Monday, 17 March 2014

جامعہ امام ابن تیمیہ
ساگر تیمی
مدینۃ السلام ہے مدینۃ السلام ہے
یہ جامعہ نور یہاں علم کا قیام ہے
یہ آشتی کا ، شانتی کا ، امن کا پیام ہے
ہے دن کو روشنی یہاں اور رات بے ظلام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
تھے خواب جو حسین تو تعبیریں ہیں حسین تر
ہیں ڈاکٹر عظیم تو اعمال ہیں عظیم تر
اسی لیے تو پڑھ رہے قصیدہ یاں ہے بحر و بر
پلائے جا او ساقیا ، بھرا ہوا یہ جام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
یہ چشمہ حدیث ہے ، یہ چشمہ قرآن ہے
یہاں کے ذرے ذرے سے ابل رہا ایمان ہے
ہے عشق اس کی شان تو الفت بنی پہچان ہے
بہت ہی لا جواب علامہ ترا نظام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
یہ روح ابن تیمیہ ، یہ علم ابن حزم ہے
دعا ہے ابن باز کی ، البانی کی یہ بزم ہے
پلادیں بادہ علم کا ، یہی تو ایک عزم ہے
حسین تیرا میکدہ ، حسین انتظام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
یہ وارثین انبیاء ، یہ طالبان علم ہیں
یہ عدل کے پیامبر،یہ پاسبان عزم ہیں
اسی لیےتوسہمے سہمے حامیان ظلم ہیں
ہے فیض اس کاعام ، ہر ایک لب پہ اس کا نام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
ڈری ہوئی ہیں بدعتیں ، ڈرا ہوا ظلام ہے
حدیث کی بہار ہے ، تقلید بے امام ہے
کلام ہے اگر یہاں تو رب کا اک کلام ہے
ہے کوشش لقمان تو اللہ کا انعام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
ہوائے علم ہے چلی تو بوئے عائشہ لیے
قدم بڑھائیں بیٹیاں تو خوئے فاطمہ لیے
طوفان ظلم سے لڑینگی روح آسیہ لیے
غضب کاہے یہ گلستاں ، غضب کا اہتمام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
یہاں پہ  جیت دن کی ہے یہاں پہ ہار رات کی
یہاں خدا کا نام ہے اور مدح اس کےذات کی
نبی کی نعت ہے یہاں اور بات اس کے بات کی
اسی لیے تو ہر طرف ہی چھا گیا سلام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
خدا کرے کہ یہ چمن بہار سا بنا رہے
ہر ایک پھول گلستاں کا ہر گھڑی کھلا رہے
ہے نور یہ تو ظلمتوں کااس سے خاتمہ رہے
تو سن لے اس کی اے خدا ساگر ترا غلام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے



Sunday, 16 March 2014

جامعہ امام ابن تیمیہ
ساگر تیمی
مدینۃ السلام ہے مدینۃ السلام ہے
یہ جامعہ نور یہاں علم کا قیام ہے
یہ آشتی کا ، شانتی کا ، امن کا پیام ہے
ہے دن کو روشنی یہاں اور رات بے ظلام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
تھے خواب جو حسین تو تعبیریں ہیں حسین تر
ہیں ڈاکٹر عظیم تو اعمال ہیں عظیم تر
اسی لیے تو پڑھ رہے قصیدہ یاں ہے بحر و بر
پلائے جا او ساقیا ، بھرا ہوا یہ جام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
یہ چشمہ حدیث ہے ، یہ چشمہ قرآن ہے
یہاں کے ذرے ذرے سے ابل رہا ایمان ہے
ہے عشق اس کی شان تو الفت بنی پہچان ہے
بہت ہی لا جواب علامہ ترا نظام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
یہ روح ابن تیمیہ ، یہ علم ابن حزم ہے
دعا ہے ابن باز کی ، البانی کی یہ بزم ہے
پلادیں بادہ علم کا ، یہی تو ایک عزم ہے
حسین تیرا میکدہ ، حسین انتظام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
یہ وارثین انبیاء ، یہ طالبان علم ہیں
یہ عدل کے پیامبر،یہ پاسبان عزم ہیں
اسی لیےتوسہمے سہمے حامیان ظلم ہیں
ہے فیض اس کاعام ، ہر ایک لب پہ اس کا نام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
ڈری ہوئی ہیں بدعتیں ، ڈرا ہوا ظلام ہے
حدیث کی بہار ہے ، تقلید بے امام ہے
کلام ہے اگر یہاں تو رب کا اک کلام ہے
ہے کوشش لقمان تو اللہ کا انعام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
ہوائے علم ہے چلی تو بوئے عائشہ لیے
قدم بڑھائیں بیٹیاں تو خوئے فاطمہ لیے
طوفان ظلم سے لڑینگی روح آسیہ لیے
غضب کاہے یہ گلستاں ، غضب کا اہتمام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
یہاں پہ  جیت دن کی ہے یہاں پہ ہار رات کی
یہاں خدا کا نام ہے اور مدح اس کےذات کی
نبی کی نعت ہے یہاں اور بات اس کے بات کی
اسی لیے تو ہر طرف ہی چھا گیا سلام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے
خدا کرے کہ یہ چمن بہار سا بنا رہے
ہر ایک پھول گلستاں کا ہر گھڑی کھلا رہے
ہے نور یہ تو ظلمتوں کااس سے خاتمہ رہے
تو سن لے اس کی اے خدا ساگر ترا غلام ہے
مدینۃ السلام ہے ، مدینۃ السلام ہے



Tuesday, 4 March 2014

بدلاؤ کی بحث
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی ۔ 110067
                مارچ 2014 میں مشہور فلم ایکٹر عامر خان اپنے کامیاب ٹی وی شو ستی میو جیتے کے دوسرے شیشن کے ساتھ جب ایک مرتبہ پھر ٹی وی اسکرین پہ نمودار ہوئے ہیں  تو یہ بات بڑے زور شور سے دہرائی جانے لگی ہے کہ آخر ان کے پہلے شو کے بعد سماج میں  کیا تبدیلی رونما ہوگئی ہے ۔ یہی بات اس وقت بھی سامنے آئی جب اروند کیجریوال سیاست میں آئے اور انہوں نے کرپشن کے خلاف مورچہ سنبھالا ۔ یہ سوال اب بھی باقی ہے اور پوچھنے والے یہ سوال پوچھتے رہیںگے ۔ سچی بات یہ ہے کہ اس قسم کے سوال کے پیچھے کوئي خاص شعور کام نہیں کرتا ۔ در اصل یہ ایک شکست خوردہ ذہنیت کی علامت ہوا کرتا ہے ۔ عام طور سے اپنے آپ کو اچھی تبدیلی سے دور رکھنے والے لوگ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ ایسے لوگ جذباتیت اور سطحی سوچ کے مالک ہوتے ہیں ۔ انہیں تبدیلی تب سمجھ میں آتی ہے کہ جب تبدیلی مادی شکل میں نمودارہو۔ اس قسم کی تنقید سے انسان در اصل اپنی کمزوریوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتا ہے ۔
