایتیں ایسی آتی ہیں جو اپنی شواہد کی وجہ سے حسن درجہ کو پہنچ جاتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کو خط لکھا تھا کہ میرا خط صبح پہنچے تو شام سے پہلے اور شام پہنچے تو صبح سے پہلے مجھے آب زمزم بھیجنا۔
آب زمزم کا پینا بھی شفا کا باعث ہے اور اسےمریضوں پر چھڑکا بھی جاسکتا ہے ، پینے والا آدمی اپنے سر اور چہرے پر پانی انڈیل بھی سکتا ہے اور اس کے فوائد بھی حاصل ہوں گے ، اس سلسلے میں اہم ترین بات یہ ہے کہ آدمی نیت اچھی اور محکم رکھے۔
آب زمزم اللہ کی عظیم قدرت کے نشانات میں سے ہے ، اس کا کنواں خانہ کعبہ سےاڑتیس گز پر واقع ہے ، اسے بئر اسماعیل بھی کہا جاتا ہے ۔ پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ آتے ہیں ، پیتے ہیں ، استعمال کرتے ہیں اور اللہ کی اس عظیم نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔فرشتے نے ہمارے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چا ک کرنے کے بعدآب زمزم ہی سے دھویا تھا۔ جاپان کے تحقیقی ادارے ہیڈو انسٹیٹیوٹ نے آب زمزم پر تحقیق کرنے کے بعد پایا کہ اس پانی میں جو خصوصیات پائی جاتی ہیں وہ کسی اور پانی میں نہیں پائی جاتیں ۔ اس کا بلور کسی اور پانی میں نہیں ، آب زمزم کسی اور پانی سے ملے تو اس میں بھی یہ خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں ، ری سائکلنگ سے بھی آب زمزم کی خصوصیات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ۔

 حکومت ہند ، تاریخ سے جنگ اور قومی منظرنامہ

ثناءاللہ صادق تیمی
سپریم کورٹ کے سابق جج مارکانڈے کاٹجو نے بجا طور پر ہندوستان کو مہاجرین کی سرزمین کہا ہے ۔قدیم زمانے سےمختلف قافلے اس سرزمین کی طرف آتے رہے ہیں اوریہاں کی مٹی سے اپنا رشتہ استوار کرتے رہے ہیں ۔ان قافلوں کی آمد سےتہذیبی لین دین اور افادہ واستفادہ کی روایت بھی پروان چڑھتی رہی ہے جس نے ہندوستان کی ثقافت، تمدن اور معارف و علوم کے ساتھ فکر ونظر کے دائروں کو بھی وسیع کیا ہے ۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں مادی وسا ئل سے لیس ممالک برین گین (حصول دماغ) کی کافی کوشش کرتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پرکشش سہولتیں فراہم کرکے دوسرے ممالک کے اعلا تعلیم یافتہ افراد اور ماہرین کو اپنے یہاں بلاتے ہیں تاکہ ان کے علم ، تجربہ او رصلاحیت سے استفادہ کرکے اپنے ملک کو مزید مستحکم کرسکیں ۔
ہندوستان میں آنے والے قافلوں میں ایک قافلہ مسلمانوں کا بھی تھا۔ عرب اور ہند کے تجارتی تعلقات کافی پرانے رہے ہیں ، اول اول اسلام سے اس سرزمین کا تعارف بھی اسی راستے سےہوا ، اس کے بعد محمد بن قاسم ثقفی کی قیادت میں منظم طریقے سے سندھ کی طرف بڑھا گیا اور ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی گئی جو بعض سیاسی وجوہات کی بنیاد پر دیرپا نہیں رہی لیکن اسلامی زندگی کے اثرات نسبتا زيادہ پھیل گئے اور جنوبی ہند کا علاقہ اسلام اور مسلمانوں سے ناواقف نہیں رہا۔محمد غوری کے بعد سے مسلم عہد حکومت کا سلسلہ دراز رہا ، ان تمام نے ملک کے استحکام اور عوام کی خوش حالی کے لیے مثالی اقدامات کیے اورمغلوں نے تو ملک کے تمام خطوں پر حکمرانی کی اور ملک کی ترقی و تعمیر میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔اسی سرزمین کی خدمت کی اور اسی سرزمین کے ہوکر رہ گئے ۔
