Friday, 3 June 2016

چلو اک بار پھر سے بچپنے میں لوٹ جائيں ہم
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
میری آغوش میں ایک پیارا سا بچہ تھا ، بے انتہا خوب صورت ، صحت مند اور کافی جاذب لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔ میں اس کوشش میں کہ وہ مسکرائے اپنے کئی نسخے آزما چکا تھا لیکن اس بچے کے چہرے پر تجسس کی لکیریں تھیں جو گھٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔ میرے ساتھ میں کھڑے میرے دوست بے نام خاں نے ایک قدرے نحیف قہقہہ لگایا اور کہا : بیٹے ! اگر تم نے چائلڈ سیکولوجی ( بچوں کی نفسیات ) پڑھی ہوتی تو تمہیں  معلوم ہوتا کہ یہ بچہ ابھی تمہیں پہچاننے کے پہلے مرحلے سے ہوکر دوسرے مرحلے میں آیا ہے ، پہلے خوف کی کیفیت تھی ، اب دیکھو تجسس کی کیفیت بن گئی ہے اور دوچار ملاقات ہوگی تو ہوتے ہوتے مانوسیت اورمحبت کی کیفیت پیدا ہوجائے گی جب بچہ تمہیں اپنا سمجھنے لگے گا اور اس کے بعد ہمارے دوست کی چائلڈ اور ایجوکیشن سیکولوجی پہ زبردست تقریر چل نکلی ، بی ۔ ایڈ کے زمانے کی ساری محنت انہوں نے ہم پر انڈیل دیا اور ہم استفادے کے بغیر رہ بھی نہ سکے !!!
انسانی زندگی میں بچپن سے جڑی یادیں بہت معنی رکھتی ہیں ۔ ناسٹلجیا میں بچپن کا حصہ زيادہ ہی ہوتا ہے ۔ بچپن کو ہم معصومیت ، الھڑپن ، لاپروائی ، بے ریائی ، صدق ،  فطرت اورچھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے  یاد کرتے ہیں ۔ شعراء ، ادباء اور مفکرین کے یہاں بچپن کی طرف پھر سے لوٹ چلنے کی حسرت مختلف اندازميں جلوہ گر ہوتی ہے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کی آپ بیتی میں جگہ جگہ جب یہ مصرعہ آتا تھا تو ہم کب سمجھتے تھے کہ مولانا کے یہاں یہ شدت کیوں ہے ؟
جوانی لے کے لوٹا دے میرا بچپن مجھے کوئی
بچپن بالعموم خوب صورت ہی ہوتا ہے ، اس محدود دنیا کی دانائیاں اور نادانیاں بڑی پر لطف ہوتی ہیں ، خواہشیں بنا پر کے اڑتی ہیں ، امنگوں کاشاہین پرواز بھرتا رہتا ہے ، مصلحتیں ، حکمتیں ، سمجھوتے راستے میں نہیں آتے لیکن دیکھتے دیکھتے یہ کب گزر جاتا ہے اور ہم کب بڑے ہوجاتے ہیں ، پتہ ہی نہیں چلتا اور پھر بہت جلد بڑے ہونے کی حسرت پھر سے بچہ ہوجانے کی حسرت میں بدل جاتی ہے ۔ منور رانا کا شعر ہے ۔
میری خواہش کہ میں پھر فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
لیکن عربی اخبار میں چھپی ایک چھوٹی سی تحریر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا ، مضمون نگار کا ماننا تھا کہ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتےہیں ہمارا تجسس ، سوال کرنے کی للک ، سب کچھ جان لینے کی دھن ، سب کچھ اپنا لینے کی خواہش مدھم پڑتی جاتی ہے اور ہم تخلیقی قوت سے انجماد کی طرف بڑھنے لگتے ہیں ، ان کے حساب سے بچپنہ صرف معصومیت سے عبارت نہیں ہوتا ، بچپنہ تو امنگ ، تخلیقیت ، لگن اور رکنے کا نام نہ لینے والے سوالات سے عبارت  ہوتا ہے اور یہی اوصاف در حقیقت زندہ قوموں کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں ، مضمون نگار نے پوری عرب قوم سے گزارش کی تھی کہ چلیے ہم پھر سے بچے ہو جاتے ہیں ، جستجو کی طرف لوٹ چلتے ہیں ، سوالات کرتے ہیں ، جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر پھر سوالات کرتے ہیں ، ساری بلندیاں حاصل کرلینے کی کوشش کرتے ہیں ، جھوٹ سچ کے چکر میں پڑے بغیر اپنے ہاتھوں سے اپنی کائنات بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، کئی گھروندوں میں کوئی نہ کوئی گھر نکل آئے گا ۔
مضمون کو پڑھتے ہوئے کئی سالوں پہلے کا اپنا ایک واقعہ ہمیں شدت سے ياد آیا ، ہوا یوں کہ ہمیں اپنے ایک بھتیجے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا تھا ، اب جو راستے بھر اس نے سوالات پوچھے ہیں تو جوابات تھک گئے ہیں اورکئی بار جھنجھلا گیا ہوں ، لیکن اسے لے بھی جانا ہے سو ناراض نہیں کرسکتا اوریوں برداشت کرنا پڑا ہے ۔
ابو !
ہاں بیٹے !
یہ گھر ہے ؟
 ہاں بیٹے !
اور اس کے آگے وہ کالا کالا کیا ہے ؟
بھینس ہے بیٹا !
بھینس ایسا ہوتا ہے ؟
ہاں بیٹے !
اچھا اوروہ سفید والا کیا ہے ؟
وہ گدھا ہے بیٹا !
ابو وہ کالا کیوں نہیں ہے ؟
بیٹے ! وہ اس لیے کہ وہ بھینس نہیں ہے !
اچھا تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔ چچا بھینس ہیں وہ تو کالے ہیں
نہیں بیٹا ! وہ تو آپ کے انکل ہیں
پر ہیں تو وہ کالے !
  اور سوالوں کی کوئی انتہا نہیں ، وہ تو کہیے کہ وہ جگہ آگئی اور ہم بچ گئے ۔
رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے " انما شفاء العی السوال " نہ آئے تو پوچھنا چاہیے ، بہت سارے معاملوں میں شریعت کا بھی مطالبہ ہم سے یہی ہے کہ ہم پھر سے بچپن والی صفتیں اپنے اندر پیدا کرلیں جیسے نہ جانیں تو پوچھیں ، جیسے کسی کے لیے کینہ کپٹ نہ رکھیں جیسے بچپن میں نہ رکھتے تھے ، جیسے کبھی ان بن ہوجائے تو معاف کردیں ، جلد بھول جائيں جیسے بچپن میں کرتے تھے کہ ابھی لڑائی کی اور ابھی پھر مل گئے ، لا یحل لامری مسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث ( مسلمان کےلیے جائزنہیں کہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے ) جو کام کریں دل سے کریں ، بے ریائی سے کریں جیسے بچپن میں کوئی دکھلاوا نہ تھا ۔ اپنی سلیم فطرت پر جئیں جیسے بچپن میں تھے " کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ "  کائنات کو خوب صورت کرنے کی کوشش کریں ، دوسروں کو گرائے بغیر خود آگے بڑھنے کے جتن کریں جیسے بچپن میں کرتے تھے ۔ سچ پوچھیے تو ہمیں اس بچپنے کی آج بہت ضرورت ہے جب دنیا شیطنت کے چنگل میں ہے ، تخلیقیت پر انجماد کے بادل ہیں ، امنگوں کے پر ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں اور خواہشوں میں بلندی کی بجائے پستی آگئی ہے ۔ جب شاعر یہ تک کہنے لگا ہے !
