Wednesday, 13 September 2023

 عورتوں کی بدخواہ عورتیں

لبرل خواتین صرف لبرل نہیں بے وقوف بھی ہوتی ہیں ۔ فیس بک پر آئے دن ایسی خواتین یہ گیان بھگارتی رہتی ہیں کہ اگر شوہر کسی قسم کی کوئی زیادتی کرے تو بیوی کو بھی پلٹ کر جواب دینا چاہیے ، یعنی اگر شوہر کبھی کسی نادانی میں بیوی پر ہاتھ اٹھا دے تو بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ آؤ دیکھے نہ تاؤ اور شوہر پر ہاتھ اٹھا دے ۔ لبرل خواتین یہ سبق سکھاتے ہوئے خوش رہتی ہیں کہ اس سے خواتین پر گھریلو تشدد رک جائے گا اور مرد اپنی اوقات میں آجائے گا ۔یہ خواتین بار بار مختلف طریقوں سے یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ مرد اور عورت میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں اور دونوں مکمل طور پر برابر ہیں ۔
سمجھنےوالی بات یہ ہے کہ لبرل خواتین وہ ہیں جو بالعموم اعلا تعلیم سے لیس ہیں ، معاشی اعتبار سے مضبوط ہیں ، ذہنی طور پر اسلامی اصول ومبادی سے انہیں بہت زیاد ہ لینا دینا نہیں ہے ، اس لیے ان اقدامات سے جب ان کا گھر اجڑتا ہے تو انہیں فرق تو پڑتا ہے لیکن وہ مختلف قسم کی سرگرمیوں میں خود کو باندھ کر " سب کچھ ٹھیک " ہونے کا ناٹک آسانی سے کرلیتی ہیں ، پھر چوں کہ انہيں لکھنا بولنا آتا ہے تو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بھی کرلیتی ہیں ، انہیں ایک قسم کی فوقیت بھی حاصل ہوتی ہے اس لیے جب وہ کسی انحراف کا شکار ہوتی ہیں تو ان پر سماجی اعتبار سے کچھ ویسا فرق نہیں پڑتا ، مطلب یہ ہے کہ لوگ اس بارے میں گفتگو تو کرتے ہیں لیکن ان کی گفتگو بالعموم ان خواتین کے کانوں تک براہ راست کم کم ہی پہنچتی ہیں ۔
لیکن اصل نقصان ان لبرل خواتین کی باتیں سننے والی ان گھریلو اور عام خاتون کا ہوتا ہے جو ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر بنیادی حقیقتیں بھول جاتی ہیں ۔ ان بے چاریوں کے پا س ان لبرل خواتین کی مانند سہولتیں نہیں ہوتیں ، وہ معاشی اعتبار سے اس طرح سے خود کفیل نہیں ہوتیں ، انگریزی تعلیم سے اس طرح آراستہ نہیں ہوتیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ دین سے اس طرح آزاد بھی نہیں ہوتیں لیکن ان کی باتوں میں آکر یہ سوچنے لگ جاتی ہیں کہ وہ واقعی ہر اعتبار سے اپنے شوہروں کے برابر ہیں ،یوں جو شوہر کی عزت ، احترام اور فرماں برداری کا جذبہ ہے وہ کمزور پڑنے لگتا ہے ، توتکار کی شروعات ہوتی ہے ، مطالبہ ہونے لگتا ہے کہ بچوں کو پالنے اور گھریلو کام انجام دینے میں ساتھ دیا جائے اور جب ایسا ہوتا ہے تو اب محبت و پیار کا ماحول رخصت ہونے لگتا ہے، تکرار بڑھنے لگتی ہے اور اچھا خاصا ہنستا کھیلتا گھر خراب ہوجاتا ہے۔
مرد کو مارپیٹ نہيں کرنی چاہیے ، کوئی اچھا مرد ایسی غلطی کرتا بھی نہیں ۔ بیوی کا خیال رکھنا چاہیے ، اس کے گھریلو کاموں میں اس کا ہاتھ بٹانا چاہیے اور اگر کبھی بیوی سے کوئی خطا ہوجائے تو در گزر سے کام لینا چاہیے ۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی اسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کا گارجین بن کر رہے ۔ تمام معاملات کو ٹھیک سے دیکھے اور حسب ضرورت نرمی و سختی سے کام لے ۔ لکھ لیجیے کہ جس طرح حکومت چلانے کے لیے حسب ضرورت نرمی اور سختی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح گھرچلانے کے لیے بھی حالات وظروف کے مطابق نرمی اور سختی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عقل مند آدمی سختی کو ہمیشہ آخری اختیار کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اس میں بھی وہ حدیں کبھی نہیں بھولتا۔یوں تادیب کے لیے وہ لہجہ سخت تو کرسکتا ہے لیکن انتقامی جذبے کے تحت گالی گلوج کبھی نہیں کرسکتا۔
خواتین کو بار بار مختلف حیلوں سے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ وہ مرد کی ہی مانند ہے ، یہ سچائی نہيں ہے ، اس لیے جب کبھی کوئی خاتون اپنے شوہر سے برابری کرنے لگتی ہے تو خود اپنے پاؤں پر کہلاڑی مارتی ہے اور اپنا سکون وچین کھو تی ہے ۔
خواتین سے محبت کرنے والی کوئی خاتون انہيں مردوں سے برابری کرنے کا مشورہ دے ہی نہیں سکتی کیوں کہ کم از کم خواتین کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ سچ نہیں ہے ۔یہ مشور ہ صرف وہی عورت دے سکتی ہے جو کسی عورت کی خیرخواہ نہ ہو ۔خواتین و حضرات کی نفسیات میں فرق پایا جاتا ہے اور اس فرق کو ملحوظ رکھنے سے ہی گھر کا سکون باقی رہتا ہے ۔
