Wednesday, 13 September 2023

 انسانی رشتوں میں میاں بیوی کا رشتہ بے حد خاص رشتہ ہے ۔ دو اجنبی ایک شرعی عقد کے تحت ایک ایسے بندھن میں بندھ جاتے ہیں جس سے مضبوط بندھن کا تصور آسان نہیں ۔ خونی رشتوں کی کشش بہت فطری ہے لیکن اس ازدواجی رشتے میں بھی اللہ پاک نے غضب کی محبت اور سامان سکون رکھ دیا ہے ۔ یہ نسل انسانی کے بقا کے ساتھ ہی ذہنی وساوس سے نجات کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔ مسلم سماج شادی کو مشکل کرکے انتہائی خطرناک غلطی کر رہا ہے ، اہل خرد کو شادی کو آسان سے آسان تر کرنے کی کوشش لگاتار کرنی چاہیے ۔

میاں بیوی کے اس رشتے سے ہی بنیادی طور پر خاندان اور سماج کی تشکیل عمل میں آتی ہے ، اس لیے اسے صرف ایک فرد کے انفرادی خصوص کی بجائے سماجی ادارے کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے ۔ اس رشتے کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن و حدیث میں رشتوں کے معاملے میں جتنی تفصیل و تاکید اس رشتے کی آئی ہے اور کسی رشتے کی نہیں آئی ۔ اس رشتے کو مضبوط کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں اور ان عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے یہ رشتہ کمزور ہو سکتا ہے ۔ ٹوٹتے ٹوٹتے بھی اسے جوڑنے کی انتہائی حکیمانہ اور عملی کوششیں کی گئی ہیں ۔ اسلام کے نظام طلاق پر کبھی غور کی نظر ڈالیے تو سمجھ میں آ جائے گا کہ اسلام اس رشتے کو بچانے کے ہر ممکن طریقے کو کام میں لاتا ہے ۔
مرد سے کہا گیا ہے کہ وہ بیوی کی کسی بری خصلت کی وجہ سے اسے نہ چھوڑے کہ اگر اسے کوئی خصلت بری لگ سکتی ہے تو کوئی اور خصلت اچھی بھی لگ سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ بھلائی کے ساتھ بود و باش اختیار کرے ، اس کا خیال رکھے ، اس کی کمزوریوں کو سمجھے اور اس کے ساتھ ہمدردی کا معاملہ رکھے ۔ اسی لیے اسے بتا دیا گیا ہے کہ ایک خاتون میں بنیادی طور پر کیا نزاکت پائی جاتی ہے ۔ اسلام اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر اور خوب سے خوب تر رکھنا چاہتا ہے ۔ اسی لیے وہ طریقے اور آداب بھی سکھاتا ہے جن سے دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھتی ہے ۔ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کی تفصیلات اس سلسلے میں کتنی اچھی روشنی فراہم کرتی ہیں ۔
البتہ شیطان اگر سب سے زیادہ کسی رشتے کو زک پہنچانا چاہتا ہے تو وہ یہی رشتہ ہے ۔ وہ حدیث یاد ہوگی کہ شیطان اپنے سارے چیلوں کو بھیجتا ہے اور خوش اس سے ہوتا ہے جو میاں بیوی میں تفریق کرا کر آتا ہے ۔ جادو گر جادو کے ذریعہ یہی کوشش کرتا ہے کہ میاں بیوی کے بیچ تفریق ہو جائے ۔ يفرقون به بين المرء وزوجه.
شیطان کے مختلف حربوں میں ایک حربہ یہ بھی ہے کہ وہ بیوی کو شوہر کی نظر میں اور شوہر کو بیوی کی نظر میں بے حیثیت اور ناقابل التفات بنانے کی کوشش کرتا ہے ، ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کو بڑھا کر پیش کرتا ہے تاکہ رشتہ استوار نہ رہ سکے ۔
سمجھدار اور خوش بخت ہیں وہ میاں بیوی جو شیطان کی ان چالوں کو سمجھتے ہیں ، بیوی بلا وجہ طلاق و خلع کا مطالبہ نہیں کرتی کہ وعید کی زد میں نہ آ جائے اور شوہر بلا وجہ طلاق کی دھمکیاں نہیں دیتا ۔ دونوں ایک دوسرے کے حقوق سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں ۔ بیوی کو دیکھ کر شوہر کو خوشی ملتی ہے اور شوہر بیوی کی عزت و عصمت اور شخصیت کا محافظ بن کر اس کے سر کا تاج ہو جاتا ہے ۔
یاد رکھیے کہ سب سے زیادہ شیطان سے اسی رشتے کو بچانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسلام اس رشتے کی اہمیت ، ضرورت اور فضیلت کا قائل ہے ۔ مرد کے لیے یہ رشتہ اس کے کردار کی کسوٹی ہے اور عورت کے لیے سب کچھ ۔ اس لیے دونوں کو اس رشتے کے تقدس اور عظمت کا خیال رکھنا چاہیے ۔
ثناءاللہ صادق تیمی
All reactions:
Anzar Ahmad Sadique, Amanullah Sadique Taimi and 124 others