انگریزوں نے جب مسلمانوں سے حکومت مکروفریب اورظلم و جبر کے راستے سے حاصل کی تو مسلمانوں کو ہی تختہ مشق بھی بنایا ، اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنے کےلیے انہوں نے بانٹو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی اور ہندو مسلمانوں کے بیچ نفرت کو ہوا دینے کے لیے ہر قسم کی اوچھی حرکتیں کی گئیں ، اس معاملے میں انہوں نے اور دوسری اوچھی حرکتوں کے ساتھ تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کرنےاور مسخ کرنے کا رویہ بھی اپنایا تاکہ اپنے مقاصد پورے کرسکیں ۔اس سلسلے میں متعصب انگریز مورخین کے ساتھ جادو ناتھ سرکار جیسے تاریخ نویس بھی رہے جنہوں نے اپنے آقا کے حکم پر وہ سب کچھ کیا جس سے انگریزوں کے نقطہ نظر سے تاریخ پیش ہو اور نفرت و عداوت کی آندھی مزید تیز ہوسکے ۔
آزادی کی لڑائی لڑنے والے جیالوں کو معلوم تھا کہ انگریزوں نے کس قسم کی نفرت عام کی ہے اور اس سے ملک کا کیا نقصان ہوا ہے اور ملک کی تعمیر وترقی کے لیے کس قسم کے زاویہ نظر کی ضرورت ہے ، وہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے تھے کہ مسلمانوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں زبردست کردار ادا کیا ہے ، مسلم عہد حکومت میں نظام حکومت سے لے کر عوامی زندگی تک میں عدل وانصاف کی کافرمائی رہی ہے اور اس کے بڑے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس طویل مدت میں کبھی کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا ۔چنانچہ آزادی کے بعد جب انہیں ملک کی تعمیر کا موقع ملا تو انہوں نے کوشش یہ کی کہ ملک کی بنیاد تکثیری معاشرے اور کثرت میں وحدت کے نظریے پر استوار ہو ، انہوں نے سیکولر آئین کے ساتھ تاریخ و تمدن کا وہ حقیقی چہرہ پیش کیا جس سے ملک کوآزادی بھی ملی تھی اور جس نے ملک کی ترقی و تعمیر میں اہم ترین کردار ادا کیاتھا۔
آزادی کے بعد ملک کی خوش قسمتی یہ بھی تھی کہ سیکولر ، لبرل اور کمیونسٹ ذہن کے معتبر مورخین نے ہندوستان کی تاریخ رقم کی اور ازمنہ قدیمہ سے لے کر ازمنہ وسطی اور نئے دور تک کا حقیقی منظرنامہ پیش کیا ۔ یوں وہ ذہن بنا جسے آپ گاندھی –نہرو اور مولانا آزاد کے نظریے کے روپ میں دیکھ سکتے ہيں ۔
لیکن جد وجہد آزادی سے لے کر اس پورے نظریے کے خلاف مستقل ایک علاحدگی پسند نظریہ بھی کام کررہا تھا جسےسنگھ پریوار کا نظریہ سمجھنا چاہیے ۔ اس نظریے کی بنیاد یہ ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر ہونا چاہیے ، یہاں رونما ہونے والے مذاہب کو قومی حیثیت ملنی چاہیے ، بقیہ دوسرے مذاہب جیسے اسلام ، یہودیت اور عیسائیت وغیرہ کو یہاں سے نکال باہر کیا جانا چاہیے ۔ اس نظریے کی دوسری بنیاد اس طبقاتی نظام پر استوار ہوتی ہے جسے منو کے نطام سے بیان کیا جاسکتا ہے جس کے تحت اعلا طبقات کو مخدوم اور ادنی طبقات کو خادم ہونے کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ بنیادی طور پر یہ نظریہ اعلا ذات کے ہندوؤں کی افضلیت اور فوقیت کے نظریے پر قائم ہے اور اس کا طریقہ کار شروع سے تشدد کے ساتھ ساتھ حقائق کو توڑ موڑ کرپیش کرنے کا رہا ہے ۔یہ دیش کے آئین کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی مدت تک اس نے قومی جھنڈے کو تسلیم کیا ہے ۔
دیش کی آزادی کے بعد پچھلے نودس سالوں سے اس نظریے کو مکمل طریقے سے کھل کرسامنے آنے کا موقع ملا ہے ،ملک پر اس نظریے کی حکومت ہے ، وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ اس نظریے کے پرچارک بھی رہے ہیں اور اسی کے عملی مظہر بھی ہیں ۔ اس نظریے کے حاملین بظاہر دیش بھکتی کی باتیں کرتے ہیں لیکن یہ سب دکھاوا بھر ہوتا ہے۔اہم ترین بات یہ ہے کہ ان کا نظریہ دیش بھکتی ہی اصل حب الوطنی سے متصادم ہے ۔اس نظریے نے جہاں دیش کی آزادی کی کوششوں کی مخالفت کی اور انگریزوں کی مخبری کا فريضہ انجام دیا وہیں گاندھی جی کو قتل بھی کیا اور مستقل دیش میں نفرت و تشدد کو ہوا بھی دی۔اس نظریے کے تحت سیاست کی بنیاد مسلم دشمنی پر استوار ہے ، ملک کے بڑے بڑے آئینی عہدوں پر بیٹھنے والے اور آئین کی قسمیں اٹھانے والے اس نظریے کے لوگ پوری بے شرمی سے اس آئین کی روح کو تارتار کرتے رہتے ہیں ۔
اس نظریے کی پریشانیاں بہت ہیں ، قدم قدم پر حقائق اس نظریے کی تغلیط کرتے ہیں ، ان کے پروپیگنڈوں کی قلعی کھول کر انہیں نگاہیں نیچی رکھنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔مدت سے اس نظریے کے حاملین یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ تاریخ کو اپنے حساب سے پیش کریں ۔ یاد رکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ امت شاہ نے بار بار یہ بات دہرائی تھی کہ تاریخ کو پھر سے لکھنے کی ضرورت ہے ، اس سمت میں کوششیں بھی صرف ہوئیں ، نہرو کو ویلن اور ساورکر کو ہیر وبنا کر پیش کیا گيا ، گاندھی تک پر سوالات اٹھائے گئے لیکن ملک کے وزیر اعظم کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ ملک کے باہر جاتے ہی انہیں انہیں عظیم لوگوں کا حوالہ دینا پڑے گا اور انہوں نے مختلف مواقع سے ایسا کیا بھی ۔اس لیے اس پوری پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہوئی۔
اب تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کی بجائے تاریخ کو مٹانے کا رویہ اپنایا گيا ہے ۔ این سی آرٹی سے مسلم عہد حکومت کو ہٹا دیا گیا ہے ، مولانا آزاد نکال باہر کیے گئے ہیں اور کمال یہ ہے کہ اس قسم کی تبدیلیوں کی سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہيں ہوسکتی کہ اس کے پیچھے اسلام اور مسلمان دشمنی کی ذہنیت کام کررہی ہے ۔ساتھ ہی جہاں کہیں مسلم عہد حکومت کا ذکر آیا ہے تو کوشش کی گئی ہے کہ اسے مثبت کی بجائے منفی زاویے سے پیش کیا جائے ۔