Saturday, 29 November 2014

غزل 
ساگر تیمی
 
یہ سلیقہ ہے وہ نبھائے گا
 
تم بلاؤ ، ضرور آئےگا
 
سوچتا ہے وہ کتنی شدت سے
 
اس کی شادی میں گانا گائے گا 
کیسی کھونے کی لت لگی ہوگی 
پا بھی جائے تو پا نہ پائےگا 
یہ عمارت نہیں ہے ، مسجد ہے 
توڑ کر بھی گرا نہ پائےگا 
تجھ سے غصہ ہے ، تیرا شیدائی 
تم مناؤ گے ، مان جائےگا 
اتنی الفت بھلی نہیں ہوتی 
بے وجہ بھی دوا کھلائےگا 
آپ ساگر سے مانگ کر دیکھیں 
مسکرائےگا ، جاں لٹائے گا

Monday, 24 November 2014

ڈر
ساگر تیمی
میں ڈرتا ہوں
مگر یہ بات تم سے کہ نہيں سکتا
کہ تم اتنے بہادر ہو
یہ دنیا تم سے ڈرتی ہے
سر محفل ہی تم سدا
 حق بول دیتے ہو
مگر یہ سچ ہے  اب بھی حق
کا کلمہ ہی شکار ناتوانی ہے
تسلط ظلم کو حاصل ہے
ظالم کا زمانہ ہے
بہادر میں بھی ہوں لیکن
یہ سارے قصے ، سب کہانی میری جرات کی
بنائی ہے کہ میں تم سے کہیں پیچھے نہ رہ جاؤں
مبادا ہار میری ہو نہ جائے ، جیت تم جاؤ
وگرنہ سینے میں بیٹھا
جریم راز جو میری طرح تیرا بھی بھیدی ہے
بتاتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں
اور سچے نہیں تم بھی 

Wednesday, 29 October 2014

غزل
ساگر تیمی
جتنی سوچی تھی نہیں اتنی یہ دنیا کم ہے
  آپ یہ سمجھیں کہ  اس میں میرا حصہ کم ہے
اور بھی روپ ہیں آنکھوں کا دریچہ کھولو
تم نے یہ جھوٹ سمجھ رکھا ہے جلوہ کم ہے
تیرا کہنا ہے  کہ عالم ہے فسادوں سے بھرا
میں یہ کہتا ہوں بھلا ہے مگر ایسا کم ہے
آ بھی جاؤ کہ اندھیروں کا مقدر چمکے
 کیونکہ ان آنکھوں میں جینے کو اجالا کم ہے
اور اک بات ہے جینے کی تمنا لیکن
اور اک بات ہے مرنے کا ارادہ کم ہے
خواب تو یہ ہے تجھے سونے کی دنیا دے دوں
اور اک جیب ہے کم بخت کہ پیسہ کم ہے
ایک تو دل ہے اور اس پر بھی بلا کا غرہ
بات یہ بھی ہے کہ  سینے  میں وہ رہتا کم ہے
میں بھی اک بار تجھے چھوڑ کر جانا چاہوں
پھر یہ کہنا کہ" یہ ساگر ہے اور اچھا کم" ہے


غزل
ساگر تیمی
وہ جو کہدے وہی ایمان نہیں ہو سکتا
کوئي قول نبی قرآن نہیں ہو سکتا
تیرے چہرے پہ تعجب کی لکیریں ہیں غلط
تو بھی اس بات سے انجان نہیں ہو سکتا
اتنی خوبی سے اجالے کو اندھیرا لکھا
ہوگا انسان وہ شیطان نہیں ہو سکتا
اور اک بات کی چاہیں  تو ضمانت لے لیں
لینے والا کبھی ذیشان نہيں ہو سکتا
 چاند کے بن بھی یہ  رات چمک سکتی ہے
ہاں مگر صبح کا امکان  نہيں  ہو سکتا  
بس اسی آس میں برسات کا موسم گزرا
مینہ برس جائے گا نقصان نہیں ہو سکتا
اور اک بات ہے ساگر کہ دعا لگ جائے
ہاں مگر ہر کوئي دھنوان نہیں ہو سکتا


