Tuesday, 3 September 2013


اللہ پر ایمان : معنی ، مفہوم اور تقاضے
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ۔ نئی دہلی 110067
09560878759
یہ کائنات اور اس کی ہر ایک ہستی ، چھوٹی ہو یا بڑی اس بات کا کھلا اعلان کرتی ہے کہ کوئی ہے جو اسے چلا رہا ہے ۔ ورنہ بغیر چلائے یہ چل نہیں سکتی ۔ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کسی نے کہا  کہ یہ دنیا اللہ چلاتا ہے ، میں نہیں مانتا ۔ امام صاحب نے کہا کہ میں فلاں دریا سے ہو کر آرہاہوں ۔ وہاں پر ایک کشتی خود بخود آگئی اور جب میں اس پر سوار ہو گیا تو مجھے اس نے ساحل تک پہنچا دیا ۔ سائل نے کہا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔ آپ یقینا جھوٹ بول رہے ہیں ۔ کشتیاں ملاحوں سے چلتی ہیں خود بخود نہیں چل سکتیں ۔ امام صاحب نے فرمایا میرے بھائی جب معمولی کشتی بغیر ملاح کے نہیں چلتی تو سوچویہ پوری کائنات اپنے آپ کیسے چل سکتی ہے ؟ اور اس آدمی کے دماغ میں بات آگئ ۔
عجیب بات ہے کہ آج کی پڑھی لکھی دنیا میں چند پڑھے لکھے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دنیا خود بخود وجود میں آگئی ۔ سائندانوں کی مانيں تو پوری کائنات در اصل ایک غیر معمولی لیکن خود بخود رونما ہونے والے حادثے سے وجود میں آئی جو ان کی اصطلاح میں بگ بینگ کہلاتا ہے ۔ حالانکہ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہيں کہ آخر یہ حادثہ اس متعین وقت پر ہی کیوں ہوا ؟ دنیا اگر حادثاتی ہے تو اتنی منظم کیوں ہے ؟ کیا دنیا کا کوئی بھی حادثاتی واقعہ اتنا منظم ہو سکتاہے ؟ اگر یہ نیچر کا قانون ہے تو سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ یہ نیچر خاص طرز و انداز میں کیوں چلتا ہے ؟ بارش خاص موسم میں ہی کیوں ہوتی ہے ؟ گرمی خاص وقت میں کیوں آتی ہے ؟ موت و حیات کا پورا فلسفہ کیا ہے ؟ وغیرہ ۔ کمال تو یہ ہے کہ وہ سائنسداں جو ہر بات کو ثابت کرنے کے بعد ماننے کو اصل اصول بتاتے ہیں اس معاملے میں مان لیتے ہیں کہ ایسا ہوا ہوگا۔
جب خدا نہیں موجود کائنات چہ معنی ؟
یہ زمین یہ سورج چل رہی ہوا کیا ہے ؟
خدا رہے نہ رہے کائنات چلتی ہے
عجیب بات ہے لیکن یہ بات چلتی ہے
اللہ پر ایمان لانے کا سب سے پہلا مرحلہ تو یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کے وجود پر ایمان لایا جائے کہ ایک ذات ہے جو اللہ ہے ۔ یہ کوئی خیالی پلاؤ نہيں اور نہ ہی انسانی ذہن کی اپج ہے بلکہ وہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ احساس بھی نہیں بلکہ ایک ذات ہے ۔ تنہا ، بے نیاز، نہ کسی کا بیٹا نہ کسی کا باپ، ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا ۔ اور پورے یقین واعتماد کے ساتھ اس بات کا انکار کہ یہ دنیا ایسے ہی وجود میں آگئی ۔ اردو کے شاعر جناب بشیر بدر صاحب کا یہ شعر ایک ناقص اور کم ترین علم کا عکاس ہے ۔
خدا   ایسے   احساس  کا  نام    ہے
سامنے بھی رہے اور دکھائی نہ دے
اللہ صرف احساس نہیں مستقل وجود ہے جسے دیکھنے کی انسانی آنکھوں میں رہتی دنیا تک تاب نہیں ۔ رویت الہی کا شرف مومنوں کو جنت میں دخول کے بعد حاصل ہوگا۔
ایک صحیح حدیث کے مطابق ایک لونڈی اللہ کے رسول کے حضور پیش کی گئی تو آپ نے پوچھا اللہ کہاں ہے اور میں کون ہوں ۔ اس نے کہا اللہ آسمان پر ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کردو یہ مومنہ ہے ۔ اللہ فرماتا ہے کہ هو الله في السماء و الارض (آسمان و زمین کا اللہ وہی ہے )
اللہ پر ایمان کا دوسرامرحلہ یہ ہے کہ یہ ایمان رکھا جائے کہ اس پوری کائنات کا خالق ، مالک ، چلانے والا اور اس پر پوری طرح حکمرانی کرنے والا ایک اللہ ہے ۔ وہی رب ہے ۔ اسی کی بادشاہی ہے ۔ اس کے حکم کے بغیر ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا ۔ وہی مارتاہے ، وہی جلاتاہے ، وہی ہوا چلاتا ہے ، وہی بارش برساتا ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کا غلام ہے ۔ اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ اس کے آگے کسی کی نہیں چلتی ۔ وہ مالک ہے سب مملوک ۔ وہ رب ہے سب محتاج ۔ وہ حاکم ہے سب محکوم ۔ اس کے کسی کام میں کوئی نقص نہیں ۔ وہ پاک اور بے عیب ہے ۔ اللہ فرماتا ہے۔ ترجمہ :اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ،تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن سکو ۔ وہ ذات جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا اور اور آسمان کو چھت بنایا ۔ اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کیے جو تمہاری لیے روزی ہیں ۔(البقرۃ: 21-22 ) ایک دوسری جگہ اللہ فرماتا ہے ۔ ترجمہ : یاد رکھو اللہ ہی کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا ۔ بابرکت ہے وہ اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے ۔ (الاعراف: 54 ) ایک اور جگہ پر اللہ فرماتا ہے ۔ ترجمہ : زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندارہیں سب کارزق اللہ کے ذمہ ہے ۔ وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی ۔ سب کچھ واضح کتا ب میں موجود ہے ۔ (ھود :6 ) اسی طرح اللہ فرماتا ہے ۔ ترجمہ : آپ کہ دیجیے کہ اے اللہ ! تمام بادشاہت کے مالک ! تو جسے چاہتا ہے بادشاہت دیتاہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہت چھین لیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ۔ تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں ۔ تو بے شک ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 26 )
                                           اللہ پر ایمان لانے کا تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے ۔ عبادت کی تمام قسموں کو اسی کے لیے خاص کیا جائے ۔اللہ اس جہان کا خالق ہے، مالک ہے ، دنیا اسی کی ہے اور وہی اس کائنات کا پالنہار ہے تو عباد ت بھی اسی کی ہوگی ۔ اسی کام کے لیے اللہ نے تمام انبیاء کو مبعوث کیا ۔ انسانوں اور جناتوں کو پیدا کیا اور یہی وہ بڑی سچائی ہے جس میں لوگوں نے زیادہ سے زیادہ گمراہیاں پیدا کیں اور راہ راست سے بھٹک گئے ۔ ہوا یہ کہ لوگوں نے اللہ کو یا تو مانا نہیں اور اگر مانا تو یہ مان لیا کہ کوئی ہے جو اس دنیا کو چلا  رہا ہے اور بس ۔ عبادت نہ جانے کیسی کیسی  چیزوں کی کرتے رہے ۔ اور اگر کسی نے اللہ کی عبادت کی بھی تو اس کے ساتھ نہ جانے کس کس طرح سے شرک کا بازار گرم کیے رکھا ۔ اللہ فرماتا ہے ۔ ترجمہ : اور یقینا ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ( لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو (النحل : 36 ) ایک دوسری جگہ اللہ فرماتا ہے ۔ ترجمہ : تم ایک اللہ کی عبادت کرو ، اس کے علاوہ تمہار کوئی معبود نہیں ۔ (الاعراف : 59 ) اسی طرح اللہ فرماتا ہے ۔ ترجمہ : یہ سب اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے علاوہ وہ جس کو پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور بے شک اللہ ہی بڑائی والا کبریائی والا ہے ۔(الحج : 62 ) اور اللہ فرماتا ہے ۔ ترجمہ : آپ کہ دیجیے کہ میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت سب کچھ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں ۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبردارہو ں۔ (الانعام :162-163 )