          اگر عامر خان یا اروند کیجریوال یہ دعوی کریں کہ انہوں نے سماج بدل دیا ہے یا پھر یہ کہ ان کی تحریک اور شو کے بعد اب سماج میں برائی رہی نہیں تو ظاہر ہے کہ یہ دعوی غلط ہے اور اس کی غلطی اتنی واضح ہے کہ اس کی مزید وضاحت وقت ضائع کرنے جیسی ہی ہے ۔ لیکن اس بات سے تو کوئي انکار نہیں کر سکتا کہ عامر کے شو اور کیجریوال کی تحریک کا اثر ہوا ہے ۔ لوگوں کے اندر کہیں نہ کہیں بیداری آئی ہے۔ اپنے حقوق اور فرائض کے تئیں وہ حساس ہوئے ہیں ۔ بعض تبدیلیاں نظر آتی ہيں جبکہ بعض دیگر تبدیلیاں نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں ۔ نظر آنے والی تبدیلیاں لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں جبکہ نہ نظر آنے والی تبدیلیوں کو دیکھنے کی بصیرت صرف بیدار عقلوں کو حاصل ہوتی ہے ۔ اسے افسوسناک ہی کہیےکہ آج بھی ہندوستان میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم ان بیدار اور اہل بصیرت لوگوں کی کمی پائی جاتی  ہے ۔ جس طرح کی صورت حال سے ہمارا دیش ان دنوں دوچار ہے ۔ ویسے میں تبدیلی کی بات کرنافطری بھی ہے اور ضروری بھی ۔ اروند کیجریوال نہیں تو کوئي اور عامر نہيں تو کوئي اور لیکن منظر نامہ ایسا ہے ہی کہ تبدیلی کی بات مانی جائے ۔ جہاں عورتیں محفوظ نہ ہوں ،بچیاں پیداہونے سے قبل ماردی جائيں ،بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں کی جاتی ہوں ،قدم قدم پہ کرپشن کا دیو منہ پھاڑے کھڑاہو ، لوگ مذہب ، علاقہ ، زبان اور تہذيب کے نام پر ایک دوسرے کی جان لے رہے ہوں اور جہاں منافقت انسانی زندگی کے سب سے مضبوط اور واضح نقش کے طور پر سامنے آتی ہو وہاں تبدیلی کی بات نہ کرنا حماقت اور کہیں نہ کہيں انسانیت دشمن ہونے کی دلیل ہے اور جو لوگ ایسی کوششیں کررہے ہوں انہيں ان کی اچھی کوششوں پر نہ سراہنا بھی مریضانہ ذہنیت کا گواہ ہے ۔ البتہ یہ سوال اہم بھی ہے اور ضروری بھی کہ اروند کیجرویوال ہوں یا عامر خان ان کا جو طریقہ عمل ہے وہ کس حد تک کارگر اور مفید اور بہتر تبدیلی لانے والا ہے ۔ اس نقطے پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں پچھلے دو تین سالوں سے اس قسم کی خبروں اور واقعات پر نظر رکھ رہاہوں ۔ مجھے جہاں یہ بتانے میں  خوشی ہو رہی ہے کہ کیجریوال یا عامر کی کوششوں کو میں اچھی نگاہوں سے دیکھتاہوں وہیں مجھے اس کے اظہارمیں بھی کوئي باک  نہيں کہ ان دونوں کے طریقہ عمل میں بعض بڑی خامیاں ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر ان خامیوں کو ٹھیک سے درست کرلیا جائے تو زيادہ بہتر نتائج رونما ہوسکتے ہیں ۔
            عامر خان کے شومیں  بالعموم اس بات کو فراموش کردیا جاتا ہے کہ جہاں مسائل ہیں وہیں ان کے اسباب ہیں اور ان اسباب کا سد باب ضروری ہے ۔ آپ چند لوگوں کو صورت حال کی نزاکت دکھلا کر تھوڑی دیر کے لیے ایموشنل تو کرسکتے ہیں لیکن کوئي پائیدار حل نہيں تلاش کرسکتے ۔ ہمارے دیش کا نیچر مغرب سے بہت الگ ہے ۔ ہمارے اندر آج بھی مذہبی  تصورات کا عمل دخل ماشاءاللہ اچھا خاصا ہے ۔ اس لیے سماج کو بدلنے کی ہر صورت اگر دین کے راستے نہ آئے تو وہ اپنا اتنا اثر نہیں ڈال سکتی ۔ جہاں چیزیں سماجی تناظر میں پیش کی جاتی ہیں وہيں اگر وہ دینی تناظر بھی لے لے تو اس کی تاثیرت میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔  جنگ آزادی میں یہی نسخہ گاندھی جی  اور مولانا ابوالکلام آزاد نے استعمال کیا تھا اور وہ دونوں اپنے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تھے ۔ البتہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دین کے آفاقی ، اخلاقی اور انسانیت نواز ہدایات کا سہارا لیا جائے نہ کہ اختلافی امور کو چھیڑنے کی غلطی کی جائے ۔  یہاں اس بات کو نظر میں  رکھنا بھی ضروری ہے کہ انسان بحیثيت انسان اچھا واقع ہوا ہے ۔ اگر ایک انسان کے اندر کے انسان کو جگانے کی کوشش کی جائے تو کوئي وجہ نہیں کہ وہ سماج کو بہتر سمت دینے کی کوشش میں اپنا رول نہ ادا کرنے لگے ۔ ہمارے یہاں برائي سے زیادہ برے لوگوں سے نفرت کی جاتی ہے جبکہ برائي برائي ہی رہے گی اور برے لوگوں کو کوشش کرکے اچھے انسانوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ کیجریوال کے یہاں مختلف مواقع سے ایک قسم کی ضد کا احساس پایا جاتا ہے جو کہیں نہ کہیں ان کی سنجیدگی کو کمزور کرتا ہے ۔ کیجریوال کا آوٹ لک اچھا ہے ۔ ان کی گفتگو کی نرمی بھی اچھی ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ نظام حکومت کو اسی قدر چھیڑنے کی کوشش کی جائے تو بہتر ہو جتنے میں کام چل جائے ۔ ایسی کوشش جس سے انارکی پھیلنے کے خدشات پیدا ہوجائيں وہ اس بڑے ملک کےلیے گھاتک ہی ثابت ہوگی ۔
                لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سب کچھ بدل نہیں سکتا ۔ انسان کے اندر جہاں اچھائیوں کے عناصرہیں وہيں برائیوں کے عناصربھی موجود ہیں ۔ ہم یہ کوشش کر سکتے ہیں اور کرنی بھی چاہیے کہ اچھائیوں کے عناصر کو مضبوط کیا جائے اور برائیوں کو پنپنے سے روکا جائے ۔ یہ توقع کرنا کہ سب کچھ مکمل طور پر بدل جائیگا عقلمندانہ روش نہيں ہاں جوشیلا اور جذباتی طرز عمل ضرور ہے ۔  یہاں مجھے اس کے اعتراف میں بھی کوئی باک نہیں کہ بعض دفعہ اگر یہی جذباتیت اچھے رخ کی طرف مڑ جائے تو بہتر رزلٹ دے دیتی ہے ۔ لیکن یہ ہمیشہ تخیلاتی عناصر سے بھر پور ہوتی ہے اس لیے جب وہ خواب پورے نہيں ہوتے تو بوکھلاہٹ کا تناسب دائرے سے نکلنے لگتا ہے ۔
       ایک بات اور بھی اہم ہے کہ خاموش رہنے یا برائي کا ساتھ دینے سے بہر حال بہتر ہے کہ انسان اچھائی کا ساتھ دے نہ تو کم ازکم اسے سراہے ضرور ۔ یوں جس حد تک اس کی رسائی ہے وہ تو اپنا کام کر ہی سکتا ہے ۔  ساحر لدھیانوی کے بقول
                   مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
                   کچھ خار کم تو کرگئے گزرے جدھر سے ہم
     حالات کاتقاضہ ہے کہ میدان عمل میں آیا جائے ۔ سماج کو بہتر سمت دینے کی کوشش کی جائے ۔ برائیوں اور بھلائیوں کی کشمکش  جاری رہے گی لیکن سوال یہ اہم ہوگا کہ ہمارا رخ کدھر تھا۔ کیجریوال کو اگریہ  بتلانے کی ضرورت ہے کہ کرپشن کا مقابلہ تبھی ہو سکتا ہے جب فرقہ واریت کا مقابلہ بھی کیا جائے تو انہیں یہ ضرور بتلایا جائے اور دلائل و براہین سے ثابت کیا جائے کہ ایسا کرنا ضروری کیوں ہے لیکن وہیں اس بات کو نہ فراموش کیاجائےکہ کرپشن جس سطح پر بھی پایا جاتا ہے اسے ختم کرنے کی ہم اپنی کوشش ضرور بروئےکار لائیں ۔ اندھیروں سے سمجھوتہ کرناعقلمندی  نہیں روشنی پیداکرکےاندھیروں کا خاتمہ کرنا ہی ہوشیاری ہے ۔ اس لیے کہ بہرحال اندھیرا اندھیرا ہے اور روشنی روشنی ۔
                   کچھ بڑھ گئے جو اندھیرے تو کیا ہوا
                 مایوس تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم






Friday, 28 February 2014

اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی 110067
    اس سے  پہلے ایمان کے ارکان کے بارے میں گفتگو ہوئي  تھی اور بتلایا گیا تھا کہ ایمان کے چھ ارکان ہیں ۔ اللہ پر ایمان ، اس کے فرشتوں پر ایمان ، اس کی کتابوں پر ایمان ، اس کے رسولوں پر ایمان ، یوم آخرت پر ایمان اور تقدیر کے خیروشر پر ایمان ۔ یہاں ہم اسلام کے ارکان کی بابت گفتگو کرینگے ۔ اس کا پہلا رکن اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کی گواہی ہے ۔ اس رکن کے دو اجزاء ہیں اور ان دونوں اجزاء کے ٹھیک ٹھیک سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے پر ہی اسلام کی صحیح سمجھ منحصر ہے ۔ اس کے پہلے حصے کا تعلق اللہ کی وحدانیت کے قبول و اعتراف اور اظہار واعلان سے ہے اور دوسرے کا تعلق اللہ کے رسول محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ اور آئیڈیل قبول کرنے اور اسی کے مطابق زندگی گزارنے سے ہے ۔ اور در اصل یہی بنیادی طور پر اسلام بھی ہے ۔
       اللہ کی وحدانیت کا مطلب : کسی بھی ملک ، قوم اور آرگنائزیشن کاکوئی نہ کوئی نشان ہوتا ہے جو اس کی پہچان بھی ہوتا ہے ۔ اسلام کا نشان یہی لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے ۔ بظاہر یہ سادہ سا جملہ ہے لیکن حقیقت کے اعتبارسے یہ اتنا سادہ بھی نہیں ہے ۔ درا صل اس کے اندر پورے دین کی شمولیت ہے ۔ یہ اقرار کرنا کہ معبود صرف اللہ ہے اور کوئی نہیں، ایک بہت بڑی سچائی کو سینے لگا کر اس کے مطابق خود کوڈھالنا ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس سچائی کا اعلان کیا اور مکہ کےلوگوں کو اس حقیقت کی طرف بلایا تو مکہ کے مشرکین نے اس دعوت کا مطلب سمجھا ۔ اس لیے جنہوں نے قبول کیا انہوں نے بھی دل سے قبول کیااور جنہوں نے انکار کیا انہوں نے بھی مطلب سمجھ کر اور یہ جان کر انکارکیاکہ اس دعوت کاپیغام کیا ہے اور اس کے تقاضے کیاہونے والے ہيں ۔ مکہ والوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا تم نے تمام معبودوں کی  جگہ ایک ہی معبود ٹھہرادیا ہے ۔ یہ تو عجیب و غریب بات ہے ۔ ا جعل الالھۃ الھا واحدا ، ان ھذا لشیئ عجاب(ص: 6 ) ۔ اور جن اللہ والوں نے قبول کیا انہوں نے اپنی جان دے دی لیکن کلمہ کے اس تقاضے کو لمحہ بھر کے لیےفراموش نہ کیا ۔ اللہ نے مسلمانوں کو جو کلمہ دیا اور جس کے ذریعہ کوئی بھی انسان دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے ۔ اس کا پہلا حصہ در اصل انکار ہے ۔ انکار اس بات کا کہ کوئی معبود نہيں ہے ۔ کوئی اس قابل نہيں ہے کہ اس کی  عبادت کی جائے ، اسے سجدہ کیا جائے ، اس سے مدد مانگی جائے ، اسے مشکل کشا اور حاجت روا سمجھا جائے اور زندگی کی جملہ ضرورتوں میں اس کی طرف مراجعہ کیا جائے ۔ اور دوسراحصہ بتلاتا ہے کہ مگر ایک ذات ہے ۔ ایک اللہ ہے جو ان تمام صفات کا مالک ہے اور جس سے رجوع کیا جائيگا اور صرف اسی سے کیا جائيگا ۔ صرف اسی کی عبادت کی جائیگی اور کسی کی نہيں۔  اسلام نے انکار و اثبات کی اس ترتیب و ترکیب سے بڑی گہری معنویت پیدا کی ہے اور وہ ہے عقیدے کی وہ پختگی ، صلابت اور مضبوطی جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ اللہ نے شروعات ہی میں اس بات کو اتنا واضح کردیا ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی ملاوٹ ، کوئي التباس یا پیچیدگی باقی نہ بچے ۔ یہی در اصل اسلام کی بنیاد ہے ۔ اسی دعوت کو لے کر تمام انبیاء کرام دنیا میں آئے تھے اور سبھوں نے اسی پیغام کو پہنچانے کا کام کیا تھا ۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لاالہ الا انا فاعبدون۔(الانبیاء : 25 ) اس معاملے میں اللہ تعالی کافی غیور واقع ہوا ہے ، اس معاملے میں وہ کوئي کوتاہی قبول کرنے کا روادار نہيں ۔ اسی لیے اس نے اس قبیل کے گناہ معاف کرنے سے انکار کیا ۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلالا بعیدا۔ (النساء : 116 )  اسلام اس حوالے سے کسی قسم کا کوئي کنفیوزن نہيں چھوڑتا ۔ اسی لیے وہ پہلے انکار سے شروع کرتا ہے اور پھر اعتراف تک لاتا ہے ۔ یہ در اصل اعلان براءت بھی ہے اور اعلان حق وصداقت بھی ۔ یہاں نہ تو صرف انکار ہے اور نہ صرف اقرار ۔ اب یہ بالکل بھی نہ چلے گا کہ اسے بھی مان لیا جائے اور کسی اور کو بھی مان لیا جائے اور نہ یہ چلے گا کہ اسے مانا ہی نہ جائے ۔  اس موقف میں وہ کسی قسم کے سمجھوتے کا روادار نہیں ۔ اس بارے میں اس کا موقف ہے کہ لکم دینکم ولی دین ۔ اگر کوئی اس سچائی کوئی نہيں مانتا تو نہ مانے لیکن ہم اس حقیقت پر اٹل ہیں اور اس بارےمیں کوئي سمجھوتہ نہيں کرسکتے ۔ اسی لیے اہل کتاب سے جب اتحاد کی بات کی گئي تو ان سے کہا گیا کہ ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں مشترک ہے اور وہ یہ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور  ہم میں کا بعض بعض کو رب نہ بنائے ۔ اگر مانتے ہيں تو ٹھیک ورنہ اعلان کردیا جائے کہ بھائی ہم یہی مانتے ہیں ۔ قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم ان لا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوابانا مسلمون۔( آل عمران : 64)
        مکہ کے کفار کو پتہ تھا کہ اس کلمہ کا مطلب کیا ہے ۔ تبھی تو انہوں نے اس کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن آج مسلمانوں کو اس کلمے کی حقیقت نہيں معلوم تبھی تو وہ کلمہ کا ورد بھی کرتے رہتے ہیں اور ہر طرح کے مشرکانہ اعمال بھی انجام دیتے ہیں ۔ ہر مصیبت ، پریشانی ، بیماری  اور دقت میں اللہ کے علاوہ نہ معلوم کتنے غیراللہ کی چوکھٹ پر ماتھے ٹیکتے ہيں اور اپنے سر کی عزت کو خاک میں ملاتے ہیں ۔ ٹھیک کہا تھا اقبال نے ۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
   آج کا مسلمان ایک اللہ کو چھوڑنے کی وجہ سے کہاں کہاں ٹھوکر کھا رہا ہے ۔ اور کیا کچھ وہ نہيں گنوا رہا ہے ۔ ایمان و علم کی ساری دولت کھو رہا ہے ۔ کسی اردو شاعر نے آج کے مسلمانوں کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے ۔
مشکل کشا سمجھ کے اٹھا لے گئی مجھے
حاجت روا سمجھ کے اٹھا لے گئی مجھے
میں اک شکستہ سنگ تھا لوح مزار کا
دنیا خدا سمجھ کے اٹھا لے گئی مجھے
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت : کلمے کا دوسرا حصہ در اصل اس بات کاجواب ہے کہ وہ جو ایک اللہ کو ماننا ہے اور اسی کی عبادت کرنی ہے اور اسی کے مطابق چلنا ہے تو سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوگاکیسے ؟  اور اس کیسے کاجواب یہ ہے کہ ویسے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے دکھلایا ۔ یعنی اصول بھی متعین اور شروح بھی متعین ۔ اسی حقیقت کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ۔(الاحزاب: 21 ) اور اسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے "صلوا کما رایتمنونی اصلی " (البخاری) ویسے نماز پڑھو جیسےتم نے  مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ،کے اندر بیان کیا ہے ۔ اور اسی حقیقت کو اور زیادہ وضاحت سے اللہ نے قرآن کریم کی ایک آیت میں بیان کیا ہے کہ اگر مجھ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میرے رسول کی پیروی کرو ۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ۔(آل عمران: 31 ) یعنی کام صرف اللہ کے لیے ہو اور طریقہ صرف محمد رسول اللہ کا تبھی جاکر قابل قبول ہے ۔ اسی لیے علماءاسلام کے نزدیک کوئی کام تبھی جاکر اسلامی ہوتا ہے جب وہ خالص اللہ کے لیے کیا جائے اور اللہ کے رسول کے مطابق ہو ۔ اور اسی حقیقت کواس کلمے کے اندر بیان کیا گيا ہے ۔ اسلامی تاریخ اور اللہ کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ صحابہ کرام کو بھی اللہ کے رسول کی اس حیثیت کا بخوبی پتہ تھا اور اس معاملے میں وہ کسی قسم کی کوتا ہی کے شکار نہیں تھے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ جب مہاجرین و انصارکے درمیان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے موضوع پر اختلاف ہو گیا ۔ ان میں سے ہر دو فریق اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھ رہا تھا اور اپنے اپنے دلائل پیش کررہا تھا ۔ اسی درمیان جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی کہ الائمۃ من قریش کہ حکمراں قریشی ہوگا تو تمام صحابہ کرام نے اپنی اپنی دعویداری اس طرح واپس لے لی جیسے انہیں اس سے کوئي مطلب ہی نہ ہو ۔ اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی چھوٹ نہيں دی ۔ اور اللہ تبارک وتعالی نے اس معاملے کو یہیں پر نہیں چھوڑا بلکہ اس نے یہ بھی ضروری قرار دیا کہ نہ صرف یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے بلکہ پوری محبت ، آمادگی اور شرح صدر کے ساتھ آپ کے ایک ایک عمل اور ایک ایک حکم کو اپنا لیا جائے ۔ اللہ نے فرمایا کہ فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضيت و یسلموا تسلیما۔(النساء: 65 ) ایک مسلمان کے لیے در اصل یہی فلاح و کامرانی کی راہ بھی ہے ۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ آج کا مسلمان جہاں اللہ کے حقوق کے معاملے میں کوتاہ واقع ہوا ہے اور اس نے لا الہ الا اللہ کے تقاضے فراموش کررکھے ہیں وہیں اس نے محمد رسول اللہ کے مطلب کو بھی الجھاکر رکھ دیا ہے ۔  مختلف شخصیتوں کو اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ دے رکھی ہے اور اس طرح ہر چند کہ کلمہ رسول کا پڑھ رہا ہے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کارویہ انتہائي درجے میں بے وفائی کا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر عقیدے کی سطح پر بھی اور عمل کی سطح پر بھی گمراہیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ نظر آتاہے ۔ جب تک مسلمان لا الہ الا اللہ محمد رسول کے مطلب کو نہ سمجھےاور اس کے مطابق عمل نہ کرے ،نہ تواس کی دنیا بن سکتی ہے اور نہ آخرت سنور سکتی ہے ۔ اللہ ہمیں بہتر توفیق سے نوازے ۔ آمین





کوئی بے وقوف نہیں ہے
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہرلال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی 110067
    یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم بھی ایک خاص قسم کی نوکری سے جڑے ہوئے تھے ۔ ہم دو تین لوگوں کا گروپ تھا ۔ ایک پر ایک سمجھدار لوگ ، بزعم خویش عقلمند ترین اور دوسروں کی سادگی سے فائدہ اٹھانے والے ۔ ہم تین لوگوں میں ایک صاحب تھوڑے زیادہ ہی عقلمند تھے ۔ نہ معلوم کیسے انہيں کوئی نہ کوئي شکار مل ہی جاتا تھا ۔ ایک صاحب کو تو انہوں نے بطور خاص
اپنا نشانہ بنا رکھا تھا ۔ بات یہ تھی کہ وہ تقریر اچھی کرتے تھے ۔ انہیں اپنی تقریر پسند بھی بہت تھی اور انہیں ایسا لگتا تھا کہ ان کی تقریر کے بعد ان کی تعریف تو ہونی ہی ہے ۔ اس لیے وہ اکثر لوگوں کا فیڈ بیک جاننا چاہتے تھے ۔ اس کا مطلب یہ نہ نکالا جائے کہ وہ تنقید بھی سننے کے روادار تھے ۔ نہيں ایسا بالکل بھی نہیں تھا ۔ اگر ان سے کوئی یہ کہتا کہ آپ کی تقریر میں فلاں کمی تھی تو جھٹ کہ دیتے کہ آپ کیا جانینگے ۔ ہم میں جو صاحب زیادہ عقلمند تھے وہ ان کی اس کمزوری سے واقف تھے اور جب کبھی انہیں معلوم ہوتا کہ آج حضرت کی تقریر ہوئی ہے وہ ان سے مل کر ان کی تعریف کرتے ۔ تعریف کرنے کا انداز یہ ہوتا تھا کہ وہ ان کے بعض اچھے جملے اور استدلالات یاد رکھتے اور ان کی اہمیت اور اس کی بلندی کا احساس دلاتے ۔ اس سے حضرت خوب خوش ہو لیتے تھے اور ہمارے عقلمند صاحب کا ناشتہ ہوجاتا تھا۔ ایک روز انہوں نے اپنی عقلمندی اور بیوقوف بنانےکی اپنی اس صلاحیت کا جب ہمارے سامنے ذکر کرنا شروع کیا تو ہم انہیں نہ صرف یہ کہ دیکھتے رہ گئے بلکہ ہمیں ان پر ایک قسم کا رشک بھی آیا ۔ ہم انہیں حسرتوں بھری نگاہوں سے دیکھ ہی رہے تھے کہ ہمارے دوسرے عقلمند جناب نے کہا: بھائی اصل عقلمندی تو ہمارے حصے میں آئی ہے ۔ جناب کو ناشتے پر ٹرخایا جاتا ہے اور ہمیں تو ناشتے ، چائے کے ہمراہ مٹھائی کی سوغات بھی نصیب ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم ان سے حیرت میں ڈالنے والی اس صلاحیت کی گہرائی کی بابت پوچھتے وہ گویا ہوئے کہ بھائی ہم اس راز سے اس لیے پردہ نہيں اٹھا سکتے کہ ہم اس سے دیر تک محظوظ ہونا چاہ رہے ہیں ۔ میں منہ بنائے حیرت کی تصویر بنا انہیں دیکھ رہا تھا کہ بے نام خاں نے کہا: بیٹے تم اتنے بھی تو بے وقوف نہیں کہ کچھ قسمت آزمائی نہ کر سکو ۔ چلو تم اپنے طور پر کوشش کرکے دیکھو کچھ نہ کچھ تو کامیابی مل ہی جائيگی ۔ دوسرے دن میں بھی ایک ارادہ لیے ان کی طرف بڑھا کہ انہوں نے حال چال دریافت کرنے کے بعد کہا : بابو یہ دنیا ہے ۔ لوگ آپ کو بے وقوف ہی سمجھتے ہیں ۔ ہر نیک اور شریف آدمی کو بے وقوف سمجھاجاتا ہے ۔ اب تم میری ہی مثال لے لو کہ لوگ میرے سامنے میری تقریروں کی تعریف کیا کرتے ہیں اور جب میں انہیں ناشتہ چائے پلاکر رخصت کرتا ہوں تو وہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بے وقوف بنا دیا ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا کہتے ہیں اور کہتے رہيںگے لیکن میں یہ سوچتا ہوں کہ میں ان کے بارے میں نہيں وہ میرے بارے میں بات کرتے ہیں اور یہی کیا کم ہے ۔ کل ان کو اور میرے چائے ناشتے کو بھلا دیا جائيگا لیکن میں اور میری تقریر مزید پختہ ہوتی جائیگی ۔ اس زاویے سے سوچو تو وہ مجھے کم اور میں انہیں زیادہ بے وقوف بنا رہا ہوں ۔ مجھے لگا کہ واقعۃ کوئی بے وقوف نہيں ہے ۔