پچھلے دس سالوں میں ملک کی تعمیر و ترقی کی صورت حال کیا رہی ہے وہ تو نہيں معلوم لیکن ان دس سالوں میں لگاتار مسلم شناخت کو مٹانے کی کوشش زوروں پر ہے ۔ تاریخ سے لے کر سڑک اور افراد تک کو اس لیے نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں ۔ قومی منظرنامہ ابھی یہ بھی ہے کہ اس مسلم دشمنی کے نتائج اس نظریے کے حاملین کو بہت کارگر مل رہے ہیں ۔ وہ اسی بنیاد پر مختلف ریاستوں میں انتخاب جیت رہے ہیں اور لگاتار مرکز میں پوری اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہیں ۔
اس کھلی ہوئی داداگیری کے خلاف کہیں سے کوئی ویسی ٹھوس مخالفت بھی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے ، مسلم کمیونٹی جسے اپنے وجود کو لے کر مسائل کا سامنا ہے وہ بھلا تاریخ اور تمدن کے مظاہر کے بارے میں کیا کچھ مزاحمت درج کراسکتی ہے ، ملک کا سیکولر اور دانشور طبقہ بھی جیسے خموشی میں ہی نجات دیکھ رہا ہے ، سیاسی بساط پر حزب اختلاف کی طرف سے بھی کوئی مضبوط مقابلہ آرائی نظر نہيں آرہی ۔ایسے میں ایک ایک کرکے جہاں مسلم شناخت کی علامتیں مٹائی جارہی ہیں وہیں تاریخ کو اس طرح پیش کرنے کی کوشش ہورہی ہے جیسے اس ملک پر ساڑھے آٹھ سوسالوں تک حکومت کونے والے مسلمانوں نے اس ملک کو صرف نقصان ہی پہنچایا ہے ، اس لیے یا تو انہیں مٹادینا چاہیے یا پھر ان گھڑے گئے منفی کرداروں کو ہی بیان کرنا چاہیے ۔
قوت کے نشے میں چور اس ٹولے کو یہ لگ رہا ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہے اور ایسا کرکے وہ اپنی تہذیبی برتری ثابت کرپائےگا اور ملک سے مسلمانوں کام نام ونشان مٹ جائے گالیکن اسے شاید یہ ادراک نہیں کہ یہ دیکھنے کا بہت سطحی زاویہ ہے ۔ طاقت کے زور پر آپ سچ کو دبا تو سکتے ہیں مٹا نہيں سکتے ۔ یہ سچ پھر سےنمودار ہوں گے اور جھوٹ کے متوالوں کو رسوا کر دیں گے ۔
مصطفی کمال اتاترک نے ترکی سے اسلام ، اسلامی شعائر ، اذان اور رسم الخط سب کچھ ختم کردیا تھا لیکن آج ترکی کو دیکھ لیجیے ۔انگریزوں نے ہندوستان کو اپنے حساب سے ڈھالنے کی کوشش کی تھی ، سارے حربے اور قوتیں لگا دی تھیں اور خوش تھے کہ انہیں شکست کا سامنا نہیں ہوگا ، آج دیکھ لیجیے کہ وہ کہاں ہیں ؟ حقائق نہيں مرتے ، وہ لوٹ آتے ہیں ، یہ حقائق بھی نہیں مریں گے ہاں اگر اس نظریے کا دورانیہ لمبا ہوا تو کئی نسلوں کو اس کے زیر اثر جہالت کی گہری تاریکی میں جینا پڑ سکتا ہے ۔یہ صرف مسلمانوں کے خلاف سازش نہيں ، اس ملک اور اس کے تمام باشندوں کے خلاف سازش ہے ۔آپ لاکھ کوشش کرلیں لیکن یہ حقیقت مٹ نہیں سکتی کہ آئین ہند کے معماروں میں مولانا آزاد بھی شامل ہیں ، تعلیمی ڈھانچے کو بنانے والے وہی ہیں ، انہوں نے ہی یوجی سی، ساہتیہ اکیڈمی ، للت کلا اکیڈمی اور آئی آئی ٹیز کی بنیاد رکھی ہے ۔ آپ مٹاتے جائیے لیکن آپ لال قلعہ اور تاج محل بنانے والوں کو مٹا نہیں سکتے ۔ اس مٹی کا ذرہ ذرہ ان کے روشن کارناموں کی گواہی دے گا۔بہت جلد وہ وقت آرہا ہے جب آپ کے لیے یہی تخریبی کاروائیاں سوہان روح ہو جائیں گی۔ فانتظروا انی معکم من المنتظرین ۔