 عرب ملکوں میں ہندوستان کی شبیہ

ثناءاللہ صادق تیمی
عرب ملکوں سے ہندوستان کے تعلقات کافی قدیم ہیں ۔ پہلے بھی عرب تجار تجارت کے لیے ہندوستان کا دور ہ کرتے رہتے تھے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جب اسلام کی دولت سے عرب مالا مال ہوئے تو انہوں نے تجارت کے ساتھ اس نعمت اسلام کی تبلیغ کا مقصد بھی جوڑ لیا اور یوں صحابہ کرام کے زمانے سے ہی ہندوستان کی سرزمین اسلام سے روشناس ہوگئی ۔لگ بھگ پچیس صحابہ کرام ، بیالیس تابعین اور اٹھارہ تبع تابعین کے بارےمیں آتا ہے ان کے قدوم میمنت لزوم سے سرزمین ہند شرفیاب ہوئی ۔جاننے والی بات یہ بھی ہے کہ ہندوستان اور عرب ممالک ایک دوسرے کو ہمیشہ دوست کی حیثيت سے دیکھتے رہے ہیں اور دونوں کے یہاں ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت کےساتھ خصوصیات کا احترام و اعتراف پایا جاتا رہا ہے ۔
البیرونی نے ماللھند لکھ کر جہاں ہندوستان کی تہذیب و ثقافت ، مذہب ، بود و باش اور علوم و فنون سے اہل عرب کو متعارف کرایا اور اس موضوع پر ایک شاہکار کتاب پیش کی وہیں ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں بھی ہندوستان کے مفصل احوال لکھے ۔ان دونوں سے پہلے ابن المقفع نے سنسکرت سے پہلوی میں ترجمہ شدہ کلیلہ دمنہ کو عربی میں ڈھال کر اہل عرب کو ہندوستان کے فکر وفلسفہ سے متعارف کرایا ۔ ترجمہ اس خوبی سے کیا گيا کہ آج تک عربی زبان وادب کا شاہکار مانا جاتا ہے لیکن کتاب کی اہمیت اس کی کہانیوں میں موجود حکمتوں ، دانائیوں اور تمثیلوں کی وجہ سے بھی ہے ۔بعد کے ادوار میں جب ہندوستان میں مسلمانوں نے حکمرانی کی تو ایک پر ایک بڑے بڑے علماء ، محققین اور فضلاء ہوئے جنہوں نے عربی میں بڑی بڑی اور شاہکار علمی کتابیں تصنیف کیں اور اسلام کے ساتھ ہی بھارت کا نام روشن کیا ۔
جاننے والی بات یہ بھی ہے کہ عربوں کے یہاں ہندوستان سے ایک قسم کا خصوصی لگاؤ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ عرب ممالک میں ہندوستان کی جد وجہد آزادی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ اس زمانے میں عرب ممالک میں جو رہنما ، قلم کار اور سربراہان تھے وہ ہندوستان کی طرف بڑے شوق سےدیکھ رہے تھے ۔ مولاناابوالکلام آزاد نے جب 1905 کے آس پاس عرب ممالک کا دورہ کیا تو انہیں اس بات کا بطور خاص احساس ہوا کہ عرب رہنما اور دانشور طبقہ کس دلچسپی اور امید سے بھارت کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ بڑی اچھی بات یہ بھی رہی کہ آزادی کے بعد بھارت کی خارجہ پالیسی ناوابستگی کی رہی ،اس معاملے میں بھارت کو عرب ممالک بطور خاص مصر کی طرف سے جو ساتھ ملا وہ تاریخ کا روشن باب ہے ، مولانا آزاد کے مشورے سے بھارت نے ہمیشہ کوشش کی کہ عرب ممالک سے تعلقات اچھے اور مضبوط رہیں اور ہر چند کہ بھارت کو تقسیم کی مار جھیلنی پڑی اور اسلام کے نام پر ایک الگ ملک بنا ، اس کے باوجود بھارت کی خارجہ پالیسی اس سلسلے میں قابل تعریف رہی اور عرب ممالک سے بھارت کے تعلقات ہمیشہ ہی بہت اچھے رہے ۔ یہ تعلقات دن بہ دن تجارت ، اسٹریٹجک پارٹنرشپ اور دوسرے میدانوں میں پھیلتے ہوئے مضبوط ہوتے گئے ۔
عرب ممالک میں بالعموم بھارت کو عزت اور محبت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ گاندھی جی نہ صرف یہ کہ معروف ہیں بلکہ وہ اپنے اہنسا کے نظریے کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ عقاد جیسے بڑے ادیبوں نے گاندھی جی پر کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ سماجی اور سیاسی موضوعات پر گفتگو ہو تو گاندھی جی کے نظریے پر بات ہوتی ہے ۔ٹیگور کو ادبی حلقہ جانتا ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ خالص علمی دائرے میں دیکھیں تو عبدالعزیز میمنی ، ابوالحسن علی ندوی ، صفی الرحمن مبارک پوری اور ان جیسے دوسرے علماء معروف بھی ہیں اور ان کا نام احترام و عزت سے بھی لیاجاتا ہے ۔
تہذیب وثقافت اور ادب و فن کے حوالے سے بات ہو تو عرب ممالک میں ہندی سینما کا ذکر مجبوری بھی ہے اور ضروری بھی ۔یہاں کے لوگ ہندی فلموں کے توسط سے بھارت کی تہذیب و ثقافت اور بہت سی دوسری چيزوں سے واقفیت رکھتے ہیں ۔ انہیں بہت سے فلم اداکار اچھی طرح یاد ہیں اور وہ جب کسی ہندوستانی سے ملتے ہیں تو ان کا نام ضرور لیتے ہيں ۔
عرب ممالک میں بھارت کی عزت بڑھانے میں ایک بڑا کردار ان ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کا بھی ہے ۔ عرب ممالک میں ہندوستانی بھاری تعداد میں ہیں اور وہ مختلف سطحوں پر اپنے ملک اور تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ بالعموم بھارت کے لوگوں کے بارےمیں عربوں کی رائے مثبت ہے اور وہ انہيں محبت و قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی محنت اور ایمانداری کے ساتھ ہی ان کے یہاں ایڈجسٹمنٹ کی صلاحیت کے قائل نظر آتے ہیں ۔
عرب ممالک ہندوستان کو حسد یا کسی قسم کی عداوت کی نظر سے نہيں دیکھتے ۔ ان کا زاویہ بھارت کے سلسلے میں بہت ہی مثبت اور اعتراف کا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھارت کو بہت سارے معاملات میں اپنے لیے ایک انسپریشن کے طور پر بھی دیکھتے ہیں ۔بھارت نے اپنی غریبی اور بعض دوسرے بڑے مسائل کے باوجود میڈیکل ، آئی آئی ٹیز ، انجینیئرنگ ، نیوکلیئر پاوربننے اور چاند تک کمندیں ڈالنے میں جو کامیابی درج کی ہے وہ عربوں کی نظر میں قابل تعریف ہے ۔ ابھی جب چندریان 3 کامیابی سے چاند پر اترا تو عربوں کے بیچ خوشی کی کیفیت دیکھی گئی ، دانشوروں نے سراہا اور اہل قلم نے تحریریں لکھ کر بھارت کی اس حصولیابی کو سلام پیش کیا ۔
عرب ممالک سے بھارت کے تعلقات ہر زمانے میں اچھے رہے ہیں ۔ موجودہ وزیراعظم نریند مودی نے بھی اس سلسلے میں مثبت اقدامات کیے ہیں اور یہ تعلقات مزید اچھے ہی ہوئے ہیں ۔ عرب ممالک میں بھارت کی شبیہ ایک ایسے ملک کی ہے جو ساری چنوتیوں کے باوجود دن بہ دن آگے بڑھ رہا ہے جس پر اس کوسراہا جانا چاہیے لیکن ایک معاملہ ایسا ہے جس سے ان تمام خوبیوں پر پانی پھر سکتا ہے اور جس کی وجہ سے آئے دن بھارت کی شبیہ خراب ہوتی رہتی ہے ۔ یہ معاملہ بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم کا ہے ، مقدس مسلم شخصیات کی شان میں گستاخی کا ہے اور بے لگام لیڈروں کے الٹے سیدھے بیانات کا ہے ۔ اس طرف بھارت کو بطور خاص دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔

 دعيت بالبارحة من قبل بعض الإخوة لإلقاء محاضرة عن بعد حول الردة في النساء المسلمات: أسبابها و طرق التخلص منها، قبلت الدعوة و تحدثت حول الموضوع نظرا إلى شدة الحاجة إليه.