           اللہ پر ایمان کا چوتھا مطلب اور مرحلہ یہ ہے کہ  آدمی اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ کے اچھے نام ہیں اور وہ جملہ صفات کمال سے متصف ہے ۔ وہ تمام اسماء جو اس نے قرآن کے اندر یا اس کے نبی نے احادیث کے اندر بیان فرمائے ہیں وہ بر حق ہیں ۔ اللہ تعالی عمدہ اور بے نظیر صفات کمال سے متصف ہے ۔ یعنی ہر وہ ذاتی یا فعلی صفت جو اللہ اپنے لیے ثابت کرتا ہے وہ ثابت ہے بغیر تعطیل ، تحریف ، تشبیہ ، تمثیل اور تفویض کے ۔ یعنی یہ ایمان رکھا جائے کہ اگر اللہ یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس ہاتھ ہے تو ہے اب یہ ہاتھ کیسا ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ہمیں اللہ کے ہاتھ کے ثابت ہونے پر ایمان رکھنا ہے اس اعتماد اور یقین کے ساتھ کہ وہ انسانوں کے جیسے ہاتھ والا نہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہ سمجھا جائے کہ ہاتھ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس قدرت ہے یا پھر یہ کہ اس کے ہنسنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہوتا ہے ۔  در اصل یہ اللہ کے صفات کے اندر انحراف کا چور دروازہ ہے ۔ اللہ فرماتا ہے کہ ' اس کے  جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ خوب سننے والا اور دیھکنے والا ہے ' ۔ (الشوری : 11 )
         یاد رہے کہ اللہ کے صفات کے باب میں بہت سے لوگ بھٹک گيے ۔ جن لوگوں نے اللہ کو تمام صفات سے عاری قرار دیا وہ بھی گمراہ ہوئے حالانکہ انہوں نے سوچا اس سے وہ اللہ تعالی کو انسانوں کے جیسا ہونے سے بچا لینگے ۔ اسی طرح وہ لوگ بھی گمراہ ہوئے جنہوں نے اللہ تعالی کی صفتوں کو انسانوں کی صفتوں کے جیسا سمجھ لیا ۔ اسی طرح وہ بھی گمراہ ہوے جنہوں نے  غلط سلط تاویلات سے کام لیا ۔ اس معاملے میں حق وہی ہے جس کا اظہار اللہ نے مذکورہ آیت میں فرمایا اور جس کا بیان امام دار الھجرہ مالک بن انس کے یہاں ہوا کہ استوا معلوم ہے ، اس کی کیفیت مجہول ہے ، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس سلسلے میں سوال کرنا بدعت ہے ۔
           اللہ پر اس انداز میں ایمان لانے سے سب سے بڑا فائدہ تو یہ حاصل ہوتا ہے کہ اس کائنات کی معقول توجیہ ہو جاتی ہے ورنہ آدمی بھول بھلیوں میں ساری زندگی گزار دیتا ہے ۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں سکون اور آخرت میں دخول جنت سے سرفرازی حاصل ہوگی ۔ انسان کسی بھی مرحلے میں ناامید نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ چوکنا اور خبر دار رہتا ہے ۔ وہ مصیبت اور خوشی ہر دو گھڑی میں اللہ کے حکم کے مطابق چلتا ہے اور راضی و صابر رہتا ہے ۔ اندھیرے اجالے کے فرق کے بغیر بھلائی کی طرف راغب ہوتا ہے اور برائی سے دامن بچائے رہتا ہے ۔اس کی زندگی میں سب کچھ بامقصد ہوتا ہے ۔ وہ ایک لمحہ بھی ضائع کرنا نہیں چاہتا ۔ لیکن یہ سب تب ہوتا ہے جب اللہ پر یہ ایمان پورے شعور اور دل کی گہرائیوں سے ہو ورنہ کہنے کو تو آج ایمان والوں کی کمی نہیں ۔ ایسے ایمان والوں کا عالم یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہوں سے حالا ت بدل جاتے ہیں ۔ ہوا کا رخ بدل جاتا ہے ۔ ناممکن ممکن بن جاتا ہے اور دنیا حیران و پریشان دیھکھتی رہ جاتی ہے ۔ تین سو تیرہ ایک ہزار پر بھاری پڑتے ہیں ۔ چراغ بجھا کر ضیافت کی جاتی ہے ۔ دشمن کے سامنے جاکر بر ملا اپنے ایمان کا اظہار کیا جاتاہے ہر چند کہ ایسا کرنا موت کو دعوت دینے جیسا ہو ۔ ایک لمحہ کو بھی ضائع کیے بغیر مال غنیمت تقسیم کی جاتی ہے کہ مبادا کہیں دیر ہو جائے اور اللہ کے دربار میں پوچھ گچھ ہو جائے ۔ فرمانروا اپنے پیٹھ پر آٹے کی بوری ڈھو کر ضرورت مند تک پہنچاتاہے ۔ جرنیل کو معزول کیا جاتا ہے اور وہ کوئی واویلا نہیں مچاتا جبکہ وہ کسی جنگ میں ہارنے کا کوئی ریکارڈ رکھتا ہی نہیں ۔ تیر آکر لگتا ہے اور بولا جاتا ہے کہ اللہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ۔ سوائے اللہ کے کسی کے آگے جھکا نہیں جاتا ، سوائے اس کے کسی سے مانگا نہیں جاتا ، وہ سمیع ہے تو وہی سنے گا ، وہ بصیر ہے تو دیکھے گا وہی ، شافی ہے تو اچھا وہی کرے گا۔ کیا آج مسلمانوں کو اللہ پر ایسے ایمان کی ضرورت نہیں ہے ؟؟؟؟؟

















عقیدت اندھی ہوتی ہے
ثناءاللہ صادق تیمی
جواہر لال نہرویونیورسٹی ، نئی دہلی -67
پچھلے دنوں محلے کی ایک مسجد میں ہماری بحث ایک خاص مسلک کے متبع عالم دین سے ہورہی تھی ۔ بات در اصل اس بات پر ہو رہی تھی کہ پورے اسلام پر عمل کرنے کا مطلب کیاہے ؟ اللہ اور رسول کے مطابق چلنا ہی اصل اسلام ہے ، یہ  ہمارا ماننا تھا اور اس کے لیے ہم قرآن و سنت کے دلائل فراہم کررہے تھے ۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک نہ ایک امام کی تقلید ضروری ہے ۔ ہم نے کہا بھائی لیکن چوتھی صدی ہجری تک تو اس قسم کی تقلید کا کوئی رواج نہ تھا جیسا کہ مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے ۔ پھر جب ہم نے ان سے یہ کہا کہ آپ کے امام صاحب کے دو زیادہ بڑے اورمحترم شاگردان نے خود مسائل میں  ان سے اختلاف کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے اور ہم خود بھی امام صاحب کی ان ہی باتوں کو مانتے ہیں جو قرآن و سنت کے مطابق ہوں ۔ ہم نے کہا کہ اگر بات ایسی ہے تو ہمارے اور آپ کے درمیان فرق کہاں رہا ۔ ہماری تو پوری دعوت ہی یہ ہے کہ اصل مرجع قرآن و سنت کو بنایا جائے ۔ علماء ، بزرگ اور فقہاء کرام کی کوششوں سے استفادہ اور ان کا احترام ضروری ہے لیکن ان کو قرآن و سنت کا درجہ دے دینا در اصل ایک طرح سے دین کی اصل اساس کو ختم کردینے جیسا ہے ۔ لیکن بحث میں تو بات سے بات نکلتی ہے انہوں نے ایک عالم دین کا حوالہ دے کر ہم سے کہا کہ دیکھیے آپ کے گروپ کے عالم صحابہ کے ساتھ گستاخی کرتے ہیں ۔ ہم نے کہا کہ بشرطیکہ یہ بات درست ہو جو آپ بیان کررہے ہیں تو ہم اپنی برائت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے حق میں عفو و درگذر کی دعا کرتے ہیں ۔اس لیے کہ غلط اس لیے صحیح نہیں ہو سکتا کہ ہماری جماعت یا گروپ کے کسی آدمی نے کہا ہے ۔ ہم نے پھر ان سے کہا کہ میرے بھائی اگر یہی رویہ ہم میں سے ہر آدمی اپنا لے کہ آگر کسی کی بھی بات ہوگی اور وہ قرآن وسنت کے خلاف ہوگی تو ہم اسے تسلیم نہیں کرینگے بلکہ ان کا احترام کرتے ہوئے اس لیے مسترد کردینگے کہ وہ اللہ کے رسول کے لائے ہوئے دین کے مطابق نہیں ہے ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے ان کی اہمیت کم ہو جائیگی یا ان کا رتبہ گھٹ جائیگا ۔ پھر ہم نے ان کو ایک بزرگ کا واقعہ سنایا اور کہا کہ دیکھیے جب ان کے مرید نے ان سے یہ کہا کہ رات کو خواب میں وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ رہے تھے تو محمد رسول اللہ کی جگہ حضرت کا نام آجارہا تھا ۔  صبح بیدار ہو کر بھی جب کوشش کی تو رات والا ہی معاملہ سامنے آیا ۔ اس پر بزرگ نے کہا کہ اشتیاق و محبت میں ایسا ہوجاتا ہے ۔ بھلا بتلائیے حضرت کو ایسا کہنا چاہیے تھا ؟ جناب عالی : ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان صاحب نے یہ کہا کہ اس سے ان کا نبی ہونے کا دعوی کرنا تو ثابت نہیں ہوتا ! وہ بڑے عالم اور بزرگ تھے انہوں نے ایسا کہا تو ضرور کچھ سوچ کر کہا ہوگا!!! ہم نے کہا میرے بھائی ہم تو خود ان کی دینی کوششوں اور خدمات کے معترف ہیں اور الحمد للہ ان کو نبوت کا دعویدار نہيں مانتے ہم تو صرف یہ کہ رہے ہیں  کہ دیھکیے یہاں پر حضرت سے چوک ہوگئی ۔ انہيں کہنا چاہیے تھا اپنے مرید سے کہ تم ایک مرتبہ پھر لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھو ، توبہ کرو اور شیطانی وسوسے سے پناہ طلب کرو اللہ کی ۔لیکن انہوں نےایسا نہیں کیا ۔ آپ کو پتہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ کی آمد پر چھوٹی چھوٹی لڑکیوں نے خوشیاں مناتے ہوئے گانا گایا اور اس میں کہا کہ ہمارے درمیان ایسے نبی ہیں جو کل کی بات بھی جانتے ہیں آپ نے فورا منع کیا اور کہا اس سے پہلے جو کچھ گارہیں تھیں وہی گائیے ایسا مت کہیے ۔ اسی طرح آپ نے اس صحابی کی تنبیہ کی جنہوں نے یہ کہا کہ جو اللہ چاہے گا اور آپ چاہیںگے وہی ہوگا آپ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ ہوگا جو صرف اللہ چاہے گا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ نے بھی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت وفضیلت کو بیان کیا اور آپ کا مرتبہ بیان کیا وہیں اگر آپ سے کہیں پر چوک ہوئی یا آپ سے بتقاضے بشریت کہیں کوئی غلطی ہوئی تو آپ کی اصلاح کی گئی۔ نابینا صحابی کے مقابلے میں صنادید قریش کو ترجیح دینے کا معاملہ ہو یا بیویوں کے کہنے پر شہد نہ کھانے کا عہد کرنے کا معاملہ ہو یا بغیر ان شاءاللہ کہے مسئلہ کل بتانے کا وعدہ کرنے کا معاملہ ہو ہر جگہ اللہ نے آپ کی اصلاح کی اور آپ کو غلطی پر باقی نہ رہنے دیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلطی شریعت نہیں بنائی گئی تو اور لوگوں کی غلطی شریعت کیسے بن سکتی ہے ؟
            ہم نے مولانا سے کہا میرے بھائی ! آپ اگر حدیث پر اس لیے عمل کرتے ہیں کہ یہ حدیث آپ کے مسلک کے مطابق ہے تو سوچیے آپ حدیث کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں ۔ اس پر انہوں نے کہا ایسی بات نہیں اور جب ہم نے ایک بڑے فقیہ کی بات نقل کی تو پھر سے اس کی الٹی سیدھی تاویل کرنے لگے ۔ ہم نے کہا کہ دیکھیے اگر یہ بات ایک ادنی مسلمان سے کہی جائے کہ آپ اللہ رسول کی بات مانیںگے یا کسی اور کی ان کے مقابلے میں تو وہ یہی کہے گا کہ وہ اللہ رسول کی بات مانے گا ۔ حضرت فقیہ سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے امام صاحب کی بات کو اصل حیثیت دے دی اور کہا کہ اگر قرآنی آیت یا حدیث امام صاحب کے قول سے ٹکرائے تو امام صاحب کے قول کی بجائے آیت یا حدیث کی تاویل کی جائے گی یا اسے منسوخ سمجھا جائیگا ۔ مولانا نے یہاں بھی کہا تو یہ کہا کہ اس کا اور بھی مطلب ہو سکتا ہے ۔ ہم نے انہیں علامہ ارشد القادری کی لکھی ہوئی کتاب' زلزلہ ' اور اس پر مولانا عامر عثمانی صاحب کا یہ تبصرہ بھی سنایا  کہ یاتو ان مشمولات کو غلط ثابت کیا جائے یا پھر ساری کتابوں میں بیچ چوراہے پر آگ لگائی جائے ۔
                    ہم نے مولانا سے بتلایا کہ دراصل اس رویے سے سارا اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔ ہم نے ان سے از راہ تذکرہ جے این یو کے اپنے ایک دوست کی اس بات کو بھی نقل کیا کہ عاملین بالحدیث کے اس گروہ نے ہندوستان میں زیادہ تر ٹانگ کھینچنے کا کام کیا ہے ۔ ہر چند کہ اس میں صرف جزوی سچائی پائی جاتی ہے لیکن   ہم نے  کہا کہ اگر ان لوگوں  کی یہ تنقیدی کاوشیں نہ ہوتیں تو نہ جانے یہاں کا سواد اعظم عقیدت کے راستے کن گمراہیوں میں جا گرا ہوتا اور ہمارے جے این یو کے دوست نے ہماری بات سے اتفاق کیا ۔ جو ظاہر ہے ان کی انصاف پسندی اور اعلی ظرفی کی دلیل تھی ۔
            ہوتا یہ ہے کہ جب ہم یا آپ کسی کی عظمت دل میں بٹھالیتے ہیں تو پھر اس کی ہر صحیح غلط بات ہمیں اچھی اور بھلی معلوم ہونے لگتی ہے ۔ ہم ایک خاص تناظر میں ہی چیزوں کو دیکھتے ہیں ۔ ہمارا سارا زور اپنے محبوب و معتقد کو سب سے اعلی ثابت کرنے پر ہوتا ہے ۔ اور اس چکر میں ہم سارے حدود پھلانگ دیتے ہیں ۔ اس کی کئی سطحوں پر مثالیں مل جائینگی ۔
            ہماری عقیدت کے سب سے بڑے مرکز رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس لیے سب سے زیادہ گمراہی بھی اسی راستے سے امت میں آئی لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ سے بھی زیادہ درجہ دے دیا اوریہاں تک کہا گیا کہ اللہ کی جھولی میں وحدت کے سوا کچھ نہیں جو کچھ لینا ہوگا محمد سے لے لینگے ۔ بعضوں نے پوری کائنات کا خلاصہ آپ کو گردانا، کسی نے یہ سمجھا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو کائنات کی تخلیق نہ   کی جاتی اور نہ جانے کیا کیا خرافات آپ سے جوڑے گیے ۔ اسی طرح اولیا ء کرام سے عقیدت میں لوگوں نے انہیں انبیاء سے بھی اونچا اٹھا دیا اور یہاں تک کہا گیا کہ معراج میں جب رسول چھوٹے پر رہے تھے تو پیران پیر نے انہیں سہارادیا اور اس طرح رسول معراج سے سرفراز ہوئے ۔ یہی نہیں بلکہ ان سے وہ تمام خدائی صفات منسوب کیے گیے جن پر اللہ کے علاوہ کوئی قادر نہیں۔ اسی لیے اسلام میں دین کی بنیاد عقیدت کی بجائے اصولوں پر رکھی گئی اور اس قسم کے سارے دروازوں کو بند کردیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد جب حضرت عمررضی اللہ عنہ  جیسے صحابہ نے یہ کہا کہ اگرکوئی یہ کہے گا کہ محمد انتقال کرگيے ہیں تو میں اس کی گردن اڑادونگا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بہت اعتماد کے ساتھ قرآنی آیت پیش کرتے ہوئے بتلایا کہ جو کوئی محمد کی عبادت کیا کرتا تھا تو محمد البتہ مر چکے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ حی قیوم ہے ۔ صحابہ نے اصول ، علم اور حق کی بنیاد پر ایک دوسرے کو ناکارا بھی اور ایک دوسرے سے استفادہ بھی کیا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک کے معاملے میں صحابہ اصول کے مطابق عمل کرتے تھے ۔ اللہ کے رسول نے جب حضرت بریرہ سے کہا کہ وہ مغیث کو لوٹالیں تو بریرہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے یا صرف مشورہ یعنی آپ یہ بات بحیثیت رسول ارشاد فرماتے ہیں یا بحیثیت محمد ابن عبد اللہ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا یہ ایک مشورہ ہے اور ہم عبداللہ کے بیٹے کی حیثیت سے فرمارہے ہیں اللہ کے رسول کی حیثیت سے نہيں تو بریرہ رضی اللہ عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ کو قبول نہیں کیا اور اسے ان کی جرائت بے جا بھی نہ سمجھا گیا ۔ جب کہ وہی صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک حکم پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کوتیار رہا کرتے تھے ۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ خاص طور سے برصغیر ہندوپاک کے اندر عقیدت کا یہ مرض تھوڑا زیادہ ہی پایا جاتاہے ۔