میں نے محسوس کیا ہے کہ بر صغیر میں وہ لوگ بھی بہ آسانی تمام دینی معاملات میں رائے زنی کرتے ہیں جنہیں دین کی بنیادی معلومات بھی نہیں ہوتی ۔ اچھا ، کمال کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ اپنے تخصص کے معاملے میں بڑا محافظانہ ذہن رکھتے ہیں ، کسی کے لیے یہ جائز نہیں سمجھتے کہ ان کے تخصصات میں دخل در معقولات کرے۔ ابھی حج کے اس موسم میں مجھے بحمد اللہ مرکز بصیرت مکہ مکرمہ کے زیر اشراف کچھ دعوتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ۔ بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں سے مل کر یہ احساس گہرا ہوتا گیا کہ تھوڑا کچھ جان کر خود کو بڑا سمجھنے کا ذہن بہت زیادہ ہے ، اردو انگریزی کی مدد سے قرآن کریم اور بعض دینی کتابیں پڑھ کر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عام علماء سے بڑھ کر انہیں جانکاری ہے ۔ عام حالات میں وہ مولویوں کو کمتر سمجھتے ہیں ، عجیب تحقیر آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہیں پھر جب ان پر کھلتا ہے کہ سامنے والا تو واقعی مضبوط قسم کا مولوی ہے تو پھر صورت حال دیدنی ہوتی ہے ۔
Wednesday, 13 September 2023
مولانا حشمت اللہ چترویدی رحمہ اللہ
مجھے اللہ کی توفیق سے مرکز بصیرت مکہ مکرمہ کے زیر اشراف اس مرتبہ حجاج کرام کے ساتھ کچھ وقت گزارنے اور دعوت و تبلیغ کا موقع ملا ۔ میں نے کچھ چیزیں بطور خاص نوٹ کیں ؛
اس بات کی گنجائش تو ہونی ہی چاہیے کہ کسی بھی موضوع پر دلائل و براہین کی روشنی میں تہذیب و سلیقے سے گفتگو ہو لیکن اس بات کی قطعی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مباحثہ کسی بھی قسم کی بد اخلاقی یا بد تمیزی کو شامل ہو ۔
علماء طبقہ کو یہ تہذیب اختلاف سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ خالص علمی مسئلہ جس میں اختلاف رائے کی گنجائش بنتی ہو، جس میں دلائل کو سمجھنے کے مختلف زاویے ہو سکتے ہوں اس میں اس انداز سے مباحثہ کرنا کہ جس سے بغض و عداوت کو ہوا ملے پرلے درجے کی نادانی اور حماقت ہے ۔
اس طبقے میں ایک بڑی عجیب خرابی یہ ہے کہ یہ دلائل و براہین کی روشنی میں گفتگو کرنے کی بجائے فریق مخالف کے علم و مطالعہ کو ناپنے لگ جاتا ہے ۔ فریق مخالف کو ہرانا چاہتا ہے اور ایک علمی بحث جو کسی اچھے نتیجے تک لے جا سکتی تھی وہ افسوسناک بدمزگی اور دشمنی پر جا ٹھہرتی ہے ۔
ایک موقع سے ہمارے ایک عزیز دوست نے کہا کہ آپ نے فلاں صاحب سے بحث و مباحثہ کا بازار گرم کیا تھا پھر آپ نے جواب دینا چھوڑ دیا ۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے تب تک بحث میں حصہ لیا جب تک بحث کا تعلق موضوع سے تھا ، جب میں نے دیکھا کہ موضوع پر گفتگو کی بجائے لیاقت ناپی جا رہی ہے تو مجھے سمجھ میں آ گیا کہ اب بحث غلط سمت جا پڑی ہے اور جن لوگوں کو اس کی بھی تمیز نہ ہو ان سے بحث کرکے علم کو رسوا نہیں کرنا چاہیے ۔
عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب حق کی تائید کے ذہن کے ساتھ کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ کسی کا نقصان ہوتا ہے تو وہ حق کا ہی ہوتا ہے ۔ نہ معلوم ہمیں یہ بات کب سمجھ میں آئے گی کہ حق کی توضیح ہماری ذمہ داری ہے حق منوا لینا یا کسی کو قائل کرکے رہنا نہ ہماری ذمہ داری ہے اور نہ ہمارے بس میں ہے ۔
ثناء اللہ صادق تیمی
آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے آپ کو بہت سی خرافات سے بچایا ہوا ہے ۔ ذرا ایک نظر ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے نشے میں دھت بے مقصد نوجوانوں کو دیکھیے ، دوسری طرف اہل بیت کی محبت کے نام نہاد جھوٹے دعویداروں کو سینہ کوبی کرتے دیکھیے اور تیسری طرف خواتین کے مجمع کو دیکھیے اور پھر اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ درست دینی تعلیم کی روشنی سے آپ کس قدر عافیت میں ہیں ۔
مولانا مطلوب صاحب رحمہ اللہ کا انتقال