مرے دل کے کسی کونےمیں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دینا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
راجیش ریڈی
اس بچپنے کی طرف آئیے لوٹ چلیں جس میں تخلیقیت تھی ، امنگوں کے پرندے تھے ، سب کچھ حاصل کرلینے کاجذبہ تھا ، کائنات کو خوب صورت دیکھنے اور کرنے کی تمنا تھی ، ہمیں اس تخلیقیت کی آج بہت ضرورت ہے ۔ فرحت احساس کا بڑا پیارا شعر ہے
بچا کے لائیں کسی بھی یتیم بچے کو
اور اس کے ہاتھ سے تخلیق کائنات کریں
چھل کپٹ کی اس ماری دنیا میں اگر ہمارے اندر بچوں کی معصومیت اور تخلیقیت کے عناصر عود کر آئیں تو ہماری زندگی میں ایک بار پھر سے محبت کے گلاب کھل سکتے ہيں ، حسن کی کلیاں چٹک سکتی ہیں ، مسرت کی نسیم چل سکتی ہے ، ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں اور دینا اور بھی زيادہ حسین ہو سکتی ہے ۔ ندا فاضلی کا شعر ہے ۔
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ  بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
آئیے خود کو ہم بچپنے کے حوالے کردیتے ہیں ، مرنے سے پہلے پہلے تک اس بچپنے کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور زندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والی فرحت کی داغ بیل ڈالتے ہیں ۔


Monday, 28 September 2015

منی کا حادثہ
شہیدوں کے پاک خون سے ناپاک سیاست تک
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
اس مرتبہ اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں بھی حج کی سعادت نصیب ہوئی ۔ ہم نے پہلے لوگوں کی زبانی ( ان لوگوں کی زبانی بھی جو سعودی عرب کو ایسے گالیاں ہی دیتے ہیں ) سنا تھا کہ بہت ہی عمدہ اور قابل تعریف نظم رہتا ہے ۔ سعودی عرب کے لوگ حاجیوں کی دل کھول کر خدمت کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے اللہ نے انہیں ساری نعمتیں اس لیے دے رکھی ہوں کہ وہ دونوں ہاتھوں سے حاجیوں پر لٹاتے پھریں ۔ ہمیں اپنے صحافیانہ ذوق کی وجہ سے بھی اور اسلامی طرز فکر و نظر کی وجہ سے بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بشمول سعودی عرب سے ایک قسم کا لگاؤ تھا اور ہم یہاں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے رہتے تھے ۔ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کی جانب سے پیش کی جانے والی کوششوں سے آگاہ بھی ہوتے تھے اور خوش بھی کہ ایک ایسا ملک بھی ہے جس کے اندر اس پر آشوب دور میں بھی دینی حمیت اور ملی غیرت نہ صرف یہ کہ موجود ہے بلکہ قابل صد رشک ہے ۔ اللہ کا فضل دیکھیے کہ اللہ نے ہمیں حرم کی خدمت کے لیے پاک ترین سرزمین مکہ مکرمہ پہنچادیا ۔ یہاں آکر جب قریب سے سعودی عرب کو دیکھنے کا موقع ملا تو دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ اللہ یہاں کے لوگوں اور حکومت کے جذبہ خیر کو یوں ہی باقی رکھے ۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھ میں آیا کہ سعودی عرب کے مخالفین بھی حج کے بعد سعودی عرب کے بارے میں اچھی رائے دینے پر بالعموم مجبور کیوں ہوجا تے ہیں ۔
حج کی سعادت تو نصیب ضرور ہوئی لیکن پے درپے دو ایسے حادثے رونما ہوئے جس نے اندر سے پورا وجود زخمی کردیا ۔ پہلے کرین گرنے سے اللہ کے مہمانوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑا اور پھر حج کے درمیان منی کے اندربھگدڑ کی وجہ سے ایک ہزار سے زيادہ اللہ کے مہمان جاں بحق ہوگئے ۔
   منی کے حادثے پر کیا مسلمان  ہر ایک آدمی جس کے سینے میں دل تھا ، کراہ اٹھا ، ہم زندگی میں پہلی مرتبہ حج کی سعادت حاصل کررہے تھے ، دل کے کس کس گوشے میں سرور کا رنگ نہیں تھا ، آنکھوں میں چمک اور زبان پر تہلیل و تکبیر کی صدائیں اور کیا کیا ولولےنہیں تھے جو سینے میں اٹھ رہے تھے ،لیکن حادثے کے بارے میں جانتے ہی ایسا لگا جیسے یکایک کائنات کا حسن مرجھا گیا ہو ، دل کی دنیا بجھ سی گئی ہو اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا ہو ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
پوری دنیا کے' انسانوں' نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ۔ ہمیں یہ امید تھی کہ بعض مسلکی ، منہجی اور فکری اختلافات کے باوجود پوری دنیا کے مسلمان اس افسوسناک حادثے پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرینگے ، سعودی عرب کو دلاسہ دلائینگے اور اللہ سے دعا کرینگے کہ اللہ ہم مسلمانوں کو صبر کی توفیق دے اور دوبارہ اس قسم کے حادثے کے رونما ہونے سے بچاؤ کی توفیق ارزانی کرے ۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ امید بالکلیہ ٹوٹ گئی ، نہيں ، بلکہ بعض ذمہ دار اور سمجھدار لوگوں نے جس طرح سے حجاج کرام کی خدمتوں کے لیے پیش کی جارہی سعودی عرب کی خدمتوں کو سہارا اور حادثے پر صبر کی تلقین کی وہ بلاشبہ حوصلہ افزا اور قابل تعریف روش تھی ہم یہاں قاسمی برادران کا ذکر کرناچاہینگے جنہوں نے پوری سمجھداری اور کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پورے معاملے میں کافی محتاط اور صحیح رویہ اپنایا اور لوگوں کو سعودی عرب کے مخالفین اور سنی مسلمانوں کے اعداء کے فریب میں آنے سے بچانے کی کوشش کی ۔ فجزاہم اللہ خیرا
لیکن حادثے کے فورا بعد ایران اور اس کے حلیفوں کی جانب سے جس قسم کا رویہ اپنایا گیا اس نے ہمیں صدمے میں ڈال دیا ۔ ہم جانتے تھے کہ ہمارے شیعہ برادران سنی مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں ، حضرات صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں ، مائی عائشہ پر تہمتیں تراشتے ہیں ، جھوٹ کی تقدیس کرتے ہیں ، ہم تاریخ کی ان سچائیوں سے بھی واقف تھے کہ انہوں نے ایک نہیں کئی ایک بار اللہ کے مامون گھر بیت اللہ شریف میں قتل و خون کی ہولی کھیلی ہے ، سازشوں کے تانے بن کر اللہ کے گھر اور ان کے حاجیوں کو زک پہنچانے کی کامیاب و ناکام کوشش کی ہے ، ہمیں علم تھا کہ وہ یمن کے اندر باغی حوثیوں کے پيچھے ہیں اور کسی بھی طرح سعودی عرب کو بالخصوص اور عرب ممالک کو بالعموم ستیاناس کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی وہ عداوت و دشمنی میں اس قدر اندھے ہو جائینگے کہ مقدس شہادتوں پر اپنی ناپاک سیاست کی عمارت تعمیر کرنے کی ناکام کوشش کرینگے ۔ جانوں کے ضیاع پر دلاسہ اور تعزیت تو دور کی بات الٹے وہ افتراء پردازیوں اور کذب بیانیوں کا مضحکہ خیز رویہ اپنائینگے ۔
     دشمنی میں قومیں کس حد گرسکتی ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے یہ الزام تک لگادیا کہ حادثہ پرنس محمد بن سلمان (ولی ولی العھد) کے ساتھ ان کے جتھے کی آمد سے رونما ہوا۔ پوری دنیا میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کرنے کی کوشش کی ، عالمی سطح پر سعودی عرب کو حاجیوں کی خدمت کے لیے نا اہل ثابت کرنے میں لگ گئے۔ تعجب کی انتہا تو تب ہوگئی جب نوری المالکی جیسے نکمے نے بھی زبان دازی شروع کردی اور مفسد جماعت حزب اللہ کا نام نہاد قائد حسن نصراللہ یہ کہتے سنا گیا کہ اس حادثے کے بعد سعودی عرب کے اس اصرار کی کوئی منطق نہیں رہ جاتی کہ وہی تنہا حاجیوں کی ضیافت کرے ۔
لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ تعجب کا موقع تھا بھی نہیں ، یہی ان کی اصل شناخت ہے پھر وہ اس سے الگ کیسے ہو سکتے تھے ۔ یہ تو ذہن و دماغ میں مدتوں سے پل رہے اس شیطنت کا اظہار ہے جس نے اندر اندر نہ جانے کتنی خباثتوں کی دنیا آباد کررکھی ہے ۔ خمینی نے اپنی موت سے پہلے کہا تھا " ہم ان شاءاللہ مناسب وقت میں  امریکہ اور آل سعود سے انتقام لے کر اپنے لوگوں کے غموں کا انتقام لینگے ، ہم اس بڑے جرم کی حسرتوں کا نشان ان کے دلوں پر چھوڑینگے ، ہم حق کی فتحیابی کا جشن مناکر شہداء کے خاندان کے حلق میں مٹھائياں ڈالینگے، ہم کعبہ کو گناہگاروں کے ہاتھوں سے آزاد کرکے مسجد حرام کو آزاد کرینگے "( یاد رہے کہ سعودی عرب میں  400 مجرم شیعوں کودھماکہ خیز مادوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے اور حجاج کرام کو قتل کرنے کی سازش کے جرم  میں تہہ تیغ کیا گیا تھا )
اور رفسنجانی نے 1987 میں کہا تھا " دنیا میں مسلمانوں کے علماء اگر مکہ مکرمہ کے چلانے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اس بات کی استعداد موجود ہے کہ وہ اس مقدس مقام کی آزادی کے لیے لڑائی لڑے "( الجزيرۃ ، 28 ستمبر 2015 ، کوثر الاربش کی تحریر)
 عرب ممالک بشمول سعودی عرب کو اللہ نے امن و امان اور استقرار کی دولت سے نوازے رکھا ، اس لیے ایرانی شیعوں کے لیے اپنے ان ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہ ہو سکا اور وہ گھٹیا حرکتوں پر اترآئے ، فکری جنگ سے کام لیا ، منافقین کی ایک جماعت تیارکی ، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناکر پیش کرنے والے پیشہ ور قلمکاروں کی کھیپ تیار کی ، مختلف طریقوں سے نوجوانوں کو بہلا پھسلاکر سنیوں اورعرب مسلمانوں کے خلاف اتارنے کی سازشیں رچیں اور امریکہ بہادر کے سامنے بڑے اعتماد سے کہا کہ ہمارا اصل دشمن اسرائیل نہیں سعودی عرب ہے اور ساتھ ہی ہر وہ حربہ اختیار کیا جس سے سعودی عرب کو بدنام اور کمزور کیا جاسکے اور عرب اورسنی مسلمانوں کو بے وزن کیا جاسکے ۔
منی کے دل دہلادینے والے حادثے کے پیچھے اسباب کیا تھے ، خامی انتظامی امور میں تھی ، کسی سازش نے اپنا کردار ادا کیا ہے ، ایرانیوں کی بے ہودہ حرکت تھی یا لمحاتی کسی چوک سے اتنا بڑا حادثہ رونما ہوگیا اس کی تحقیق ابھی جاری ہے ، وقت سے پہلے کسی موقف کی تائيد و توثیق مناسب نہیں لیکن ایران اور اس کے حلیفوں نے حادثے کے فورا بعد جس طرح کا رویہ اپنایا ہے اس سے ان کے دجل وفریب اور انسانیت دشمنی کا پردہ چاک ہوگیا ہے ۔ ہمیں خدائی نظام کے باغی بے دین ملحدوں اور اسلام دشمنی میں سر سے پیر تک ڈوبے ان انتہا پسند ہندوؤں سے اس لیے بھی کوئی شکوہ نہیں کہ انسانیت سے گرے ہوئے ان لوگوں سے ہمیں خیر کی توقع کبھی تھی بھی نہیں ۔ اس لیے وہ اس المناک حادثے پر اگر جشن منارہے ہیں یا تمسخر کررہے ہیں تو اس پر ہمیں بہت افسوس ہونا بھی نہیں چاہیے کہ درندوں سے انسانیت کی توقع بجا بھی نہیں ہوتی !!!






Saturday, 29 August 2015

اردو کا اسلامی لٹریچر : جائزے کی ضرورت ہے !
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ،  سعودی عرب
 اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری اکثریت تقلیدی ذہنیت رکھتی ہے ۔ یہاں تقلیدی ذہنیت سے مراد ائمہ اربعہ کی فقہی تقلید نہیں ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملی سطح پر اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس طرف ایک چل پڑا سب چل پڑے ۔ ہم نئی راہ نکالنے کا کم ہی سوچتے ہيں ۔ اسی لیے بہت کم ایسا دیکھنے کو ملتا ہے جب کوئی ایسی چیز سامنے آتی ہو جسے دیکھ کر آپ مارے خوشی کے بالکل اچھل پڑیں اور ساتھ ہی آپ کو حیرت و استعجاب بھی ہو ۔ وجہ ظاہر ہے کہ ہم کرتے تو ہیں باتیں آزادی ، اجتہاد اور بلندی افکار کی لیکن چلتے ہیں ہمیشہ اسی راہ پر جس پر سب چلتے ہیں ۔ ہمارے یہاں ایک عجیب و غریب رویہ یہ پنپ چکا ہے کہ اگر کبھی کسی بڑے انسان سے کسی رائے میں اختلاف کیجیے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس بڑے انسان کی بے عزتی ہوگئی ، حالانکہ اختلاف رائے کا بے عزتی سے کوئی تعلق نہیں ۔ بدتمیزی اور اختلاف رائے میں آسمان زمین کا فرق ہے ۔ اور یاد رہے کہ جب تک ہماری نسل سچ کہنے اور سچائی کی راہ میں بزرگوں سے اختلاف کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں کرے گی وہ ترقی کی طرف اپنا قدم نہیں بڑھا پائے گی ۔ ہمیں یہ بات ذہن نشیں کرنی ہوگی کہ خطرہ مول لیے بغیر بڑی بلندیاں مشکل سے ہی ہاتھ آتی ہیں ۔
     اب ذرا اردو کے اسلامی رسالوں اور اردو اسلامی لٹریچر پر ہی ایک نظر ڈال لیجیے ۔ جس مکتب فکر کے رسالے آپ ہاتھ میں اٹھالیں سب کا طرزو انداز یکساں نظر آئے گا ۔ مثال کے طور پر ایک اہل حدیث ادارے سے نکلنے والے کسی ایک ماہنامے کو سامنے رکھیے اور پھر دوسرے کسی اہل حدیث ادارے سے نکلنے والے رسالے کو سامنے رکھیے آپ کو کوئی بہت بڑا فرق نظر نہیں آئے گا ۔ اسی طرح کسی دیوبندی مکتب فکر یا بریلوی مکتب فکر کے رسالے کو اٹھالیجیے آپ کو صورت حال ایسی ہی نظر آئے گی ۔ یہ سب در اصل تقلیدی ذہنیت کی اپج ہے ۔ ایک رسالہ مقبول ہوا سب نے اسی رسالے کی نقالی کرنی شروع کردی ۔ بالکل ایسے ہی جیسے پانچ سال سات پہلے ایم بی اے کرنے والوں کی کھپت زیادہ تھی ، اب جسے دیکھو ایم بی اے کررہا ہے ۔ پتہ چلا کہ اب ایم بی اے ہی ایم بی اے ہے ۔ نہیں ہے تو جاب نہیں ہے ۔
  مجھے یہ بات کم ہی سمجھ میں آتی ہے کہ جب ایک طرح کا رسالہ نکل ہی رہا ہے تو پھر اسی طرح کا ایک دوسرا رسالہ کیا ضروری ہے ۔ ٹھیک ہے کہ ہر ایک کا اپنا دائرہ ہوتا ہے اور ایک سطح پر اس کی افادیت سے انکار بھی نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم تھوڑا الگ نہیں سوچ سکتے ؟ کیا ذرا نیا راستہ نہیں اپنا سکتے ؟ کیا کوئی نیا تجربہ نہیں کرسکتے ؟ کیا نئے تجربوں کی ضرورت نہیں ہے ؟ کیا اور ایسے گوشے نہیں ہیں جن پر توجہ صرف کی جاسکتی ہو ؟ روایتی اور تقلیدی دائرے سے نکل کر ان دائروں تک نہیں پہنچا جا سکتا جہاں ضرورت بھی شدید ہے اور جہاں کچھ پایا بھی نہیں جاتا ؟
         عام طور سے مدارس سے تعلیم مکمل کیے بنا نکل جانے والے لوگ جو ابتدائیہ ، متوسطہ یا زیادہ سے زيادہ ثانویہ تک کی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں اور جنہیں اردو پڑھنے آتی ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ جو گورنمنٹ اسکولوں میں میٹرک وغیرہ کرکے تعلیم چھوڑ دیتے ہيں اور جنہیں اردو پڑھنے آتی ہے یا پھر وہ خواتین جن کی گھریلو تعلیم ہوتی ہے ۔ جنہیں قرآن کریم اور اردو پڑھنا آتا ہے ۔ کیا ہمارے پاس ان کے لیے کوئی لٹریچر ہے ؟  جب مذکورہ لوگوں کے بارے میں بات ہورہی ہے تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان کی استعداد اتنی زيادہ بھی نہیں ہوتی کہ وہ ان رسالوں سے استفادہ کرسکیں جو ہمارے دینی اداروں سے نکلتے ہیں ۔ ان کی استعداد یہ ہوتی ہے کہ وہ پیام تعلیم ، امنگ اور خاتون مشرق قسم کے رسالوں سے استفادہ کرسکیں ۔ اسی لیے ایسے لوگوں کے یہاں زيادہ تر خاتون مشرق ، پاکیزہ آنچل اور ہما وغیرہ کا ہی رواج دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ہمارے دینی حلقوں کی کمی یہ ہے کہ وہ مذکورہ طبقے کی تربیت کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ۔