و كان التركيز على هذه المحاور الرئيسية:
١. نظرة الإسلام إلى الكون و مكانة المسلم فيها ، حقيقة الدنيا و أنها فانية بما فيها من الفرح و الترح ، خطورة النظرية المادية للحياة ، فضل الإيمان و أهله و أن المسلم لا يساويه مشرك و كافر بلغ ما بلغ من المناصب العليا في الدنيا و أن عبدا مؤمنا خير من مشرك و أمة مؤمنة خير من مشركة.
٢. تربية الأطفال على هذه الأسس المتينة و ترسيخ مبادئ الدين فيهم و تعليم الطفلة المسلمة دينها و عقيدتها و حضارتها. و هذا يكون أمتن حصن و أكبر قلعة من أن تذوب شخصياتهم في تقاليد المجتمع غير المسلم.
٣. السعي الدؤوب إلى تسهيل أمور النكاح في المجتمع المسلم و عدم التأخير فيه. فإن للعادات القبيحة و التقاليد الجاهلية المهلكة دورا مهما في ميلان المسلمات إلى غير المسلمين.
٤. للمرأة المسلمة دور عظيم في بناء الأسرة و عمارة البيت و تكوين مجتمع صالح عن طريق تربية الأطفال و لها مكانة عظيمة كريمة ، تشكر عليها و تكون عند الله مقبولة مرضية فلا تحتاج إلى أن تكون موظفة تسعى للحصول على القوت و إنما وكلت هذه الأمور إلى زوجها حتى تتفرع لمسؤوليتها البيتية.
٥. الاختلاط مع الأجانب يمهد الطريق إلى القربة و القربة تسبب الهيام و العشق و هذا ليست مشكلة الفئة المسلمة و إنما عانى منها الهنادك أيضا و ما زالوا يعانون منها. و الفتيات المسلمات لم يكن يخرجن إلى الجامعات و الشركات و المؤسسات الحكومية والخاصة إلا نادرا فما كانت لهم صلات مع غير المسلمين إلا نادرا. و الآن تغير الوضع فقد كثر الاختلاط و كثرت معه الصلات المحرمة.
٦. يجب على الوالدين مراقبة الأولاد والبنات و العناية بهم و عدم الغفلة عمن يسكنون معهم و يصاحبهم و يتخذونهم اصدقاء.
٧. يحتاج المسلمون إلى فتح جامعات و معاهد و كليات خاصة بهم ، لأن المرحلة العمرية التي يقضيها الولد والبنت في هذه المعاهد تكون من أخطرها ، تهاجم عليهم شياطين الإنس والجن من كل جانب و العواطف والمشاعر تكون حارة و الميلانات إلى الجنس الآخر شديدة ملحة.
٨. لا أحسب لنظرية المؤامرة كبير حساب و لكن المتطرفين من الهنادك و بمساعدة المسؤولين في الدفاتر الحكومية يمهدون الطريق لإيقاع الفتيات المسلمات في حبال أعدائنا الذين ينتهكون الحرمات و يفعلون ما يؤمرون من تعذيبهن و هجرهن بعد التلاعب بمشاعر و أبدانهن و طردهن من بيوتهم فلا بد للقائمين على مؤسسات اجتماعية أن ينظروا في المشكلة و يتخذوا القرار الحاسم تجاهها.
ثناء الله صادق التيمي

