Wednesday, 13 September 2023

 ہم نے بحیثیت مجموعی کچھ اچھے اصولوں کو چھوڑ دیا ہے ، کچھ ایسی بنیادیں جن پر چل کر ہمیشہ ہی سکھ چین نصیب ہوتا ہے اور جن سے دنیوی و اخروی کامرانی ملتی ہے ۔ کبھی یوں ہی سوچیے تو ایسا لگتا ہے جیسے سچ بولنے کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے ۔ سچے لوگوں کو ہم بے وقوف سمجھنے لگے ہیں ، جھوٹ اس قدر عام ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ بھی کبیرہ گناہ ہے ۔ ہم بھولتے جا رہے ہیں کہ سچ میں نجات اور جھوٹ میں ہلاکت ہے ۔ سچی دکان خوب چلی کا درس کیا معلوم آج دیا بھی جا رہا یا نہیں!!!

ہم نے معاف کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ ہمارے پاس شکایتیں ہیں ، غیبت ہے ، شکوے ہیں ، گالیاں ہیں ، معافی نہیں ہے ۔ جب کہ معاف کرنا صحت کے لیے بھی مفید ہے ، دنیا میں بھی اس کے فوائد ہیں اور اللہ کے لیے آدمی معاف کرے تو آخرت میں بھی بڑا اجر ہے ۔
ہم نے کسی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چھوڑ دیا ہے ۔ بد گمانیاں عام ہیں ، اس مرض میں کیا عالم کیا جاہل کیا مولوی کیا مولانا سب یکساں طور پر ملوث ہیں جب کہ اچھے گمان سے ہر طرح کی بھلائی ملتی ہے اور بد گمانیاں ہر طرح سے گھاتک ہیں !!
ہم نے غصہ پینا چھوڑ رکھا ہے جیسے ہی ہم سے نیچی سطح کا کوئی آدمی کسی معاملے میں ہمارے مطابق کوئی کام نہیں کرتا، ہم اپنا غصہ جھاڑ دیتے ہیں، سخت سست کہتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ہم سے بھی اوپر کوئی ہے ۔ کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ پوری امت ہی غصہ کی حالت میں ہے ۔ ہم تنقید کی بجائے غصہ کا اظہار کرتے ہیں ، نصحیت کی بجائے غصہ دکھاتے ہیں اور جہاں محبت کارگر ہوتی ہے وہاں بھی غصہ سے معاملہ بگاڑ دیتے ہیں !!!
ہم نے خود احتسابی سے منہہ موڑ رکھا ہے۔ ہمارے پاس انگلیاں اٹھانے کو کافی وقت پڑا ہے، نہیں ہے تو لمحہ احتساب حاصل نہیں ہے۔ تبھی تو شکایتیں بڑھتی جاتی ہیں، اصلاح کی راہ نہیں کھلتی۔ ہم سب دوسرے کو درست کرنے کے متمنی نظر آتے ہیں۔ اے کاش اس کا آغاز خود سے ہو جائے ۔
قناعت سے تو جیسے ہمیں کوئی مطلب ہی نہیں۔ عجیب بے اطمینانی کا عالم ہے ، غم دنیا میں گھلتے جا رہے ہیں، موجود نعمت کی نہ قدر ہے اور نہ شکر ۔ نتیجہ یہ ہے کہ میسر نعمتوں سے جیسا فایدہ اٹھایا جانا چاہیے وہ بھی نہیں ہوتا اور دل مزید کی طلب میں اندھا ہوتا جاتا ہے۔
غور کیجیے تو سچ ، معافی ، اچھا گمان ، غصہ پر قابو ، خود احتسابی اور قناعت سے دل کی دنیا آباد ہوتی ہے ، اللہ راضی ہوتا ہے ، طبیعت کو اطمینان ملتا ہے اور چہرے پر بشاشت کی لکیریں پھیلتی ہیں ۔ ہم ان تمام اوصاف حمیدہ سے دور رہ کر یہی نتائج چاہتے ہیں تو بھلا یہ ممکن کیسے ہو ؟؟؟
ترجو النجاة و لم تسلك مسالكها
إن السفينة لا تجري على اليبس
ساگر تیمی

