Wednesday, 13 September 2023

 میں نے محسوس کیا ہے کہ بر صغیر میں وہ لوگ بھی بہ آسانی تمام دینی معاملات میں رائے زنی کرتے ہیں جنہیں دین کی بنیادی معلومات بھی نہیں ہوتی ۔ اچھا ، کمال کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ اپنے تخصص کے معاملے میں بڑا محافظانہ ذہن رکھتے ہیں ، کسی کے لیے یہ جائز نہیں سمجھتے کہ ان کے تخصصات میں دخل در معقولات کرے۔ ابھی حج کے اس موسم میں مجھے بحمد اللہ مرکز بصیرت مکہ مکرمہ کے زیر اشراف کچھ دعوتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ۔ بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں سے مل کر یہ احساس گہرا ہوتا گیا کہ تھوڑا کچھ جان کر خود کو بڑا سمجھنے کا ذہن بہت زیادہ ہے ، اردو انگریزی کی مدد سے قرآن کریم اور بعض دینی کتابیں پڑھ کر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عام علماء سے بڑھ کر انہیں جانکاری ہے ۔ عام حالات میں وہ مولویوں کو کمتر سمجھتے ہیں ، عجیب تحقیر آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہیں پھر جب ان پر کھلتا ہے کہ سامنے والا تو واقعی مضبوط قسم کا مولوی ہے تو پھر صورت حال دیدنی ہوتی ہے ۔

ہمارے یہاں ادعا اور خود کو تیس مار خاں سمجھنے کا زاویہ نیا نہیں ۔ یہ خرابی واقعی بڑی ہے اور اس کے بڑے خطرناک نتائج رونما ہوتے ہیں ۔ آپ جسے کمتر سمجھتے ہیں اس سے رہنمائی لے نہیں سکتے ، خود اس قابل نہیں ، اس لیے عجیب و غریب قسم کی گمراہیوں میں پڑے رہتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا ۔
علماء کا قصور یہ ہے کہ عوام کی تربیت کا جیسا ٹھوس نظام بنانا چاہیے تھا ، ویسا نظام ہم نے بنایا نہیں ہے ۔ معتبر علما عوام کی پہنچ سے بھی باہر ہیں ، پر جوش مقررین یا عام سے ملا جی لوگوں کو دیکھ کر اگر وہ علما کے بارے میں کوئی زاویہ بنا لیتے ہیں تو انہیں کچھ ویسا غلط بھی نہیں کہا جا سکتا ۔
یہ دو طرفہ معاملہ ہے ۔ علماء سے عوام مستغنی نہیں ہو سکتے اور علما کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اصلاح کا فریضہ انجام دیں ۔
ساگر تیمی