Tuesday, 21 October 2014

مولانا ادیب
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئي دہلی
 آپ شاید نہ مانیں لیکن ہمارے دوست بے نام خان ہمیں جب چڑھانا چاہتے ہیں تو اسی طرح پکارتے ہیں ۔ اور میرے ناراض ہونے پر بڑے اعتماد اور سنجیدگی سے کہتے ہیں کہ بھائی ٹھیک ہے تم ادیب نہيں ہو کہ کوئي مولانا ادیب ہو بھی نہیں سکتا لیکن مولانا تو ہو نا! اس میں اس قدر برہم ہونے کی کوئي ضرورت نہیں ہے ۔ اور اس کے بعد ہمارے اور ان کے درمیان ادیب اور مولانا کے موضوع پر پوری بحث چل پڑتی ہے ۔ ہمارے دوست کے حساب سے مولانا ہونے کا مطلب ہی یہ ہوا کہ اس کے اندر ادیبوں والی فراخدلی ، اعلا ظرفی ، وسعت نظر اور تحمل نہیں ہوگا اور ادیب ہونے کا مطلب ہی ہے کہ اس کے اندر مولاناؤں والی کج فکری ، ضد ، جوش اور اشتعال انگیزی نہیں ہوگي ۔ پھر بھلا ایک ہی آدمی ادیب اور مولانا کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ صفات ایک ساتھ جمع کیسے ہو سکتے ہیں ؟ یہ تو آپس میں ضدین ہیں ؟
   آپ ہوں تو نہ معلوم کیا کریں لیکن میں انہیں اپنی طرف سے مثالیں دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی تو مولانا تھے اور عربی کے ادیب بھی تھے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی مولانا تھے اور صاحب انشاپرداز اور  صاحب طرز خاص ادیب بھی تھے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد مفسر قرآن بھی تھے اور باضابطہ ادیب بھی تھے ۔ مولانا سید سلیمان ندوی مولانا بھی تھے اور ماہر لسانیات ادیب بھی تھے اور میں مثالیں پورے جوش و ولولے کے ساتھ دیتا چلا جاتا ہوں ۔ اس درمیان وہ اس طرح سنتے ہيں جیسے اب وہ قائل ہوگئے ہیں اور جب میں سامنے والی میز پہ جوش و اعتماد کے عالم میں اپنی ہتھیلی مارتا ہوں تو ہولے ہولے مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں تو انہيں دلائل کے سہارے آپ اتنی لمبی چوڑی ہانک رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ آپ  مجھے چت کردینگے ۔
   جناب!  مولانا ابوالحسن علی ندوی کو اردو والے تو خیر ادیب سوچنے کی بھی غلطی نہیں کرتے اور عربی والے انہيں ہندوستانیوں میں ایسا عالم مانتے ہیں جنہیں عربی بھی لکھنے بولنے آتی ہے ۔ اور لکھنے کی بھی صلاحیت دوسرے ہندوستانیوں کے بالمقابل اچھی مانتے ہیں عربوں کے بالمقابل نہیں ۔ ایسے ان کے اندر خود ایک خوبی یہ تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو کبھی ادیب نہیں سمجھا ۔ یوں بھی تخلیقی ادب میں ان کی کوئي حصہ داری ہے بھی نہیں ۔
