Wednesday, 13 September 2023

 دعيت بالبارحة من قبل بعض الإخوة لإلقاء محاضرة عن بعد حول الردة في النساء المسلمات: أسبابها و طرق التخلص منها، قبلت الدعوة و تحدثت حول الموضوع نظرا إلى شدة الحاجة إليه.

و كان التركيز على هذه المحاور الرئيسية:
١. نظرة الإسلام إلى الكون و مكانة المسلم فيها ، حقيقة الدنيا و أنها فانية بما فيها من الفرح و الترح ، خطورة النظرية المادية للحياة ، فضل الإيمان و أهله و أن المسلم لا يساويه مشرك و كافر بلغ ما بلغ من المناصب العليا في الدنيا و أن عبدا مؤمنا خير من مشرك و أمة مؤمنة خير من مشركة.
٢. تربية الأطفال على هذه الأسس المتينة و ترسيخ مبادئ الدين فيهم و تعليم الطفلة المسلمة دينها و عقيدتها و حضارتها. و هذا يكون أمتن حصن و أكبر قلعة من أن تذوب شخصياتهم في تقاليد المجتمع غير المسلم.
٣. السعي الدؤوب إلى تسهيل أمور النكاح في المجتمع المسلم و عدم التأخير فيه. فإن للعادات القبيحة و التقاليد الجاهلية المهلكة دورا مهما في ميلان المسلمات إلى غير المسلمين.
٤. للمرأة المسلمة دور عظيم في بناء الأسرة و عمارة البيت و تكوين مجتمع صالح عن طريق تربية الأطفال و لها مكانة عظيمة كريمة ، تشكر عليها و تكون عند الله مقبولة مرضية فلا تحتاج إلى أن تكون موظفة تسعى للحصول على القوت و إنما وكلت هذه الأمور إلى زوجها حتى تتفرع لمسؤوليتها البيتية.
٥. الاختلاط مع الأجانب يمهد الطريق إلى القربة و القربة تسبب الهيام و العشق و هذا ليست مشكلة الفئة المسلمة و إنما عانى منها الهنادك أيضا و ما زالوا يعانون منها. و الفتيات المسلمات لم يكن يخرجن إلى الجامعات و الشركات و المؤسسات الحكومية والخاصة إلا نادرا فما كانت لهم صلات مع غير المسلمين إلا نادرا. و الآن تغير الوضع فقد كثر الاختلاط و كثرت معه الصلات المحرمة.
٦. يجب على الوالدين مراقبة الأولاد والبنات و العناية بهم و عدم الغفلة عمن يسكنون معهم و يصاحبهم و يتخذونهم اصدقاء.
٧. يحتاج المسلمون إلى فتح جامعات و معاهد و كليات خاصة بهم ، لأن المرحلة العمرية التي يقضيها الولد والبنت في هذه المعاهد تكون من أخطرها ، تهاجم عليهم شياطين الإنس والجن من كل جانب و العواطف والمشاعر تكون حارة و الميلانات إلى الجنس الآخر شديدة ملحة.
٨. لا أحسب لنظرية المؤامرة كبير حساب و لكن المتطرفين من الهنادك و بمساعدة المسؤولين في الدفاتر الحكومية يمهدون الطريق لإيقاع الفتيات المسلمات في حبال أعدائنا الذين ينتهكون الحرمات و يفعلون ما يؤمرون من تعذيبهن و هجرهن بعد التلاعب بمشاعر و أبدانهن و طردهن من بيوتهم فلا بد للقائمين على مؤسسات اجتماعية أن ينظروا في المشكلة و يتخذوا القرار الحاسم تجاهها.