جہاں یہ برادران وطن کے یہاں بہت ہے وہیں مسلمانوں کی اکثریت بھی غلط طور سے اس عقیدت کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے ۔ اور صحیح اور واقعی دین سے کوسوں دور ہے ۔ اسلام کی بنیا د کھرے اور واضح اصولوں پر ہے جب بھی اور جہاں بھی اس کی جگہ عقیدت لے ليگي سمجھ لیجے کہ گمراہی کا دروازہ کھل جائيگا ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہ نکالاجائے کہ وہ محبت و وابستگی جس کی بنیاد قرآن وسنت میں موجود ہے ہم اس کے خلاف ہیں کہ اس کے بغیر تو دین کا تصور ہی غلط ہوجائیگا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی گمراہی کی بھی اصل وجہ یہ عقیدت ہی تھی اور اسی کا فائدہ اٹھاکر شیطان نے ان کو حق سے منحرف کردیا ۔ آج بھی جہاں جہاں مذہب کے نام پر مختلف دکانیں سجی ہوئی ہیں ان میں اس عقیدت کی اپنی کارفرمائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن کیا کیجیے کہ معاملہ اتنا آسان بھی نہیں ایک طرف تو مسلمانان ہند کا وہ طبقہ ہے جو علماء کو خدا کا درجہ دینے پر تلاہوا ہے اور رسولوں کے منصب پر نقب زنی کرنے کو تیار ہے وہیں دوسرا ایک طبقہ وہ بھی ہے جو سرے سے علماء کی کسی حیثیت کا قائل ہی نہيں بلکہ تمام طرح کی خرابیوں کا اسے ہی مرجع سمجھتا ہے ۔ یہ بلاشبہ افسوسنا ک بات ہے اور اس سے خرابیوں کی کئی سبیلیں نکلتی ہيں ۔ ہر دوصورت میں در اصل معاملہ اسی اصول سے انحراف کا ہے ۔ اللہ ہمیں بہتر توفیق عنایت کرے آمین ۔
     



  

Tuesday, 21 May 2013


سب پاور کا کھیل ہے بھائی
ثناءاللہ صادق تیمی
جواہر لال نہرو یونیورسٹی
9560878759
ہمارے دوست جناب بے نام خان کی اپنی ایک دنیا ہے اور اپنا ایک نظام فکر و عمل ۔ اور اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمارے دوست کو اس بات کا احساس ضرورت سے زیادہ رہتا ہے کہ وہ اپنا مستقل نظام فکروعمل رکھتے ہیں ۔ ایسے اس قسم کے لوگوں کا اپنا تو کچھ بھی نہیں بگڑتا نقصان ہم جیسے دوستی کے ہاتھوں مجبور سامعین کا ہوتا ہے ۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ خوبصورت لڑکی کو اگر اس کا بات کا احساس ہو جائے وہ کہ خوب صورت ہے تو بڑی پریشانیاں جنم لیتی ہیں ۔ بھائی صاحب اگر کسی پڑھے لکھے انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ تھوڑا زیادہ پڑھا لکھا ہے تو سچ مانیے اس میں اور خوبصورت دوشیرزہ میں پھر فرق باقی نہیں رہ جاتا ۔ سو ان دنوں ہمارے دوست کی وہ خوبصورت دوشیزہ والی ادا ہے اور ہم ہیں ۔ بات بات' پر ہمارے حساب سے ایسا ہونا چاہیے' اور' میرا فلسفہ اس سلسلے میں یہ کہتا ہے' ۔ ' میری مانیں تو اس مسئلے کو کچھ اس طرح لینے کی ضرورت ہے ' ۔  یہ اور اس قسم کے جملے ہمارے دوست ادا کرکر کے ہماری ناک میں دم کیے ہوئے ہیں ۔ کمال یہ بھی ہے نا کہ وہ اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ پھر اپنے موقف کی تشریح و توضیح میں اپنی ساری قوت علم و فکراور  ہماری ساری قوت صبر وضبط کا جنازہ نکالنے لگتے ہیں ۔  اب پچھلے دن کی بات لے لیجیے آتے ہی کہنے لگے کہ دوست مجھے پتہ چل گیا ہے کہ ہمارے اوپر جو پوری دنیا میں ایک طرح کا ہنگامہ برپا ہے اس کی وجہ کیا ہے اور آخر ہم کیوں ہر جگہ زدوکوب کیے جارہے ہیں ۔ ہمارے اوپر یہ اعتراضات کی بھر مار کیوں ہے ۔ ہر  ایک موڑ پر ہم سے یہ کیوں پوچھا جاتا ہے کہ ہم اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں۔ جب بھی کچھ بھی غلط ہوتا ہے اس کا سرا ہم سے کیوں جوڑ دیا جاتا ہے ۔ آخر کیوں ہمارے چھوٹے چھوٹے جرم کو بڑا بڑا بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور پوری دنیا اگر اس سے بڑا بھی کوئی جرم کرتی ہے تو لوگ پردہ ڈالنے کا کام کرتے ہیں ۔ آخر کیوں یہ ہوتا ہے کہ ادھر کوئی واقعہ رونما ہو تا نہیں اور ادھر اس کا سرا ہم مسلمانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے ۔ بلاسٹ ہونے کے فورا بعد مختلف چینلوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ فلاں مسلم آتنکوادی سنگٹھن نے یہ کام انجام دیا ہے۔
مولانا یار اس کی صرف ایک وجہ ہے اوری وہ وہی ہے  جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیا ہے اپنے اس شعر کے اندر ۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
دیکھو ہم اس دنیا میں پہلی مرتبہ نہیں رہ رہے ہیں ۔ ہماری تاریخ بہت پرانی اور بھرپور ہے ۔  اس سے پہلے بھی دنیا میں غلط ہوتا رہا ہے ۔ قتل وغارتگری کوئی آج ہی کی پیداوار نہیں ہے لیکن کل ہمارے اوپر انگلی اتنی جلد اٹھادی جائے ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا لیکن آج دیکھو تو بالکلیہ صورت حال بدلی ہوئی ہے ۔ میرے دوست یہ اور کچھ نہیں دراصل پاور کا کھیل ہے ۔ جب تم مضبوط ہوتے ہو تو کوئی تمہاری غلطی کو غلطی بھی نہیں مانتا لیکن جیسے ہی کمزور پڑتے ہو شروع ہوجاتا ہے تمہارے ساتھ سارا کھیل ۔ جب کسی بڑے باپ کی بیٹی کسی ساتھ بھاگ جاتی ہے لوگ کہتے ہیں لو میرج ہوئی ہے ۔ آزادی کا اظہار عمل میں آیا ہے اور جب کسی غریب  بے قوت انسان کی بیٹی بھاگتی ہے تو لوگ کہتے ہیں بد ذات اور کمینی نکل گئی ۔ مالداروں کے گھر میں بے پردگی فیشن بن جاتی ہے ۔ دھوکہ دھری عقلمندی کا نشان اور غریبوں کے لیے یہی ساری چیزی ننگ و عار اور مسائل کا پیش خیمہ ۔
کسی کے گھر جو دولت کی مہکنے لگتی ہے خوشبو
تو اس کی ہر رذالت خود شرافت ہونے لگتی ہے
ابھی ملکی سطح پر دیکھو تو بھی اور عالمی سطح پر دیکھو تو بھی ہم پاور لیس ہیں اس لیے ہر جگہ ہمیں اپنی صفائی دینی پڑتی ہے اور یہ پہلے سے مان لینا پڑتا ہے کہ جیسے جرم ہمارے علاوہ کوئی کر ہی نہیں سکتا ۔ یہی وجہ ہےکہ شرپسند عناصر خود یہ کام انجام دیتے ہیں اور خوش ہو رہتے ہیں کہ پکڑائیگا بھی کوئی مسلمان اور بدنامی بھی  مسلمانوں کی ہی ہوگی۔
جب بھی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے مجرم کے خانے مسلمانوں سے بھرے جاتے ہیں ، جیل یہی جاتے ہیں اور املاک بھی ان کے ہی تباہ ہوتے ہیں ۔  باضابطہ طور سے مسلمانوں کی مسجدوں میں حملہ ہوتا ہے اور خود مسلمانوں کو پکڑ کر ٹھونس دیا جاتا ہے جب کہ حقائق کچھ اور چغلی کھارہے ہوتے ہیں ۔ ان سب کے پیچھے بس ایک وجہ کام کرتی ہے کہ مسلمان کو مجرم ثابت کرکے آسانی سے مسئلے کا نپٹارہ ہوجائیگا ۔ مسلمان کمزور ہے سوال تو اٹھائیگا نہیں ، صفائی دینے میں لگ جائیگا ورنہ اگر اصل مجرموں کو پگڑا جانے لگا تو حکومت گر سکتی ہے اور زیادہ اس قسم کے حادثات ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ مسلمان ہی سوفٹ ٹارگیٹ ہيں  ، ان کو ہی مشق ستم بناؤ۔
یہ مسلمان ایسے بھی بے وقوف ہیں ۔ نہ ان کے اندر اتحاد ہے اور نہ دین کا صحیح شعور اور اس پر عمل ۔ سائنس و ٹکنالوجی میں بھی سب سے پیچھے اور پلاننگ وغیرہ کرنے کا تو خیر ان کا کوئی نہ ارادہ نظرآتا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی قوت و طاقت اور ذہنی تربیت ۔