   مولانا عبدالماجد دریابادی بے چارے ادیب ضرور تھے اور صاحب طرز ادیب لیکن آپ کو دھوکہ نہ کھانا چاہیے وہ مولانا نہیں تھے ۔ در اصل ان کے اوپر مولانا لوگوں نے جال پھینک دیا اور بے چارے سیدھے آدمی پھنس گئے اور خود کو مولانا سمجھ بیٹھے اور اس غلطی میں پڑنے کی وجہ سے ایسی ایسی ادیبانہ غلطیاں ان سے ہوئیں کہ آج بھی ادب کا سنجیدہ طالب علم ان سے نالاں ہی رہتا ہے ۔' انگارے' کے بارے میں ان کے مولویانہ خیالات بتلاتے ہیں کہ آدمی اگر مولوی نہ بھی ہو اور اس کے اندر مولانائیت آگئی تو وہ کس قدر ذہنی طور پر سکڑ جاتا ہے ۔ مولانا سید سلیمان ندوی مولانا سے زیادہ عالم تھے البتہ ادیب انہیں نہیں کہا جاسکتا ۔ اردو کی ابتداء اور نشو و نما کے بارے میں ایسے بھی ان کی رائے کمزور ہی مانی گئی ہے ۔ ان کی زبان میں رچاؤ تو ہے لیکن تخلیقی ادب میں ان کی کوئی حصہ داری نہیں ۔ شاعری کی تو وہ بھی بہر حال قابل ذکر نہیں ہے ۔ مولانا ابو الکلام آزاد بلاشبہ بڑے اچھے صحافی اور سیاست داں مانے گئے ہیں لیکن ان کی ادیبانہ اور مولویانہ دونوں حیثيت تسلیم شدہ حقیقت نہيں ہے ۔ مولانا کو مولوی لوگ ادیب اور ادیب لوگ مولوی سمجھتے ہیں ۔ ہاں البتہ یہ دونوں انہیں صحافی اور سیاستداں ضرور مانتے ہیں ۔ اور ایسے بھی میری نظر سے دیکھیے تو تذکرہ جیسی کتاب لکھنے والا آدمی ادیب ہو بھی کیسے سکتا ہے ۔ اللہ ہی جانے وہ کتاب انہیں خود بھی سمجھ میں آئی تھی یا نہیں ۔ میں آپ کو صحیح صحیح بتارہا ہوں کہ آج کے ننانوے فیصد ادیب کو تذکرہ دیکھ کر پڑھنے میں اچھی خاصی دشواری کا سامنا ہوتا ہے سمجھنے کا مرحلہ تو بعد کا ہے ۔
    مولانا ! یہ سب بڑے بودے دلائل ہیں ۔ سچی بات یہی ہے کہ کوئي مولانا مولانا رہتے ہوئے ادیب نہیں ہو سکتا اور کوئي ادیب ادیب رہتے ہوئے مولانا نہیں ہو سکتا ۔ آپ خود کو دونوں سمجھتے ہو اس لیے دیکھو کہیں نہيں ہو ۔
      میں نے پھر بھی ان سے کہا کہ ادیب ہونے کی خوبی تسلیم لیکن مولوی ہونے کے جو خصائل آپ نے گنوائے ہيں وہ آپ کو نہيں لگتا کہ آپ کی جھلاہٹ کے  آئینہ دار ہیں ۔ بھئي مولانا لوگ تو سادگی ، بے ریائی اور خدمت خلق سے بھرپور زندگی بسر کرتے ہیں اور آپ ان کے اوپر کیا کیا الزام دھر رہے ہیں ۔ ان کی تو پوری زندگی عبادت ، صبر وتوکل اور زہدو ورع سے عبارت ہوتی ہے ۔
ابھی میری بات پوری بھی نہیں ہوئي تھی کہ میرے دوست نے مجھے خاموش کرتے ہوئے کہا : شاید کبھی یہ باتیں درست رہی ہونگیں ۔ لیکن اب اللہ کے واسطے ان الفاظ کو مولانا لوگوں سے جوڑ کر ان کا تقدس پامال مت کرو ۔ دنیا میں دو بدنام پیشے ہیں سیاست اور مولویت ۔ اور یاد رہے کہ سیاست بھی اتنی چوکھی نہیں ہوتی جتنی مولانائيت ہوتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ اللہ کے بندے آج بھی اجداد کی وراثت سنبھالے ہوئے ہونگے اور بہت ممکن ہے کہ مولانا لوگوں میں بھی کچھ اللہ والے ہوںگے لیکن یہ ہونگے بھی تو آٹے میں نمک کے برابر ۔ تم میرا منہ نہ ہی کھلواؤ تو اچھا ہو ورنہ خود تمہیں سر چھپانے کو جگہ نہیں ملیگی ۔ اور دیکھو اس موضوع کو یہیں بند کرو تو بھلا ہو ۔ مجھے تاریخ کا بھی علم ہے اور آج کی صورت حال سے بھی واقف ہوں ۔ تم مولویوں کا دکھڑا یہی ہے کہ تم کل کی عظمتوں کا گنگان کرتے نہيں تھکتے اور آج کی غلاظتوں پر نظر ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ بھائی میں ان باتوں میں جانا اچھا نہیں سمجھتا ۔ البتہ ادیب ہونے کے لیے مولانائيت سے توبہ کرنا ضروری ہے ۔ جب نیاز فتح پوری نے مولانا لوگوں سے پیچھا چھڑایا ہے تب کہیں جاکر اتنے بڑے ادیب بنے ہیں ۔ مثالیں تو اور بھی ہیں ۔ لیکن چھوڑو اور تم مولویوں کا حال کیا ہے ۔ اردو لکھتے ہو تو لگتا ہے جیسے سارے بھاری بھرکم الفاظ ایک ہی جملے میں استعمال کرلینے ہیں ۔ قومہ ، فل اسٹاپ اور دوسرے علامات کی کیا معلوم کوئي خبر ہوتی بھی ہے یا نہيں ۔ عربی اور فارسی کے ایسے ایسے الفاظ کہ توبہ بھلی ۔ 'ھلم جرا' اور' وقس علی ھذا' لکھ کر سوچتے ہو شیر مار گرایا ہے ۔ اب تم لوگوں کو کون بتلائے کہ بھائی صاف ستھری اور سادہ زبان میں پیغام پہنچ جائے تو اسے ہی ادب کہتے ہیں لیکن تمہیں  تو اپنی علمیت ، ادبیت اور نہ جانے کیا کیا تیت کی دھونس جھاڑنی ہوتی ہے ۔ ارے مولانا ! مسئلہ یہ بھی ہے کہ تم مولانا لوگ ادیبوں کو تو اس قابل سمجھتے نہیں کہ انہيں پڑھا جائے اور پھر جب تمہارے لکھے ہوئے ' اعلا مقالات ' لوگوں کو پسند نہیں آتے تو الٹے کہتے ہو کہ نام نہاد ادیبوں نے لوگوں کا ذوق بگاڑ دیا ہے ۔ مجال جو خود احتسابی کا جذبہ ابھر جائے ۔ مولانا مودودی ، سلیمان ندوی ، شبلی نعمانی ، ابوالکلام آزاد اور عبدالماجد دریابادی کا نام لے کر اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش تو کرتے ہو لیکن کبھی ان کی طرح لکھنے کی اور انہیں کی طرح محنت کرنے کے بارے میں سوچتے ہو ؟ شاعری میں علامہ اقبال پر خوب فخر کرتے رہو لیکن کبھی تو یہ کوشش بھی کرو کہ کچھ اچھی شاعری کے نمونے تمہارے دم سے بھی معرض وجود میں آئیں ۔ کبھی شاعری کرتے ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے بوڑھا آدمی سکرات الموت میں مبتلا ہے ۔
میں نے دیکھا کہ میرے دوست بالکل میرے (مولویانہ ) انداز میں نصیحت کرنے لگے ہیں اس لیے میں نے بحث تمام کیے بغیر بھاگ لینے کو اچھا سمجھا ۔ آپ کیا کرتے آپ سوچیے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔





Sunday, 19 October 2014

غزل
ساگر تیمی
بجھی ہوئي ہے تو کتنی اداس لگتی ہے
مری گڑیا کسی وحشی کے پاس لگتی ہے
 یہ زندگی کہ جسے میں حیات کہتا ہوں
یہ نک چڑھی مجھے جھگڑالو ساس لگتی ہے
کسی نے کیا دیا باتیں! دعا کے لہجے میں
تمام عمر ہی نذر سپاس لگتی ہے
بہت ہی دور ہے نزدیک جاکے دیکھو تو
وہی وفا جو یہيں آس پاس لگتی ہے
اسی کو کہتے ہیں شاید وفا کی مضبوطی
وہ ڈانٹتی ہے مگر بے ہراس لگتی ہے
نقاب اچھا ہے فتنوں کو روکتا ہے مگر
حیا نہ ہو تو نظر بے لباس لگتی ہے
مزہ تو ویسے بہت ہے کلاس لینے میں 
مزہ بھی آئے جب اپنی کلاس لگتی ہے
یہی ہے زندگی ساگر مرے تجربے میں
حسین ہے مگر اکثر اداس لگتی ہے


Wednesday, 24 September 2014

خرد   
ساگرتیمی
  وہ شام کا وقت تھا ۔  سارے لڑکے لڑکیاں کینٹین میں چائے نوشی کے لیے آیا ئے ہوئے تھے ۔ یہ یونیورسٹی کاعام مزاج تھا ۔ لائبریری سے نکل کر کبیر نے بھی کینٹین کی راہ لی ۔ کینٹین میں جوہی  پہلے سے چائے کا آرڈر دے کر اس کے انتظار میں تھا ۔ کبیر نے چائے لی اور اپنے نئے خوبصورت موبائل کے ساتھ میسجینگ میں مصروف ہو گیا ۔  جوہی  کو برا لگا لیکن وہ جانتا تھا کہ اب اور کچھ ہو بھی نہیں سکتا ۔ اور تھوڑی دیر بعد وہ اس سے معذرت کرتا ہوا نکل گیا ۔ فیس بک کی اہمیت کا احساس اسے اس دن کچھ زیادہ ہی ہو رہا تھا ۔
   " میں تہمیں فیس بک پر دیکھتی رہی ہوں "
"اچھا ؟"
" تم بہت اچھے لگتے ہو "
" تصویر میں یا سچ مچ؟ "
" دونوں جگہ "
" تو ؟ "
" میں تم سے ملنا چاہتی ہوں اگر تمہیں مجھ سے مل کر خوشی  ہو "
" ٹھیک ،کل شام چائے پر ملتے ہیں "
     کبیر نے اسے ہلکے میں لینے کی کوشش ضرور کی تھی ۔ لیکن اب اسے شام کا انتظارشدت سے تھا ۔اس کی باتوں سے اس کی لیاقت بول رہی تھی ۔ اس نے بغیرملے ہی اسے اپنا گرویدہ بنا لیاتھا ۔ اس کی طبیعت نے بارہا اسے اکسا یا کہ وہ اس سے بات کرے لیکن در اصل وہ ہمت نہ کرسکا۔  اسے لڑکیوں سے باتیں کرنے اور ان کے ساتھ  چھیڑ کرنے کی عادت سی تھی لیکن اس مرتبہ اس کے دل کی کشتی خود ہی ڈانواڈول تھی ۔  فلسفےدم توڑ چکےتھے اور ترکیبوں کا کوئی مطلب بھی  نہیں تھا  ۔
     دوسرے دن کی  شام گوری رنگت کی ایک چلبلی سی لڑکی اس کے سامنے تھی ۔ میانہ قد ، چوڑی پیشانی، چمکداربولتی ہوئي آنکھیں اس کے بھولے  سے چہرے پر سلیقے سے سجی ہوئی تھیں ۔ اس پر اس کے پتلے سے دونوں لب جیسے پھول کی  دو پتیاں ۔ اس نے اس کے سراپے پر ایک نطر ڈالی اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہ پاتا اس نے کہا " ہائے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔"