           میرے پاس میرے دوست بے نام خاں آئے اور انہوں نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یار ان دنوں تمہارے بار ے ميں بڑی الٹی سیدھی باتیں ہورہی  ہیں ۔ تمہيں پتہ ہے ایک یونیورسٹی کی ایک بڑی اسکالر تمہارا نام لے کر تم پر فتنہ پردازی کا الزام لگا رہی تھیں ۔ میرے کئی ایک دوست تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ کہیں تم واقعۃ ایسی ویسی کوئی حرکت تو نہیں کررہے ۔ مجھے اپنے دوست کی بات پر پہلے پہل تو بڑی پریشانی ہوئی لیکن جب میں نے سوچا اور اس پر کسی قسم کا کوئی منفی رد عمل ظاہر نہيں کیا تو وہ بڑے پریشان ہوئے اور کہنے لگے مجھے ڈر ہے کہ کہیں اب تم بھی عقلمند تو نہیں ہو گئے ۔ کچھ تو بولو یار اول فول اور میری محنت وصول ہو ۔ تھوڑی دیر بعد خود ہی گویا ہوئے کہ یارمجھے لگتا ہے کہ اب تم بھی بے وقوف نہیں رہے ۔
         ہمارے ایک دوست تھے ۔ جناب کو عشق کا دورہ پڑتا رہتا تھا اور بڑے معصومانہ سوالات کرتے رہتے تھے ۔ ہم انہيں ایک پر ایک ٹپس دیتے اور اپنی محفلوں میں ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے ۔ ایک روز اسی عمل میں مصروف تھے کہ بے نام خاں نے کہا بیٹے بے وقوف وہ نہیں تم لوگ ہو ۔ ہمیں غصہ آیا اور پوچھا وہ کیسے ؟  اور بے نام خاں کا جواب تھا کہ تمہارا وہ عاشق دوست بتارہا تھا کہ علمی طور پر تو تم اس کا نام لے نہیں سکتے اور نہ وہ بے چارہ اس معاملے میں تم سے سبقت کر سکتا ہے ۔ کم ازکم اسی عشق اور بے وقوفی کی وجہ سے وہ تمہاری گفتگو کا حصہ تو ہو جاتا ہے ۔ مجھے سمجھ میں آیا کہ کوئی بے وقوف نہیں ۔
        وہ ہمارے جاننے والے تھے اور انتہائی غریب اور پریشان حال پریوار سے ان کا تعلق تھا ۔ ہمارے اور ان کے درمیان انسانیت کا رشتہ تھا ۔ ان دنوں مکھیا کا الیشن ہونے والا تھا ۔ کافی گہما گہمی تھی اور ایک پر ایک افواہ کا بازار گرم تھا ۔ ہم اپنے کسی علمی کام میں مصروف تھے کہ بے نام خاں آئے اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے ۔ ہم نے ان سے  مسکرانے کی وجہ پوچھی تھی کہ وہ اور بھی مسکرانے لگے ۔ اب مجھے غصہ آنے لگا تھا اور بے نام خاں تاڑ رہے تھے ۔ انہوں نے مجھے اور بھی  پریشان کرتے ہوئے قہقہ لگانا شروع کردیا ۔ میں اپنا قلم لے کر ان کی طرف چلانے ہی والا تھا کہ انہوں نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ بھائی  اصل میں ایک بڑی زبردست انفارمیشن دینے آیا ہوں ۔ جانتے ہو تمہارے انسان دوست نے مکھیا کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ میں نے یوں ہی ٹالتے ہوئے کہا کہ چلو کچھ اور سناؤ اور بے نام خاں نے سمجھ لیا کہ ہم نے ان کی خبر کو درست نہيں مانا اور انہوں نے کہا دیکھو دوست میں سنجیدہ ہوں ۔ بعد میں یہ مت کہنا کہ ہم نے تمہیں بتایا نہيں ۔ میں نے اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور بے نام خاں قسمیہ بیان دینے کو تیار ہوگئے ۔ میں نے مان لیا کہ وہ جھوٹ نہيں بول رہے ۔ لیکن پھربھی میں نے جب کوئی جواب نہيں دیا تووہ پریشان ہوکر چلے گئے ۔ شام کو ہماری ملاقات ہمارے انسان دوست سے ہوئی اور جب ہم نے انہيں کہا کہ یہ کیا بے وقوفی کررہے ہو تو وہ مجھے عجیب و غریب نگاہوں سے دیکھنے لگے ۔ گویا ہوئے تو جیسے ستم ہی نازل ہوگیا ۔ کہنے لگے کم از کم آپ سے اس رد عمل کی توقع نہيں تھی ۔ اکیلے آپ ہی کو تو میں اپنا خیرخواہ اور عقلمند دوست سمجھتا تھا ۔ آج آپ نے وہ بھرم بھی توڑ دیا ۔ میں نے کہا اس کا مطلب ہے کہ مجھے خبر دینے میں دھوکہ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھائی صاحب ہم تو آئے تھے کہ آپ سے حوصلہ افزائی کے چند کلمات سننے کو ملینگے ۔ اور ہم زیادہ تندہی کے ساتھ کام کرسکیںگے۔ میں نے کہا کہ آپ کا خیر خواہ ہوں اور عقلمند بھی تبھی تو آپ سے یہ کہ رہا ہوں کہ آپ یہ کیا حماقت کرنے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ  زرا مجھے یہ بتلائیں کہ اس میں برائی کیا ہے ؟  میں نے کہا کہ بھائی آپ کے جیتنے کی ایک فیصد  بھی توقع نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لیکن میں جیتنے کے لیے کب لڑ رہا ہوں ؟  میں نے کہا : مطلب ؟ انہوں نے کہا کہ بھائی  میں نہیں جیتونگا یہ آپ سوچتے ہيں لیکن کیا ضروری ہے کہ میں ہار ہی  جاؤں ، ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو مجھ سے ہمدردی ہو جائے اور میں جیت جاؤں ۔ واضح رہے کہ تاریخ میں ایسا ہو بھی چکا ہے ۔ میں نے کہا کہ آپ کی سادگی پر مجھے ہنسی آرہی ہے ۔ اس پر ہمارے انسان دوست گویا ہوئے : مولانا صاحب ! اگر لڑونگا تو کم از کم لوگوں کی نگاہوں میں رہونگا ۔ میرا ذکر ہوگا ۔ تاریخ کا حصہ بن جاؤنگا ۔ ورنہ مجھ غریب کو جانتا کون ہے اور پہچانتا کون ہے ؟ جب سے میں نے الیکشن لڑنے کی گھوشنا کی ہے کئی سارے لوگ مجھ سے اپروچ کرچکے ہیں ۔ کچھ لوگوں نے تومجھے پیسوں سے مدد کرنے کا بھی  یقین دلایا ہے ۔ آپ مجھے بے وقوف سمجھ رہے ہيں اور اب تو مجھے لگتا ہے کہ اب تک میں آپ کوعقلمند سمجھ کر کچھ عقلمندی نہیں کررہا تھا ۔ یہ کہ کر وہ اٹھ بیٹھے اورمیں انہیں جاتا ہوا بس دیکھتا رہ گیا ۔