 آپ اسلام کے کسی بھی رکن یا کسی بھی حکم پر غور کی نظر ڈالیں ، آپ کو اس میں صرف ایک اللہ کی عبادت اور صرف اسی سے منسلک ہونے کا زاویہ روشن نظر آئے گا ۔ کلمہ شہادت تو لفظا و معنی ظاہرا و باطناً اسی کا اظہاریہ ہے ہی ۔ صوم و صلوٰۃ میں بھی یہ زاویہ ایک دم روشن ہے کہ ہم صرف اللہ کے لیے ہی نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں ۔ اسی سے ثواب کی امید رکھتے ہیں اور صرف اسی سے اپنی ضرورتیں مانگتے ہیں۔ زکوٰۃ بھی ہم اسی کے حکم اور اسی کی رضا کے حصول کے لیے دیتے ہیں اور حج کی عبادت بھی اسی کے حکم سے اسی کا ذکر قائم کرنے کو ادا کرتے ہیں ۔

ان تمام ارکان اور احکام پر آپ غور کریں گے تو دوسرا زاویہ بندوں سے ہمدردی اور ان کے ساتھ بھلائی کا روشن ہوتا نظر آئے گا ۔ کلمہ شہادت کے بعد اخوت اسلامی کے بندھن میں بندھ جانا ، نماز با جماعت ادا کرنا اور احباب و اخوان کی خبر گیری کرنا ، غریبوں کو صدقہ و خیرات دینا ، روزہ دار کو افطار کرانے پر اجر پانا ، بھوک پیاس کی شدت سے گزر کر بندوں کی ضرورتوں کے تئیں مزید حساس ہونا اور حج میں کھانا کھلانے اور سلام پھیلانے کے ساتھ اجتماعیت و وحدت کا عملی مظاہرہ کرنا وغیرہ بتلاتا ہے کہ اس دین میں دو زاویے بہت روشن ہیں ۔ ایک اللہ کی خالص عبادت، شرک سے دوری اور خالق سے انتہائی مضبوط رشتہ اور دوسرا بندوں سے ہمدردی اور ان کے ساتھ بھلائی۔
آپ دیکھیں گے کہ بہت سے لوگوں پر پہلا زاویہ روشن نہیں اور وہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی بہت سے مظاہر شرک میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں پر ترس آتا ہے ۔ اسلام کی بنیاد ہی سے نابلد ہیں لیکن جو آگاہ ہیں ان پر جوش مناظرہ سوار ہے اور خیر خواہی کے جذبے سے لگ بھگ عاری ہیں ، اس لیے ان تک پہنچ کر انہیں سمجھانے کا کام کم کم ہی کرتے ہیں ۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ بہت سے لوگوں پر دوسرا زاویہ روشن نہیں ہے ۔ اس میں دو طرح کے لوگ ہیں ۔ ایک تو عبادت کے نشہ میں ایسے چور رہتے ہیں کہ انہیں بندوں سے کوئی مطلب نہیں ہوتا ، خود کو ان سے برتر سمجھتے ہیں اور کبر و فریب کی بنائی ہوئی ایک ایسی دنیا میں جیتے ہیں جسے انہوں نے زبردستی پرہیز گاری کا نام دیا ہوا ہے اور دوسرے وہ کور نگاہ ہیں جنہیں ان ارکان و احکام میں انسانی زاویے نظر ہی نہیں آتے اور وہ انسانوں کی خدمت کی خاطر انہیں ہی بدلنے کی احمقانہ باتیں کرتے رہتے ہیں ۔
درست سمجھ والے صرف ایک اللہ کی عبادت خلوص نیت کے ساتھ کرتے ہیں اور بندوں کے ساتھ ہمدردی اور فائدہ رسانی کا رویہ اپناتے ہیں ۔ دونوں کے بیچ کسی کنفیوژن کے شکار نہیں ہوتے اور یہ روشنی انہیں کتاب اللہ اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتی ہے ۔
ثناءاللہ صادق تیمی