" اور میں کبیر ۔۔۔۔۔۔"
چائے لیتے ہوئے دونوں کی گفتگو آگے بڑھنے لگی جیسے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ پچھلے کئی مہینوں سے چل رہا ہو ۔ کبیر نے دوسری بار اس کے مقابلے اپنی شکست قبول کی ۔ بولتے ہوئے اس کے دانتوں کی چمک اور مسکراتے ہوئے اس چہرے کی دمک نے اسے کہیں کا نہيں چھوڑا تھا  ۔ آج اسے بھی اپنے سمارٹ ہونے کا احساس ہو رہا تھا کہ بہر حال پہل تو اسے نے کی تھی ۔  اس کے خیالات کی دنیا پھیلتی چلی گئی۔ اور دل کے دریچوں سے خوشبوؤں کی آمد سی ہونے لگی ۔ اورپھر وہ اس کے ساتھ کچھ ایسے آئی جیسے بہار نہ جانے کے لیے آگئی ہو ، جیسے نسیم کے چلنے کا سلسلہ رکے گا نہيں ،  جیسے صبح و شام کے یہ حسین نظارے کبھی فنا نہیں ہوںگے ، جیسے گلاب کے اوپر صبح کے وقت  شبنم کے حسین قطرے گرتے رہینگے ۔ 
     اس کا نام نورین  تھا ۔ ہندو ماں اور کمیونسٹ باپ کے بیچ پروش پانے والی اس لڑکی کے اندر غضب کا حسن جمع ہو گیا تھا ۔ ایک طرف اس کے اندر پرانے ہندو خاندان کی تہذيب تھی  تو دوسری طرف کمیونسٹوں کی سی روشن خیالی ، لاابالی پن اور زبردست سماجی شعور ۔ یونیورسٹی کے اندر اپنے شروعاتی دنوں میں اس نے بایاں محاذ کی  پارٹیاں بھی جوائن کی تھی ۔ اسی لیے بولنے کے معاملے میں خاصی بے باک اور اپنے نکتے واضح کرنے کے سلیقہ سے آراستہ تھی ۔ سیاست ، سماج ، مذہب اور جرائم کی نفسیات پر گفتگوکرتےہوئےاس کی سنجیدگي کےساتھ ہی اس کے نکتے اس کی غیر معمولی ذہانت کے گواہ ہوتے ۔
         کبیر جب اپنے دوستوں کے ساتھ اس کی باتیں شیئر کرتا تو اس کے دوست مسکرا کر رہ جاتے جیسے انہیں یقین ہی نہ ہو لیکن جب وہ اس سے مل لیتے تو پھر کبیر کی خوش نصیبی  پر رشک کا اظہار ضرور کرتے اور یہ بات کبیرکو بہت اچھی لگتی ۔ ان میں سے ایک نے جب یہ کہا کہ اسے نورین کی بجائے خرد کہا کرو تو اسے یہ نام بہت پسند آیا اور پھر نورین خرد بن گئی ۔ بات یہ تھی کہ خود نورین کو بھی اپنی شخصیت سے جڑی یہ تعریف اچھی لگتی تھی ۔ ایسے کبیر ایک عام سا طالب علم تھا ۔ سیاست ، مذہب اور فلسفہ سے اسے کوئی زیادہ سروکار نہیں تھا ۔ وہ اپنے سبجیکٹ میں اچھا تھا اور دیکھنے میں ایسا کہ لڑکیاں اعتماد سے اپنی سہیلیوں سے اس کے بارے میں اپنے عشق کا قصہ بیان کرسکیں ۔ خرد کو اس کے مردانہ وجاہت نے ہی اس کے اتنا قریب کردیا تھا ۔
        خرد کی یادداشت بلا کی تھی  ۔ اسے پڑھنے کا بھی شوق بہت تھا ۔ کبیر اسے اپنے موضوع پر لاکر بات کرتا کہ لٹریچر میں تو کم از کم اپنی برتری ثابت ہو لیکن وہ ادب پر گفتگو کرتے ہوئے بھی کہيں سے کمزور نہ پڑتی ۔ خرد کی باتیں سن کر اسے " لندن کی ایک رات " کی شیلا گرین یاد آجاتی۔ ایک روز اس نے اس سے کہا ۔