تم دیکھ لینا جیسے ہی ہمارے اندر طاقت و قوت آجائیگی پھر یہ دنیا والے ہمارے سامنے آکر اپنے اچھے اور بررے اعمال کی صفائی دینے آنے لگیںگے ۔ لیکن وہ وقت آئیگا کب ؟ اس کے لیے ہمیں مضبوط پلاننگ کرنی ہوگی ، امتحان کے ان ایام میں صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا ، دین کے حقیقی مفہوم سے واقف ہو کر اس پر عمل پیرا ہونا پڑے گا ۔ اتحاد و اتفاق کے گلاب کھلانے پڑیںگے۔ ہر طرح کی فضول خرچیوں سے بچ کر پائی پائی جمع کرکے قوم کو مضبوط کرنے کا جوکھم مول لینا پڑے گا ، حصول علم کو اولین ترجیح دینی پڑیگی ، اللہ سے لو لگا نا پڑے گا اور رسائنس و ٹکنا لوجی کو اپنا سرمایہ سمجھ کر اس سے نہ صرف یہ استفادہ کرنا پڑے گا بلکہ اس پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کرنی پڑیگی اور یہ ساری چیزیں تب حاصل ہوگی جب انتھل محنت ، لگن ، جنون، استقلال ، بلند نظری ، ايثار ، فنائیت ، قربانی اور للہیت کے ساتھ اس مشن میں پورے طور پر لگا جاياجا ئيگا۔













Saturday, 18 May 2013


جوتا ،چپل او ر انسان
ہمارے دوست خان صاحب کی بات مان لی جائے تو جوتا، چپل سے انسانی تاریخ اور انسان کے نشو ونما میں پیدا ہونے والی ترقیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ان کے مطابق یہ چپل، جوتے بتلاتے ہیں کہ انسان نے عہد بہ عہد کس طرح ترقی کی ہے ۔پہلے لوگ کھڑاﺅں پہنا کرتے تھے ،کیا آواز نکلتی تھی اس سے ہائے ہائے ۔اب تو ویسی دلپذیر صدا کو انسان تر س ہی گیا ہے !! اس سے بھی پہلے انسان ننگے پاﺅں رہا کرتا تھا ۔پھر اس نے ٹایر سے بنے ہوئے چپل زیب تن کیے ۔پھر چمڑوں ،پلاسٹک اور کپڑوں سے جوتے بنائے گئے لیکن سب میں بد صورتی قدر مشترک رہی اور آہستہ آہستہ آج وہ دن بھی آگیا ہے کہ چپل، جوتے پہننے والوں سے زیادہ ،اسمارٹ ،خوبصورت اور جاذب قلب و نظر ہوتے ہیں ۔ہمارے دوست ایک مرتبہ ایک خاتون کو بہت بری طرح گھور رہے تھے ۔ہم نے انہیں ٹوکا اور فہمائش شروع کرنی چاہی کہ انہوں نے کہا یار ! ہم محترمہ کو نہیں ان کی نرم و نازک ،دلربا ،قاتل جوتی کو دیکھ رہے ہیں ۔واللہ کیا جوتی بنوائی ہے ظالم نے !!آپ یقین مت کیجئے لیکن چند ہی ثانیوں بعد وہ جوتی ہمارے دوست کے کھردرے گال ناپ رہی تھی۔ ع
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا
بہرحال ہمارے دوست کو جوتوں سے محبت بھی ہے اور وہ ان کی عزت بھی کرتے ہیں۔ہم سے کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی شخص کی حیثیت کا اندازہ لگانے میں نہیں چوکتے ۔کیوں کہ وہ سب سے پہلے جوتا شریف پر ہی نگاہ ڈالتے ہیں اور چہرہ جس طرح دل کا آئینہ دار ہوتا ہے جوتاا سی طرح انسان کی حیثیت کا ،کبھی کبھار کم حیثیت کا آدمی زیادہ قیمتی جوتا پہن کر مجھے دھوکہ دینے کی کوشش تو ضرور کرتا ہے لیکن جوتے کی شکل و شباہت اور اس کارنگ و آہنگ خود بتلا دیتا ہے کہ صاحب جوتا کا اصل مقام کیا ہے ۔ ہاں تو جوتے ہمیں انسان کے عہد بہ عہد ارتقاءسے روشناس کراتے ہیں ۔یہ ہمارے دوست کا ماننا ہے لیکن و ہ ڈارون کو مغلظات بکتے ہیں ۔بات اصل یہ ہے کہ انہیں اپنے آباءو اجداد کے بندر ہونے کا غم تو ہے ہی زیادہ غم اس بات کا ہونے لگتا ہے کہ آخر وہ بھی بندر ہو جائیں گے ۔اس لیے وہ ڈارون کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں دیکھو جوتے دن بہ دن بدلتے جاتے ہیں ۔لیکن جوتے رہتے جوتے ہی ہیں پھر انسان بدل کر بندر سے انسان کیسے بن سکتا ہے!!!
ہمارے دوست جوتوں کے معاملے میں سب سے زیادہ مولانا لوگوں کی عزت کرتے ہیں۔ان کے بقول جوتوں کی حوصلہ افزائی اور قدر دانی اصلا ً مولانا لوگ ہی کرتے ہیں ۔وہ ایک قصہ سناتے ہیں جن کے بموجب ایک مولانا صاحب کو جب بھی باہر نکلنا ہوتا تھا اپنے جوتے کی صفائی شروع کر دیتے تھے اور اس قدر محبت سے صاف کرتے تھے کہ ہر دیکھنے والا پکار اٹھتا تھا کہ واہ بھائی! مولانا کا جوتا کیا شاندار ہے ،ٹوپی اور رومال سے زیادہ روشن ، جاذب اور خوبصورت ہے۔بلکہ مولانا سے بھی!!!
جوتوں سے متعلق یوں تو بہت سے لطیفے مشہور ہیں لیکن ہمارے دوست کو مولانا شبلی نعمانی کا لطیفہ ہی پسند آتا ہے ۔ہوا یوں کہ شبلی جوتے کی دکان پر گئے اور ایک جوتا پسند کرتے ہوئے اپنے پاﺅں میں ڈال لیا ۔اب جب بھاﺅ تاﺅ کی نوبت آئی اور دکان دار دو روپئے میں جوتا دینے کو تیار نہ ہوا اور نہ اس قسم کے آثار نظر آئے کہ وہ جوتا مولانا کی پسند کی قیمت پر دے گا تو مولانا نے اپنے ایک ہاتھ سے جوتا پکڑتے ہوئے کہا : دو روپئے میں دیتے ہو یا نکالوں جوتے۔
خان صاحب اس بات سے ناراض رہتے ہیں کہ جوتوں کا استعمال اب غلط طور سے ہونے لگا ہے ۔ ہم نے جب ڈبلو ،بش پر منتظر زیدی کے جوتے کی بات کی تو وہ بپھر گئے اور برا سا منہ بنا کر گویا ہوئے ۔زیدی نے بش پر جوتے مار کر جو توں کی بے حرمتی کی ہے ۔کل قیامت کے دن وہ جوتا زیدی کا گریبان ضرور پکڑے گا ۔ہاں البتہ اس پورے واقعے پر وسیم بریلوی کے قطعہ سے ہمارے دوست خوش تھے ۔
یہ ظلم کا نہیں مظلومیت کا غصہ تھا
کہ جس نے حوصلہ مندی کو لا زوال کیا
ہزار سر کو بچایا مگر لگا منہ پر
ذرا سا پاﺅں کے تیور نے کیا کما ل کیا
پسندیدگی کی وجہ ہمارے دوست نے یہ بتلایا کہ شعر میں جوتا کا ذکر کیے بغیر ساری بات کہہ دی گئی ہے ۔یوں بھی ابھی شاعری اس مقام کو نہیں پہنچ پائی ہے کہ اس کے اندر جوتوں کا ذکر جمیل آئے اور وہ اس بار گراں کو برداشت بھی کر لے ۔
راز دارانہ انداز میں ہمارے دوست نے ہم سے یہ بھی کہا کہ خفیہ ذرائع اطلاعات کے مطابق بڑے بڑے او رچھوٹے بڑے نیتا ،لیڈران در اصل خود ہی بعض سر پھروں کو پیسہ دیتے ہیں کہ وہ ان پر جوتا چلائیں تا کہ ان کی شہرت د وبالا ہو جائے ۔ہاں کم از کم منموہن سنگھ جی اور چدمبرم نے تو ایسا نہیں کیا ہوگا ! مگر کیا ضمانت ! بابا رام دیو کو جوتا نہیں لگنا چاہیے تھا ۔با با کا غصہ جائز بھی تھا کیوں کہ بابا کوئی لیڈرتو نہیں تھے کہ برداشت کر لیتے ۔البتہ انا ہزارے جی نے شرد پوار پر پڑے جوتے تپھڑ پر جو ٹپنی کسی تھی اس سے ہمارے دوست یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ در اصل انا ہزارے اور شرد پوار کی ملی بھگت سے ایسا ہوا تھا کہ کم از کم دونوں کو دنیا بھی جانے اور دونوں اپنا سیاسی و قیادی کیرئیر بھی چمکاتے ر ہیں ۔ان سے ان کے سپورٹر خوش اور ان سے ان کے معتقدین !!!
جوتوں کی مار سے بچنے کا ہمارے دوست نے ایک طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے اور وہ یہ کہ یا تو جوتے پہنے نہ جائیں یا زیادہ سے زیادہ نرم کپڑوں کے جوتے ہی زیب تن کیے جائیں ۔مطلب یہ کہ زیب پا ۔ ہمارے دوست کے مطابق اگر جوتا کھانے والا ہوشیار ہو تو وہ بہت سے جوتے جمع کرکے جوتو ں کا کاروبار شروع کر سکتا ہے ۔ایک روز ہمارے دوست معمول سے زیادہ پریشان تھے ۔ہم نے جب وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کہ ہمارے دوست کے دوست نے ایک صاحب کو دس ہزار دیا تھا کہ جب وہ تقریر شروع کر یں وہ ان پر جوتا مارے لیکن وہ پیسہ لے کر چمپت ہو گیا اور جوتا مارا نہیں۔تب سے ہمارے دوست کے دوست او رخود ہمارے دوست ملے خسارے سے پڑت ہیں۔ہم نے کہا اس میں خسارے کی کیا بات ہے ؟ دس ہزار نہ ہی سہی۔ بولنے لگے جناب جوتا کمپنی ہمیں ڈیڑھ لاکھ دینے والی تھی ۔منتظر زیدی کا جوتا جس برانڈکا تھا آپ کو نہیں معلوم ۔کتنی جلدی اس پورے برانڈ کی قسمت کھل گئی تھی!!!