 مولانا حشمت اللہ چترویدی رحمہ اللہ

ثناء اللہ صادق تیمی
مولانا حشمت اللہ چترویدی رحمہ اللہ کے نام سے کان بچپن سے آشنا رہا ۔ پہلی مرتبہ چترویدی صاحب کو اپنے گاؤں کے مدرسہ میں دیکھا ۔ مدرسة العلوم الإسلامية ، مرول میں بچوں کے سالانہ تقریری انعامی مقابلہ کے موقع سے اجلاس عام منعقد ہوا تھا ۔ آپ اسی میں بحیثیت مقرر تشریف لائے تھے ۔ آپ نے دیر تک تقریر کی تھی ، پروگرام ہال میں چند ہی غیر مسلم تھے ، آپ نے انہیں ہی اپنا مخاطب بنایا اور وید کی روشنی میں اسلام کی حقانیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ثابت کی ۔ دوسرے دن سب سے زیادہ آپ ہی کی تقریر کا چرچا تھا ، ہر مکتب فکر کے مسلمان خوش تھے ۔ یہ میرے بچپن کا واقعہ ہے لیکن ان کی تقریر سے جو فضا بنی تھی وہ اب تک ذہن کے کینوس پر تازہ ہے ۔
ہم جب جامعہ امام ابن تیمیہ میں داخل ہوئے تو وہاں سراج اللہ بھائی تھے ، معلوم ہوا کہ آپ چترویدی صاحب کے صاحب زادے ہیں ، ایک خاص قسم کی خوشی اور اپنائیت کا احساس ہوا ۔
بعد کے دور میں جب ہمارا دینی ، ملی اور سماجی شعور تھوڑا بڑھا اور دعوتی سطح پر ہم متحرک ہوئے تو چترویدی صاحب رحمہ اللہ کی بستی پرسا پریہار سیتامڑھی میں کئی مواقع سے حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا ، وہاں ان سے ملاقاتیں رہیں ، وہ مختلف موضوعات پر باتیں کرتے ، اپنی بعض تحقیقات پیش کرتے ، بعض چیزوں سے اپنا اختلاف درج کراتے اور دعائیں دیتے ۔
آپ سے ایک تفصیلی ملاقات 2013-14 میں جھارکھنڈ کے ڈالٹین گنج میں ہوئی ۔ اتفاق سے ایک ہی پروگرام میں ہم دونوں مدعو تھے ۔ آپ نے اپنے مخصوص انداز میں توحید و سنت اور اسلام کی حقانیت ثابت کی اور مجھے تاریخ اہل حدیث پر گفتگو کا حکم ملا ۔ پروگرام کے بعد دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔
آپ دعوتی سطح پر کافی سرگرم تھے ، پروگراموں میں جاتے اور قرآن و سنت کے ساتھ ہی وید وغیرہ سے استدلال کرکے اپنی باتوں کو اور زیادہ موثر بنا لیتے ۔ تقریر میں تفہیم کا رنگ غالب تھا ، دلائل سے لیس گفتگو لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی ۔
زیادہ توجہ توحید پر ہوتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کو بہ دلائل جب ثابت کرنے لگتے تو منظر قابل دید ہوتا۔
چترویدی صاحب کی موت ایک متحرک داعی حق کی موت ہے ۔ ہمارے خطے کے لیے بطور خاص اور ملک کے لیے بطور عام یہ ایک بڑا خسارہ ہے ۔ وہ سرکاری اسکول کے ریٹائرڈ پرنسپل بھی تھے ، بہت سے لوگ انہیں اسی حیثیت سے جانتے ہیں ، انہوں نے اپنے طلبہ کی بھی اچھی تعداد چھوڑی ہے جو ان شاءاللہ تعالیٰ ان کے لیے صدقہ جاریہ ہوں گے ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ چترویدی صاحب کے ساتھ اپنے خاص فضل و کرم کا معاملہ کرے ۔ توحید و سنت کے اس شیدائی اور عظیم داعی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ۔ پسماندگان کو بطور عام اور بڑے بھائی ڈاکٹر سراج اللہ تیمی کو بطور خاص صبر جمیل دے ۔ آمین ۔

 مجھے اللہ کی توفیق سے مرکز بصیرت مکہ مکرمہ کے زیر اشراف اس مرتبہ حجاج کرام کے ساتھ کچھ وقت گزارنے اور دعوت و تبلیغ کا موقع ملا ۔ میں نے کچھ چیزیں بطور خاص نوٹ کیں ؛