" کبیر ! ہم سب اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ "
" خرد ! مجھے اس قسم کے سوالات الجھن میں ڈالتے ہيں ۔ اس لیے میں اس طرف سوچتا بھی نہیں "
" لیکن یہ مسئلے کا حل تو نہيں ہے  نا "
" ہاں ، لیکن میں بے مطلب الجھنا بھی نہیں چاہتا ۔ یوں بھی ہم سے پہلے لوگ سب کچھ کر کراکر تھک چکے ہيں "
" لیکن اس سے ہماری ذمہ داری ختم تو نہيں ہو جاتی ۔"
" خرد ! میں جب کبھی اس پر سوچتا ہوں کنفیوزڈ ہو جاتا ہوں "
" تو یہ کرو نا کہ سوچنے کی بجائے بس کرنا شروع کردو ۔ کوئي ایسا کام جس میں سب کی بھلائی ہو ۔ ہماری تمہاری اور سب کی ۔ میرا مطلب ہے انسانوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
      اسی درمیان کبیر کی  کال آگئی اور اسے وہاں سے نکلنا پڑا ۔  
اس بیچ وہ دونوں کئی بارملے ۔ باتیں ہوئیں ، مناقشے ہوئے ، بحث و تکرار میں لڑائی کی نوبت بھی آئی لیکن ان کی محبت پروان بھی چڑھتی رہی ۔ خرد اس درمیان یہ کوشش کرتی رہی کہ کبیر زندگی کے اس افادی پہلو کو سمجھے جس پر وہ ایمان رکھتی ہے ۔ اس کبیر سے بلا کی محبت تھی اور اس معاملے میں اس کا کوئي اختیار بھی نہیں تھا لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا ہم سفرایک عام سے فکر کا آدمی ہو جو بس کمانے کھانے کو زندگی سمجھتا ہو ۔
 کئي  دنوں بعد خرد نے باتوں باتوں میں کبیر سے پوچھا ۔
" کبیر ! ایسے تم کرنا کیا چاہتے ہو ؟ "
" پہلے تو بہت زیادہ متعین ہدف نہیں تھا ۔ بس نوکری کرنا چاہتا تھا لیکن اب ۔۔۔۔۔۔"
"لیکن اب ۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
" اب تم سے ملنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے تمہارے نظریے سے اختلاف کرنا آسان نہیں تو کیوں نہ تسلیم ہی کرلیا جائے "
 خرد کی آنکھوں میں بجلی کی سی چمک آئی۔ اس نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے پیار سے دباتے ہوئے کہا ۔
" کبیر اب تک تم اپنی مادی شخصیت کی وجہ سے میرے لیے مرکز توجہ تھے ۔ میں نے جب تمہیں دیکھا تھا تم مجھے سمارٹ کے ساتھ ہی ذہین لگے تھے ۔ لیکن آج جب تم نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا ہے مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے پوری دنیا مل گئی ۔ جان من ! تم اس راستے پر آگے بڑھو ، تمہاری  خرد سدا تمہارے ساتھ  ہوگی ،ہم اس دنیا  کو بدلینگے ۔ اونچ نیچ ، بھید بھاؤ اور تفریق کی لعنت کے خلاف ہم لڑینگے ۔ ہم سیاست کا مفہوم بدلینگے ۔ کبیر آج میں حد سے زیادہ خوش ہوں ۔ آج میں اپنے پاپا سے کہ سکوں گی کہ میں نے ایک ایسے مرد کو چنا ہے جو ان کی طرح ترقی پسند خیالات کا مالک ہے اور جو اپنی کوششوں سے بہتر سماج بنانے کا خواہشمند ہے  "