ہمارے دوست ہماری ایسے تو بہت عزت کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی وہ ہمارا امتحان بھی لینے لگتے ہیں ۔ایک مرتبہ انہوں نے ہم سے کہا کہ اگر میں واقعی مولانا ہوں تو جوتے سے متعلق کوئی حدیث سناﺅں ہم تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ بھائی یہ کیا بات ہوئی اور انہوں نے مسکراتے ہوئے ،مزہ لیتے ہوئے فرمایا : ”جناب عالی ! اللہ کے رسول ا نے صحیح حدیث کے اندر پہلے داہنے پاﺅں میں جوتا پہننے پر ابھارا ہے ۔حدیث کے مطابق آپ ہمیشہ داہنے پاﺅ ں میں پہلے جوتا پہننے کو پسند کرتے تھے ۔ نماز وغیرہ میں جاتے ہوئے جوتے اتار دیتے ہیں ۔یہ اسلامی تعلیم ہے اور ہاں اگر جوتا نیا ہو یا صاف ستھرا ہو توا س کے اندر بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے ۔
ایک روز تو ہمارے دوست نے اور بھی کمال کر دیا کہنے لگے کہ اگر جوتا کا مونث جوتی ہے تو چپل کا مونث بتلاﺅ ۔اسی طرح اگر ”حِذَائ “ عربی میں جوتا کو کہتے ہیں تو چپل کو کیا کہتے ہیں ،ذرا بتلاﺅ تو جانیں ۔اگر تمہارا جواب یہ ہے کہ چپل تو پہلے ہی سے مونث ہے تو پھر اس کا مذکر بتلاﺅ ۔ع
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
اس کے بعد ان کی تقریر پھر شروع ہوئی ۔سب غلط بیانی کرنے والے لوگ ہیں ۔انگلش اور عربی زیادہ مالدار زبان ہے ۔خاک مالدار ہے کہ ”حِذَائ “ کہا اور جوتا چپل دونوں مرادلے لیا۔Shoes کہا اور جوتا چپل دونوں ہوگیا کزن کہا اب سوچتے رہو کہ مامازاد ہے یا پھوپھا زاد ،خالہ زاد ہے کہ چچا زاد۔ اردو کو دیکھو سب کے لیے الگ الگ لفظ !!! اب کون زبان ہوئی مالدار !!!
ہم نے ایک مرتبہ یوں ہی پوچھ دیا کہ حضور والا اگر آپ کو موقع مل جائے تو کسے جوتا رسید کرنا پسند کریں گے ۔ انہوں نے نریندر مودی اور ایل کے اڈوانی کا نام لیا اور بولے لیکن نہیں یہ تو اتنے غلیظ ہیں کہ جوتے کی بھی بے عزتی ہو جائے گی ۔ ہاں البتہ میں انہیں اپنے بدبو دار موزے ضرور سونگھا سکتا ہوں !!! ہم نے کہا بھئی یہ کوئی اکیلے غلیظ تو نہیں ہیں تو انہوں نے آہ سرد بھری اور کہا اسی کا تو غم ہے ۔اب بھلا تم ہی بتلاﺅ میں کس کس کو اپنا موزہ سونگھاتا پھروں گا۔
ہم نے جب جوتے کی چڑھتی ہوئی گرانی کی بابت ان سے استفسار کیا تو ہمارے دوست نے دو باتیں بتلائیں ۔ایک تو یہ کہ جب سے ان کا پاﺅں بڑھنے سے معذور ہو گیا تب سے وہ ایک ہی جوتا پہنتے ہیں یعنی پہن رہے ہیں بالکل عربی کہانی نگا ر کامل کیلانی کے”حذاءالطنبوری “ والا معاملہ ہے ان کا اور دوسری یہ کہ بھائی جب انسان کی قیمت گھٹی ہے تو جوتوں کی نہیں تو کس چیز کی قیمت بڑھے گی
جہل خرد نے دن وہ دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سایے
حفیظ میرٹھی



چائے کی دکان!
ثناءاللہ صادق تیمی
        پچھلے کئی دنوں سے میرے دوست بے نام خاں اس بات کو لے کر بضد تھے کہ ان کے ہمراہ راجا بھائی کی دکان پر چائے پی جائے،ہم نے جب بھی ان سے تذکرہ کیا کہ چلیں چائے پئیں ،حضور بس راجا بھائی کی چائے کی دکان کا ترانہ پڑھنے لگے۔ہم نے آخر کار جھلا کر کہا ،بھلا راجا بھائی کی ہی چائے کی دکان کیوں؟ یہ سننا تھا کہ ان کی آنکھوں میں چمک آگئی اور میر ے لیے یہ پہلی بار منکشف ہوا کہ حضور والا تُک بند ی بھی کر لیتے ہیں شاعری تو کر نہیں سکتے۔
چائے کی دکان کا کیا بیان کروں
وہ ہے اپنے آپ میں دنیا
جو بھی چاہوگے وہ ملے گا تمھیں
چین ،سکوں،جفا و و فا
اس لیے آومیرے یار چلو
راجا بھائی کی دکان چلو
        میں نے پوری قوت سے اپنی ہنسی دابتے ہوئے کہا،جناب بے نام خاں صاحب ! وہ دور لد گیا جب اسد اللہ خاں غالب اور مومن خاں مومن ،خان ہونے کے باوجود اچھی شاعری کرلیتے تھے۔ بھلا ان دونوں کے بعد بھی کوئی خان قابل ذکر شاعر ہوا؟ ؟ پھر آپ کیوں شاعری کی روح کو عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔ ہمارے دوست کے لیے ہر چند کہ یہ تبصرہ غیر متوقع نہ تھا لیکن پھر وہ اپنی ناراضگی چھپا نہ پائے اور بالکل خانوں کی ادا کے ساتھ گویا ہوئے، جاہل جیسی بات مت کیجیے،اقبال کے بعد اردو شاعری کا سب سے بڑا نا م جوش ملیح آبادی کا ہے۔ اور وہ اور کچھ نہیں خان تھے ۔ہمیں امید نہیں تھی کہ خاں صاحب اس تازہ معلومات سے مستفید فرمائیں گے اور ہمیں چپی سادھ لینی پڑے گی۔
        خیر جب اصرار بہت شدید ہوا اور ڈر لگا کہ کہیں مزید انکار سے ہمارے دوست ناراض نہ ہوجائیں تو بادل ناخواستہ ان کے ہمراہ راجا بھائی کی چائے کی دکان کی طرف چل پڑے۔دکان کیا تھی ، اپنے آپ میں معجزہ،دو بالکل با با آدم کے وقت کی کرسی جو کسی طرح ٹیک لگائے کھڑی تھی، بھٹی جو اب بجھی تب بجھی کی کیفیت سے دوچاراگر ان کا ہینڈ فین (ہاتھ پنکھا) ہلتا ڈولتا نہ رہے ،ایک سسپین جو اپنی بزرگی کا بطور خود شاہد عدل،ایک بانسوں کا بنا ہوا مچان جس کی بتیاں چر مرائی ہوئیں، بیٹھو تو یوں آواز پیدا ہو جیسے پرانی سائیکل پنکچر ہونے کے باوجود چلائی جارہی ہو،ایسے انداز میں بنائی گئی جھونپڑی کہ ہوا کا گزر دھوکے سے بھی نہ ہونے  پائے۔ہم نے اپنا سامنہ بنا کر بے نام خاں سے شکوہ کیا ،میرے باپ اسی عذاب میں مبتلا کرنے کو لانا تھا کیا؟ یہاں تو کوئی مہذب آدمی پل بھر کو ٹھہر نہیں سکتا ! شروع میں  ہرکسی کو یہی لگتاہے، تھوڑی دیر صبر کیجیے پھر تو یہاں کی خوشبو آپ کو اتنی بھائے گی کہ آپ یہاں کے علاوہ کسی اور جگہ کی چائے پئیں گے ہی نہیں اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی مہذب آدمی یہاں نہیں ٹھہر سکتا تو اس میں پریشان ہونے کی ضرورت کیاہے، ہم نے تو آپ کو لایا ہے ،کسی مہذب آدمی کو تونہیں!ابے بے نام خاں!اس کا مطلب تم مجھے نامہذب سمجھتے ہو؟ایسا تو میں نے نہیں کہا،اب اگر آپ کو لگتا ہے تو اس میں بھلا میرا کیا قصور ؟مجھے لگا خاموش رہنے ہی میں نجات ہے،بے نام خاں نے مخصوص انداز میں راجا بھائی کو ایک چائے کا آرڈر کیا۔ہم نے جب کھلے منہ سے ان کی طرف دیکھا تو فرمانے لگے کبھی تو ٹو اِن وَن  پرعمل ہونا چاہیے۔اس کے بڑے فوائد ہیں۔ آدمی سدا خوش رہتا ہے کم وقت اور کم خرچ میں کام چل جا تا ہے۔ یوں بھی چائے پینے کا مقصد پیٹ بھرنا تو ہے نہیں۔ہم نے ذرا کرخت لہجے میں کہا ،لیکن بے نام خاں صاحب !خرچ اگرہمیں کرنا ہو تو یہ اصول آپ کو کیوں نہیں یاد آتا ؟اس وقت تو آپ فراخ دلی اور فیاضی کی برکتوں کا شمار کر تے نہیں تھکتے!ہماری بات سن کر براسا منہ بناتے ہوئے ہمارے دوست کہہ رہے تھے،تمھاری یہی عادت ٹھیک نہیں،کبھی تو اپنی تنقیدی گھوڑی کو لگام دو میری باتیں بھی سننے کے قابل ہوتی ہیں ۔جانتے ہو ہمیشہ سعادتیں سن کر عمل کر نے سے حاصل ہوتی ہیں تنقید کرنے سے نہیں!آپ ہی بتلائیے اس تعقل آمیزی کے آگے ہم چپ نہ رہتے تو کیا کرتے؟؟؟