           ان دنوں جناب عالی ڈاکٹری کررہے ہیں ۔ ایک وقت تھا جب ہمارے ساتھ اسلامی علوم پڑھ رہے تھے ۔ جناب جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ کچھ بھی بولتے تو ایسا لگتا کہ سچ ہی بول رہے ہیں ۔ ایک عجیب و غریب قسم کی معصومیت ٹپکی پڑتی تھی ۔ ایک روز کلاس میں نہیں تھے ۔ دوسرے دن جب استاذ نے سوال کیا اور پوچھا کہ کل آپ کیوں نہیں تھے تو ان کا جواب تھا کہ شیخ موڈ نہیں تھا ! ہم سب پریشان تھے کہ آج تو ان کا ہوا ستیا ناس لیکن استاذ محترم نے کہا تو یہ کہا کہ چلیے کم از کم کوئي تو ہے جو سچ بولتا ہے اور ہم بس استاذ محترم کے ساتھ ساتھ اس معصوم بے وقوف دوست کو بھی دیکھتے رہ گئے ۔ حد تو تب ہوگئی جب وہ ایک مرتبہ مغرب بعد مین گیٹ سے مدرسے میں داخل ہو رہے تھے اور جب ایک پروقار، بارعب اور پر ہیبت  استاذ نے سوال کیا کہ بھائی اس وقت کہاں سے نمودار ہورہے ہو تو عالی جناب کا جواب تھا کہ شیخ ایک اچھی فلم لگی ہوئی تھی اسے ہی دیکھنے چلا گیا تھا ۔ شیخ نے کہا تو بس یہ کہا کہ آئندہ احتیاط برتیے ۔ فلم دیکھنا کوئی اچھی بات نہیں ۔ اور کوئي باز پرس نہیں ہوئي ۔ ہم نے ایک مرتبہ کہا کہ بھائی تم اتنی سچائی سے سچ کیسے بول دیتے ہو تو اس نے کہا کہ بھائی بچنے کا یہی راستہ سب سے یقینی ہوتا ہے ۔ میں  سوچتا رہ گيا کہ ہم بے وقوف تھے کہ ایک سچ کو چھپانے کے لیے ہزاروں جھوٹ کا سہارا لیتے تھے یا پھر یہ کہ جو سچ بول کر بھی بچ جاتے تھے ۔ ہمارے جھوٹ کا مقصد بھی تو بچنا ہی ہوتا تھا ۔ ہمارے تعجب کی انتہا تو اس وقت ہوگئی جب انہوں نے مدرسے کے اعلا ذمہ دار کے یہ کہنے پر کہ مولانا دو جوتے لگاؤنگا تو چار ہو جاؤگے۔ تہمیں میں نے  پہلے بھی  کہا ہے کہ چھٹی نہیں ملیگی  ۔ جناب نے ان کے قدموں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ لیکن شیخ آپ نے توچپل پہن رکھا ہے ۔ آپ کو کیا معلوم اس بات پر کتنا یقین آئے لیکن اس کے بعد مدرسے کے اعلا ذمہ دار نے مسکراتے ہوئے انہیں چھٹی دے دی تھی ۔ کبھی کبھی دل کہا کرتا ہے کہ اے کاش ہم بھی انہی کی طرح بے وقوف ہوتے !!






Tuesday, 18 February 2014

غزل
ساگر تیمی
نئی رتوں سے بغاوت سنبھال کر رکھنا
حیاو شرم کی دولت سنبھال کر رکھنا
برے دنوں میں یہی کام آنے والی ہے
بھلے دنوں کی عبادت سنبھال کر رکھنا
سفید کپڑوں پہ دھبے کبھی نہیں چھپتے
شریف ہو تو شرافت سنبھال کر رکھنا
ہر ایک شخص کو ملتی نہيں ہے آزادی
تمہیں ملی ہے یہ نعمت سنبھال کر رکھنا
ضمیر زندہ بھی فضل خدائے تعالی ہے
گناہ کرکے ندامت سنھبال کر رکھنا
حسین لوگ تو نازک بھی کم نہیں ہوتے
بگڑتے وقت بھی چاہت سنبھال کر رکھنا
سنا ہے لوگ بڑے بے ایمان ہیں ساگر
نگاہ و دل کی صداقت سنبھال کر رکھنا
                   مسلم سماج ، تعلیم اور خواتین  
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہرلال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی 110067
9560878759
عام طور سے کہا جاتا ہے کہ بہتر تعلیم سے بہتر سماج کی تشکیل عمل میں آتی ہے ۔ اور بہتر سماج تبھی بنتا ہے جب خواتین کی بہتر تعلیم ہوتی ہے ۔ پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم اور ایک خاتون کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ۔ تعلیم کو تحریک اور ترقی و بلندی کا ذریعہ بنا کر پیش کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ ادھر آکر مسلمانوں کے اندر بھی تعلیم پر زور بڑھا ہے اور مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں بھی لوگوں کے اندر سنجیدگی دیکھی جارہی ہے ۔ ورنہ ایک وقت تھا کہ جب ہمارے بڑے بڑے مفکرین خواتین کی اعلا تعلیم کے حق میں نہيں تھے ۔  اس سلسلے میں ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم محسن اور تعلیم کے بڑے رسیا سرسید احمد خان کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ ہر چند کہ ان کے یہاں اس سلسلے میں ایک طرح کی حکمت اور دانائی کا بھی عنصر پایا جاتا تھا کہ جب لڑکے پڑھے لکھے نہ ہونگے اور لڑکیاں تعلیم یافتہ ہونگی تو لڑکے ان کی بے قدری بھی کریںگے اور زندگی میں مسائل بھی جنم لینگے ۔ لیکن عمومی صورت حال یہ تھی کہ جب غالبا مولانا حالی کی بہن کو تعلیم دی جانے لگی تو ان کی دادی کا رو رو کر برا حال تھا ۔ مانا جاتا تھا کہ لڑکیاں پڑھ لکھ کر بہک جائینگی ۔ اسی لیے ہم پاتے ہیں کہ اس بیچ جو ناول وغیرہ اردو میں لکھے گئے ان میں عورتوں کی گھریلو تعلیم کی طرف کافی توجہ دی گئی اور اسے ضرورت بنا کر پیش کیا گیا ۔ اس سلسلےمیں ڈپٹی نذیراحمد اور راشد الخیری کا نام لیا جا سکتا ہے ۔
         بہرحال اس کے بعد ایک وقت آیا جب لڑکیوں کی گھریلو تعلیم عام ہوئی اور ان کے اندر تھوڑی بہت دینی تعلیم اور اخلاقیات پڑھانے کا باضابطہ رواج ہوگیا ۔ اس کے بعد ایک مرحلہ وہ آیا جسے ہم ایک قسم کے انقلاب کے طور پر دیکھ سکتے ہيں ۔ قدم قدم پر تعلیم نسواں کے مراکز کھولے گئے ۔ لڑکیوں کی تعلیم کے نام پر بہت سے "بنات" کی تاسیس عمل میں آئی ۔ اور یکایک ایسا لگا جیسے واقعۃ اصل ضرورت صرف لڑکیوں کی تعلیم ہی ہے ۔ پھر کیا تھا بہت سے لوگوں کی تجارت چل پڑی اور خدمت و تعلیم کے نام پر خوب پیسے کمائے گئے  ۔ ذاتی طور پر میں تعلیم کی ترویج و اشاعت کو تجارتی نقطہ نظر سے بھی  آگے بڑھانے کے خلاف نہيں ہوں۔ اس لیے کہ تجارت بری چیز نہیں ۔ تعلیم ضرورت ہے اور ضرورت کی چیزوں میں ہی تجارت کی جاتی ہے ۔ البتہ تجارت میں ایمانداری ، دیانتداری اور اصول پسندی کی بہرحال اپنی معنویت ہے ۔