    شمالی بہار کے اہل حدیث گھرانوں میں پہلے سواء الطریق کا چلن تھا ۔ ارباب حل وعقد کی دانشمندی دیکھیے کہ اب اس کتاب کا تذکرہ ہوتا ہے، کتاب کی صورت دیکھنے کو نہيں ملتی ۔ دیوبندی مکتب فکر کے لوگ اپنی بچیوں کو شادی کے موقع سے بہشتی زیور دیا کرتے تھے لیکن یہ سچ ہے کہ انہوں نے بھی اس کی تہذیب کی طرف دھیان نہیں دیا اور اس طرز پر ذرا بہتر اور جاذب اسلوب میں اس طرح کی کوئی اور چیز تیار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ بریلوی حضرات کے یہاں اس طرف آکر دینی رسالوں کے نکالنے کا رجحان بڑھا ہے لیکن ان کا رویہ بھی اس معاملے میں یکساں ہے ایسے شاید انہیں اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ خاتون مشرق اور پاکیزہ آنچل وغیرہ کے توسط سے جو دین مسلم گھروں میں داخل ہوررہا ہے وہ وہی دین ہے جن کے یہ ماننے والے ہیں ۔ جماعت اسلامی کا رویہ اچھا رہا ہے انہوں نے حجاب اسلامی ، بتول ، حسنات اور ذکری  جیسے رسالوں سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی رسائی محدود ہے ۔ ان کا اثر محدود ہے ۔ اگر ایسی کوششیں دوسری جماعتیں اپنی سطح سے بھی کریں توایک اچھی شروعات ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح ہمارے یہاں بچوں کا کوئی دینی رسالہ نہیں پایاجاتا ۔ یہ بوجھ بھی جماعت اسلامی والے ڈھوتے رہے ہیں ۔ حکومتی اداروں سے بعض بچوں کے رسالے نکلتے ہیں جیسے امنگ اور بچوں کی دنیا لیکن ان کا مقصد دینی تربیت نہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ہمارے دینی اداروں سے ایسے رسالے نہ کے برابر نکلتے ہیں جنہيں خالص علمی اور تحقیقی رسالوں کا نام دیا جاسکے ۔ دوسرے ملکوں کے لوگ جب کبھی یہ پوچھتے ہيں کہ آپ کے یہاں سے کوئی قابل ذکر علمی تحقیقی دینی رسالہ نکلتا ہو تو بتائیے تو ہمیں بغلیں جھانکی پڑتی ہے ۔  سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس جانب توجہ دینے کو تیار ہیں ؟ یا پھر ہمیں لگتا ہی نہیں کہ اس کی ضرورت بھی ہے ؟ کیا خاتون مشرق ، پاکيزہ آنچل اور امنگ کے اسلوب میں صحیح خالص دین کو پیش کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتی ؟ کیا قرآنی قصے خوبصورت اردو میں نہیں ڈھالے جاسکتے ؟ کیا صحابہ کرام کی زندگیوں سے لوگوں کو نہيں جوڑا جاسکتا ؟ کیا اسلامی عقائد کی آسان اور سہل تشریح و تعبیر نہیں کی جاسکتی ؟ کیا اسلامی تاریخ کے روشن واقعات دلچسپ پیرایے میں نہیں پیش کیے جاسکتے ؟
ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں ؟
    پچھلے دنوں مدینہ منورہ کے سفر کی سعادت حاصل ہوئی ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں فاضل طلبہ سے گفتکو کے درمیان میں نے جب یہ بات رکھی تو انہوں نے اس سے اتفاق کیا ۔ ہم نے ان سے گزارش کی کہ وہ اپنے دوستوں سے اس موضوع پر گفتگو کریں ، اس کے امکانات پر غور کریں اور پھر ان شاءاللہ اس طرف عملی اقدام کے بارے میں سوچیں ۔ میرا ذاتی طور پر یہ تاثر بہت گہرا رہا ہے کہ اگر اس جانب قدم بڑھایا جائے اور تھوڑی ایماندارانہ کوشش کی جائے تو بڑے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اپنی نسل کی تربیت ہماری ذمہ داری ہے ۔ یاد رہے کہ اگر شروع سے ان کے اندر اسلام کو بٹھادیا گیا تو پھر کوئی آندھی انہیں ہلا نہیں پائے گی ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سسٹم آپ کے پاس نہ ہو اور جہاں قدم قدم پر غیر اسلامی افکار و خیالات اور مظاہر کی دنیا آباد ہو وہاں اس قسم کی کوششیں بہت ضروری ہوتی ہیں ۔ اللہ ہمیں نیک توفیق دے ۔




Monday, 17 August 2015

سیرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی عصری معنویت
ثناءاللہ صادق تیمی ، اسسٹنٹ پروفیسر ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض
          اسلامی تاریخ میں شروع عباسی دور کو عصر ذہبی(سنہری دور) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ اسی عہد میں علوم و فنون کا ارتقاء عمل میں آیا ۔ حدیث ، تفسیر ، بلاغہ ، جغرافیہ ، طب ، فلکیات ، ادب اور بقیہ دوسرے علوم وفنون کی شاخیں نکلیں اور مضبوط ہوئیں لیکن اسی عہد میں اور خاص طور سے مامون کے زمانے میں بیت الحکمۃ بھی بنایا گيا جس کے اندر یونانی فلسفہ کی کتابوں کا ترجمہ عمل میں آیا اور دیکتھے دیکھتے معتزلہ کے ہاتھوں اپنے ہاتھ پاؤں پسارنے لگا ۔ قرآن کریم اور انبیائی طریق دعوت کا مطالعہ کیجیے تو ایک بات سمجھ ميں آتی ہے کہ اللہ نے قرآن حکیم کے اندر کائنات میں غور و فکر کرنے کا حکم بھی دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس غور وفکر کے نتیجے میں انسان کا اللہ پر ایمان مضبوط ہوتا ہے لیکن اللہ کی ذات و صفات میں بے مطلب کی موشگافیوں میں الجھایا نہیں ہے بلکہ امور غیبیہ سے متعلق ایمان لانے کو ہی اصل بتلایا ہے ۔ تمام انبیاء بشمول نبی کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ دعوت و عمل یہی رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کے اندر ذوق عبودیت کے ساتھ حسن عمل اور جذبہ جہاد موجزن تھا اور دیکھتے دیکھتے انہوں نے ایک دنیا تک اسلام کی سچائی کو پہنچادیا ۔ بنیادی طور پر اسلام اسی سچے عقیدے اور حسن عمل کی دعوت لے کر آیا تھا ۔ لیکن جب یونانی فلسفہ سے مسلمان آشنا ہوئے اور معتزلہ نے اسے نہ صرف یہ کہ قبول کیا اور دین کو فلسفیانہ موشگافیوں کی نذر کیا بلکہ اس کی ترویج و اشاعت بھی شروع کی ۔  وقت وہ تھا کہ اسلامی حکومت کی چولیں مضبوط تھیں ، نظام اپنی جگہ پر پوری طرج چست درست تھا اورعلماء آسانیوں میں تھے ۔ انہوں نے تعقل آمیزی اور فلسفہ طرازی میں خود کو بری طرح لگادیا اور وہاں وہاں اپنی عقل و خرد کے گھوڑے دوڑانے لگے جہاں عقل و خرد کی رسائی تھی ہی نہیں اور یوں پورے عالم اسلام کو ایک عجیب وغریب قسم کی ایمان سوز بدعت میں مبتلا کردیا ۔ اس کا تجزیہ کرتے ہوئے احمد امین جو معتزلہ کے بڑے قدردان اور حامی ہیں ، لکھتے ہیں " ان پر ( معتزلہ ) پر یہ مواخذہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے دین کو عقلی مسائل اور منطقی دلائل کے مجموعے میں بدل دیا ۔ یہ منہج فلسفہ میں تو درست ہو سکتا ہے لیکن دین کے معاملےمیں درست نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے کہ دین اس سے زیادہ زندہ شعور کا تقاضہ کرتا ہے جتنا کہ منطقی قواعد کرسکتے ہیں " (رجال الفکر والدعوۃ فی الاسلام ص 195 نقلا من ضحی الاسلام )  فتنہ خلق قرآن اسی فلسفہ آمیزی اور تعقل پرستی کانتیجہ تھا جسے مامون کی سرپرستی میں اس کے درباری معتزلی علماء نے اتنا بڑا مسئلہ بنادیا کہ انبیائی طریقہ عمل اور قرآنی و محمدی سنت کے برعکس ایک نئے طرز فکر و عمل کو ناکارنے کے لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو تاريخ ساز قربانی دینی پڑی ۔