مسلم خواتین کو سمجھنا چاہیے کہ ایسی خواتین کی باتوں میں آئیں گی تو نقصان آپ کا ہی ہوگا ۔دین و دنیا کی بھلائی مطلوب ہے تو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودات کے مطابق شوہر کی عزت واحترام اور اس کی فرماں برداری کا رویہ اپنائیے ۔ اسی سے آپ کے لیے سعادتوں کے دروازے کھلیں گے ۔ ہاں ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ چاہے کوئی ہو ، اگر وہ اللہ کی معصیت کا حکم دے تو اس کی بات نہیں ماننی ہے ۔
ساگر تیمی

 حب الوطنی کی سیاست

ثناءاللہ صادق تیمی
ہندوستان میں شروع سے ایک گروہ سرگرم رہا ہے جس کا دعوی رہا ہے کہ ہندوستان میں رہنے کا حق صرف ان مذاہب کے ماننے والوں کو ہونا چاہیے جو مذاہب اسی سرزمین پر نمودار ہوئے جیسے سناتن دھرم ، بدھ مت ، جین مت اور سکھ مت وغیرہ ۔جن سنگھ آج کے آرایس ایس کا یہی نظریہ رہا ہے اور وہ اسی کا مختلف انداز میں پرچار وپرسار کرتے رہے ہیں ۔اس کے لیے وہ بنیادی طور پر ایک دلیل بھی دیتے ہیں کہ جن کو اس سرزمین سے ویسی عقیدت نہ ہو جیسی ہندؤں کو ہے ان کو اس سے ویسی محبت بھی نہیں ہوسکتی ۔وہ جب " وندے ماترم" کا ہنگامہ کھڑا کرتے ہیں تو اس کے پیچھے یہ بات بھی رہتی ہے ۔
اس نظریے کے حاملین اسی لیے یہ مانتے ہیں کہ ہندوستان پر ہندؤں کے سوا جن لوگوں نے بھی حکومت کی ہے وہ ایک غاصب حکومت تھی اور وہ دور غلامی تھا جس سے بھارت گزر رہا تھا ۔ آرایس ایس کا یہ نظریہ اتنا واضح ہے کہ اس کی مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم جب امریکہ کے حالیہ دورے پر گئے اور وہاں ایک جگہ خطاب کیا تو انہوں نے یہی بات کہی بھی ۔ اور یہ بات معلوم حقیقت کا درجہ رکھتی ہے کہ نریندر مودی آرایس ایس کے تربیت یافتہ اور اس کے ایک وفادار رکن ہیں ۔
جاننے والی بات یہ بھی ہے کہ آر ایس ایس کا یہ نظریہ ان کی مجبوری بھی ہے ۔ جدید ہندوستان کی آزادی اور اس کی تعمیر میں آرایس ایس یا اس کی ذیلی تنظیموں کا کوئی کردار نہيں ۔ الٹے یہ تاریخی سچائی ہے کہ اس نظریے کے لوگ انگریز کے مخبر تھے اور دیش کی آزادی کی کوششوں کے خلاف تھے ۔ایسے میں اگر وہ صرف انگریزوں کو ہی غاصب مانیں گے تو ان کا کوئی مثبت کردار بھی نہیں بنے گا اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر سیاست کی جو دیوی ان پر مہربان ہوتی ہے وہ بھی نہیں ہوگی ۔ یوں ان کے اس رویے سے انہيں دوہرے فائدے ملتے ہیں ۔ ایک تو اپنے نظریے کے نتائج کی شرمندگی سے بچنے کا سامان نکل آتا ہے اور دوسرے ستا پانے کی راہ بھی ہموار ہوجاتی ہے ۔
آپ غور کریں تو اس ٹولے کو حب الوطنی کے مفہوم کو متعین کرنے کے لیے اسی لیے وہ راستہ اپنانا پڑتا ہے جو عملی نہیں خالص نظریاتی ہے ۔بی جے پی کے قومی ترجمان سنبت پاترا کے ساتھ کنہیا کمار کا ایک مباحثہ شاید آپ کو یاد ہو، اس میں کنہیا کمار نے اس نظریاتی اساس کو جب عملی مثالوں سے چنوتی دی تو سنبت پاترا لاجواب ہوکر رہ گئے تھے ۔یعنی اس نظریے کا کمال یہ ہے کہ ہر ہندو بلا کسی استثناء کے محب وطن شمار ہوگا اور کسی بھی مسلمان یا عیسائی کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنی ہوگی اور نظریے کی اس اساس پر وہ ثابت بھی نہيں کرسکے گا ، اس لیے کسی بھی طور پر وہ ہندوؤں کا مقام نہیں پاسکتا۔
لیکن یہ نظریاتی اساس عام ہندو سماج اور دانش ور طبقے کو منظور نہيں ۔یہی وجہ ہے کہ ساری کوششوں کے باوجود اب بھی سنگھ کو جد وجہد آزادی کے معاملے میں سر نیچا کرتے ہی بنتا ہے ۔عام ذہن یہی ہے کہ دیش سے محبت کا مطلب سرحد کی حفاظت سے لے کر دیش کے لوگوں کی خوش حالی اور ترقی کے لیے کام کرنا ہے ۔اس نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کا مسلمان کسی بھی دوسرے طبقے سے پیچھے نہیں ہے ۔ چنانچہ یہ تاریخی سچائی ہے کہ دیش کی آزادی کی جنگ میں جس گروہ نے سب سے زیادہ قربانی دی وہ مسلمان ہی تھے اور جنہیں سب سے زیادہ زد وکوب کا گيا وہ مسلمان ہی تھے ۔جب انہوں نے ملک پر حکومت کی تو ملک کو ثروت مند کیا، ہر سطح پر خوش حالی آئی ، ملک کی دولت میں اضافہ ہوا ، وہ اسی سرزمین کے ہو کر رہے اور اس کی دولت کو کہیں منتقل کرنے کا سوچا بھی نہیں ۔ہر طبقے کی ترقی اور خوش حالی کے لیے کوششیں صرف کیں اور رواداری اور محبت کی بنیاد پر بہتر سماج بنانے کا کردار ادا کیا ۔اورنگ زیب جو عام ہندوؤں میں تھوڑا زيادہ ہی مبغوض ہے جب اس کے سپہ سالاروں کے اسماء دیکھیے اور دیکھیے کہ وہ کتنےسارے مندروں کو عطیات دے رہا ہے تو سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی حکومت کا طریقہ کیا تھا ۔