 میں نے محسوس کیا ہے کہ بر صغیر میں وہ لوگ بھی بہ آسانی تمام دینی معاملات میں رائے زنی کرتے ہیں جنہیں دین کی بنیادی معلومات بھی نہیں ہوتی ۔ اچھا ، کمال کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ اپنے تخصص کے معاملے میں بڑا محافظانہ ذہن رکھتے ہیں ، کسی کے لیے یہ جائز نہیں سمجھتے کہ ان کے تخصصات میں دخل در معقولات کرے۔ ابھی حج کے اس موسم میں مجھے بحمد اللہ مرکز بصیرت مکہ مکرمہ کے زیر اشراف کچھ دعوتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ۔ بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں سے مل کر یہ احساس گہرا ہوتا گیا کہ تھوڑا کچھ جان کر خود کو بڑا سمجھنے کا ذہن بہت زیادہ ہے ، اردو انگریزی کی مدد سے قرآن کریم اور بعض دینی کتابیں پڑھ کر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عام علماء سے بڑھ کر انہیں جانکاری ہے ۔ عام حالات میں وہ مولویوں کو کمتر سمجھتے ہیں ، عجیب تحقیر آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہیں پھر جب ان پر کھلتا ہے کہ سامنے والا تو واقعی مضبوط قسم کا مولوی ہے تو پھر صورت حال دیدنی ہوتی ہے ۔

ہمارے یہاں ادعا اور خود کو تیس مار خاں سمجھنے کا زاویہ نیا نہیں ۔ یہ خرابی واقعی بڑی ہے اور اس کے بڑے خطرناک نتائج رونما ہوتے ہیں ۔ آپ جسے کمتر سمجھتے ہیں اس سے رہنمائی لے نہیں سکتے ، خود اس قابل نہیں ، اس لیے عجیب و غریب قسم کی گمراہیوں میں پڑے رہتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا ۔
علماء کا قصور یہ ہے کہ عوام کی تربیت کا جیسا ٹھوس نظام بنانا چاہیے تھا ، ویسا نظام ہم نے بنایا نہیں ہے ۔ معتبر علما عوام کی پہنچ سے بھی باہر ہیں ، پر جوش مقررین یا عام سے ملا جی لوگوں کو دیکھ کر اگر وہ علما کے بارے میں کوئی زاویہ بنا لیتے ہیں تو انہیں کچھ ویسا غلط بھی نہیں کہا جا سکتا ۔
یہ دو طرفہ معاملہ ہے ۔ علماء سے عوام مستغنی نہیں ہو سکتے اور علما کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اصلاح کا فریضہ انجام دیں ۔
ساگر تیمی