      امام احمد بن حنبل کو بجا طور پر امام اہل السنۃ و الجما‏عۃ کہا جاتا ہے ۔ مانا جاتا ہے کہ اللہ نے دو مشکل وقتوں میں اپنے دو خاص بندوں کے ذریعے اپنے دین کی حفاظت کی ۔ ایک رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب مانعین زکوۃ اور مرتدین (اسلام سے پھر جانے والوں  ) کا فتنہ اٹھا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قوت ایمانی نے اس کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اللہ کی نصرت سے مالا مال ہوئے اوردوسرے جب قرآن کریم کے مخلوق ہونے کا شوشہ چھوڑ کر فتنہ اٹھایا گیا اور جب ایک دو کے علاوہ سارے علماء نے حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے ہی میں اپنی عافیت سمجھی تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پہاڑ جیسے موقف نے اللہ کے دین کی حفاظت کی ۔ امام احمد بن حنبل ائمہ اربعہ میں سے ایک ہیں ۔ محدثین کے زمرے میں بھی ان کا شمار کبار ائمہ حدیث میں ہوتا ہے ۔ مسند احمد بن حنبل ان کی مشہور و معروف اور معتبر کتاب ہے ۔ 164 ہجری میں آپ کی پیدائش ہوئی اور 241 ہجری میں آپ کا انتقال ہوا ۔
امام احمد بن حنبل اپنی خدمت حدیث اور خدمت فقہہ کے لیے تو جانے جاتے ہی ہیں لیکن خاص طور سے آپ کو آپ کی پاکیزہ سیرت ، روشن کردار، زہد و ورع ، صبر وقناعت ، اتباع سنت رسول،  پہاڑ جیسے غیر متزلزل ایمان اور منہج صحابہ و تابعین پرقائم رہنے کے لیے جان کی بازی تک لگادینے کے فراواں جذبے کے لیے جانا جاتا ہے ۔ امام یحی بن معین فرماتے ہیں " میں نے احمد بن حنبل کے جیسا کسی کو نہیں دیکھا ۔ میں ان کے ساتھ پچاس سال تک رہا ۔ انہوں نے کبھی اپنی نیکی اور کامیابی کے لیے ہمارے سامنے فخر نہیں کیا " (حلیۃ الاولیاء 9/181 ) ربیع بن سلیمان کی روایت ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں " احمد بن حنبل آٹھ خصلتوں میں امام ہیں ۔ حدیث میں امام ہیں ، فقہ میں امام ہیں ، لغت میں امام ہیں ، قرآن میں امام ہیں ، فقر میں امام ہیں ، زہد میں امام ہیں ، ورع میں امام ہیں اور سنت میں امام ہیں " ( مناقب الامام احمد ، مقدمۃ التحقیق ص 10 از عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی ) عبدالرزاق بن ھمام کہتے ہیں " میں نے احمد بن حنبل سے زیادہ فقیہہ اور صاحب ورع شخص نہیں دیکھا " (ایضا ) عبدالملک المیمونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں " میری آنکھوں نے احمد بن حنبل سے زیادہ بہتر کسی کو نہیں دیکھا۔ میں نے محدثین میں ان سے زیادہ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرنے والا اور حدیثوں پر شدت سے عمل کرنے والا نہيں دیکھا جبکہ وہ حديث ان کے نزدیک صحیح ہو " ( ایضا ص 11 ) مروذی نے ان س روایت کیا ہے کہ " میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کوئی حدیث لکھی تو اس پر عمل کیا یہاں تک کہ میری نظروں سے گزرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور ابوطیبہ کو ایک دینار دیا تو میں نے جب پچھنا لگوایا تو حجام کو ایک دینار دیا " (ایضا 12 ) امام احمد بن حنبل کے بیٹے صالح بن احمد روایت کرتے ہیں کہ واثق کی طرف سے اسی کے عہد حکومت میں ایک پروانہ آیا جس کے اندر ہماری پریشان کن صورت حال کا ذکر تھا ۔ اور چارہزار درہم تھے اور گزارش کی گئی تھی کہ قرض ادا کرلیں ، اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں اور یہ وضاحت بھی تھی کہ یہ صدقہ خیرات کا مال نہیں ہے بلکہ اپنے والد صاحب سے ملی وراثت کا حصہ ہے ۔ والد صاحب نے جواب میں لکھا " آپ کا خط ملا ، ہم عافیت میں ہیں ، قرض خواہ ہمیں تنگ نہیں کرتا اور اہل و عیال الحمد للہ اللہ کی نعمت میں جی رہے ہیں " اور یوں دراہم لوٹادیا ۔ ایک سال کے بعد جب ہم نے اس کا ذکر کیا تو کہا کہ اگر ہم نے قبول بھی کرلیا ہوتا تو اب تک وہ ختم ہی ہو چکا ہوتا ۔ (ایضا 16 )
    امام شافعی نے ان سے کہا : امیر المؤمنین نے مجھ سے کہا کہ ہے کہ میں یمن کے لیے کوئی قاضی تلاش کروں ۔اورآپ عبدالرزاق کے پاس جانا چاہتے ہیں ۔ یہ لیجیے آپ کو آپ کی مراد مل گئی ، حق کے ساتھ فیصلے کیجیے اور عبدالرزاق سے وہ سب سیکھیے جس کے آپ جویا ہیں ۔ امام احمد نے امام شافعی سے کہا " اگر دوبارہ یہ بات میں آپ سے سنوں گا تو آپ مجھے اپنے پاس نہیں دیکھینگے "
خشیت الہی کا وہ عالم تھا کہ ان کے بیٹے صالح کہتے ہیں کہ جب کوئی ابو کو دعا دیتا تو کہتے کہ اعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے ۔ (ایضا )
         یہ چند شہادتیں اس لیے پیش کی گئی ہیں کہ اندازہ ہو سکے کہ وہ آدمی جو تن تنہا دنیا کی سب سے بڑی حکومت سے ایمان و عقیدہ کے مسئلے پر ٹکر لے رہا تھا وہ داخلی طور پر کس قدر مضبوط کردار کا مالک تھا ۔ مصر کے بڑے عالم ابوزہرہ مصری نے اپنی کتاب "ابن حنبل حیاتہ وعصرہ ۔ آراءہ وفقہہ" میں  لکھا ہے کہ جب مامون کے اس مطالبے پر کہ قرآن کو مخلوق ماناجائے ، بعض علماء ومحدثین نے انکار سے کام لیا تو اس نے انہیں خط لکھا اور ایک ایک کو ان کی بعض کمیوں کی یاد دلائی اور کہا کہ ان کمیوں کو افشا کرکے انہیں رسوا کردے گا ، اپنے احسانات بھی یاد دلائے اور یوں انہيں خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس کے پاس امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو مطعون کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی ۔ اس نے اور اس کے بعد معتصم نے انہيں زدو کوب تو کیا لیکن کوئی ان کے کردار و عمل پر حرف اٹھانے کی جرات نہ کرسکا ۔
        امام احمد بن حنبل کا اصل کردار صرف یہ نہيں کہ انہوں نے معتزلہ کے اس رویے کی مخالفت کی اور قرآن کو مخلوق ماننے سے انکار کردیا بلکہ اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے طریقہ نبی اور قرآنی فکر کو باقی رکھنے پر اصرار کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فلسفہ آمیزیوں میں پڑے ہی نہیں ، مناظرہ کیا ہی نہیں اور کہا تو یہ کہا کہ کتاب وسنت کی کوئی دلیل دے دو اور ہم تسلیم کیے لیتے ہیں ۔ احمد بن ابی دؤاد رئیس المعتزلین کو اس بات کا قلق تھا کہ احمد بن حنبل اس مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور احمد بن حنبل کی فراست یہ تھی کہ قرآن وسنت کا کوئی نص لاؤ اور ہم قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور یوں انہوں نے سرے سے اس پورے طرز فکرو عمل کا راستہ ہی بند کردینا چاہا ۔ اور ہر چند کہ اس راہ میں انہيں جاں سوز مراحل سے گزرنا پڑا ، کوڑے کھانے پڑے ، بے عزتیاں سہنی پڑیں لیکن ٹس سے مس نہ ہوئے اور پھر وہ وقت آیا جب اللہ نے ایک احمد بن حنبل کے ذریعہ پورے دین کو محفوظ کردیا ۔ واثق کے زمانے میں جب محدثین اور اہل سنت و الجماعت کے علماء کی قدردانی ہونے لگی اور اس نے چاہا کہ امام احمد بن حنبل کو نوازے تو امام احمد بن حنبل نے اسے پہلی آزمائش سے زیادہ سخت سمجھا اور اس آزمائش میں بھی کھڑے اترے ۔
     امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی فراست اور قوت ایمانی کا یہی مظہر نہیں بلکہ عظیم مظہر یہ بھی ہے کہ جب معتصم انہیں زدوکوب کررہا ہے اور ان کے اوپر عذاب کی سنتیں تازہ کی جارہی ہیں تب بھی وہ اسے امیر المؤمنیں کہہ کرہی خطاب کررہے ہیں ۔ اس پورے مرحلے میں لمحے بھر کو ان کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ وہ بغاوت کردیں یا عوام کو حکومت کے خلاف ورغلا دیں حالانکہ جس طرح پورے عالم اسلام میں ان کی پذیرائی تھی اور اس مسئلے میں جس طرح پوری مسلم دنیا ان کی طرف نگاہ اٹھائے ہوئی تھی کچھ اتنا بعید بھی نہ تھا کہ وہ اگر اشارہ کردیں تو عوام تختہ الٹنے کو تیار ہو جائیں لیکن وہ تھے بھی تو امام اہل السنۃ و الجما‏عۃ کیسے کرسکتے تھے ایسا غیر اسلامی عمل !