آزاد ہندوستان میں بریگڈیئر محمد عثمان ، حولدار ویر عبدالحمید ، ميزائل مین اے پی جےعبدالکلام اور ان جیسے ہزاروں مسلمانوں کے نام گنائے جاسکتے ہیں جنہوں نے اپنی کوششوں سے دیش کی حفاظت کا فريضہ انجام دیا اور سدا دیش کے لیے صف اول میں کھڑے رہنے کے متمنی رہے ۔اگر مختلف میدانوں کی فہرست بنائی جائے تو مسلمان کہیں سے بھی پیچھے نظر نہيں آئے گا لیکن بہر حال اسے افسوس ناک ہی کہا جائے گا کہ اس خاص زاویے سے آزاد بھارت پر نظر دوڑانے کی کوشش کی ہی نہیں جاتی۔
مسلمان اپنے دیش سے محبت کرتا ہے ، یہ اس کی فطری محبت ہے ، اس کا دین اس معاملے میں اس کی راہ میں حائل نہيں ہوتا بلکہ اس کی رہنمائی کا فريضہ انجام دیتا ہے ۔وہ اپنے ملک کی سرحد اور اپنے ملک کی حفاظت اسی طرح ضروری سمجھتا ہے جس طرح اپنے گھر کی حفاظت ضروری سمجھتا ہے ۔یہ اس کی کوئی مجبوری نہیں ، اس کے اپنے دین کا اور اس کی اپنی فطرت کا تقاضہ ہے ۔ ہندو اکثریت کو کچھ مفاد پرست گمراہ کرکے مسلمانوں کے تئیں بدظن کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ، ایسے لوگوں کا توڑ ضروری ہے ۔ مسلم سماج کے تعلیم یافتہ طبقات ، اداروں ، سیاسی جماعتوں اور ملی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ایسے پروگرام منعقد کریں جہاں ان حقائق کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے اور جن میں برادران وطن کو بھی دعوت دی جائے ۔جو لوگ صاحب قلم ہیں انہیں لکھنا چاہیے ، جو یوٹیوبر ہیں انہیں وہاں سے یہ حقائق پیش کرنے چاہیے اور جو سیاسی سطح پر اثر رکھتے ہیں انہیں وہاں بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔
رہے نام اللہ کا

 لال قلعہ سے وزیر اعظم کا خطاب

ہندوستان کے وزير اعظم شری نریند مودی انتہائی درجے میں ہوشیار اور چالباز قسم کے سیاست داں ہیں ۔ انہوں نے پندرہ اگست کو لال قلعہ سے جو تقریر کی وہ بظاہر تو ان کے کارناموں کی تفصیل ، آنے والے وقت میں ترقی و تعمیر اور خوش حالی کے وعدے اور اپوزیشن پارٹیوں پر حملے سے عبارت تھی لیکن سچ پوچھیے تو پوری تقریر آرایس ایس کے نظریے کی وکالت پر مشتمل تھی اور جدید آئينی ہندوستان کی روح کے خلاف تھی۔
انہوں نے اس سے پہلے بھی اور اس بار بھی ہزارسالہ دور غلامی کی بات کی ، لمحوں کی خطا کو بیان کیااور ہزاروں سال کے اثرات ذکر کیے ۔ بغیر کسی دلیل اور تاریخی شہادت کے مسلم دور حکومت پر لوٹ کھسوٹ کا الزام دھرتے چلے گئے اور جن مسلمانوں نے اس ملک کی تعمیر وترقی اور خوش حالی میں اپنا سب کچھ لگا دیا اور ملک کے ذرے ذرے سے محبت کی ، کثرت میں وحدت کے فلسفے کو پروان چڑھایا ، انہيں وہ کوستے رہے ۔ یہ آرایس ایس کا وہی نظریہ ہے جس کے تحت وہ مسلمانوں کو پہلے درجے کے شہری کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ۔
انہوں نے جب ملک کو درپیش مسائل کی بات کی تو خوشامد اور ناز برداری کا ذکر کیا ۔ جنہیں سنگھ کے سیاسی سفر کا علم ہے انہيں معلوم ہے کہ وہ شروع سے کانگریس پر یہی الزام رکھتا رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کی نازبرداری کرتی ہے ، اپیزمنٹ کا مطلب ہی مسلمانوں کو خوش کرنے کی سیاست ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب سڑکوں پر چل رہے مسلمانوں کو بھیڑ مار مار کر ماردیتی ہے ، جب نماز پڑھ رہے ایک عام سے مسلمان سے ہندو ذہن کو ڈرنے لگنے لگتا ہے اور ایک مسلمان کی نماز اس کا جرم بن جاتی ہے ، جب مسلمانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر باضابطہ ٹرینڈ چلایا جاتا ہے، ان کے معاشی بائکاٹ کا اعلان کیا جاتا ہے ، جب جلوس نکال نکال کر انہیں مشتعل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، فسادات کی آگ بھڑکا کر ان کی جانوں سے کھیلا جاتا ہے اور فسادات کے بعد انتظامیہ ان کے آشیانوں پر بلڈوزر چلاتی ہے اور عجیب وغریب خوف کےسایے تلے مسلمانوں کو جینے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے ہاتھوں بنے لال قلعہ سے قوم کو خطاب کو کرتے ہوئے جب ملک کا وزیر اعظم نازبرداری کی بات کرے تو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کس قسم کی سیاست کررہے ہیں ۔ ایک طرف پہلے وہ مسلم دور حکومت کو عہد غلامی قرارد یتے ہیں اور دوسری طرف حزب اختلاف پر مسلمانوں کی نازبرداری کا الزام رکھتے ہیں ، بین السطور میں پیغام بہت واضح ہے ۔منی پور کا ذکر یقینا وزیر اعظم کی مجبوری تھی ورنہ وہ میوات کا بھی ذکرکرسکتے تھے ، انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ ہندو مسلم تنافر کی یہ سیاست ہی ان کی قوت کا محور ہے ۔