 مولانا حشمت اللہ چترویدی رحمہ اللہ

ثناء اللہ صادق تیمی
مولانا حشمت اللہ چترویدی رحمہ اللہ کے نام سے کان بچپن سے آشنا رہا ۔ پہلی مرتبہ چترویدی صاحب کو اپنے گاؤں کے مدرسہ میں دیکھا ۔ مدرسة العلوم الإسلامية ، مرول میں بچوں کے سالانہ تقریری انعامی مقابلہ کے موقع سے اجلاس عام منعقد ہوا تھا ۔ آپ اسی میں بحیثیت مقرر تشریف لائے تھے ۔ آپ نے دیر تک تقریر کی تھی ، پروگرام ہال میں چند ہی غیر مسلم تھے ، آپ نے انہیں ہی اپنا مخاطب بنایا اور وید کی روشنی میں اسلام کی حقانیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ثابت کی ۔ دوسرے دن سب سے زیادہ آپ ہی کی تقریر کا چرچا تھا ، ہر مکتب فکر کے مسلمان خوش تھے ۔ یہ میرے بچپن کا واقعہ ہے لیکن ان کی تقریر سے جو فضا بنی تھی وہ اب تک ذہن کے کینوس پر تازہ ہے ۔
ہم جب جامعہ امام ابن تیمیہ میں داخل ہوئے تو وہاں سراج اللہ بھائی تھے ، معلوم ہوا کہ آپ چترویدی صاحب کے صاحب زادے ہیں ، ایک خاص قسم کی خوشی اور اپنائیت کا احساس ہوا ۔
بعد کے دور میں جب ہمارا دینی ، ملی اور سماجی شعور تھوڑا بڑھا اور دعوتی سطح پر ہم متحرک ہوئے تو چترویدی صاحب رحمہ اللہ کی بستی پرسا پریہار سیتامڑھی میں کئی مواقع سے حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا ، وہاں ان سے ملاقاتیں رہیں ، وہ مختلف موضوعات پر باتیں کرتے ، اپنی بعض تحقیقات پیش کرتے ، بعض چیزوں سے اپنا اختلاف درج کراتے اور دعائیں دیتے ۔
آپ سے ایک تفصیلی ملاقات 2013-14 میں جھارکھنڈ کے ڈالٹین گنج میں ہوئی ۔ اتفاق سے ایک ہی پروگرام میں ہم دونوں مدعو تھے ۔ آپ نے اپنے مخصوص انداز میں توحید و سنت اور اسلام کی حقانیت ثابت کی اور مجھے تاریخ اہل حدیث پر گفتگو کا حکم ملا ۔ پروگرام کے بعد دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔
آپ دعوتی سطح پر کافی سرگرم تھے ، پروگراموں میں جاتے اور قرآن و سنت کے ساتھ ہی وید وغیرہ سے استدلال کرکے اپنی باتوں کو اور زیادہ موثر بنا لیتے ۔ تقریر میں تفہیم کا رنگ غالب تھا ، دلائل سے لیس گفتگو لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی ۔
زیادہ توجہ توحید پر ہوتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کو بہ دلائل جب ثابت کرنے لگتے تو منظر قابل دید ہوتا۔
چترویدی صاحب کی موت ایک متحرک داعی حق کی موت ہے ۔ ہمارے خطے کے لیے بطور خاص اور ملک کے لیے بطور عام یہ ایک بڑا خسارہ ہے ۔ وہ سرکاری اسکول کے ریٹائرڈ پرنسپل بھی تھے ، بہت سے لوگ انہیں اسی حیثیت سے جانتے ہیں ، انہوں نے اپنے طلبہ کی بھی اچھی تعداد چھوڑی ہے جو ان شاءاللہ تعالیٰ ان کے لیے صدقہ جاریہ ہوں گے ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ چترویدی صاحب کے ساتھ اپنے خاص فضل و کرم کا معاملہ کرے ۔ توحید و سنت کے اس شیدائی اور عظیم داعی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ۔ پسماندگان کو بطور عام اور بڑے بھائی ڈاکٹر سراج اللہ تیمی کو بطور خاص صبر جمیل دے ۔ آمین ۔

 مجھے اللہ کی توفیق سے مرکز بصیرت مکہ مکرمہ کے زیر اشراف اس مرتبہ حجاج کرام کے ساتھ کچھ وقت گزارنے اور دعوت و تبلیغ کا موقع ملا ۔ میں نے کچھ چیزیں بطور خاص نوٹ کیں ؛