        چائے ایک بھری ہوئی اور ایک خالی پیالی کے ساتھ آئی ۔بے نام خاں نے نصف کم میری طرف بڑھادیا اور نصف زیادہ میں خود مشغول ہوگئے۔اس درمیان پہلی مرتبہ بے نام خاں سے تھوڑی فرصت ملی اور مختلف لوگو ں کے وِچار سننے کا اَوسر پَراپت ہوا۔
        راجا بھائی آج جامع مسجد میں مولانا کی تقریر کتنی بے مزہ تھی ،ہم تو اس سے پہلے بھی ان کی یہ تقریر سن چکے تھے ،لے دے کے لگتا ہے ان کو یہی ایک دو تقریر یاد ہے“،”نتھونی میاں نے بیٹی کی شادی میں دکھلاوے کو جہیز تو بہت دیا ہے لیکن دیکھیے گا شادی کے بعد بیٹی کا کیا حشر ہوگا“،”راجا بھائی جس طرح لوگ پہلے جیسے نہیں رہے آپ کی چائے بھی پہلے جیسی نہیں رہی“،”للو نے آج پھر ایک آدمی کا موبائل غائب کر دیا، کتنی ہوشیاری سے اپنا کام کرتا ہے وہ“،”لالو پر ساد یادو کی ہار سے ہو نہ ہو سیکولر ووٹ کا نقصان ہوا ہے“،”کام نہیں کیجیے گا تو باتوں کے سہارے کب تک چلتے رہیے گا“،”رام ولاس پاسوان تو بے وقوف ہے،ورنہ اس کو یہ دن تھوڑے ہی دیکھنا پڑتا“،”دنیا میں ہر طر ف مسلمان مظلوم ہیں،اللہ میاں کوئی فرشتہ بھی تو مدد کو نہیں بھیجتا“۔مختلف لوگ اور مختلف سادہ باتیں۔کچھ ایسی باتیں جو بولنے والاسمجھ بھی رہا ہے اور کچھ ایسی جنھیں صرف وہ دہرارہاہے۔میں انہیں باتوں میں کھویا ہوا تھا کہ بے نام خاں نے زور سے کھانستے ہوئے اپنے وجود کا احساس دلایا۔کہاں کھو گئے؟تم مولویوں کے پا س دعوت کے کام کا جذبہ تو ہوتا ہے مگر حکمت سے کوسوں دور رہتے ہو، خطبہءجمعہ ،درس قرآن اور درس حدیث سے ہی انقلاب بر پا کرنا چاہتے ہو،قیامت آجائے گی یہ خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہوگا۔کبھی ان ہوٹلوں اور چائے کی دکانوں میں آکر بھی داعیانہ کوشش بجا لاؤ تو معلوم ہو دعوت کسے کہتے ہیں اور تبلیغ کتنی کامیاب ہوتی ہے؟اخوان المسلمین کے بانی حسن البناءنے اپنی دعوت کی شروعات انہی چائے کی دکانوں سے کی تھی۔انھوں نے لکھا تھا کہ مسجد کے مصلیوں کے بالمقابل چائے کی دکان میں بیٹھنے والے زیادہ حق کو قبول کرتے ہیں کیوں کہ ان کے اندر ”غرور حق “نہیں ہوتا ، وہ احساس جرم میں پہلے ہی مبتلا ہوتے ہیں، انھیں تو کبھی توجہ کا مرکز بنایا ہی نہیں جاتا، کبھی ان پر محنت کر کے دیکھوکتنے اچھے نتائج رونما ہوتے ہیں!
        زندگی میں پہلی بار بے نام خاں کو اتنی ستھری زبان اورشستہ لہجے میں بولتے دیکھ رہا تھا۔ شاید خلوص نے لہجے میں متانت اور جوش کی تخلیق کردی تھی ۔دل ہی دل میں نے سو چا ضرور تجربہ کر کے دیکھا جانا چاہیے۔ میں سوچ رہا تھا کہ بات ختم ہوئی لیکن نہیں ،بے نام خاں کا خلوص ابھی شباب پر تھا”انقلاب آئے گا ضرور آئے گا،لیکن یہ س وقت آئے گا جب علما محنت کریں گے، دعوتی دورے کریں گے،لوگوں سے ان کے دروازے پر جاکر ملیںگے،ان سے خود کو بر تر محسوس نہ کریں گے،ان کے حقیقی مسائل کو سمجھیں گے اور پھر ان کے مطابق حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔شاہ اسماعیل،عبدالعزیز رحیم آبادی اور ثنا ءاللہ امرتسری کا کردار ادا کریں گے''
        دل میں آیا کہ بے نام خاں کو تھوڑا چھیڑا جائے لیکن ان کی سنجید گی اور متانت کے آگے سپر ہی ڈال دینا پڑا۔اچھی خاصی گھڑی کاٹنے کے بعد ہم بے نام خاں کے ہمراہ لوٹ رہے تھے ،اس ارادے کے ساتھ کہ چائے پھر یہیں کی پی جائے گی۔یکا یک بے نام خاں دوسرے انداز میں مخاطب ہوئے،بولو!اب دوبارہ چائے کہاں پیو گے؟؟؟ میں میں......راجابھائی کی ہی چائے پیوں گا!!! میں نے دیکھا بے نام خاں کے چہرے پر بشاشت کھیل رہی ہے۔گویا ہوئے،ہم ایسے ہی تھوڑے بولتے ہیں، تجربے نے ہمیں بہت کچھ دے دیا ہے۔خط کا موضوع بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر۔
        ہم لوٹ رہے تھے ۔راجا بھائی کے ہاتھ کا پنکھا ابھی بھی ہلنے ڈولنے میں مصروف تھا۔مختلف لباسوں میں ملبوس مختلف سطح کے لوگ آرہے تھے جارہے تھے۔گفتگو ہو رہی تھی تیز آوازوں میں،دھیمی سروں میں اور راز داری کے اندازوں میں اور چائے پی جارہی تھی مسلسل۔٭٭٭

Monday, 13 May 2013



مگر اس کی آنکھ بھینگی ہے
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی
        ہمارے دوست شرف کائنات میاں کما ل الدین فخر عالم خاں بہت پریشان تھے ۔جناب اتنے پریشان تھے کہ بس یہ سمجھیے کہ وہ پریشان تھے ۔اب میں آپ سے کیابتاﺅں کہ مجھے ان کے پریشان ہونے کا اندازہ ہواتو کیسے ؟بات اصل یہ ہے کہ وہ جب بھی پریشان ہوتے ہیں خود بخود ان کی ہنسی چھوٹنے لگتی ہے ،جو در اصل آنے والی کسی جانکاہ مصیبت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔سو ان کو ہنستا دیکھ میرا تودل ہی بیٹھ گیا ۔بہر حال استفسار پر پتہ چلا کہ حضرت کی محترمہ خود حضرت کے سامنے کسی اور لڑکی کی جو اس کی سہیلی ہے،اتنی تعریف کرتی ہیں کہ ان کے دل میں خیالات آنے جانے لگے ہیں۔اس کے حسن و جمال ،ادب و آداب ،سیرت و کردار سب کو مثالی بناکر پیش کرتی ہے۔میں نے سوچا خدانخواستہ کسی لڑکے کی تعریف کر رہی ہوتیں توحضرت کا کیا ہوتا؟؟؟
        میرے مزید کریدنے سے پہلے انہوںنے اس پوری الجھن سے چھٹکارا پانے کے طریقے ڈھونڈنے میں مدد دینے کی درخواست کی ،جی میں آیا کہ بیٹے کو پھنساتے ہیں لیکن پھر معاً بعد اس حساس معاملے میں مذاق کرنے کے خیال کو کھرچ کرالگ کر دینا پڑا ۔اب ہم دونوں اس مصیبت سے نکلنے پر وچار ویمرش کرنے لگے لیکن کوئی راستہ صاف نظر نہیں آیا ۔اور بالآخر خان صاحب تھک ہار پھر گھر چلے گئے ۔