مجھے ان کی تقریر پر کوئی تعجب نہیں ، مجھے پتہ ہے کہ وہ اپنے فریم سے نکل ہی نہیں سکتے ، البتہ تکلیف یہ ہے کہ دیش کی ترقی کی بات کرنے والا یہ سیاست داں بہر حال دیش کے لیے ویسا مخلص نہیں ورنہ اسے پتہ ہوتا کہ نفرت کی کاشت اس کی حکومت کی راہ تو ہموار کرسکتی ہے لیکن کبھی بھی خوش حالی ، تعمیر ، ترقی اور اچھے دن کا پھل نہیں لاسکتی۔
ساگر تیمی

 انسانی رشتوں میں میاں بیوی کا رشتہ بے حد خاص رشتہ ہے ۔ دو اجنبی ایک شرعی عقد کے تحت ایک ایسے بندھن میں بندھ جاتے ہیں جس سے مضبوط بندھن کا تصور آسان نہیں ۔ خونی رشتوں کی کشش بہت فطری ہے لیکن اس ازدواجی رشتے میں بھی اللہ پاک نے غضب کی محبت اور سامان سکون رکھ دیا ہے ۔ یہ نسل انسانی کے بقا کے ساتھ ہی ذہنی وساوس سے نجات کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔ مسلم سماج شادی کو مشکل کرکے انتہائی خطرناک غلطی کر رہا ہے ، اہل خرد کو شادی کو آسان سے آسان تر کرنے کی کوشش لگاتار کرنی چاہیے ۔

میاں بیوی کے اس رشتے سے ہی بنیادی طور پر خاندان اور سماج کی تشکیل عمل میں آتی ہے ، اس لیے اسے صرف ایک فرد کے انفرادی خصوص کی بجائے سماجی ادارے کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے ۔ اس رشتے کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن و حدیث میں رشتوں کے معاملے میں جتنی تفصیل و تاکید اس رشتے کی آئی ہے اور کسی رشتے کی نہیں آئی ۔ اس رشتے کو مضبوط کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں اور ان عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے یہ رشتہ کمزور ہو سکتا ہے ۔ ٹوٹتے ٹوٹتے بھی اسے جوڑنے کی انتہائی حکیمانہ اور عملی کوششیں کی گئی ہیں ۔ اسلام کے نظام طلاق پر کبھی غور کی نظر ڈالیے تو سمجھ میں آ جائے گا کہ اسلام اس رشتے کو بچانے کے ہر ممکن طریقے کو کام میں لاتا ہے ۔
مرد سے کہا گیا ہے کہ وہ بیوی کی کسی بری خصلت کی وجہ سے اسے نہ چھوڑے کہ اگر اسے کوئی خصلت بری لگ سکتی ہے تو کوئی اور خصلت اچھی بھی لگ سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ بھلائی کے ساتھ بود و باش اختیار کرے ، اس کا خیال رکھے ، اس کی کمزوریوں کو سمجھے اور اس کے ساتھ ہمدردی کا معاملہ رکھے ۔ اسی لیے اسے بتا دیا گیا ہے کہ ایک خاتون میں بنیادی طور پر کیا نزاکت پائی جاتی ہے ۔ اسلام اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر اور خوب سے خوب تر رکھنا چاہتا ہے ۔ اسی لیے وہ طریقے اور آداب بھی سکھاتا ہے جن سے دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھتی ہے ۔ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کی تفصیلات اس سلسلے میں کتنی اچھی روشنی فراہم کرتی ہیں ۔
البتہ شیطان اگر سب سے زیادہ کسی رشتے کو زک پہنچانا چاہتا ہے تو وہ یہی رشتہ ہے ۔ وہ حدیث یاد ہوگی کہ شیطان اپنے سارے چیلوں کو بھیجتا ہے اور خوش اس سے ہوتا ہے جو میاں بیوی میں تفریق کرا کر آتا ہے ۔ جادو گر جادو کے ذریعہ یہی کوشش کرتا ہے کہ میاں بیوی کے بیچ تفریق ہو جائے ۔ يفرقون به بين المرء وزوجه.
شیطان کے مختلف حربوں میں ایک حربہ یہ بھی ہے کہ وہ بیوی کو شوہر کی نظر میں اور شوہر کو بیوی کی نظر میں بے حیثیت اور ناقابل التفات بنانے کی کوشش کرتا ہے ، ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کو بڑھا کر پیش کرتا ہے تاکہ رشتہ استوار نہ رہ سکے ۔
سمجھدار اور خوش بخت ہیں وہ میاں بیوی جو شیطان کی ان چالوں کو سمجھتے ہیں ، بیوی بلا وجہ طلاق و خلع کا مطالبہ نہیں کرتی کہ وعید کی زد میں نہ آ جائے اور شوہر بلا وجہ طلاق کی دھمکیاں نہیں دیتا ۔ دونوں ایک دوسرے کے حقوق سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں ۔ بیوی کو دیکھ کر شوہر کو خوشی ملتی ہے اور شوہر بیوی کی عزت و عصمت اور شخصیت کا محافظ بن کر اس کے سر کا تاج ہو جاتا ہے ۔
یاد رکھیے کہ سب سے زیادہ شیطان سے اسی رشتے کو بچانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسلام اس رشتے کی اہمیت ، ضرورت اور فضیلت کا قائل ہے ۔ مرد کے لیے یہ رشتہ اس کے کردار کی کسوٹی ہے اور عورت کے لیے سب کچھ ۔ اس لیے دونوں کو اس رشتے کے تقدس اور عظمت کا خیال رکھنا چاہیے ۔
ثناءاللہ صادق تیمی
All reactions:
Anzar Ahmad Sadique, Amanullah Sadique Taimi and 124 others

 عرب ملکوں میں ہندوستان کی شبیہ

ثناءاللہ صادق تیمی