1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم يتلو عليهم آياته و يزكيهم و يعلمهم الكتاب و الحكمة و إن كانوا من قبل لفي ضلال مبين
کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور قرآن و حکمت یعنی سنت کی تعلیم دیتے ہیں ۔
مسلمانوں کے بیچ دعوت و تبلیغ میں یہی چیزیں ہونی چاہئیں یعنی ایک مبلغ کو ادھر ادھر جھانکنے کی بجائے ساری توجہ راست طور پر قرآن و سنت پر مرکوز کرنی چاہیے ۔ ساتھ ہی اسے کوشش کرنی چاہیے کہ وہ درس وغیرہ دینے کے بعد فورا لوگوں کے پاس سے نکل کھڑا نہ ہو ، ان کے ساتھ تھوڑا وقت گزارے ، ان کی سنے ، ان کی اصلاح اور ان کا تزکیہ کرے ۔ تقریر سے کہیں زیادہ کارگر یہ گفتگو ہوتی ہے جس میں داعی اور مدعو کے بیچ کوئی دیوار حائل نہیں ہوتی ۔
2. میں نے محسوس کیا کہ ٹکنالوجی چاہے جس قدر آگے بڑھ جائے ، براہ راست دعوت کا کوئی بدل نہیں ۔ ایک داعی کو سوشل میڈیا وغیرہ کا سہارا ضرور لینا چاہیے لیکن براہ راست دعوت کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں جانے دینا چاہیے ۔
3. اللہ کے کلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں غضب کی تاثیر ہے ، آپ جب بغیر ادھر ادھر پڑے انہیں دو بنیادی مصادر کی روشنی میں سلیقے سے جب دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو خود بخود تعصبات کی دیواریں گرنے لگتی ہیں ۔
4. داعی کو جلد بازی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔ صبر و تحمل اور محبت سے کام لے کر مدعو کے بہت سے رویوں سے درگزر کرتے ہوئے اپنے مقصد پر نگاہ رکھنی چاہیے ۔ رفتہ رفتہ اس کی بات اثر کرے گی اور قرآن و سنت کا اثر دکھنے لگے گا۔
5. بیان حق میں حکمت مطلوب ہے ، اور اس کا مطلب یہ دیکھنا ہے کہ کسی حق کو پیش کرنے کا مناسب ترین وقت کیا ہو سکتا ہے ، یعنی حسب ضرورت اور حکمت کے پیش نظر تقدیم و تاخیر تو ہو سکتی ہے لیکن خلط ملط کا شکار نہیں ہوا جا سکتا ۔
6. اس مغالطے کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ نہیں سنتے ۔ اپنا کام کرتے جانا چاہیے ، لوگ سنتے بھی ہیں اور اثر بھی قبول کرتے ہیں اور جب حق ان پر واضح ہو جاتا ہے تو وہ کسی کی پروا بھی نہیں کرتے ۔ اس لیے ہمیشہ حق پر فوکس کرکے کوشش جاری رکھنی چاہیے ۔
7. یہ بات قطعا غلط ہے کہ لوگ تب تک نہیں سنتے جب تک ان کے پاس لچھے دار باتیں نہ کی جائیں ، قرآن و سنت کے نصوص براہ راست اثر کرتے ہیں ، سلیقے سے صرف مہذب انداز میں ترجمہ بھی کر دیا جائے تو بھی بہت اثر ہوتا ہے ۔
8. بر صغیر میں بڑے بڑے اجلاس کی بجائے مسجد کو مرکزی حیثیت دے کر درس قرآن و حدیث کا اہتمام کیا جانا چاہیے ۔ پائیدار دینی تربیت اور تعلیم و تزکیہ کا راستہ یہی ہے ۔ ہم نے جلسے جلوس کو سب کچھ سمجھ کر بھاری بھول کی ہے ۔ جلسوں سے جوش بھرا جا سکتا ہے تربیت نہیں ہو سکتی ۔
ثناءاللہ صادق تیمی

 اس بات کی گنجائش تو ہونی ہی چاہیے کہ کسی بھی موضوع پر دلائل و براہین کی روشنی میں تہذیب و سلیقے سے گفتگو ہو لیکن اس بات کی قطعی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مباحثہ کسی بھی قسم کی بد اخلاقی یا بد تمیزی کو شامل ہو ۔ 

علماء طبقہ کو یہ تہذیب اختلاف سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ خالص علمی مسئلہ جس میں اختلاف رائے کی گنجائش بنتی ہو، جس میں دلائل کو سمجھنے کے مختلف زاویے ہو سکتے ہوں اس میں اس انداز سے مباحثہ کرنا کہ جس سے بغض و عداوت کو ہوا ملے پرلے درجے کی نادانی اور حماقت ہے ۔ 

اس طبقے میں ایک بڑی عجیب خرابی یہ ہے کہ یہ دلائل و براہین کی روشنی میں گفتگو کرنے کی بجائے فریق مخالف کے علم و مطالعہ کو ناپنے لگ جاتا ہے ۔ فریق مخالف کو ہرانا چاہتا ہے اور ایک علمی بحث جو کسی اچھے نتیجے تک لے جا سکتی تھی وہ افسوسناک بدمزگی اور دشمنی پر جا ٹھہرتی ہے ۔ 

ایک موقع سے ہمارے ایک عزیز دوست نے کہا کہ آپ نے فلاں صاحب سے بحث و مباحثہ کا بازار گرم کیا تھا پھر آپ نے جواب دینا چھوڑ دیا ۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے تب تک بحث میں حصہ لیا جب تک بحث کا تعلق موضوع سے تھا ، جب میں نے دیکھا کہ موضوع پر گفتگو کی بجائے  لیاقت ناپی جا رہی ہے تو مجھے سمجھ میں آ گیا کہ اب بحث غلط سمت جا پڑی ہے اور جن لوگوں کو اس کی بھی تمیز نہ ہو ان سے بحث کرکے علم کو رسوا نہیں کرنا چاہیے ۔ 

عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب حق کی تائید کے ذہن کے ساتھ کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ کسی کا نقصان ہوتا ہے تو وہ حق کا ہی ہوتا ہے ۔ نہ معلوم ہمیں یہ بات کب سمجھ میں آئے گی کہ حق کی توضیح ہماری ذمہ داری ہے حق منوا لینا یا کسی کو قائل کرکے رہنا نہ ہماری ذمہ داری ہے اور نہ ہمارے بس میں ہے ۔ 

ثناء اللہ صادق تیمی

 آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے آپ کو بہت سی خرافات سے بچایا ہوا ہے ۔ ذرا ایک نظر ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے نشے میں دھت بے مقصد نوجوانوں کو دیکھیے ، دوسری طرف اہل بیت کی محبت کے نام نہاد جھوٹے دعویداروں کو سینہ کوبی کرتے دیکھیے اور تیسری طرف خواتین کے مجمع کو دیکھیے اور پھر اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ درست دینی تعلیم کی روشنی سے آپ کس قدر عافیت میں ہیں ۔

اس پر اگر آپ کو اللہ نے عاشورا کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق دی ، آپ نے اس حرمت والے مہینے کا پاس و لحاظ رکھا اور اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے نو اور دس تاریخ کو روزہ رکھا تو آپ کو اللہ کا اور بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ نہ صرف یہ کہ آپ خرافات سے بچے بلکہ سنت و دین پر عمل کیا اور ثواب حاصل کرنے میں ان شاءاللہ تعالیٰ کامیاب ہوئے ۔
پھر دیکھیے کہ آپ کو اللہ نے کسی بھی نام پر حضرات صحابہ کرام کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی سے بچایا تو یہ بھی اس کا فضل و کرم ہے کہ بہت سے بد قسمت دین سمجھ کر اللہ کے پیارے حبیب اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالیاں بکتے ہیں اور اپنی عاقبت تباہ کرتے ہیں ۔
ان تمام امور پر غور کیجیے ، اللہ کا شکر ادا کیجیے اور محبت و تسلسل کے ساتھ اس حقیقت کو عام کرنے کی کوشش کرتے جائیے ۔ اللہ پاک کوششوں میں برکت دے گا اور جس طرح بہت سے لوگ بدل گئے اور برائیاں چھوڑ دیں اسی طرح اور بھی بہت سے لوگ بدل جائیں گے اور ان خرافات سے تائب ہو جائیں گے۔
ثناءاللہ صادق تیمی