        کئی دنوں بعد ہمارے دوست نے ہمیں دیکھتے ہی چہکنا شروع کر دیا ۔اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔میرے پوچھنے سے پہلے ہی انہوں نے بتلایا کہ آج تو معجزہ ہو گیا۔میری بیوی نے اس لڑکی میں عیب نکال دیا ۔میں نے کہا وہ کیسے اور وہ بولے ،جناب ! میں نے تو آج یوں ہی از راہ مذاق محترمہ سے کہا کہ وہ حسن و جمال والی لڑکی تو وہی لڑکی ہے جس کے والدین نے مجھے اس سے شادی کرنے کو کہا تھا اور میں بھی تیار ہی تھا لیکن میرے دوست ! میرا جملہ پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ محترمہ نے کہا وہ خوبصورت تو ہے لیکن اس کی آنکھ بھینگی ہے۔صبح سے اب تک محترمہ نے ایک مرتبہ بھی اس حسین دوشیزہ کا نام میرے سامنے نہیں لیا ہے۔میں تو سکون پا گیا ۔یقین مانیے (نہیں ماننا ہو تو تجربہ کی جیئے )پوری دنیا ہمارے دوست کی محترمہ کی ہی طرح ہے ۔کسی کی تعریف ہو رہی ہو ،کسی کے حسن عمل کا ذکر چل رہا ہو ،کسی کے علمی کارناموں کی تفصیلات بتلائی جارہی ہوں ،کسی کے کردار کی بلندی کا چرچا ہو رہا ہو کہ یکایک ”مگر آنکھ بھینگی ہے “والی بات پیدا ہو جائے گی ۔
        کسی غیر ندوی کے سامنے مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمة اللہ علیہ کی تعریف کیجیے ،ان کی ادبی خدمتوں کو سراہیئے ،ان کے علمی مقام و مرتبہ کا ذکر کیجئے تودیکھئے معا بعد آپ کوکوئی نہ کوئی ”مگر“”لیکن “ضرور ملے گا ۔
        محدث عصر ،مجد دملت علامہ البانی رحمة اللہ علیہ کی حدیث کے باب میں کی گئی کوششوں کا ذکر چھیڑئیے ،اسماءرجال اور فن جر ح و تعدیل میں ان کے مجاہدانہ اور مجددانہ کارناموں کی بات کیجیے او ر آپ کا مخاطب غیر سلفی ہو تو دیکھئے ”مگر “اور ”لیکن “ضرور آدھمکے گا۔
        آپ امام الھند مولانا ابو الکلام آزاد کا نام لے رہے ہوں، ان کی سیاسی بالغ نظری، دوررسی اور عالمانہ وقار کا حوالہ دے رہے ہوں ،تعمیر ہندوستان میں ان کی مساعی جمیلہ کو سنا کر داد طلب نگاہوں سے اپنے مخاطب کو دیکھ رہے ہوں تو یکایک آپ کو ”لیکن “اور ”مگر “کی آواز سنائی دے گی ۔بطور خاص اگر وہ آدمی غیر کانگریسی ہو ۔
        یہ مثالیں میں نے یوں ہی بیان کر دیا ہے ورنہ آپ جدھر نگاہ اٹھا کر دیکھ لیجیے بس یہی منظر نامہ نگاہوں کے سامنے ہوگا ۔میں اپنے دوست میاں کما ل الدین فخر عالم خاں کو کیسے بتاتا کہ تمہاری محترمہ تنہا نہیں ہم سب ہی ان کے جیسے ہیں ۔اسلاف کے بارے میں بتلایا جاتا ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی کسی کی خامیاں گنا رہا ہوتا تو وہ جھٹ سے اس کی خوبیاں بیان کرنے لگتے۔اور ہم اس کے بالکل الٹ کرتے ہیں۔
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
        چاپلوسی بری ہے۔اندھی عقیدت مہلک ہے ۔تقلید جان لیوا ہوتی ہے ۔لیکن کیا تنقیص کا راستہ جنت کا راستہ ہے ۔مخالفت کا راستہ ہدایت کا راستہ ہے۔”مگر “اور ”لیکن “کا راستہ نجات کا راستہ ہے ؟؟؟
        تنقید کسی بھی قوم کو اوپر اٹھانے کا کام کرتی ہے ۔تنقید کے بغیر زندہ قوم کا تصور ہوا کے بغیر زندگی کے تصور جیسا ہی ہے ۔لیکن تنقید ”لیکن “اور ”مگر “کا نام نہیں ۔مخالفت اور مخاصمت کے ساتھ تنقیص وتذلیل کا نام نہیں ۔تنقید اصولوں پر ،کڑے ،واضح ،سچے اور مضبوط اصولوں پر کسی چیز،شخص،خدمات کوپرکھنے کا نام ہے۔
        اصل بیماری یہ ہے کہ ہمارے یہاں یا تو تقریظ پائی جاتی ہے یا تنقیص ۔ہم تنقید کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ اور پھر رزلٹ سامنے ہے ۔وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر علم کی ،شعور کی ،تہذیب کی ،متانت اور سنجیدگی کی ،اصولوں کے پیروی کی سب کی کمی ہی نہیں اسکارسیٹی پائی جاتی ہے ۔ Scarcity
        ہم انسانوں کو ان کے اپنے اعمال وخدمات اور کارناموں کی بجائے ان کی جماعت ،فرقہ اور انتسابات سے تولتے ہیں۔او رپھر جھٹ سے ”لیکن “اور”مگر“کا لاحقہ سابقہ جوڑ دیتے ہیں ۔
        یہ بیماری پوری قوم میں ہے ۔کسی ایک جماعت کو مستثنی نہیں کیا جا سکتا ۔سب ایک ہی پیالی کے چٹے بٹے ہیں ۔حزبیت ،فرقہ پرستی اور مسلکی تشدد سے لے کر علاقائیت ،ذات پات اور زبان کی مختلف جاہلیت نے ہمیں جکڑ رکھا ہے ۔اور ہم اس کی گرفت سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں ۔
        ہماری تعریف عقیدت کی وجہ سے ہوتی ہے یا وابستگی کی وجہ سے اور ہماری تنقید (جسے تنقیص کہنا زیادہ موزوں ہوگا ) مخالفت کی وجہ سے ہوتی یا ناوابستگی کی وجہ سے ۔تنقید و تعریف کا یہ سارا محل اصولوں پر تعمیر نہیں ہوتا ۔
        ایک صاحب کے سامنے مولانا مودودی کا ذکر آیا اور انہوں نے چھٹتے ہی انہیں منکرین حدیث میں شامل کر دیا ۔جب تفصیل معلوم کی گئی تو پتہ چلا کہ حضرت کو ٹھیک سے پتہ بھی نہیں ہے کہ مودودی نے کس حدیث کا انکار کیا ہے اور کیسے کیا ہے؟ہمارے ایک کرم فرما دوست نے علامہ البانی پر اس طرح اپنا عندیہ دیا جیسے البانی نے صرف حدیثوں پر حکم لگا نے کا کام کیا ہو اور یوں ہی حسن،صحیح،ضعیف اور موضوع کا ٹھپہ مار دیا ہو ۔ایک حضرت تو مولانا ابو الحسن علی ندوی کو عالم ہی نہیں مانتے تھے ۔اس لیے کہ مولانا علی میاں مقلد تھے اور مقلد عالم نہیں ہوتا ۔دفاع اسلام اور رد قادیانیت کے باب میں مولانا ثناءاللہ امرتسری کی تاریخ چھپی ہوئی نہیں ۔ہمارے ایک دوست نے بڑے تاﺅ سے کہا کہ رد قادیانیت میں وہابیوں کا کیا کام ؟اور مولانا ثناءاللہ امرتسری تو وہابی تھے !!!کچھ لوگ سر سید احمد خان صاحب پر اس لیے برس رہے تھے کہ وہ خان تھے ۔قصہ مختصر یہ کہ جدھر نظر اٹھائیے یہی سارے تعصبات منہ کھولے کھڑے ہیں ۔”لیکن “او ر”مگر “کی دنیا آبادہے اور انسانیت ،اصول اور سچائی کی جان نکل رہی ہے ۔اصول اور سچائی کی بنیاد وں پر ہم اپنی نئی نسل کی تربیت کرنے کی بجائے نفرت اورتعصب کے زہریلے مواد سے نئی نسل کا خمیر تیار کرنے کی غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اسے اچھا نہیں کہا جا سکتا ۔رہے نام اللہ کا۔        














Friday, 10 May 2013


غزل
ساگر تیمی
9560878759
آجاؤ اس سنسار کو سنسار بنادیں
بچوں کی ہنسی ، حسن کا سنگھار بنا دیں
میری یہ آرزو کہ محبت کا جشن ہو
ان کی یہ  ضد کہ آنکھ کو تلوار بنادیں
میری دعا کہ ظلم کا دروازہ بند ہو
ان کی انا کہ شہر کو دربار بنا دیں
میری تڑپ کہ حسن کا زیور حیا رہے
ان کی سعی کہ فحش کو معیار بنا دیں
  تم ہی تو  شہر عشق کے تنہا طبیب ہو
 اک حکم ہو تو  شہر کو بیمار بنا دیں
آؤ یہیں پہ سلسلہ توڑیں نضال کا
بیعت کریں اورتم کو ہی  سردار بنا دیں
ساگر مجھے وفا کو بنانا ہے کچھ نہ کچھ
شبنم بنائیں یا اسے انگار بنا دیں