عرب ملکوں سے ہندوستان کے تعلقات کافی قدیم ہیں ۔ پہلے بھی عرب تجار تجارت کے لیے ہندوستان کا دور ہ کرتے رہتے تھے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جب اسلام کی دولت سے عرب مالا مال ہوئے تو انہوں نے تجارت کے ساتھ اس نعمت اسلام کی تبلیغ کا مقصد بھی جوڑ لیا اور یوں صحابہ کرام کے زمانے سے ہی ہندوستان کی سرزمین اسلام سے روشناس ہوگئی ۔لگ بھگ پچیس صحابہ کرام ، بیالیس تابعین اور اٹھارہ تبع تابعین کے بارےمیں آتا ہے ان کے قدوم میمنت لزوم سے سرزمین ہند شرفیاب ہوئی ۔جاننے والی بات یہ بھی ہے کہ ہندوستان اور عرب ممالک ایک دوسرے کو ہمیشہ دوست کی حیثيت سے دیکھتے رہے ہیں اور دونوں کے یہاں ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت کےساتھ خصوصیات کا احترام و اعتراف پایا جاتا رہا ہے ۔
البیرونی نے ماللھند لکھ کر جہاں ہندوستان کی تہذیب و ثقافت ، مذہب ، بود و باش اور علوم و فنون سے اہل عرب کو متعارف کرایا اور اس موضوع پر ایک شاہکار کتاب پیش کی وہیں ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں بھی ہندوستان کے مفصل احوال لکھے ۔ان دونوں سے پہلے ابن المقفع نے سنسکرت سے پہلوی میں ترجمہ شدہ کلیلہ دمنہ کو عربی میں ڈھال کر اہل عرب کو ہندوستان کے فکر وفلسفہ سے متعارف کرایا ۔ ترجمہ اس خوبی سے کیا گيا کہ آج تک عربی زبان وادب کا شاہکار مانا جاتا ہے لیکن کتاب کی اہمیت اس کی کہانیوں میں موجود حکمتوں ، دانائیوں اور تمثیلوں کی وجہ سے بھی ہے ۔بعد کے ادوار میں جب ہندوستان میں مسلمانوں نے حکمرانی کی تو ایک پر ایک بڑے بڑے علماء ، محققین اور فضلاء ہوئے جنہوں نے عربی میں بڑی بڑی اور شاہکار علمی کتابیں تصنیف کیں اور اسلام کے ساتھ ہی بھارت کا نام روشن کیا ۔
جاننے والی بات یہ بھی ہے کہ عربوں کے یہاں ہندوستان سے ایک قسم کا خصوصی لگاؤ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ عرب ممالک میں ہندوستان کی جد وجہد آزادی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ اس زمانے میں عرب ممالک میں جو رہنما ، قلم کار اور سربراہان تھے وہ ہندوستان کی طرف بڑے شوق سےدیکھ رہے تھے ۔ مولاناابوالکلام آزاد نے جب 1905 کے آس پاس عرب ممالک کا دورہ کیا تو انہیں اس بات کا بطور خاص احساس ہوا کہ عرب رہنما اور دانشور طبقہ کس دلچسپی اور امید سے بھارت کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ بڑی اچھی بات یہ بھی رہی کہ آزادی کے بعد بھارت کی خارجہ پالیسی ناوابستگی کی رہی ،اس معاملے میں بھارت کو عرب ممالک بطور خاص مصر کی طرف سے جو ساتھ ملا وہ تاریخ کا روشن باب ہے ، مولانا آزاد کے مشورے سے بھارت نے ہمیشہ کوشش کی کہ عرب ممالک سے تعلقات اچھے اور مضبوط رہیں اور ہر چند کہ بھارت کو تقسیم کی مار جھیلنی پڑی اور اسلام کے نام پر ایک الگ ملک بنا ، اس کے باوجود بھارت کی خارجہ پالیسی اس سلسلے میں قابل تعریف رہی اور عرب ممالک سے بھارت کے تعلقات ہمیشہ ہی بہت اچھے رہے ۔ یہ تعلقات دن بہ دن تجارت ، اسٹریٹجک پارٹنرشپ اور دوسرے میدانوں میں پھیلتے ہوئے مضبوط ہوتے گئے ۔
عرب ممالک میں بالعموم بھارت کو عزت اور محبت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ گاندھی جی نہ صرف یہ کہ معروف ہیں بلکہ وہ اپنے اہنسا کے نظریے کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ عقاد جیسے بڑے ادیبوں نے گاندھی جی پر کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ سماجی اور سیاسی موضوعات پر گفتگو ہو تو گاندھی جی کے نظریے پر بات ہوتی ہے ۔ٹیگور کو ادبی حلقہ جانتا ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ خالص علمی دائرے میں دیکھیں تو عبدالعزیز میمنی ، ابوالحسن علی ندوی ، صفی الرحمن مبارک پوری اور ان جیسے دوسرے علماء معروف بھی ہیں اور ان کا نام احترام و عزت سے بھی لیاجاتا ہے ۔
تہذیب وثقافت اور ادب و فن کے حوالے سے بات ہو تو عرب ممالک میں ہندی سینما کا ذکر مجبوری بھی ہے اور ضروری بھی ۔یہاں کے لوگ ہندی فلموں کے توسط سے بھارت کی تہذیب و ثقافت اور بہت سی دوسری چيزوں سے واقفیت رکھتے ہیں ۔ انہیں بہت سے فلم اداکار اچھی طرح یاد ہیں اور وہ جب کسی ہندوستانی سے ملتے ہیں تو ان کا نام ضرور لیتے ہيں ۔