         لیکن شکایت اگر ہے تو ہماری اس روش سے ہے جسے آسانی سے تقلیدی روش سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ ایک طرف بنات کی بات چلی اور سب لوگ بنات کھولنے میں لگ گئے اور ساری قوت اسی کی نذر کردی ۔ میں یہاں اس بات پر زورر دونگا کہ بنات کی آج بھی ضرورت باقی ہے لیکن اس کے لیے ہمارے اندر بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ ان علاقوں پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے جو اب بھی اس نعمت سے محروم ہيں ۔ بس یہ نہیں کہ سب کے سب جہاں تہاں یا بسا اوقات ایک ہی جگہ بغیر سوچے سمجھے بنات کھول رہے ہیں ۔ ضرورت دیکھی جائے اور پھر سرمایوں کا بہتر استعمال کیا جائے ۔ اور اس چکر میں اس بات کو فراموش نہ کیا جائے کہ خواتین سے متعلق ہماری دوسری ضروریات بھی ہیں ۔ اب ذرا تعلیم کو ہی لے لیجیے تو کیا یہ ضروری نہيں کہ ہمارے سماج میں مسلم خواتین ڈاکٹر ہوں ، نرس ہوں اور اعلا تعلیم یافتہ خواتین ہوں جو خواتین سے جڑے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے حل کرسکیں ۔ مختلف یونیوسٹیز اور دعوہ سینٹرز میں میرے خطاب کے درمیان مجھ سے یہ بات پوچھی گئی کہ جہاں جہاں مخلوط تعلیم کا نظام رائج ہے وہاں اپنی بہن بیٹیوں کو تعلیم کے لیے بھیجنا مناسب ہے یا نہیں ۔ میں نے اس موقع اسے اپنے پڑھے لکھے ، اعلا تعلیم یافتہ اور کامیاب پروفیسنل لائف جینے والے یا اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنے  والے دوستوں سے پوچھا کہ کیا ایسا نہيں ہو سکتا کہ ہم متبادل کی تلاش کریں ۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم ایسے اداروں کی بنیاد ڈالیں جہاں کلچر ہمارا ہو ، تہذیب ہماری ہو ، اصول ہمارے ہوں اور تعلیم آج کی ضرورتوں کے مطابق ہو ۔ کیا ہم اپنی خواتین کے لیے طبی ادارے نہیں کھول سکتے ؟ کیا ہم اپنی خواتین کو نرسنگ اور مڈوائف وغیرہ کی ٹریننگ نہیں دے سکتے ۔ کیا ہم ایسا انتظام نہیں کر سکتے کہ ہماری خواتین اسلامی کوڈ آف لائف میں رہتے ہوئے بہتر اعلا تعلیم سے بہرہ ور ہوں اور پھر وہ بھی فکری سطح پر زیادہ اعتماد کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا پرچار و پرسار کریں اور ضرورت پڑنے پر دشمنان دین مبین کو دنداں شکن جواب دے سکيں ۔
         مخلوط نظام تعلیم غیر اسلامی بھی ہے اور اس  کی مخالفت ضروری بھی ہے ۔ لیکن تاریخ بتلاتی ہے کہ صرف مخالفت کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ۔ اگرہم اور آپ متبادل تلاش کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ ضرورت رک نہیں سکتی ۔ ہم لاکھ مخلوط نظام تعلیم کی خطرناکی کا ہنگامہ کھڑا کریں لیکن چونکہ ہمارے پاس متبادل نہیں اس لیے یہ معلوم بات ہے کہ مسلمانوں میں جن کے پاس وسائل ہیں وہ اپنی بیٹیوں کو میڈیکل کی تعلیم دلانے کے لیے انہیں اداروں کا رخ کرتے ہیں ۔ ان میں بلاشبہ بہت سے ایسے لوگ ہيں جن کی ذہنیت اسلامی نہیں ، اس لیے ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ان میں کچھ ایسے بھی ہيں جو اسلامی ذہن رکھنے کے باوجود ایسا کرنے پر اس لیے مجبور ہیں کہ ان کے پاس متبادل نہیں ۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ایک طرف ہم اپنی عورتوں کی حد درجہ پردہ داری کے قایل ہیں جو بلاشبہ ہماری دینی اور اخلاقی غیرت کا اشاریہ ہے اور دوسری طرف ضرورت پڑنے پر خود ہمیں اپنی خواتین کو غیر محرم ہی نہیں ، غیر مسلم حضرات تک کے پاس بغرض علاج لے جانا پڑتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہم اپنی ضرورتوں کو فراموش نہيں کرسکتے ۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے کہ ہماری ضرورتیں بھی پوری ہو جائیں اور ہمیں اپنی تہذيب و تمدن اور طرز معاشرت سے سمجھوتہ بھی نہ کرنا پڑے اور ہمارا دینی تشخص بھی مضبوط رہے ۔ عام طور سے مسلم برادری کی پہچان ایک غیر تعلیم یافتہ اور پچھڑی ہوئی کمیونیٹی کی ہے  ۔ اس میں بلاشبہ حکومتوں کی اپنی حصہ داریاں ہیں لیکن ہمارا اپنا قصور بھی کچھ کم نہیں ہے ۔ غیر ضروری جلسے جلوس اور بے مطلب کے دکھلاوے میں ہم جتنا سرمایہ ضائع کردیتے ہیں اگر اس کا عشر عشیر بھی پلاننگ کے تحت بہتر مقصد اور ضرورت کو سامنے رکھ کر خرچ کیا جائے تو کایا پلٹ ہو سکتی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ کام آسان نہیں لیکن اگر ہمت ، حوصلے اور بلند فکری سے کام لیا جائے تو یہ ایسا کچھ مشکل بھی نہیں ہے ۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ اس طرف تو جہ دینا ضروری بھی ہے اور مجبوری بھی ورنہ ان آنکھوں نے ان یونیورسٹیز کے اندر جہاں مخلوط نظام تعلیم رائج ہے دختران ملت کی جو کیفیت دیکھی ہے اس سے کسی اچھے نتیجے کی توقع فضول ہی ہے ۔ کبھی کبھی تو دینی تعلیم سے آراستہ ان بہنوں کی کیفیت بھی خون کے آنسو رلا دیتی ہے  جو مدرسوں سے عربی دینی تعلیم کے حصول کے بعد اعلا تعلیم کی غرض سے ان دانش گاہوں کا رخ کرتی ہیں ۔ بھائیوں کا ذکر یہاں اس لیے جان بوجھ کر نہيں کیا جارہا کہ وہ تو جو ہے سو ہے ہی ۔ لیکن سوچنے کا زاویہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ تالاب میں کسی کو ڈھکیل کر اگر ہم یہ توقع رکھیں کہ اس کے کپڑے نہيں بھگینگے تو ظاہر ہے اسے ہماری عقلمندی کے زمرے میں نہيں رکھا جاسکتا ۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہ نکالا جائے کہ اس معاملے میں کچھ لوگوں کا رویہ زبردست کردار وعمل کا مظہر نہیں لیکن اتنا تو ہم سب جانتے ہیں کہ استثناءات بہر حال استثناءات ہی ہوتے ہیں ۔