1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم يتلو عليهم آياته و يزكيهم و يعلمهم الكتاب و الحكمة و إن كانوا من قبل لفي ضلال مبين
کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور قرآن و حکمت یعنی سنت کی تعلیم دیتے ہیں ۔
مسلمانوں کے بیچ دعوت و تبلیغ میں یہی چیزیں ہونی چاہئیں یعنی ایک مبلغ کو ادھر ادھر جھانکنے کی بجائے ساری توجہ راست طور پر قرآن و سنت پر مرکوز کرنی چاہیے ۔ ساتھ ہی اسے کوشش کرنی چاہیے کہ وہ درس وغیرہ دینے کے بعد فورا لوگوں کے پاس سے نکل کھڑا نہ ہو ، ان کے ساتھ تھوڑا وقت گزارے ، ان کی سنے ، ان کی اصلاح اور ان کا تزکیہ کرے ۔ تقریر سے کہیں زیادہ کارگر یہ گفتگو ہوتی ہے جس میں داعی اور مدعو کے بیچ کوئی دیوار حائل نہیں ہوتی ۔
2. میں نے محسوس کیا کہ ٹکنالوجی چاہے جس قدر آگے بڑھ جائے ، براہ راست دعوت کا کوئی بدل نہیں ۔ ایک داعی کو سوشل میڈیا وغیرہ کا سہارا ضرور لینا چاہیے لیکن براہ راست دعوت کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں جانے دینا چاہیے ۔
3. اللہ کے کلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں غضب کی تاثیر ہے ، آپ جب بغیر ادھر ادھر پڑے انہیں دو بنیادی مصادر کی روشنی میں سلیقے سے جب دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو خود بخود تعصبات کی دیواریں گرنے لگتی ہیں ۔
4. داعی کو جلد بازی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔ صبر و تحمل اور محبت سے کام لے کر مدعو کے بہت سے رویوں سے درگزر کرتے ہوئے اپنے مقصد پر نگاہ رکھنی چاہیے ۔ رفتہ رفتہ اس کی بات اثر کرے گی اور قرآن و سنت کا اثر دکھنے لگے گا۔
5. بیان حق میں حکمت مطلوب ہے ، اور اس کا مطلب یہ دیکھنا ہے کہ کسی حق کو پیش کرنے کا مناسب ترین وقت کیا ہو سکتا ہے ، یعنی حسب ضرورت اور حکمت کے پیش نظر تقدیم و تاخیر تو ہو سکتی ہے لیکن خلط ملط کا شکار نہیں ہوا جا سکتا ۔
6. اس مغالطے کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ نہیں سنتے ۔ اپنا کام کرتے جانا چاہیے ، لوگ سنتے بھی ہیں اور اثر بھی قبول کرتے ہیں اور جب حق ان پر واضح ہو جاتا ہے تو وہ کسی کی پروا بھی نہیں کرتے ۔ اس لیے ہمیشہ حق پر فوکس کرکے کوشش جاری رکھنی چاہیے ۔
7. یہ بات قطعا غلط ہے کہ لوگ تب تک نہیں سنتے جب تک ان کے پاس لچھے دار باتیں نہ کی جائیں ، قرآن و سنت کے نصوص براہ راست اثر کرتے ہیں ، سلیقے سے صرف مہذب انداز میں ترجمہ بھی کر دیا جائے تو بھی بہت اثر ہوتا ہے ۔
8. بر صغیر میں بڑے بڑے اجلاس کی بجائے مسجد کو مرکزی حیثیت دے کر درس قرآن و حدیث کا اہتمام کیا جانا چاہیے ۔ پائیدار دینی تربیت اور تعلیم و تزکیہ کا راستہ یہی ہے ۔ ہم نے جلسے جلوس کو سب کچھ سمجھ کر بھاری بھول کی ہے ۔ جلسوں سے جوش بھرا جا سکتا ہے تربیت نہیں ہو سکتی ۔
ثناءاللہ صادق تیمی

 اس بات کی گنجائش تو ہونی ہی چاہیے کہ کسی بھی موضوع پر دلائل و براہین کی روشنی میں تہذیب و سلیقے سے گفتگو ہو لیکن اس بات کی قطعی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مباحثہ کسی بھی قسم کی بد اخلاقی یا بد تمیزی کو شامل ہو ۔ 

علماء طبقہ کو یہ تہذیب اختلاف سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ خالص علمی مسئلہ جس میں اختلاف رائے کی گنجائش بنتی ہو، جس میں دلائل کو سمجھنے کے مختلف زاویے ہو سکتے ہوں اس میں اس انداز سے مباحثہ کرنا کہ جس سے بغض و عداوت کو ہوا ملے پرلے درجے کی نادانی اور حماقت ہے ۔ 