      آج کے اس پر فتن دور میں کئی ایک اعتبار سے اس سیرت کی مسلمانان عالم کو ضرورت ہے جسے سیرت امام احمد بن حنبل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ سنت رسول پر عمل کرنے کا جذبہ فراواں ، زہدو ورع ، علم و عمل ، صحابہ کرام کے نقش قدم کی پیروی اور ہر صورت میں اشتعال انگیزیوں سے دور رہنے کی بے نظیر مثال ۔ آج واقعۃ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ جب مختلف غلط سلط فلفسیانہ موشگافیوں کے ذریعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے کہ مسلمان نبوی طرز فکر و عمل پر اس طرح جم جائے جس طرح احمد بن حنبل جم گئے تھے ۔ آج مسلمان دور آشوب و فتن میں اسی طرح اشتعال انگیزیوں سے خود کو بچائے جس طرح امام احمد بن حنبل نےبچایا تھا ۔ آج مسلمان سنت رسول کو اسی شدت سے عمل میں لے لے جس طرح احمد بن حنبل کیا کرتے تھے ۔ آج مسلمان کا علماء طبقہ حب دنیا سے ایسے ہی کنارہ کش ہو جائے جس طرح احمد بن حنبل تھے ۔ آج ہمارے پاس علم و شعور کا ایسا ہی خزانہ ہو جیسا کہ امام احمد بن حنبل کے پاس تھا ۔ کتنی ضرورت ہے آج ہم میں احمد بن حنبل جیسے علماء کی کہ احمد بن ابراہیم الدورقی کہتے ہیں " جس کسی کو دیکھو کہ وہ احمد بن حنبل کا برا تذکرہ کرتا ہے اس کے اسلام پر اتہام لگاؤ " (تاریخ بغداد للخطیب : 4 /431 ) قتیبہ بن سعید کہتے ہیں " جب کسی شخص کو احمد بن حنبل سے محبت کرتے پاؤ تو جان لو کہ وہ صاحب سنت ہے " (ترجمۃ الامام احمد ، ص 16 ) اور علی بن المدینی شیخ البخاری کہتے ہیں " اللہ نے ارتداد کے دن ابوبکر کے ذریعہ  اور آزمائش کے دن احمد بن حنبل کے ذریعہ اس دین کو شوکت بخشی ( ایضا 17 )

    کیا ہم اس بات کے لیے خود کو تیار کررہے ہيں کہ اللہ ہمارے ذریعہ اس فتنے کے دور میں اپنے دین ( قرآن و سنت ) کی حفاظت کرلے ؟ کیا ہم احمد بن حنبل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہيں ؟ ہے کوئ سننے والا ؟؟؟

Friday, 12 June 2015

دہشت گرد
ساگر تیمی
گھوپ اندھیرا تھا ۔ تنگی ہی تنگی تھی ۔ جیل کی اس کوٹھری میں حیات کے لیے نہیں موت کے لیے ہی جگہ ہو سکتی تھی ۔ جلال الدین کو اندر زنجیروں میں مقید گھسیٹ کر لایا گیا ۔ چہرے پر بھر کلا داڑھی ، آنکھوں میں چمک اور پیشانی پر سجدے کا نشان جس سے اس کے چہرے کی دمک اور بھی بڑھتی جارہی تھی ۔
جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے کوٹھری کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا : اب سمجھ میں آئے گا کمینے کہ دیش کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ ہم کیا برتاؤ کرتے ہیں ۔ جلال الدین کے ہونٹوں پہ پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی جو بہت جلد معدوم بھی ہوگئی ۔ سپرنٹنڈنٹ کے جانے کے بعد جلال الدین نے اپنےنزدیک کانسٹبل سے ایک لوٹے پانی کی درخواست کی ۔ کانسٹبل نے بادل نخواستہ حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے جلال الدین کو پانی کا لوٹا لاکر دیا ۔ جلال الدین نے وضوبنا کر نماز ادا کی اور اپنی جگہ بیٹھ کر قرآن حکیم کی تلاوت میں مصروف ہوگیا ۔ آہستہ آہستہ اس نے لوگوں سے اپنے مراسم بنانے شروع کیے ۔ کانسٹبل جو اس کی دیکھ ریکھ پر مامور تھا ، نسبۃ بڑی عمر کا آدمی تھا ۔ جلال الدین نے اس سے کہہ دیا کہ اسے اس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ وہ اپنے کام خود کرسکتا ہے بلکہ اس نے اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا شروع کردیا ۔ اس کوٹھری کے اندر موجود دوسرے قیدیوں کی بھی جلال الدین نے خدمت کرنی شروع کردی ۔ بالعموم وہ دو کام کرتا ۔ یا تو رب کی عبادت کرتا یا لوگوں کی خدمت ۔ جیل کے سارے قیدی رفتہ رفتہ اس کے گرویدہ ہوگئے ۔
   چنو کانسٹبل یہ تو دیکھ رہا تھا کہ جلال الدین رب کا گن گاتا ہے اور رب کے بندوں کی سیوا کرتا ہے ۔ لیکن اسے ایسا لگتا تھا کہ یہ آدمی ہے تو بہت خطرنا ک ۔ یہ تو دیش دروہی ہے ۔ معصوم لوگوں کی جان لیتا ہے ۔ ایسا یہ اس لیے کررہا ہے کہ ہمیں اپنے بس میں کرکے جیل سے بھاگ سکے ۔ در اصل یہ اس کی سازش ہے ۔ لیکن اسے ایک بات کھائے جارہی تھی کہ آخر جلال الدین شرماجی کی اتنی خدمت کیوں کررہا ہے ۔ کیا اسے یہ بات نہیں معلوم ہے کہ اسی شرما نے اسے جیل کی اس کال کوٹھری میں بھجوایا ہے اور نہ جانے کیوں خود اسے بھی اسی جیل میں آنا پڑ گیا ہے ۔
جلال الدین کے لیے وہ دن سخت ہوتا جب اعلا افسران کی پوری ٹیم آکر اس سے پوچھ تاچھ کرتی اور مختلف قسم کی گالیوں سے اسے نوازا جاتا۔ وہ سب کی سنتا اور بس اتنا کہتا کہ جن گناہوں کی بات آپ کرتے ہیں وہ نہ اخلاقی اعتبار سے اور نہ ہی دینی اعتبار سے جائز ہیں ۔ میں ایسا نہیں کرسکتا اور نہ میں نے ایسا کیا ہے ۔ اعلا افسران کہتے کہ  پھر جو مسلمان تمہاری طرح داڑھی والے یہ سب کرتے ہیں ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ جلال الدین کا ایک ہی جواب ہوتا : غلط کرنے والا چاہے جس نام کا ہو ، غلط غلط ہی ہوتا ہے ، وہ صحیح نہیں ہو سکتا ۔ معصوموں کی جان لینا حیوانیت ہے ، انسانیت نہیں ۔ اسلام تو اعلا انسانیت کا درس دیتا ہے ۔
چنو کانسٹبل یہ باتیں سنتا اور پھر اس کے دل میں طرح طرح کے خیالات گردش کرنے لگتے ۔ وہ سوچتا کہ یہ آدمی اتنے دن سے ہے ، دہشت گرد ہے تو پھر یہ اتنا اچھا کیوں ہے ؟ افسروں کے پاس بھی یہ کوئي غلط بات نہیں بولتا ۔ آج تک اس نے مجھ سے کچھ بھی غلط نہیں کہا ، الٹے میری خدمت کیا کرتا ہے ۔ اس کے ذہن میں ایک بات آئی کہ کیوں نہ شرما کے بارے میں اسے بتایا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ وہ نندو کے ساتھ کس قسم کا رویہ اپناتا ہے ؟ اس نے ایک دن جب کہ وہ اس کی خبر خیریت اور اس کے بچوں کی تعلیم وغیرہ سے متعلق دریافت کررہا تھا ۔ چنو نے بات کاٹ کر بتلایا کہ آپ کو مولانا صاحب! شرماجی ہی کی وجہ سے یہاں آنا پڑا ہے ۔ اسی نے آپ کے بارے میں باضابطہ گواہی دے کر آپ کو پھنسایا ہے ۔ جلال الدین نے خاموشی کے ساتھ اس کی بات سنی اور کہا کہ مجھے تو یہ بات نہیں معلوم تھی اور اگر ایسا تھا بھی تو آپ نے بتاکر اچھا نہیں کیا ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اب شرما جی کے بارے میں میرا اخلاقی رویہ خراب نہ ہو جائے ۔ انہوں نے ضرور غلط فہمی میں ایسا کیا ہوگا ۔ میری ان کی تو پہلے کی ملاقات بھی نہیں ہے ۔ خیرچلیے کوئي بات نہیں ۔