 ڈاکٹر سید عبد العزيز سلفی رحمہ اللہ: ایک پختہ فکر رہنما

ثناءاللہ صادق تیمی
انسان کو دنیا سے ایک دن رخصت ہونا ہے ۔ موت برحق ہے ، موت پر تکلیف کا ہونا بھی فطری ہے لیکن جب کسی ایسی شخصیت کی وفات ہو جس سے قوم وملت کا مفاد وابستہ رہا ہو تو تکلیف زیادہ شدید ہوتی ہے ۔ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کے ناظم اعلی ، نائب امیر مرکزی اہل حدیث ہند اور معروف صاحب قلم ڈاکٹر سید عبدالعزيز سلفی کی وفات بلا شبہ ایک ایسی ہی شخصیت کی وفات ہے ، آپ اپنی انفرادی اور اجتماعی ہر دو حیثيت میں قوم وملت اور جماعت و جمعیت کے لیے ایک اہم ترین مفید عنصر کی حیثيت رکھتے تھے ۔ انفرادی زندگی میں معالج کی حيثيت سے لوگوں کے کام آتے تھے اور اجتماعی زندگی میں احمدیہ سلفیہ سے لے کر جمعیت اہل حدیث اور دوسرے سماجی اداروں میں سرگرم حصہ داری نبھاتے تھے ۔
آپ کا تعلق ایک عظیم خانوادے سے تھا۔ مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی کی جس وراثت کو ان کے داداڈاکٹر فرید رحمہ اللہ نے سنبھالا اور آگے بڑھایا ، اس وراثت کو ان کے والد، عظیم ملی رہنما ، صاحب فکر ونظر قائد اور عملی و علمی شخصیت ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ نے وسعت و ترقی دی اور اس ادارے کو ایک مدینۃ العلم میں بدل دیا ، اسے ہی آپ نے سنبھالا اوراس کی حفاظت کی کامیاب کوشش کی ۔ اس میں بلا شبہ والد صاحب کی خصوصی تربیت کا بڑا کردار ہے ۔
آپ کی پہلے دینی تعلیم ہوئی ، احمدیہ سلفیہ سے فراغت حاصل کی اور پھر مسلمانان بر صغیر کی عظیم محسن دانش گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا اور یوں اپنے والد محترم کے ہر دو زاویے سے لائق وارث ٹھہرے کہ والد صاحب بھی عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معالج ڈاکٹر تھے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد احمدیہ سلفیہ کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر آئی اور آپ نےاس میں ہر طرح کھرا اترنے کی کوشش کی ۔ مکہ مکرمہ آنے کے بعد بہت سارے مواقع سے بہت سے بزرگوں اور دوستوں نے آپ کی سادگی ، ادارہ کے لیے تگ ودو اور اس سلسلے میں ہر طرح کی پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی آنکھوں دیکھی کیفیات بیان کیں اور ڈاکٹر صاحب کے لیے ہمارےدلوں میں ایک خاص قسم کی محبت بیٹھ گئی۔ویسے بھی آپ کے خانوادے کے سلسلے میں یہ بات نوٹ کی جائے گی کہ اس نے ادارہ یا جماعت کو کچھ دیا ہی ، اسے اپنے لیے فائدے کا سامان نہیں بنایا۔ بقول مولانا بدر عالم سلفی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی امارت سے جس محفل میں ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ الگ ہوئے اسی محفل میں جماعت کے معتبر عالم دین شیخ شمس الحق سلفی رحمہ اللہ نے تمام حاضرین کے سامنے یہ گواہی دی کہ ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی پر کم از کم یہ الزام تو نہیں رکھا جاسکتا کہ انہوں نے اپنی ذات پر جمعیت کا ایک آنہ خرچ کیا ہے ۔مجھے یہ لکھتے ہوئےواقعی خوشی ہورہی ہے کہ جن دنوں سلفیہ کو لے کر ایک افسوسناک واقعہ روشنی میں تھا ، انہیں دنوں سرکاری اہل کاروں سےبات کرتے ہوئے فریق مخالف کے ایک ذمہ دار فرد نے یہ بات کہی کہ سلفیہ کے ذمہ داران سے بد انتظامی (مس مینجمنٹ)کی غلطی ہوسکتی ہے لیکن ان پر کسی قسم کے غبن کا الزام نہیں رکھا جاسکتا۔
احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے ہمارے کان بچپن سے آشنا رہے ہیں ، بڑے بھیا عبداللہ صادق صاحب نے وہاں تعلیم حاصل کی ، گاؤں کے دالانوں میں بھی سلفیہ کا ذکر خیر ہوتا رہتا تھا، مدرسۃ العلوم الاسلامیہ مرول میں ہمارے کئی اساتذہ وہیں کے فارغ تھے اور اس کا ذکر خیر کرتے رہتے تھے لیکن اس ادارے کوجاننے کا موقع 2000 ء کے قریب جامعہ امام ابن تیمیہ کے زمانہ طالب علمی میں ملا۔ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ان کی حیات وخدمات پر الھدی کا خصوصی شمارہ شائع ہوا تھا ، اس میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ ہی ادارے کی پوری تاریخ ، شعبہ جات اور دوسرے اداروں کا ذکر آگيا تھا۔
جامعہ امام ابن تیمیہ سے فراغت کے بعد ڈاکٹر عبدالحلیم رحمہ اللہ سے رابطہ رہتا تھا ، میں نے اس کی تفصیل ان پر لکھے اپنے ایک مضمون میں دی ہے۔
ڈاکٹر سید عبدالعزیز سلفی رحمہ اللہ کو سب سے پہلے مذاکرہ علمیہ کے ایک پروگرام میں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا ۔ امیر امارت اہل حدیث ، صادق پور ، پٹنہ ، مولانا عبدالسمیع جعفری ندوی رحمہ اللہ ایک نشست کے صدر تھے اور ان کا وقت متعین کردیا گيا تھا ، جس کی انہیں تکلیف تھی ، وہ اپنی تقریر میں بار بار اپنے وقت کا حوالہ دے رہے تھے اور ادھر ڈاکٹر سید عبدالعزيز رحمہ اللہ ان سے یہ گزارش کررہے تھے کہ آپ اس پروگرام کے صدر ہیں اور صدر کا کوئی متعین وقت نہیں ہوتا ۔آپ اپنے حساب سے اپنی باتیں رکھیں ۔ ہم نے سب سے پہلے ان کی ایک جھلک اسی وقت دیکھی تھی ۔ یہ غالبا 2005 ء کی بات ہے ۔
اس طرف آکر احمدیہ سلفیہ کے لیے سعودی عرب کا سفر مولانا بدر عالم سلفی حفظہ اللہ کرتے ہیں ۔آپ جب بھی مکہ مکرمہ آئے ، ملاقات ہوئی ، ادارے کی فلاح وبہبود کے سلسلے میں بھی گفتگو رہی ۔ آپ نے اصرار کیا کہ جب انڈیا آئیں توسلفیہ ضرور تشریف لائیں اور الحمدللہ کئی مرتبہ یہ سعادت حاصل ہوئی۔ان مواقع سے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ سے ایک دو طویل ملاقاتیں بھی رہیں ، ان میں جہاں آپ کے اخلاق کی بلندی ، خورد نوازی اور پدرانہ شفقت نے اپنا گرویدہ بنا لیا وہیں جماعت کی تاریخ ، عملی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور ملی سطح کی بہت سی ناہمواریوں کے سلسلے میں بہت کچھ سیکھنے کوملا۔
اگر میری یاد خطا نہ کررہی ہو تو آپ نے پہلی ملاقات میں اپنی کئی تحریریں اوراحمدیہ سلفیہ سے متعلق ایک دو کتابیں عنایت کیں ، ساتھ ہی ہمیشہ سلفیہ سےجڑے رہنے کا حکم بھی دیا ۔ اس ملاقات میں آپ نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے لیے اوکھلا میں واقع زمین کے حصول کی پوری داستان سنائی ۔ مجھے خوشی ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے موجودہ امیر نے اپنے آج کے مضمون میں اس سلسلے میں ڈاکٹرصاحب کی خدمت کا اجمالی تذکرہ کیا ہے ۔ ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب نے ملت کالج اور شفیع مسلم ہائی اسکول کی پوری تاریخ اور اس سلسلے کی دشواریوں سے آگاہ کیا اوراپنے استاذ ، بہار کے سابق گورنر ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی طرف سے کی گئی بے لوث مدد کو بطور خاص بیان کیا۔
آپ نے قومی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک اور پھر علاقائی سطح تک تحریک اہل حدیث کے نشیب وفراز پربصیرت افروز گفتگو کی ۔ دوسری جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ ہوئے اپنے میٹھے کڑوے تجربات میں بھی ہمیں شریک کیا اور ایک طرح سے بتایا کہ مسلکی وابستگی کے ساتھ ملی زندگی میں توازن کیسے پیدا کرنا ہے ۔ آپ کو اس کا غم تھا کہ دن بہ دن ملی وابستگی کمزور پڑ رہی ہے اور لوگ اپنے اپنے دائرے میں بند ہوتے جارہے ہیں ۔ ایک واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ ایک بڑے عالم دین دربھنگہ تشریف لائے ، ہم نے اپنی روایتوں کے تحت انہیں سلفیہ تشریف لانے کی دعوت دی لیکن انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا ، ہم نے انہیں یاد دلایا کہ آپ کے والد صاحب بھی جب دربھنگہ آتے تھے تو سلفیہ آتے تھے اور آپ کی جماعت کے اور بھی بڑے بڑے علماء سلفیہ آتے رہے ہیں ، اس سے ملی وابستگی مضبوط ہوتی ہے ۔
اس وقت جتنی تحریریں آپ نے مرحمت فرمائی ، انہیں بھی اور بعد میں جتنی تحریریں اخبارات کے توسط سےپہنچیں انہیں بھی ہم نےپڑھنے کی کوشش کی ۔ آپ اپنے عقیدہ و منہج میں کافی پختہ اور بے باک تھے ، ملی اتحاد کے قائل اور اس کے لیے کوشاں تھے لیکن اس معاملےمیں وہ بالکل واضح موقف رکھتے تھے کہ اتحاد واتفاق اسلامی بنیادوں پرہی ہوسکتا ہے یعنی توحید وسنت اورمنہج سلف کی پیروی سے ہی یہ لیلائے مراد مل سکتی ہے ۔ اس سلسلے کے ان کے مضامین خاصی اہمیت کے حامل ہیں ۔
پچھلے سفر میں ملاقات ہوئی تو آپ کی نقاہت زیادہ بڑھی ہوئی تھی ۔ ادارے کو لے کر ایک افسوسناک اور ناخوش گوار واقعہ بھی ہوگيا تھا ۔ خطبہ جمعہ کے بعد جب رہائش گاہ پر مولانا صدر عالم سلفی کے ساتھ آپ کے فرزند ڈاکٹر فیصل صاحب کی معیت میں ملاقات ہوئی تو ہر چند کہ آپ زیادہ باتیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے لیکن ادارے سے متعلق گفتگو کی اور اپنے اس پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ہم ادارے کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کوتیار ہیں ، ہم پیٹھ دکھانے والوںمیں سےنہيں ہیں ، ضرورت پڑی توسپریم کورٹ بھی جائيں گے لیکن ادارے کو زک نہیں پہنچنے دیں گے ۔اس عمر اور اس نقاہت میں وہ عزم واقعی قابل دید تھا !!
آپ نے اس سفر میں ایک بات پر بطور خاص زور دیا کہ جب کسی کی موت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی کوشش کرنی چاہیے ، یہ بات انہوں نے اس اندازمیں کہی جیسے وصیت کررہے ہوں کہ مرنے والے کا حق تو یہی ہے کہ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی جائے ۔ مجھے اس بات کا دلی افسوس ہے کہ یہ سطور میں مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر قلم بند کررہا ہوں اور مجھے یہ طاقت حاصل نہیں کہ نماز جنازہ میں شرکت کرسکوں ۔ میں نے اپنے اہل خانہ سمیت بستی والوں اور احباب و متعلقین کو ٹیلی فون کرکے گزارش کی ہے کہ جو لوگ بھی جنازے میں شریک ہوسکتے ہوں وہ ضرور شریک ہوں اور اب بھی یہ گزارش کررہا ہوں کہ قارئین میں سے جو لوگ جنازے میں شریک ہوسکتے ہوں وہ شریک ہوں اور ڈاکٹر صاحب کےلیے دعائے مغفرت کریں ۔
اللہ تعالی ڈاکٹر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ، بشری تقاضوں کے تحت ہوئی خطاؤں سے درگزر کرے، اہل خانہ سمیت پوری جماعت کو صبر جمیل عطا کرے اور ملت کو آپ کا نعم البدل عطا کرے ۔آمین۔