عرب ممالک میں بھارت کی عزت بڑھانے میں ایک بڑا کردار ان ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کا بھی ہے ۔ عرب ممالک میں ہندوستانی بھاری تعداد میں ہیں اور وہ مختلف سطحوں پر اپنے ملک اور تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ بالعموم بھارت کے لوگوں کے بارےمیں عربوں کی رائے مثبت ہے اور وہ انہيں محبت و قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی محنت اور ایمانداری کے ساتھ ہی ان کے یہاں ایڈجسٹمنٹ کی صلاحیت کے قائل نظر آتے ہیں ۔
عرب ممالک ہندوستان کو حسد یا کسی قسم کی عداوت کی نظر سے نہيں دیکھتے ۔ ان کا زاویہ بھارت کے سلسلے میں بہت ہی مثبت اور اعتراف کا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھارت کو بہت سارے معاملات میں اپنے لیے ایک انسپریشن کے طور پر بھی دیکھتے ہیں ۔بھارت نے اپنی غریبی اور بعض دوسرے بڑے مسائل کے باوجود میڈیکل ، آئی آئی ٹیز ، انجینیئرنگ ، نیوکلیئر پاوربننے اور چاند تک کمندیں ڈالنے میں جو کامیابی درج کی ہے وہ عربوں کی نظر میں قابل تعریف ہے ۔ ابھی جب چندریان 3 کامیابی سے چاند پر اترا تو عربوں کے بیچ خوشی کی کیفیت دیکھی گئی ، دانشوروں نے سراہا اور اہل قلم نے تحریریں لکھ کر بھارت کی اس حصولیابی کو سلام پیش کیا ۔
عرب ممالک سے بھارت کے تعلقات ہر زمانے میں اچھے رہے ہیں ۔ موجودہ وزیراعظم نریند مودی نے بھی اس سلسلے میں مثبت اقدامات کیے ہیں اور یہ تعلقات مزید اچھے ہی ہوئے ہیں ۔ عرب ممالک میں بھارت کی شبیہ ایک ایسے ملک کی ہے جو ساری چنوتیوں کے باوجود دن بہ دن آگے بڑھ رہا ہے جس پر اس کوسراہا جانا چاہیے لیکن ایک معاملہ ایسا ہے جس سے ان تمام خوبیوں پر پانی پھر سکتا ہے اور جس کی وجہ سے آئے دن بھارت کی شبیہ خراب ہوتی رہتی ہے ۔ یہ معاملہ بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم کا ہے ، مقدس مسلم شخصیات کی شان میں گستاخی کا ہے اور بے لگام لیڈروں کے الٹے سیدھے بیانات کا ہے ۔ اس طرف بھارت کو بطور خاص دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔

 دعيت بالبارحة من قبل بعض الإخوة لإلقاء محاضرة عن بعد حول الردة في النساء المسلمات: أسبابها و طرق التخلص منها، قبلت الدعوة و تحدثت حول الموضوع نظرا إلى شدة الحاجة إليه.

و كان التركيز على هذه المحاور الرئيسية:
١. نظرة الإسلام إلى الكون و مكانة المسلم فيها ، حقيقة الدنيا و أنها فانية بما فيها من الفرح و الترح ، خطورة النظرية المادية للحياة ، فضل الإيمان و أهله و أن المسلم لا يساويه مشرك و كافر بلغ ما بلغ من المناصب العليا في الدنيا و أن عبدا مؤمنا خير من مشرك و أمة مؤمنة خير من مشركة.
٢. تربية الأطفال على هذه الأسس المتينة و ترسيخ مبادئ الدين فيهم و تعليم الطفلة المسلمة دينها و عقيدتها و حضارتها. و هذا يكون أمتن حصن و أكبر قلعة من أن تذوب شخصياتهم في تقاليد المجتمع غير المسلم.
٣. السعي الدؤوب إلى تسهيل أمور النكاح في المجتمع المسلم و عدم التأخير فيه. فإن للعادات القبيحة و التقاليد الجاهلية المهلكة دورا مهما في ميلان المسلمات إلى غير المسلمين.
٤. للمرأة المسلمة دور عظيم في بناء الأسرة و عمارة البيت و تكوين مجتمع صالح عن طريق تربية الأطفال و لها مكانة عظيمة كريمة ، تشكر عليها و تكون عند الله مقبولة مرضية فلا تحتاج إلى أن تكون موظفة تسعى للحصول على القوت و إنما وكلت هذه الأمور إلى زوجها حتى تتفرع لمسؤوليتها البيتية.
٥. الاختلاط مع الأجانب يمهد الطريق إلى القربة و القربة تسبب الهيام و العشق و هذا ليست مشكلة الفئة المسلمة و إنما عانى منها الهنادك أيضا و ما زالوا يعانون منها. و الفتيات المسلمات لم يكن يخرجن إلى الجامعات و الشركات و المؤسسات الحكومية والخاصة إلا نادرا فما كانت لهم صلات مع غير المسلمين إلا نادرا. و الآن تغير الوضع فقد كثر الاختلاط و كثرت معه الصلات المحرمة.
٦. يجب على الوالدين مراقبة الأولاد والبنات و العناية بهم و عدم الغفلة عمن يسكنون معهم و يصاحبهم و يتخذونهم اصدقاء.
٧. يحتاج المسلمون إلى فتح جامعات و معاهد و كليات خاصة بهم ، لأن المرحلة العمرية التي يقضيها الولد والبنت في هذه المعاهد تكون من أخطرها ، تهاجم عليهم شياطين الإنس والجن من كل جانب و العواطف والمشاعر تكون حارة و الميلانات إلى الجنس الآخر شديدة ملحة.
٨. لا أحسب لنظرية المؤامرة كبير حساب و لكن المتطرفين من الهنادك و بمساعدة المسؤولين في الدفاتر الحكومية يمهدون الطريق لإيقاع الفتيات المسلمات في حبال أعدائنا الذين ينتهكون الحرمات و يفعلون ما يؤمرون من تعذيبهن و هجرهن بعد التلاعب بمشاعر و أبدانهن و طردهن من بيوتهم فلا بد للقائمين على مؤسسات اجتماعية أن ينظروا في المشكلة و يتخذوا القرار الحاسم تجاهها.