چنو نے نوٹ کیا کہ اس اطلاع کے باوجود جلال الدین کا رویہ شرما کے بارے میں بدلا نہیں ہے ۔ وہ پہلے ہی کی طرح بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ شرما کا خیال رکھ رہا ہے ۔ اب چنو کے دل کی دنیا بدلنے لگی ۔ اسے لگنے لگا کہ اس آدمی کو ضرور پھنسایا گیا ہوگا ورنہ اتنا اچھا آدمی معصوم لوگوں کی جان کیسے لے سکتا ہے ؟
     اس نے شرما جی  سے ایک روز پوچھ دیا کہ آپ نے جس دہشت گرد کے خلاف گواہی دی تھی وہ کیسا آدمی تھا ؟ وہ بہت خطرناک ، دیش دروہی اور معصوموں کی جانیں لینے والا آدمی تھا ، خونخوار اور نہایت گھٹیا ۔ چنو نے پھر سوال کیا تو کیا آپ نے اس کو دیکھا تھا ؟ تم اس قسم کے سوالات کیوں کررہے ہو ؟ یہ نہ تو تمہاری ذمہ داری ہے اور نہ تمہارا منصب ۔ تم اپنے کام سے کام رکھو ۔ چنو نے ہاں میں سر ہلایا اور کہا وہ تو آپ صحیح کہہ رہے ہیں ۔ ویسے اس آدمی جلال الدین نے میرے ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ انتہائی درجے میں خراب آدمی ہے ۔ بے ہودہ اور درندہ قسم کا ہے ۔ میں ۔۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چپ رہو ، وہ تو کتنا شریف ، سشیل ، نیک ، خدمت گزار اور اخلاق مند آدمی ہے ۔ سب کی خدمت کرتا ہے اور بقیہ وقت میں پوجا پاٹ میں لگا رہتا ہے ۔ تم کانسٹبل لوگ کسی اچھے انسان کی اچھائی قبول نہیں کرسکتے ۔ بولتے بولتے شرماجی کی آواز میں جوش کی کارفرمائی بڑھتی چلی گئی ۔ چنو نے کہا یہی تو مسئلہ ہے شرما جی کہ یہ وہی آدمی ہے جس کے خلاف گواہی دے کر آپ نے اسے دہشت گردی کے جرم میں پھنسوایا ہے ۔
شرما : کیا ؟ ایسا نہیں ہو سکتا ۔
چنو : ایسا ہی ہے !
شرما : کیا اسے معلوم ہے کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟
چنو : اسے تو میں نے ہی بتایا تھا آپ کے بارے میں ۔
شرما: کب ؟
چنو : کئی دن ہوگئے ۔
شرما : لیکن وہ تو میری خدمت پہلے سے بھی کہيں زيادہ کررہا ہے ۔
چنو : اسی لیے تو میری بھی سمجھ میں نہیں آرہا ۔ آپ نے ضرور کوئی بھول کی ہوگی ۔
شرما : اس کا مطلب ہے ان لوگوں نے مجھے بے وقوف بناکر ایک شریف آدمی کو پھنسا دیا ۔ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ وہ معصوموں کی جانیں لیتا ہے ، بم پھوڑتا ہے اور جہاں کہیں مسجد کے علاوہ کوئي دوسری عبادت گاہ دیکھتا ہے اس کا خون کھول جاتا ہے ۔ وہ دیش میں کسی غیر مسلم  کو جینے نہیں دینا چاہتا ۔ مجھ سے تو گھور پاپ ہوگیا ۔
چنو : یعنی آپ نے خود آنکھوں سے اسے جرم کرتے نہیں دیکھا تھا ؟
شرما : اب تم زيادہ تفصیل میں مت جاؤ ۔ میں بھگوان سے صرف یہ پرارتھنا کرتا ہوں کہ اب کی بار مجھے سب کچھ سچ سچ بولنے کی شکتی پردان کردے ۔ میں اس بھلے منش کو اس طرح پھنساکر چین کی زندگی نہیں جی پاؤنگا ۔
دوسرے دن اخبارات کی سرخی تھی کہ جلال الدین کے بارے میں نندو کا سنسنی خیز بیان ۔ نندو نے بتایا کہ جلال الدین نردوش ہے اور مجھے غلط طریقے سے استعمال کیا گیا تھا۔ جیل میں بہت قریب سے اس آدمی کو دیکھ کر ایسا لگا کہ یہ تو آدمی نہيں فرشتہ ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔  












Wednesday, 10 June 2015

چندہ : تصویر کا دوسرا رخ
ثناءاللہ صادق تیمی ،  مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
 ایک ایسا لفظ جس کے بولتے ہی انسان ایک دوسرے ہی احساس کے تلے دب جاتا ہے ۔ مدارس کے وہ طلبہ جو فراغت کے کنارے کھڑے ہوتے ہیں انہیں سب سے زيادہ کوئي لفظ گھبراہٹ میں ڈالتا ہے تو وہ یہی لفظ ہے ۔ ایسے کمال یہ بھی ہے کہ بالعموم اس سے زیادہ گھبرانے والے طلبہ ہی بعد کے زمانے میں اس کی زد میں آتےہیں یا یوں کہیے کہ چندے کی یہ دیوی ان پر ہی زیادہ مہربان ہوتی ہے ۔ مدارس و جامعات کے اندربالعموم اساتذہ چندہ کے دوران کے وہ دلسوز اور پریشان کن تجربات طلبہ سے شيئر کرتے ہیں کہ تھوڑی بہت غیرت رکھنے والا طالب علم بھی رات دن یہ دعا نہیں کرتا بھی تو سوچتا ضرور ہے کہ وہ اس صورت حال کی زد میں نہ آئے ۔ لفظ چندہ در اصل نئے فارغین مدارس کے لیے بڑے باپ کی ایک ایسی بد صورت دوشیزہ ہوتی ہے جس سے وہ کسی صورت میں شادی نہیں کرنا چاہتا لیکن اسے اپنی سماجی صورت حال کی وجہ سے ماں باپ کے آگے ہتھیار ڈال دینا پڑتا ہے ۔
     لیکن تھوڑا ٹھہر کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا چندہ کو لے کر اپنایا گیا یہ رویہ بجا ہے ؟ کیا چندہ واقعۃ ایک نامعقول اور غیر شریفانہ عمل ہے ؟ کیا چندہ سے منسلک ہماری کوئي تاریخ رہی ہے ؟ یہ ایک سماجی تفاعل ہے یا بنی نوع انسان کی باضابطہ ضرورت ؟
         زیادہ دور نہ جاکر اگر رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کر لیاجائے تو پتہ چلے کہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چندہ کیا ۔ غزوہ تبوک کے موقع سے عام منادی اور تمام لوگوں سے چندے کی درخواست کا ہمیں علم ہے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ بعض دوسرے مواقع سے بھی سماجی ضرورتوں کے تحت عہد نبوی میں چندہ کیا گیا ۔ زکوۃ کو چھوڑ دیجیے ۔ صدقے پر اسلام میں باضابطہ ابھارا گیا اور بہت سے مسلمان اپنی اس صفت کی وجہ سے مشہور بھی ہوئے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بطور مثال دیکھا جاسکتا ہے ۔     
          سچی بات یہی ہے کہ مشترک خیر پر مشتمل سماجی کاموں کے لیے چندہ کرنا ہی پڑتا ہے ۔ زيادہ بڑا کام ہمیشہ چندے سے ہی ہوتا آیا ہے ۔ حکومت اگر بہت مضبوط ہو تو اور بات ہے ورنہ چندہ کے بغیر کام چلتا کب ہے ۔ آج کی جمہوری دنیا میں بھی چندے کا کاروبار بہت زوروں پر ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اب نام تھوڑے خوب صورت گڑھ لیے گئے ہيں ۔ این جی اوز کیا کرتے ہیں ؟ مختلف ادارے جو فلاحی کاموں کے لیے بنائے گئے ہيں وہ مختلف طریقوں سے چندے وصول کرتےہیں اور پھر مستحقین تک پہنچانے کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ بڑی بڑی جمہوریتوں میں چندے بہت معنی رکھتے ہیں ۔ امریکہ کی ہر بڑی سیاسی پارٹی الیکشن لڑنے کے لیے چندہ کرتی ہے ۔ ہندوستان میں سیاسی پارٹیاں یہی کرتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ملک میں چندے دھونسیا کربھی لیے جاتےہیں اور آہ و زاری کرکے بھی اور یہ منحصر ہوتا اس بات پر ہے کہ دینے والے کی حیثیت کیا ہے ۔ شریفوں والی ڈھب ہے کیا غنڈوں والا طرز۔ خیر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ چندہ سے کہیں چھٹکارا نہیں ہے ۔