Wednesday, 11 May 2022

 من له إلمام بالتاريخ الهندي يعرف جيدا أن الإنكليز لما خافوا على حكومتهم مالوا إلى إثارة الفتن المختلفة بين سكان البلاد من الهندوسين و المسلمين و كانت على رأسها فتنة الهجوم على الأديان و خلق جو حار لعقد اجتماعات تسهم في زيادة الفرقة و الكراهية فيما بين الناس و كان الهجوم ضد الإسلام و المسلمين سافرا قويا و من كل جانب. فكان هناك مبشرون نصارى يهاجمون مدعومين من حكومتهم و هنادك ينشرون السموم و فرق حديثة داخلية تعمل لصالح العدو و هز كيان المجتمع المسلم. و اضطر المسلمون إلى مواجهة هذه التحديات و العداوات فقاموا بها أحسن قيام ، دافعوا عن دينهم و بينوا للناس ضعف استدلال العدو و في نفس الوقت كشفوا عن أديانهم و ما فيها من تناقضات و أوهام و بذلك تمكنوا من إرجاع خناجر العدو إلى حناجرهم و تقديم صورة الإسلام في حقيقتها المنورة و استفاد من هذه الجهود الشعب المسلم فاعتزوا بدينهم و ازداد إيمانهم به.

و كأننا في هذه الأيام نمشي إلى الورى فالقوة السياسية التي تهيمن على البلاد ميالة إلى إثارة الفتن من جديد فلا يمر يوم إلا و هناك هجوم سافر على كل ما يمت إلى الإسلام بصلة و هناك رجال الدين الهندوسي و رجال السياسة على شاشات التلفزيون يبثون الكراهية ضد الإسلام و المسلمين و يهجمون على دين الله المختار بتهم قديمة زائفة و لكن بلغة جديدة و أسلوب جديد و لأن الحكومة تؤيدهم و تتعاون معهم فإن الهجوم قوي و بدون احتشام . يستخدم العدو ما في وسعه من كذب و افتراء و تقليب للحقائق و لكن الساحة خالية من علماء و مفكرين مسلمين يتصدون لهذا الهجوم و يردون عليه و يقومون بالمقاومة و يكشفون ما في دين العدو من أباطيل و هذا أمر يبعث على القلق و الالم الشديدين.
العدو في ميدان يهاجم بما يستطيع به من مشاركة في مواقع التواصل الاجتماعي و التلفزيون و طبع كتب قديمة بأسلوب و ثوب جديد و تعليم الجيل الناشئ الجديد و نحن في معزل ليس لنا نصيب لا في الرد و لا في الهجوم.
و هذا أمر غريب و كأن العلماء أصيبوا بمركب النقص أو أنهم لا يدركون خطورة هذه الظاهرة التي من شأنها القضاء على قوة المسلمين الفكرية الدينية و زلزلة عقائد الشعب المسلم و التي يمكن أن تجرفهم إلى الارتداد و اللادينية و مقاومة هذه الظاهرة ليست صعبة ولكنها تتطلب قوة إيمانية و جهودا جبارة و حكمة بالغة و في جهود أسلافنا أمام هذه المحاولات الهجومية شئ كثير للرد و إرجاع الأمور إلى نصابها و لكننا نحتاج إلى إخراجه في ثوب جديد و تقديمه في لغة جديدة بأسلوب جديد كما نحتاج إلى تعليم الجيل الجديد و إعداده لمقاومة هذه الظاهرة بطرق مختلفة و وسائل عديدة متوفرة و هذه الجهود يمكن أن لا تقنع العدو و لكنها ستحافظ على الشعب المسلم و تمنعه من الجريان خلف التهم الزائفة و تزيد من اعتزازهم بالدين و على الأقل للحصول على هذا الهدف السامي يتحتم علينا أن نشعر بواجبنا و نقاوم هذه المحاولات العدائية الهدامة.
ثناء الله صادق التيمي