ثناء الله صادق التيمي

 ڈاکٹر سید عبد العزيز سلفی رحمہ اللہ: ایک پختہ فکر رہنما

ثناءاللہ صادق تیمی
انسان کو دنیا سے ایک دن رخصت ہونا ہے ۔ موت برحق ہے ، موت پر تکلیف کا ہونا بھی فطری ہے لیکن جب کسی ایسی شخصیت کی وفات ہو جس سے قوم وملت کا مفاد وابستہ رہا ہو تو تکلیف زیادہ شدید ہوتی ہے ۔ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کے ناظم اعلی ، نائب امیر مرکزی اہل حدیث ہند اور معروف صاحب قلم ڈاکٹر سید عبدالعزيز سلفی کی وفات بلا شبہ ایک ایسی ہی شخصیت کی وفات ہے ، آپ اپنی انفرادی اور اجتماعی ہر دو حیثيت میں قوم وملت اور جماعت و جمعیت کے لیے ایک اہم ترین مفید عنصر کی حیثيت رکھتے تھے ۔ انفرادی زندگی میں معالج کی حيثيت سے لوگوں کے کام آتے تھے اور اجتماعی زندگی میں احمدیہ سلفیہ سے لے کر جمعیت اہل حدیث اور دوسرے سماجی اداروں میں سرگرم حصہ داری نبھاتے تھے ۔
آپ کا تعلق ایک عظیم خانوادے سے تھا۔ مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی کی جس وراثت کو ان کے داداڈاکٹر فرید رحمہ اللہ نے سنبھالا اور آگے بڑھایا ، اس وراثت کو ان کے والد، عظیم ملی رہنما ، صاحب فکر ونظر قائد اور عملی و علمی شخصیت ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ نے وسعت و ترقی دی اور اس ادارے کو ایک مدینۃ العلم میں بدل دیا ، اسے ہی آپ نے سنبھالا اوراس کی حفاظت کی کامیاب کوشش کی ۔ اس میں بلا شبہ والد صاحب کی خصوصی تربیت کا بڑا کردار ہے ۔
آپ کی پہلے دینی تعلیم ہوئی ، احمدیہ سلفیہ سے فراغت حاصل کی اور پھر مسلمانان بر صغیر کی عظیم محسن دانش گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا اور یوں اپنے والد محترم کے ہر دو زاویے سے لائق وارث ٹھہرے کہ والد صاحب بھی عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معالج ڈاکٹر تھے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد احمدیہ سلفیہ کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر آئی اور آپ نےاس میں ہر طرح کھرا اترنے کی کوشش کی ۔ مکہ مکرمہ آنے کے بعد بہت سارے مواقع سے بہت سے بزرگوں اور دوستوں نے آپ کی سادگی ، ادارہ کے لیے تگ ودو اور اس سلسلے میں ہر طرح کی پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی آنکھوں دیکھی کیفیات بیان کیں اور ڈاکٹر صاحب کے لیے ہمارےدلوں میں ایک خاص قسم کی محبت بیٹھ گئی۔ویسے بھی آپ کے خانوادے کے سلسلے میں یہ بات نوٹ کی جائے گی کہ اس نے ادارہ یا جماعت کو کچھ دیا ہی ، اسے اپنے لیے فائدے کا سامان نہیں بنایا۔ بقول مولانا بدر عالم سلفی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی امارت سے جس محفل میں ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ الگ ہوئے اسی محفل میں جماعت کے معتبر عالم دین شیخ شمس الحق سلفی رحمہ اللہ نے تمام حاضرین کے سامنے یہ گواہی دی کہ ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی پر کم از کم یہ الزام تو نہیں رکھا جاسکتا کہ انہوں نے اپنی ذات پر جمعیت کا ایک آنہ خرچ کیا ہے ۔مجھے یہ لکھتے ہوئےواقعی خوشی ہورہی ہے کہ جن دنوں سلفیہ کو لے کر ایک افسوسناک واقعہ روشنی میں تھا ، انہیں دنوں سرکاری اہل کاروں سےبات کرتے ہوئے فریق مخالف کے ایک ذمہ دار فرد نے یہ بات کہی کہ سلفیہ کے ذمہ داران سے بد انتظامی (مس مینجمنٹ)کی غلطی ہوسکتی ہے لیکن ان پر کسی قسم کے غبن کا الزام نہیں رکھا جاسکتا۔
احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے ہمارے کان بچپن سے آشنا رہے ہیں ، بڑے بھیا عبداللہ صادق صاحب نے وہاں تعلیم حاصل کی ، گاؤں کے دالانوں میں بھی سلفیہ کا ذکر خیر ہوتا رہتا تھا، مدرسۃ العلوم الاسلامیہ مرول میں ہمارے کئی اساتذہ وہیں کے فارغ تھے اور اس کا ذکر خیر کرتے رہتے تھے لیکن اس ادارے کوجاننے کا موقع 2000 ء کے قریب جامعہ امام ابن تیمیہ کے زمانہ طالب علمی میں ملا۔ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ان کی حیات وخدمات پر الھدی کا خصوصی شمارہ شائع ہوا تھا ، اس میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ ہی ادارے کی پوری تاریخ ، شعبہ جات اور دوسرے اداروں کا ذکر آگيا تھا۔
جامعہ امام ابن تیمیہ سے فراغت کے بعد ڈاکٹر عبدالحلیم رحمہ اللہ سے رابطہ رہتا تھا ، میں نے اس کی تفصیل ان پر لکھے اپنے ایک مضمون میں دی ہے۔
ڈاکٹر سید عبدالعزیز سلفی رحمہ اللہ کو سب سے پہلے مذاکرہ علمیہ کے ایک پروگرام میں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا ۔ امیر امارت اہل حدیث ، صادق پور ، پٹنہ ، مولانا عبدالسمیع جعفری ندوی رحمہ اللہ ایک نشست کے صدر تھے اور ان کا وقت متعین کردیا گيا تھا ، جس کی انہیں تکلیف تھی ، وہ اپنی تقریر میں بار بار اپنے وقت کا حوالہ دے رہے تھے اور ادھر ڈاکٹر سید عبدالعزيز رحمہ اللہ ان سے یہ گزارش کررہے تھے کہ آپ اس پروگرام کے صدر ہیں اور صدر کا کوئی متعین وقت نہیں ہوتا ۔آپ اپنے حساب سے اپنی باتیں رکھیں ۔ ہم نے سب سے پہلے ان کی ایک جھلک اسی وقت دیکھی تھی ۔ یہ غالبا 2005 ء کی بات ہے ۔
اس طرف آکر احمدیہ سلفیہ کے لیے سعودی عرب کا سفر مولانا بدر عالم سلفی حفظہ اللہ کرتے ہیں ۔آپ جب بھی مکہ مکرمہ آئے ، ملاقات ہوئی ، ادارے کی فلاح وبہبود کے سلسلے میں بھی گفتگو رہی ۔ آپ نے اصرار کیا کہ جب انڈیا آئیں توسلفیہ ضرور تشریف لائیں اور الحمدللہ کئی مرتبہ یہ سعادت حاصل ہوئی۔ان مواقع سے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ سے ایک دو طویل ملاقاتیں بھی رہیں ، ان میں جہاں آپ کے اخلاق کی بلندی ، خورد نوازی اور پدرانہ شفقت نے اپنا گرویدہ بنا لیا وہیں جماعت کی تاریخ ، عملی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور ملی سطح کی بہت سی ناہمواریوں کے سلسلے میں بہت کچھ سیکھنے کوملا۔
اگر میری یاد خطا نہ کررہی ہو تو آپ نے پہلی ملاقات میں اپنی کئی تحریریں اوراحمدیہ سلفیہ سے متعلق ایک دو کتابیں عنایت کیں ، ساتھ ہی ہمیشہ سلفیہ سےجڑے رہنے کا حکم بھی دیا ۔ اس ملاقات میں آپ نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے لیے اوکھلا میں واقع زمین کے حصول کی پوری داستان سنائی ۔ مجھے خوشی ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے موجودہ امیر نے اپنے آج کے مضمون میں اس سلسلے میں ڈاکٹرصاحب کی خدمت کا اجمالی تذکرہ کیا ہے ۔ ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب نے ملت کالج اور شفیع مسلم ہائی اسکول کی پوری تاریخ اور اس سلسلے کی دشواریوں سے آگاہ کیا اوراپنے استاذ ، بہار کے سابق گورنر ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی طرف سے کی گئی بے لوث مدد کو بطور خاص بیان کیا۔