 مولانا مطلوب صاحب رحمہ اللہ کا انتقال

سوشل میڈیا کے توسط سے یہ تکلیف دہ اطلاع ملی کہ مولانا مطلوب صاحب مکیاوی کا انتقال ہو گیا ۔ إنا لله و إنا إليه راجعون اللهم اغفر له و ارحمه و اعف عنه و اجعل الجنة مثواه.
ہمارے خطے کے وہ سب سے مشہور خطیب تھے ۔ تقریر کرنے کا ان کا اپنا خاص انداز تھا ۔ دیر تک ان کی تقریر ہوتی تھی اور لوگ شوق سے سنتے تھے ۔ بالعموم سماجی موضوعات پر گفتگو کرتے تھے اور علاقائی بولیوں کی مدد سے جہاں رنگ ظرافت پیدا کرتے تھے وہیں واقعات و حوادث کا سہارا لیتے تھے تو رونگٹے بھی کھڑے ہو جاتے تھے ۔ ہم نے اپنے بچپن میں متعدد ایسے جلسے دیکھے ہیں کہ جب ان کا نام پکارا گیا تو لوگوں نے اپنے پاس سوئے ہوئے لوگوں کو جگانا شروع کر دیا کہ جاگ جاؤ مولانا مطلوب صاحب آ گئے ۔ سچ پوچھیے تو بالکل بچپن سے جب چیزیں تمیز کے حصار میں نہیں آتیں ، ہم نے مولانا کی تقریریں سنی ہیں ۔
ایک مرتبہ مدرسة العلوم الإسلامية مرول کے جلسے میں جب ان کی باری آئی تو ایک صاحب نے سوئے ہوئے ایک شخص کو جگاتے ہوئے اس معروف گالی کا سہارا لیا جسے بالعموم لوگ گالی بھی نہیں سمجھتے ۔ مولانا نے جب تقریر شروع کی تو اس آدمی کی اپنے مخصوص انداز میں خوب خبر لی اور محفل زعفران زار بنی رہی ۔ بہت سے لوگوں نے " سالا" والی ویڈیو کلپ دیکھی ہوگی ۔ وہ کلپ مولانا ہی کی ایک تقریر کا حصہ تھی ۔
حسن پور برہڑوا کی جامع مسجد میں بھی کئی مرتبہ انہیں خطبہ دیتے ہوئے سنا ۔ رنگ ظرافت وہاں بھی حاوی رہتا تھا ۔ لوگ مسجد میں بھی خود پر بہ مشکل قابو پا پاتے تھے ۔ خواتین میں موجود دینی خرابیوں کو بسا اوقات انہی کی زبان اور بولی میں بیان کرتے تھے اور پیغام ایک عام سی دیہاتی خاتون تک پہنچ جاتا تھا ۔
ان کی ایک خوبی اور بھی بہت اہم تھی ، وہ دوسرے مقررین کی مانند دوسرے مسلک اور اس کے علماء کو نشانہ بنا کر اور گالیاں بک کر اپنی تقریر نہیں چمکاتے تھے ، انہیں پورا سماج محبت و احترام سے سنتا تھا ۔ ایک مرتبہ پھلوریہ باز پٹی میں سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ایک پروگرام ہو رہا تھا ۔ اسی گاؤں میں میرا ننھیال بھی ہے ، چھوٹی پھوپھی بھی بستی ہیں اور کئی ساری رشتہ داریاں ہیں ۔ ہمارے گھر سے ابو سمیت کئی افراد پروگرام کے سننے کے لیے گئے ۔ بالا ساتھ مدرسہ کا کوئی مولوی اہل حدیثوں کے خلاف زہر اگل رہا تھا ، ہمارے لوگ پیچ و تاب کھا رہے تھے ۔ اللہ کا کرنا حسن اتفاق یہ ہوا کہ اس کی تقریر کے بعد مولانا مطلوب صاحب کی ہی باری تھی ۔ انہوں نے حمد و صلاة کے بعد اس مولوی کی اچھی خبر لی ۔ کہنا شروع کیا کہ مجھے تو اطلاع دی گئی تھی کہ سیرت النبی کے موضوع پر پروگرام ہے ، یہ تو حضرت کی تقریر سے کھلا کہ پروگرام اہل حدیثوں کے خلاف رکھا گیا ہے پھر انہوں نے اس روش کی پر زور مذمت کی ، اصلاح سماج اور اصلاح عقائد پر زور دیا اور تنبیہ کی کہ علماء حضرات اس قسم کی نادانی نہ کریں پھر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی لاجواب تقریر سے سامعین کو محظوظ کیا ۔
مولانا کا انتقال ایک سلیم الفطرت عالم کا انتقال ہے ۔ ایسے لوگوں کی سماج کو آج زیادہ ہی ضرورت ہے ۔ اللہ ان کی نیکیاں قبول فرمائے ، بشری تقاضوں کے تحت جو گناہ سرزد ہوئے ہوں انہیں معاف فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے آمین ۔
ثناء اللہ صادق تیمی
دور زوال کا قصہ
ثناءاللہ صادق تیمی