اس طبقے میں ایک بڑی عجیب خرابی یہ ہے کہ یہ دلائل و براہین کی روشنی میں گفتگو کرنے کی بجائے فریق مخالف کے علم و مطالعہ کو ناپنے لگ جاتا ہے ۔ فریق مخالف کو ہرانا چاہتا ہے اور ایک علمی بحث جو کسی اچھے نتیجے تک لے جا سکتی تھی وہ افسوسناک بدمزگی اور دشمنی پر جا ٹھہرتی ہے ۔ 

ایک موقع سے ہمارے ایک عزیز دوست نے کہا کہ آپ نے فلاں صاحب سے بحث و مباحثہ کا بازار گرم کیا تھا پھر آپ نے جواب دینا چھوڑ دیا ۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے تب تک بحث میں حصہ لیا جب تک بحث کا تعلق موضوع سے تھا ، جب میں نے دیکھا کہ موضوع پر گفتگو کی بجائے  لیاقت ناپی جا رہی ہے تو مجھے سمجھ میں آ گیا کہ اب بحث غلط سمت جا پڑی ہے اور جن لوگوں کو اس کی بھی تمیز نہ ہو ان سے بحث کرکے علم کو رسوا نہیں کرنا چاہیے ۔ 

عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب حق کی تائید کے ذہن کے ساتھ کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ کسی کا نقصان ہوتا ہے تو وہ حق کا ہی ہوتا ہے ۔ نہ معلوم ہمیں یہ بات کب سمجھ میں آئے گی کہ حق کی توضیح ہماری ذمہ داری ہے حق منوا لینا یا کسی کو قائل کرکے رہنا نہ ہماری ذمہ داری ہے اور نہ ہمارے بس میں ہے ۔ 

ثناء اللہ صادق تیمی

 آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے آپ کو بہت سی خرافات سے بچایا ہوا ہے ۔ ذرا ایک نظر ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے نشے میں دھت بے مقصد نوجوانوں کو دیکھیے ، دوسری طرف اہل بیت کی محبت کے نام نہاد جھوٹے دعویداروں کو سینہ کوبی کرتے دیکھیے اور تیسری طرف خواتین کے مجمع کو دیکھیے اور پھر اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ درست دینی تعلیم کی روشنی سے آپ کس قدر عافیت میں ہیں ۔

اس پر اگر آپ کو اللہ نے عاشورا کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق دی ، آپ نے اس حرمت والے مہینے کا پاس و لحاظ رکھا اور اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے نو اور دس تاریخ کو روزہ رکھا تو آپ کو اللہ کا اور بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ نہ صرف یہ کہ آپ خرافات سے بچے بلکہ سنت و دین پر عمل کیا اور ثواب حاصل کرنے میں ان شاءاللہ تعالیٰ کامیاب ہوئے ۔
پھر دیکھیے کہ آپ کو اللہ نے کسی بھی نام پر حضرات صحابہ کرام کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی سے بچایا تو یہ بھی اس کا فضل و کرم ہے کہ بہت سے بد قسمت دین سمجھ کر اللہ کے پیارے حبیب اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالیاں بکتے ہیں اور اپنی عاقبت تباہ کرتے ہیں ۔
ان تمام امور پر غور کیجیے ، اللہ کا شکر ادا کیجیے اور محبت و تسلسل کے ساتھ اس حقیقت کو عام کرنے کی کوشش کرتے جائیے ۔ اللہ پاک کوششوں میں برکت دے گا اور جس طرح بہت سے لوگ بدل گئے اور برائیاں چھوڑ دیں اسی طرح اور بھی بہت سے لوگ بدل جائیں گے اور ان خرافات سے تائب ہو جائیں گے۔
ثناءاللہ صادق تیمی