Monday, 5 July 2021

 

سوشل میڈیا پر فیڈ بیک کی سہولت : اخلاقیات اور تقاضے

ثناءاللہ صادق تیمی

ماس میڈیا میں فیڈ بیک کا مسئلہ بنا رہتا ہے ۔ ایک اخبار میں چھپنے والے ایک مضمون پر کبھی کوئی ایک تبصرہ چھپ گيا تو چھپ گیا ورنہ وہ بھی نہیں، جب کہ ایک اخبار کے قاری کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے ۔سوشل میڈیا کے ظہور کے بعد فیڈ بیک کی سہولت بڑھ گئی ،ایسا مانا جاتا رہا ہے اور اس میں ایک حد تک سچائی بھی ہے لیکن یہ مکمل سچائی نہیں ۔ تبصرہ مختلف مقاصد  کے تحت کیا جاسکتا ہے ۔ پچھلے دنوں ہماری ایک صاحب سے بات ہورہی تھی ، ہم نے انہیں بتایا کہ فلاں صاحب ما شاءاللہ آج کل ان کی تحریروں پر بڑے مثبت اور طویل کمنٹ لکھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا : ثناءاللہ بابو ، آج کل انہیں ایک نہایت ضروری کام کے لیے میری ضرورت ہے ۔ یہ سارے کمنٹس در اصل اسی ضرورت کی تکمیل کے لیے کیے جارہے ہیں ۔

یوں دیکھیے تو  فیڈ بیک بہت گمراہ کن بھی ہوسکتا ہے ۔ لوگ باگ زيادہ تر  اپنے تعلقات ، تعصبات اور انسلاکات کے پیش نظر ہی کمنٹ کرتے ہیں ۔ ایک بڑے ذی علم اور صاحب تحقیق بزرگ نے ایک روز باتوں باتوں میں کہا : میں تو ان کی فلاں تحریرپر  کمنٹ کرتا ، لیکن وہ ناراض ہوجاتے ، سو چھوڑدیا !!!

جب کہ سچ پوچھیے تو  تحریر ہی کی طرح کمنٹ یا تبصرہ بھی دراصل  ایک بڑی امانت ہے ۔ ایک بڑی ذمہ داری ہے ۔ بعض لوگوں کے مختصر مگر جامع تبصرے بعض اوقات صاحبان تحریرسے بھی وقیع ہوتے ہیں اور زیر بحث موضوع کے کئی گوشے روشن ہوجاتے ہیں لیکن اگر تبصرہ یا کمنٹ کا مطلب صرف دوستی نبھانا ہو تو آپ نے کچھ بھی لکھا ہو" زبردست ، ماشاءاللہ ، کیابات ہے "کی برسات ہوجائے گی اور بس ! کچھ کم نصیبوں کو دوستی کا بس یہی مفہوم  معلوم ہے کہ اپنے منسلکین کی چھوٹی چيزوں کو بڑی بناکر پیش کرو اور یوں باہم تعلقات مضبوط رکھو لیکن اس چکر میں خود یہ کم نصیب اصحاب دانش وبینش کے یہاں بے اعتبار ہوجاتے ہیں اس کی انہیں خبر نہیں ہوتی جب کہ کچھ  کم ظرفوں کو یہ لگتا ہے کہ تبصرہ اور تنقید کے نام پر گالی بکنا ان کا حق ہے ، ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں سے دنیا اس لیے بھاگتی ہے کہ ان کے شر سے بچاجا سکے اور یہ شرار الناس خود کو تیس مار خاں سمجھنے لگتے ہیں !!!

کمال تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا میں فیڈ بیک کی دستیاب سہولت کے باوجود زيادہ تر لوگ خاموش قاری کی ہی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کا اندازہ آپ کو تب ہوتا ہے جب کبھی اتفاق سے  آپ سے کوئی غلطی  ہوجائے دیکھیے کیسے کیسے  لوگ" اصلاح " کے لیے آگے آتے ہیں ۔ اس وقت آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اچھا میرے فرینڈ لسٹ میں آن جناب بھی موجود ہیں ۔ وہ صرف موجود نہیں ہیں ، آپ کو پڑھ بھی رہے ہیں لیکن لائک ، کمنٹ کی زحمت نہيں کرتے ۔بعض اوقات ایسے لوگوں سے جب ملاقات ہو تو وہ آپ کی تحریروں کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور آپ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ جناب والا نے تو کبھی ایک لائک سے بھی نہیں نوازا تھا ۔ یوں غور کیجیے تو فیڈ بیک کی سہولت کے باوجود اس کا استعمال لے دےکر دوچار فیصد لوگ ہی کرتے ہیں ۔

لائک او ر کمنٹ کے معاملے میں ہم نے جب اپنے ایک ذی علم دوست سے اپنا طرز عمل شیئر کیا تو وہ حیران رہ گئے ۔ میں نے انہیں بتایا کہ اگر تحریر ہر طرح سے میرے فکرونظر کے مطابق ہو تو میں لائک کرتا ہوں ،اگر تحریر زيادہ پسند آئی تو  کچھ تعریفی کلمات وغیرہ بھی لکھتا ہوں ، اگرمیرے حساب سے  تحریر میں کوئی خامی ہو فکرو نظر کی یا زبان و بیان کی تو میں لائک نہیں کرتا۔ایسی صورت میں میں بالعموم انباکس کرکےصاحب تحریر کو مطلع کرتا ہوں اور اگر ان پر گہرا اعتماد ہوتو کمنٹ باکس میں بھی مہذب انداز میں اپنا موقف لکھ دیتا ہوں ۔بعض اوقات استفسار کی ضرورت ہوئی تو کال بھی کرلیتا ہوں یا زيادہ تر ایسی تحریروں پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے بچتا ہوں خاص طور سے تب جب تحریر میری دلچسپیوں کےموضوعات کو ٹچ نہ کررہی ہو ۔ ہمارے دوست کو اس حقیقت کے اظہار سے پہلے تک یہ لگ رہا تھا کہ ہم تک ان کی بہت سی  تحریریں پہنچتی ہی نہیں یا پھر ہم انہيں نظر انداز کردیتے ہیں ، پڑھتے نہیں ۔