ثناء الله صادق التيمي

 ڈاکٹر سید عبد العزيز سلفی رحمہ اللہ: ایک پختہ فکر رہنما

ثناءاللہ صادق تیمی
انسان کو دنیا سے ایک دن رخصت ہونا ہے ۔ موت برحق ہے ، موت پر تکلیف کا ہونا بھی فطری ہے لیکن جب کسی ایسی شخصیت کی وفات ہو جس سے قوم وملت کا مفاد وابستہ رہا ہو تو تکلیف زیادہ شدید ہوتی ہے ۔ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کے ناظم اعلی ، نائب امیر مرکزی اہل حدیث ہند اور معروف صاحب قلم ڈاکٹر سید عبدالعزيز سلفی کی وفات بلا شبہ ایک ایسی ہی شخصیت کی وفات ہے ، آپ اپنی انفرادی اور اجتماعی ہر دو حیثيت میں قوم وملت اور جماعت و جمعیت کے لیے ایک اہم ترین مفید عنصر کی حیثيت رکھتے تھے ۔ انفرادی زندگی میں معالج کی حيثيت سے لوگوں کے کام آتے تھے اور اجتماعی زندگی میں احمدیہ سلفیہ سے لے کر جمعیت اہل حدیث اور دوسرے سماجی اداروں میں سرگرم حصہ داری نبھاتے تھے ۔
آپ کا تعلق ایک عظیم خانوادے سے تھا۔ مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی کی جس وراثت کو ان کے داداڈاکٹر فرید رحمہ اللہ نے سنبھالا اور آگے بڑھایا ، اس وراثت کو ان کے والد، عظیم ملی رہنما ، صاحب فکر ونظر قائد اور عملی و علمی شخصیت ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ نے وسعت و ترقی دی اور اس ادارے کو ایک مدینۃ العلم میں بدل دیا ، اسے ہی آپ نے سنبھالا اوراس کی حفاظت کی کامیاب کوشش کی ۔ اس میں بلا شبہ والد صاحب کی خصوصی تربیت کا بڑا کردار ہے ۔
آپ کی پہلے دینی تعلیم ہوئی ، احمدیہ سلفیہ سے فراغت حاصل کی اور پھر مسلمانان بر صغیر کی عظیم محسن دانش گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا اور یوں اپنے والد محترم کے ہر دو زاویے سے لائق وارث ٹھہرے کہ والد صاحب بھی عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معالج ڈاکٹر تھے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد احمدیہ سلفیہ کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر آئی اور آپ نےاس میں ہر طرح کھرا اترنے کی کوشش کی ۔ مکہ مکرمہ آنے کے بعد بہت سارے مواقع سے بہت سے بزرگوں اور دوستوں نے آپ کی سادگی ، ادارہ کے لیے تگ ودو اور اس سلسلے میں ہر طرح کی پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی آنکھوں دیکھی کیفیات بیان کیں اور ڈاکٹر صاحب کے لیے ہمارےدلوں میں ایک خاص قسم کی محبت بیٹھ گئی۔ویسے بھی آپ کے خانوادے کے سلسلے میں یہ بات نوٹ کی جائے گی کہ اس نے ادارہ یا جماعت کو کچھ دیا ہی ، اسے اپنے لیے فائدے کا سامان نہیں بنایا۔ بقول مولانا بدر عالم سلفی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی امارت سے جس محفل میں ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ الگ ہوئے اسی محفل میں جماعت کے معتبر عالم دین شیخ شمس الحق سلفی رحمہ اللہ نے تمام حاضرین کے سامنے یہ گواہی دی کہ ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی پر کم از کم یہ الزام تو نہیں رکھا جاسکتا کہ انہوں نے اپنی ذات پر جمعیت کا ایک آنہ خرچ کیا ہے ۔مجھے یہ لکھتے ہوئےواقعی خوشی ہورہی ہے کہ جن دنوں سلفیہ کو لے کر ایک افسوسناک واقعہ روشنی میں تھا ، انہیں دنوں سرکاری اہل کاروں سےبات کرتے ہوئے فریق مخالف کے ایک ذمہ دار فرد نے یہ بات کہی کہ سلفیہ کے ذمہ داران سے بد انتظامی (مس مینجمنٹ)کی غلطی ہوسکتی ہے لیکن ان پر کسی قسم کے غبن کا الزام نہیں رکھا جاسکتا۔
احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے ہمارے کان بچپن سے آشنا رہے ہیں ، بڑے بھیا عبداللہ صادق صاحب نے وہاں تعلیم حاصل کی ، گاؤں کے دالانوں میں بھی سلفیہ کا ذکر خیر ہوتا رہتا تھا، مدرسۃ العلوم الاسلامیہ مرول میں ہمارے کئی اساتذہ وہیں کے فارغ تھے اور اس کا ذکر خیر کرتے رہتے تھے لیکن اس ادارے کوجاننے کا موقع 2000 ء کے قریب جامعہ امام ابن تیمیہ کے زمانہ طالب علمی میں ملا۔ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ان کی حیات وخدمات پر الھدی کا خصوصی شمارہ شائع ہوا تھا ، اس میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ ہی ادارے کی پوری تاریخ ، شعبہ جات اور دوسرے اداروں کا ذکر آگيا تھا۔
جامعہ امام ابن تیمیہ سے فراغت کے بعد ڈاکٹر عبدالحلیم رحمہ اللہ سے رابطہ رہتا تھا ، میں نے اس کی تفصیل ان پر لکھے اپنے ایک مضمون میں دی ہے۔
ڈاکٹر سید عبدالعزیز سلفی رحمہ اللہ کو سب سے پہلے مذاکرہ علمیہ کے ایک پروگرام میں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا ۔ امیر امارت اہل حدیث ، صادق پور ، پٹنہ ، مولانا عبدالسمیع جعفری ندوی رحمہ اللہ ایک نشست کے صدر تھے اور ان کا وقت متعین کردیا گيا تھا ، جس کی انہیں تکلیف تھی ، وہ اپنی تقریر میں بار بار اپنے وقت کا حوالہ دے رہے تھے اور ادھر ڈاکٹر سید عبدالعزيز رحمہ اللہ ان سے یہ گزارش کررہے تھے کہ آپ اس پروگرام کے صدر ہیں اور صدر کا کوئی متعین وقت نہیں ہوتا ۔آپ اپنے حساب سے اپنی باتیں رکھیں ۔ ہم نے سب سے پہلے ان کی ایک جھلک اسی وقت دیکھی تھی ۔ یہ غالبا 2005 ء کی بات ہے ۔