" ہاں خرد ! میں تم سے وعدہ کرتاہوں کہ اب یہ زندگی ایک مقصد کے تحت چلے گی۔ تمہارا ساتھ رہا تو میں پہاڑوں سے گزر جاؤنگا  "
" کبیر! میں نے تمہیں منتخب کیا تھا ۔ تم میرا یقین مانو کہ وہ بھی میری خود اعتمادی تھی ۔ تم یہ سوچ کر خوش ہو سکتے ہو کہ تہمیں ایک لڑکی نے چنا لیکن میں یہ سوچ کر بہت خوش ہوں وہ لڑکی میں تھی اور میرے دل نے جو کہا وہ میں نے کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ اے کاش میری ہی طرح اس دیش کی ہر لڑکی کو اس کی اپنی  پسند سے اپنی زندگی کا ہم سفر چننے کی آزادی حاصل ہو تی ۔ "
" خرد ! ہم لڑینگے اس آزادی کے لیے ، تمہارے لیے ،اپنے لیے،سب کے لیے"
       پھر وہ دونوں خود اعتمادی ، اپنی مدد آپ اور انسانیت کی بھلائی کے بارےمیں دیر تک باتيں کرتے ۔ لمبی چوڑی اور کبھی ختم نہ ہونے والی باتيں ۔ " کبیر ! میں ایسے لوگوں کو نکما اور فالتو سمجھتی ہوں جو اپنا کام خود نہيں کر سکتے ۔ میں نے اپنی ایک لڑکی دوست سے اپنا تعلق اس لیے توڑ لیا کہ وہ ایک لڑکے کو چاہتی تھی اور  وہ یہ چاہتی تھی کہ میں اس لڑکے تک یہ بات پہنچاؤں کہ میری دوست اس پر مرنے لگی ہے ۔ میں نے اسے صاف لفظوں میں کہا تھا  کہ یہ ذلیل حرکت مجھ سے نہيں ہوگی ۔ اگر اس کے  اندر ہمت ہے تو جا کر اظہار عشق کرے ورنہ آہیں بھرنے والوں اور دکھڑا سنانے والوں سے مجھے کوفت ہی  ہوتی ہے ۔" اور کبیر مسکرائے بغیر نہيں رہ سکا تھا ۔
       آج سالوں بعد جب سماج سدھار کے کام میں کبیر کی شناخت بن گئی تھی ۔ عورت ، بچہ اور پسماندہ لوگوں کے حقوق کے لیے لڑائی جاری تھی اور کبیر کو ایک آئیکن کے روپ میں دیکھا جارہا تھا ۔ غریب لوگ اسے مسیحا سمجھ رہے تھے  ۔ اپنے آنگن میں بیٹھا کبیر خرد کی گود میں گلکاریاں لے رہے اپنے بیٹے کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اور خرد محلے کے ایک لڑکے کو سمجھا رہی تھی کہ اگر تم امتحان پاس کرنے کے لیے سفارش کے محتاج ہو تو بتاؤ زندگی کے امتحان کیسے پاس کروگے ۔ اور اسے وہ منظر بہت شدت سے یاد آرہا تھا جب خرد نے اس کے ایک دوست سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ۔ " جوہی  ! اگر وہ لڑکی تمہيں اچھی لگتی  ہے تو جاؤ اس سے خود اپروچ کرو ۔ جب ایک  معمولی لڑکی  سے اپنی بات نہيں کہ سکتے تو اس ظالم دنیا کے سامنے تمہاری زبان کیسے کھلے گی ۔ یوں بھی مجھے دلوں والا کام بالکل بھی پسند نہيں " ۔