سر سید احمد خان نے جب علی گڑھ کالج بنانے کا پروگرام بنایا تو چندہ کے لیے نکلے ۔ بیان کیاجاتا ہے کہ ایک سیٹھ نے یہ کہہ کر ان کے منہ پر تھوک دیا کہ اکثر مولوی ملا ٹائپ کے لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں اور سرسید نے اپنی دستی سے تھوک صاف کرکے کہا کہ سیٹھ جی میں ایک اچھے کام میں آپ کا تعاون مانگ رہا تھا ۔ آگے آپ کی مرضی اور پھر سیٹھ جی نے معافی مانگی اور خطیر رقم سے نوازا ۔
         ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے سقوط کے بعد جب دینی اداروں کا جال بچھایا گیا تو ان کے چلانے کا ذریعہ یہی عوامی چندے بنے ۔ اصحاب خیر اور صاحبان دولت نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بڑے بڑے تعلیمی اور تصنیفی اور دوسرے رفاہی ادارے قائم ہوئے اور ان سے مسلم سوسائٹی کا فائدہ ہوا ۔ تقسیم ہند وپاک کے بعد ہندوستانی مدارس کے پاس سوائے عوامی چندہ کے اور کوئی ذریعہ نہ بچا اور وہ بھی ایسی صورت حال میں جب قوم تباہی و بربادی کے نہ جانے کیسے کیسے سیاہ دن دیکھ رہی تھی لیکن اللہ کے نیک بندوں کی کوشش اور اہل خیر کی سخاوت سے یہ کام ہوتا رہا ۔
 یہاں غور کرنےوالی بات یہ بھی ہے کہ مدارس کے وہ اساتذہ یا منسوبین جو چندہ کرنے کے لیے نکلتے تھے ان کے لیے سفیر کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا ۔ اور ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ سفیر کسی بھی ملک میں اپنے ملک کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ مدارس کے یہ سفیر اپنی عملی زندگی میں دعوت و تبلیغ اور حق و صداقت کے سفیر ہوا کرتے تھے ۔ ہمارا ماضی بتلاتا ہے کہ یہ سفراء دین و دعوت کا کاز سنبھالتے تھے ۔ یہ لوگوں کے بیچ وقت لگاتے تھے ۔ مدرسے کا چندہ بھی ہو جاتا تھا اور ان لوگوں کی دین سے جڑی اصلاح اور تزکیہ بھی ۔ کچھ بڑے مدارس کے ذمہ داران اسی لیے نکلتے تھے کہ دعوت کا کام ہو سکے گا ۔ اس سے رابطہ گہرا رہتا تھا ۔ اپنائیت اور محبت کے گلاب کھلے رہتے ہيں ۔ عوام علماء کی خدمت کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے تھے ۔
       لیکن جب حالات نے ایک اور موڑ لیا ۔ اللہ نے خلیجی ممالک کو تیل کی دولت سے مالا مال کیا اور ان ملکوں نے غریب مسلمانوں کا خیال کرنا شروع کیا ۔ اپنی دولت کے خزانے رفاہ عام کے لیے کھول دیے تو ان کا اچھا خاصا حصہ مدارس اسلامیہ ہندیہ کے ذمہ داران کو بھی ہاتھ لگا ۔ پھر ہوا یوں کہ رفتہ رفتہ پورا اعتماد باہری ڈالروں پر ہوگیا اور ملکی پیمانے پر عوامی چندے کی رفتار دھیمی ہوتے ہوتے نہ کے برابر ہوگئی ۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بالعموم چھوٹے مدارس کے اساتذہ جاتے ہیں یا پھر وہ حضرات جاتے ہیں جنہیں ان کی اپنی ضرورت کھینچ لے جاتی ہے ۔ اللہ کے ان بندوں کی بات نہیں کررہا جنہوں نے بھیک مانگنے کا یہ ایک خوبصورت رستہ چن لیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے " قلندران باصفا " کی تعداد دن بدن بڑھتی ہی جاتی ہے ۔
بڑے ادارے اور ان کے ذمہ داران کو اب عوام کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اور مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کا ذہن اس طرح بنا دیا جاتا ہے جیسے چندہ کرنا کوئی نہایت گرا ہوا کام ہو۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں اپنے ایک استاذ سے جو شاعر بھی تھے اور جنہوں نے ہمیں کچھ دن انگلش بھی پڑھایا تھا اور جن کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ چندہ کرنے کے گڑ سے واقف ہیں ، ہم نے ایسے مزاحیہ اندازمیں جس کے اندر ایک قسم کا طنزبھی پوشیدہ تھا، پوچھا تو سر! خوب چندہ کیا آپ نے ؟ انہوں نے ہمارا منشا بھانپ لیا اور کہا : جی جناب ! ہم نے خوب کیا ۔ ایسے آپ کے رئيس الجامعۃ بھی سعودی عرب میں چندہ کرتے ہیں تبھی آپ کا ادارہ چل رہا ہے !!! اور ہم بالکل چپ ہوگئے تھے ۔
       سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہندوستانی جامعات کے ذمہ داران ہندوستان کے باہر چندہ کرسکتے ہیں تو عوامی رابطہ بحال رکھنے کے لیے اور دعوتی نقطہ نظر سے ہندوستان کے اندر یہ کام کیوں نہیں کیا جا سکتا ۔
           چندہ صرف اقتصادی پہلو نہيں رکھتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس اعتبار سے بھی اس کی اہمیت کم نہیں ہے ۔ جس ملک میں مسلمانوں کا اپنا نظام نہیں ہو ، جہاں بیت المال طرح کی کوئي صورت نہ بن پارہی ہو اور جہاں زیادہ تر لوگ مادیت میں ڈوبے ہوئے ہوں وہاں اگر چندہ کرنے کے لیے نہ نکلا جائے تو صدقہ اور خیرات تو چھوڑ دیجیے لوگ زکوۃ تک نہیں نکالینگے ۔ اور ایسا ہو رہا ہے جب قوم کی بڑی تعداد اپنے مال میں واجب زکوۃ نہيں نکالتی ۔ مجھے نہیں معلوم لیکن کیا اس پوری صورت حال پر طبقہ علماء کو سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اب صاحبان مال و منال کو مدارس کے ذمہ داران سے یہ شکایت ہے کہ وہ مدارس کی چہار دیواری سے نہیں نکلتے ۔ کیفیت ایسی ہے کہ پہلے لوگ چندہ کرنے والے علماء سے پریشان تھے اور اب اچھے علماء کے چندہ نہ کرنے سے پریشان ہیں ۔
ایسے اس پورے معاملے میں لفظ کے اندر آئی تبدیلی سے بھی سبق سیکھا جا سکتا ہے ۔ پہلے سفیر پھر محصل اور اب تو دھڑلے سے مچند بولاجاتا ہے ۔ ایسے ہماری رائے میں اپنے لوگوں اور اپنی مٹی سے ٹوٹتا ہوا یہ منظر نامہ اہل مدارس کبیرہ کے دانشمندانہ رویے کے زمرے میں نہیں آتا !!!





Tuesday, 9 June 2015

غزل
ساگر تیمی
ہوا کی سمت ضرورت کا اعتبار کرو
بہت ہے فائدہ اس میں تو بار بار کرو
تمہاری عادت ہے کھانے کی کوئی بات نہیں
مگر ہماری بھی دعوت کبھی کبھار کرو
اگر ہے ظلم کی تقدیر ہی فنا ہونا
تو مٹ ہی جائے گا کچھ دن توانتظار کرو
خزاں کی اپنی سیاست ہے ، تم کرو اپنی
جفا کا زور گھٹاؤ ، وفا بہار کرو
کروگے عشق تو مٹنے کا غم نہیں ہوگا
ہماری مانو ، محبت کا کارو بار کرو
امیر ہونے سے سودا ضمیر کا ہوگا
تو یوں کرو کہ فقیری کو تاجدار کرو
وہ خود تو ظلم کے جویا ہیں ، بے مروت ہیں
مجھے یہ کہتے ہیں ساگر وفا شعار کرو