ہمارے دوست بے نام خاں اس بارجب آئے تو کافی اداس لیکن غصہ سے بھرے ہوئے تھے ۔انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور مجھے کوسنا شروع کردیا۔ مولوی صاحب! تم نے تاریخ نہیں پڑھی ، دور زوال میں یہی سب ہوتا ہے ۔جزئیات کلیات بن جاتی ہیں ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر برسوں کے یارانے بھلائے جاتے ہیں ،ایک دوسرے کا ایمان ، صلاحیت اور حیثيت ماپی جاتی ہے ، زبردستی مطلب نکال کر ملت سے باہر کیا جاتا ہے اور جشن منایا جاتا ہے کہ فلاں کو نکال باہر کیا ۔دور زوال میں لڑائی مسجد کی صدارت ، مدرسے کی نظامت اور یتیم خانے کی رئاست کے لیے ہوتی ہے ۔دور زوال میں الفاظ ہوتے ہیں ان کے معانی نہیں ، ہنگامہ ہوتا ہے کوئی مطلب نہیں ، چلایا جاتا ہے سنا نہیں جاتا ۔ دل اور دماغ کو کوئی زحمت نہیں دی جاتی ۔
تم نے تاریخ نہیں پڑھی ، اور کچھ نہیں تو کم از کم مقدمہ ابن خلدون ہی پڑھ لیتے ۔ دور عروج میں ملتیں نئے نئے خطے دریافت کرتی ہیں ، نئے افراد اور جماعتوں کو خود سے وابستہ کرتی ہیں ، نئے افکار و خیالات کا استقبال کرتی ہیں ، ان کی تہذيب کرتی ہیں ، ان کی خرابیوں کو ختم کرکے ان کی اچھائیوں سے کام لیتی ہیں ۔ دور زوال میں ملتیں خوف کے سایے میں جیتی ہیں ، اپنے ہی لوگوں کو مختلف ناموں سے الگ کرتی ہیں ، ہر قسم کی جدت سے گھبراتی ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیکھتے دیکھتے قصہ پارینہ بن جاتی ہیں ۔
دور عروج میں مقابلہ ہمیشہ دشمنوں سے ہوتا ہے ، اس کے لیے تیاریاں کی جاتی ہیں ، آپسی رسہ کشی ختم کی جاتی ہے ، دوریاں مٹائی جاتی ہیں ، دشمن کے بالمقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جایا جاتا ہے ۔دور زوال میں یہ مقابلہ اپنوں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے ، ایک دوسرے کو گرانے کی ترکیبیں کی جاتی ہیں ، سازشیں رچی جاتی ہیں اور لڑ لڑا کر ملت درس عبرت بن جاتی ہے ۔ کبھی علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور عروج کا قصہ پڑھنا کہ اختلاف میں بھی کیا سلیقہ تھا اور دشمن کو کیسا جواب ملتا تھا اور کبھی اندلس میں اپنی ملت کا زوال پڑھنا کہ خود اپنے ہی لوگوں کوزک پہنچانے کےلیے غیروں کے کس طرح آلہ کار بنتے تھے اور پھر کس طرح عبرت بنا دیے گئے !!
یہ جو تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر طیش دیکھ رہے ہو ، یہ جو لہجوں کی کرختگی ہے ، یہ جو الفاظ کے نشتر ہیں ، یہ جو بدتہذیبی کا طوفان ہے ، یہ جو ہر کسی کو ناپنے کا جنون ہے ، یہ جو اندرون میں جھانک کر ایمان و صلاحیت کی پیمائش کا مالیخولیا ہے ، دور زوال میں کوئی بھی ملت ، جماعت یا گروہ یہی کچھ کرتا ہے ۔
تمہیں یہ بات سمجھ میں نہيں آئے گی مولوی صاحب ! کیوں کہ اس بات کو سمجھنے کے لیے جس شعور کی ضرورت ہے وہ تمہارے پاس نہيں ہے ۔ تم دیکھتے نہیں کہ جن لوگوں کی رہنمائی کا تمہیں فريضہ انجام دینا تھا ، جن کے عقائد و اخلاق کی اصلاح تمہیں کرنی تھی ، جن کے لیے تمہیں اسوہ و نمونہ بننا تھا ، الٹے وہی تمہیں سمجھانے کے لیے بڑھ رہے ہیں اور تم پھر بھی اپنی روش سے باز آنے کو تیار نہیں ہو ۔
مولانا صاحب ! تمہیں تکلیف ہوگی لیکن سچ یہی ہے کہ تم ملت کے دور زوال کا منظر ہو ۔ان اخلاقی گراوٹوں کے ساتھ کوئی ملت ترقی نہیں کرسکتی ۔ملتوں کی پیمائش ان کے دانش ور اور رہنما طبقے کی اخلاقیات سے ہی ہوتی ہے ۔ ذرا عقل و دل کے دریچے وا کرکے دیکھو کہ کیسا تعفن پھیلا ہوا ہے ۔اللہ کے لیے اس طرز عمل سے باز آؤ، یہ ظلمت و تاریکی کے سوا کچھ نہيں اور چاہے جتنا ہاتھ پیر مار لو کہیں کوئی منزل ملنے والی نہیں ۔
میں نے دیکھا کہ بے نام خاں اپنی آنکھوں کے آنسو چھپانے کی کوشش کررہے ہيں ۔ میں نے ان سے بات کرنی چاہی لیکن وہ آنسو صاف کرتے ہوئے چلے گئے !!!