اسی کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ فیڈ بیک کو قبول کرنے کا بھی ہے ۔ بڑے بڑے نام بھی اس معاملے میں عجیب وغریب واقع ہوئے ہيں ۔ کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کی وال پر آپ کو گالی دیں اور آپ انہيں دعائیں دیجیے ، ان کا شکریہ اداکیجیے ، ظاہر ہے کہ یہ ایسا مطالبہ ہے جسے کوئی بھی صاحب غیرت آدمی قبول نہیں کرے گا ، کچھ تو یوں برتاؤ کرتے ہیں جیسےوہ تحریر پڑھ کر احسان کرتے ہیں لیکن اس سے قطع نظر جو لوگ واقعی ایمانداری سے اور اصول وضوابط کو پیش نظر رکھ کر کمنٹ یا تبصرہ کرتے ہیں ، ان کے تبصرہ یا کمنٹ کو قبول کیا جانا چاہیے لیکن اس معاملے میں بالعموم لکھنے والوں کا رویہ بھی عجیب دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کے معاملے میں  ہمارے اور معروف صحافی شکیل حسن شمسی کےبیچ موقف کا اختلاف ہوا ۔ ہم نے انقلاب کے اداریے میں ان کی لکھی ہوئی باتوں کی کاٹ کی اور ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر موجود ان کی تحریروں پر کمنٹ کرکے حقیقت واضح کی ، بجائے اس کے کہ وہ اپنا موقف واضح کرتے انہوں نے یہ کیا کہ ہمارے کمنٹس ڈیلیٹ کردیے ، ہمیں بلاک کیا اور دوسرے دن کے اپنے اداریے میں یہ جھوٹ لکھا کہ سوشل میڈیا پر سوائے چند کے بقیہ سارے لوگ ان کے حامی تھے ۔ ہم نے دوسرے دن پھر تعاقب کیا اور لکھا کہ آخر یہ کس صحافت کی اخلاقیات میں سے ہے کہ آپ اپنے مخالف موقف کو ڈیلیٹ کردیجیے اور جو لوگ آپ کے حق میں لکھیں انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیجیے۔

ہمارے ایک دوست کارویہ یہ رہا  کہ انہیں اپنی تحریروں پر صرف تعریف چاہیے، کبھی کسی تحریر پر اگر کوئی ایسا تبصرہ ہوا جو ان کے مطابق نہیں تو سب سے پہلے تبصرہ ڈیلیٹ کرتے اور اس کے فورا بعد انباکس میں آکر محبتوں سے پوچھتے کہ حضور ، ایسی کیا بھول ہو گئی ؟ اب انہیں کون سمجھاتا کہ موقف میں اختلاف کا مطلب دوستی میں اختلاف نہیں ہوتا ۔ بالآخر تنگ آکر ہم نے حضور کی کسی بھی تحریر پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے خود کو روک لیا ۔

ان تفصیلات کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ لکھتے ہیں تو لکھتے رہیے ، لائک ، کمنٹ  کی قلت و کثرت سے مت گھبرائیے ،اپنا کام کرتے جائیے ۔ کوئی تبصرہ کسی خامی کی طرف اشارہ کرتا ہو تو دیکھ لیجیے کہ وہ خامی واقعی میں موجود ہے ، اگر ہے تو درست کرلیجیے ورنہ اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ ایسی کوئی خامی موجود نہیں ۔کوئی گالم گلوج کی زبان استعمال کرتا ہے یا  بقراطی دکھانے کےلیے آتا ہے توایسوں کے منہہ مت لگیے یا تو نظر انداز کیجیے یا پھر بلاک کرکے اپنی دنیا میں خوش رہیے ۔ ایسے بےہودوں کے چلے جانے سےسکون بڑھے گا ،کوئی نقصان نہيں ہوگا ۔در اصل ایسے لوگ اپنی غیر شریفانہ فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں ۔ آپ انہیں سدھار سکیں ، اس کے امکانات  نہ کے برابر ہوں گے ۔ اس لیے ایسوں کو بلاک کرکے اپنی دنیا میں اچھے لوگوں کے بیچ خوش رہنے کا راستہ کھلا رکھیے ۔

 