اس طرف آکر احمدیہ سلفیہ کے لیے سعودی عرب کا سفر مولانا بدر عالم سلفی حفظہ اللہ کرتے ہیں ۔آپ جب بھی مکہ مکرمہ آئے ، ملاقات ہوئی ، ادارے کی فلاح وبہبود کے سلسلے میں بھی گفتگو رہی ۔ آپ نے اصرار کیا کہ جب انڈیا آئیں توسلفیہ ضرور تشریف لائیں اور الحمدللہ کئی مرتبہ یہ سعادت حاصل ہوئی۔ان مواقع سے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ سے ایک دو طویل ملاقاتیں بھی رہیں ، ان میں جہاں آپ کے اخلاق کی بلندی ، خورد نوازی اور پدرانہ شفقت نے اپنا گرویدہ بنا لیا وہیں جماعت کی تاریخ ، عملی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور ملی سطح کی بہت سی ناہمواریوں کے سلسلے میں بہت کچھ سیکھنے کوملا۔
اگر میری یاد خطا نہ کررہی ہو تو آپ نے پہلی ملاقات میں اپنی کئی تحریریں اوراحمدیہ سلفیہ سے متعلق ایک دو کتابیں عنایت کیں ، ساتھ ہی ہمیشہ سلفیہ سےجڑے رہنے کا حکم بھی دیا ۔ اس ملاقات میں آپ نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے لیے اوکھلا میں واقع زمین کے حصول کی پوری داستان سنائی ۔ مجھے خوشی ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے موجودہ امیر نے اپنے آج کے مضمون میں اس سلسلے میں ڈاکٹرصاحب کی خدمت کا اجمالی تذکرہ کیا ہے ۔ ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب نے ملت کالج اور شفیع مسلم ہائی اسکول کی پوری تاریخ اور اس سلسلے کی دشواریوں سے آگاہ کیا اوراپنے استاذ ، بہار کے سابق گورنر ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی طرف سے کی گئی بے لوث مدد کو بطور خاص بیان کیا۔
آپ نے قومی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک اور پھر علاقائی سطح تک تحریک اہل حدیث کے نشیب وفراز پربصیرت افروز گفتگو کی ۔ دوسری جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ ہوئے اپنے میٹھے کڑوے تجربات میں بھی ہمیں شریک کیا اور ایک طرح سے بتایا کہ مسلکی وابستگی کے ساتھ ملی زندگی میں توازن کیسے پیدا کرنا ہے ۔ آپ کو اس کا غم تھا کہ دن بہ دن ملی وابستگی کمزور پڑ رہی ہے اور لوگ اپنے اپنے دائرے میں بند ہوتے جارہے ہیں ۔ ایک واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ ایک بڑے عالم دین دربھنگہ تشریف لائے ، ہم نے اپنی روایتوں کے تحت انہیں سلفیہ تشریف لانے کی دعوت دی لیکن انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا ، ہم نے انہیں یاد دلایا کہ آپ کے والد صاحب بھی جب دربھنگہ آتے تھے تو سلفیہ آتے تھے اور آپ کی جماعت کے اور بھی بڑے بڑے علماء سلفیہ آتے رہے ہیں ، اس سے ملی وابستگی مضبوط ہوتی ہے ۔
اس وقت جتنی تحریریں آپ نے مرحمت فرمائی ، انہیں بھی اور بعد میں جتنی تحریریں اخبارات کے توسط سےپہنچیں انہیں بھی ہم نےپڑھنے کی کوشش کی ۔ آپ اپنے عقیدہ و منہج میں کافی پختہ اور بے باک تھے ، ملی اتحاد کے قائل اور اس کے لیے کوشاں تھے لیکن اس معاملےمیں وہ بالکل واضح موقف رکھتے تھے کہ اتحاد واتفاق اسلامی بنیادوں پرہی ہوسکتا ہے یعنی توحید وسنت اورمنہج سلف کی پیروی سے ہی یہ لیلائے مراد مل سکتی ہے ۔ اس سلسلے کے ان کے مضامین خاصی اہمیت کے حامل ہیں ۔
پچھلے سفر میں ملاقات ہوئی تو آپ کی نقاہت زیادہ بڑھی ہوئی تھی ۔ ادارے کو لے کر ایک افسوسناک اور ناخوش گوار واقعہ بھی ہوگيا تھا ۔ خطبہ جمعہ کے بعد جب رہائش گاہ پر مولانا صدر عالم سلفی کے ساتھ آپ کے فرزند ڈاکٹر فیصل صاحب کی معیت میں ملاقات ہوئی تو ہر چند کہ آپ زیادہ باتیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے لیکن ادارے سے متعلق گفتگو کی اور اپنے اس پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ہم ادارے کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کوتیار ہیں ، ہم پیٹھ دکھانے والوںمیں سےنہيں ہیں ، ضرورت پڑی توسپریم کورٹ بھی جائيں گے لیکن ادارے کو زک نہیں پہنچنے دیں گے ۔اس عمر اور اس نقاہت میں وہ عزم واقعی قابل دید تھا !!
آپ نے اس سفر میں ایک بات پر بطور خاص زور دیا کہ جب کسی کی موت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی کوشش کرنی چاہیے ، یہ بات انہوں نے اس اندازمیں کہی جیسے وصیت کررہے ہوں کہ مرنے والے کا حق تو یہی ہے کہ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی جائے ۔ مجھے اس بات کا دلی افسوس ہے کہ یہ سطور میں مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر قلم بند کررہا ہوں اور مجھے یہ طاقت حاصل نہیں کہ نماز جنازہ میں شرکت کرسکوں ۔ میں نے اپنے اہل خانہ سمیت بستی والوں اور احباب و متعلقین کو ٹیلی فون کرکے گزارش کی ہے کہ جو لوگ بھی جنازے میں شریک ہوسکتے ہوں وہ ضرور شریک ہوں اور اب بھی یہ گزارش کررہا ہوں کہ قارئین میں سے جو لوگ جنازے میں شریک ہوسکتے ہوں وہ شریک ہوں اور ڈاکٹر صاحب کےلیے دعائے مغفرت کریں ۔
اللہ تعالی ڈاکٹر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ، بشری تقاضوں کے تحت ہوئی خطاؤں سے درگزر کرے، اہل خانہ سمیت پوری جماعت کو صبر جمیل عطا کرے اور ملت کو آپ کا نعم البدل عطا کرے ۔آمین۔