Sunday, 4 July 2021

 سماج کے غیر صالح عناصر کی بیخ کنی کے لیے صالح عناصر کا باہم منظم ہونا ضروری ہے

ثناءاللہ صادق تیمی
کسی بھی معاشرے میں اچھے اور برے دونوں لوگ ہوتے ہیں ۔ معاشرہ بھانت بھانت کے لوگوں سے مل کر ہی معاشرہ بنتا ہے ۔ عام طور سے ہم معاشرے میں برے لوگوں کی کثرت اور ان کی قوت کا رونا روتے ہیں لیکن معاشرے کے اچھے لوگوں کو جو کام کرنا چاہیے وہ کرتے نہیں ۔ یوں برے لوگوں کی معاشرے پر گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور معاشرے میں برائیوں کو پنپنے کا موقع مل جاتا ہے ۔
عام سے عام مسلمان بھی اس بات سے واقف ہے کہ یہ امت امت دعوت ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ کہیں کوئی برائی دیکھے تو اس پر نکیر کرے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح حدیث میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تم میں سےجو کوئی کوئی منکر دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدلے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اسے دل میں برا جانے ۔گویا اس امت کی یہ ما بہ الامتیاز چيز ہےکہ وہ برائی کے خاتمے کی کوشش کرے اور بھلائیوں کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے کہ برائیوں کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اچھے لوگ باہم منظم ہوں اور مل جل کر کام کریں ۔حلف الفضول جو مکے میں اس لیے بنایا گيا تھا کہ ظلم او ر ظالموں کے بالمقابل مظلوموں کا ساتھ دیا جائے اس میں نہ صرف یہ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے بلکہ نبوت کے بعد بھی اس کی افادیت کا اظہار کرتے رہے اور فرماتے رہے کہ اگر اب بھی اس قسم کے کسی گروہ کا مجھے حصہ بننے کا موقع ملے تو مجھے خوشی ہوگی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ برے لوگوں کے بالمقابل اچھے لوگوں کو منظم ہوکر کام کرنا چاہیے اور جب ایسا ہوگا تبھی برائیوں پر قابو پایا جاسکے گا ۔
سماجی زندگی میں یہ تنظیم اور بھی معنی رکھتی ہے ۔ دیکھا جاتا ہے کہ برے لوگ دنیاوی مفادات کے لیے بہ آسانی کسی کی بھی سربراہی قبول کرلیتے ہیں اور اس کی بات بھی مانتے ہیں جب کہ اچھے لوگ ایک تو کوئی تنظیم بناتے نہیں اور اگر بنابھی لیں تو سربراہی کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے اور سب کچھ ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتا ہے جب کہ اللہ سے اجر وثواب کی امید تو ایسی مضبوط ہونی چاہیے کہ وہ بقیہ تمام دوسرے جذبوں پر حاوی ہو۔
تعاونوا علی البر والتقوی(نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو) کو عملی شکل دینے سے ہی معاشرے سے غیر صالح عناصر کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔ یہ برے لوگ اتنے مضبوط نہیں ہوتے جتنا ہم اپنے بکھراؤ سے انہیں مضبوط بنادیتے ہیں ۔انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ہم ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اس لیے وہ زيادہ جری ہوجاتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ چاہ کر بھی ان کے خلاف کچھ کرنہیں پاتے ۔ اس کا علاج یقین جانیں کہ صرف جلسے اور دینی اجتماعات اور وعظ و نصیحت کی محفلیں نہیں ہیں ، لوگوں کی تذکیر اور اصلاح کی کوشش ہر سطح پر ہونی چاہیے اور یہ سارے کام منظم ڈھنگ سے ہوں تو محمود بھی ہیں اور ان کے نتائج بھی رونما ہوتے ہیں لیکن یہ ساری کوششیں اور زیادہ کارگر تب ہوں گیں جب ہم معاشرے کی سطح پر بھلائيوں کی تنفیذ کو زیادہ آسان بنادیں ، جب ہم برائيوں کے خاتمہ کو عزت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کریں ، جب ہم بھلائی کرنے والوں کو مضبوط اور برائی کرنے والوں کو کمزور دکھاسکیں اور یہ تب ہوگا جب ہم اس کے لیے منظم کوشش کریں گے۔ جب ہم اچھے لوگ مل کر کوئی پلیٹ فارم بنائیں اور باہم معاہدہ کریں کہ ہم مل کر بھلائی کو عام کریں گے اور سماج سے برائیوں کا قلع قمع کریں گے ۔
جاننے والی بات یہ بھی ہے کہ معاشرے میں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہوتی لیکن زیادہ تر لوگ انتظار میں رہتے ہیں ، ان کے اندر جذبہ ہوتا ہے لیکن اس جذبے کو مہمیز کی ضرورت ہوتی ہے ، اندر اندر بہت سے لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان برائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے کیوں کہ کئی سطحوں پر برائیوں کی زد سب پر پڑتی ہے لیکن آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرپاتے ۔ اگر آپ کو ان باتوں پر یقین نہیں آتا تو آپ اپنے معاشرے میں اس کا آغاز کرکے دیکھیے ۔ آپ جن لوگوں میں بھلائیوں کے آثار دیکھتے ہیں ان سے ملیے اور اس موضوع پر گفتگو کیجیے آپ دیکھیں گے کہ جیسے وہ آپ کے انتظار ہی میں تھے ۔ آپ برے لوگوں کی قوت سے گھبرانے کی بجائے اچھے لوگوں کی قوت اکٹھی کیجیے اور باہم مل کر آگے بڑھیے ۔ کئی لوگ شروع میں گھبرائیں گے لیکن پھر ان میں بھی جرات پیدا ہوجائے گی ۔ اس طرح سماجی برائیوں کا قلمع قمع کرنا آسان ہوجائے گا ۔ آپ شادی کے رسومات پر قدغن لگا سکیں گے ، بے جا اسراف پر کنٹرول کرسکیں گے ، آپ بے حیائی اور بے شرمی کے کاموں کو روک سکيں گے اور ایک اچھا سماج تشکیل دے سکیں گے ۔
اس میں اللہ کی مدد بھی شامل حال ہوگی ۔ اللہ آپ کی غیبی مدد کرے گا ۔ ارادہ مضبوط کیجیے اور اچھے لوگوں سے مل کر برائیوں کے خاتمے کے لیےکمر کس لیجیے ۔ رونے دھونے اور شکوہ شکایت کرنے سے تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی تب آئے گی جب ہم اس تبدیلی کے لیے محنت کریں گے ۔
آج ہی سے آپ ہی اس کا آغاز کیجیے ۔ بڑے لوگوں کے ساتھ ساتھ جوانوں اور بچوں کی بھی ایک تنظیم بنائیے ۔ مقاصد طے کیجیے اور انہیں ان کے حصول میں لگا دیجیے ۔ انہیں اہمیت دیجیے ، ہفتے مہینے میں میٹنگ کیجیے ، کام کا جائزہ لیجیے اور دیکھیے کہ کیسی تبدیلی رونما ہوئی ہے ؟ رفتہ رفتہ آگے بڑھیے پہلے نماز وغیرہ پر فوکس کیجیے ، پھر سماجی برائیوں کے خاتمے کی طرف بڑھیے اور پھر کوشش کیجیے کہ سماجی اقتدار بھی برے لوگوں کے ہاتھ سے نکل کر آپ اچھے لوگوں کے ہاتھ میں آسکے ۔
خواتین کو اپنے اس قافلے کا لازمی حصہ بنائیے ۔ ہر آدمی اپنے اپنے گھر کی خاتون کو اس عظیم کام کی اہمیت سمجھائے اور پھر سمجھدار اور پڑھی لکھی خواتین کو آگے بڑھا کر ان کی تنظیم قائم کردیجیے ۔ خواتین میں نیکی کا جذبہ بہت ہوتا ہے انہیں بھی بس تحریک کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آپ یہ کوششیں بجا لائیے اور پھر دیکھیے کہ چند ہی مہینوں میں سماج کی کیسی کایہ پلٹ ہوگئی ہے ۔
ہاں یہ حقیقت بھی یاد رکھیے کہ ہم میں سے ہر آدمی میں بھلائی اور برائی کے عناصر موجود ہیں ، اس لیے کسی بھی اسٹیج پر چین سے بیٹھ مت جائیے ، تذکیر و تزکیہ اور اصلاح و تلقین کا سلسلہ برابر جاری رکھیے ۔ ان شاءاللہ جب اس قسم کی کوششیں ہوں گیں تو برے لوگوں کے لیے سماج میں جگہ نہیں بچے گی اور وہ بھی مجبورا ہی سہی اچھائی اختیار کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔
اللہ ہمیں توفیق دے ۔ آمین