آپ نے قومی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک اور پھر علاقائی سطح تک تحریک اہل حدیث کے نشیب وفراز پربصیرت افروز گفتگو کی ۔ دوسری جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ ہوئے اپنے میٹھے کڑوے تجربات میں بھی ہمیں شریک کیا اور ایک طرح سے بتایا کہ مسلکی وابستگی کے ساتھ ملی زندگی میں توازن کیسے پیدا کرنا ہے ۔ آپ کو اس کا غم تھا کہ دن بہ دن ملی وابستگی کمزور پڑ رہی ہے اور لوگ اپنے اپنے دائرے میں بند ہوتے جارہے ہیں ۔ ایک واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ ایک بڑے عالم دین دربھنگہ تشریف لائے ، ہم نے اپنی روایتوں کے تحت انہیں سلفیہ تشریف لانے کی دعوت دی لیکن انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا ، ہم نے انہیں یاد دلایا کہ آپ کے والد صاحب بھی جب دربھنگہ آتے تھے تو سلفیہ آتے تھے اور آپ کی جماعت کے اور بھی بڑے بڑے علماء سلفیہ آتے رہے ہیں ، اس سے ملی وابستگی مضبوط ہوتی ہے ۔
اس وقت جتنی تحریریں آپ نے مرحمت فرمائی ، انہیں بھی اور بعد میں جتنی تحریریں اخبارات کے توسط سےپہنچیں انہیں بھی ہم نےپڑھنے کی کوشش کی ۔ آپ اپنے عقیدہ و منہج میں کافی پختہ اور بے باک تھے ، ملی اتحاد کے قائل اور اس کے لیے کوشاں تھے لیکن اس معاملےمیں وہ بالکل واضح موقف رکھتے تھے کہ اتحاد واتفاق اسلامی بنیادوں پرہی ہوسکتا ہے یعنی توحید وسنت اورمنہج سلف کی پیروی سے ہی یہ لیلائے مراد مل سکتی ہے ۔ اس سلسلے کے ان کے مضامین خاصی اہمیت کے حامل ہیں ۔
پچھلے سفر میں ملاقات ہوئی تو آپ کی نقاہت زیادہ بڑھی ہوئی تھی ۔ ادارے کو لے کر ایک افسوسناک اور ناخوش گوار واقعہ بھی ہوگيا تھا ۔ خطبہ جمعہ کے بعد جب رہائش گاہ پر مولانا صدر عالم سلفی کے ساتھ آپ کے فرزند ڈاکٹر فیصل صاحب کی معیت میں ملاقات ہوئی تو ہر چند کہ آپ زیادہ باتیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے لیکن ادارے سے متعلق گفتگو کی اور اپنے اس پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ہم ادارے کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کوتیار ہیں ، ہم پیٹھ دکھانے والوںمیں سےنہيں ہیں ، ضرورت پڑی توسپریم کورٹ بھی جائيں گے لیکن ادارے کو زک نہیں پہنچنے دیں گے ۔اس عمر اور اس نقاہت میں وہ عزم واقعی قابل دید تھا !!
آپ نے اس سفر میں ایک بات پر بطور خاص زور دیا کہ جب کسی کی موت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی کوشش کرنی چاہیے ، یہ بات انہوں نے اس اندازمیں کہی جیسے وصیت کررہے ہوں کہ مرنے والے کا حق تو یہی ہے کہ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی جائے ۔ مجھے اس بات کا دلی افسوس ہے کہ یہ سطور میں مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر قلم بند کررہا ہوں اور مجھے یہ طاقت حاصل نہیں کہ نماز جنازہ میں شرکت کرسکوں ۔ میں نے اپنے اہل خانہ سمیت بستی والوں اور احباب و متعلقین کو ٹیلی فون کرکے گزارش کی ہے کہ جو لوگ بھی جنازے میں شریک ہوسکتے ہوں وہ ضرور شریک ہوں اور اب بھی یہ گزارش کررہا ہوں کہ قارئین میں سے جو لوگ جنازے میں شریک ہوسکتے ہوں وہ شریک ہوں اور ڈاکٹر صاحب کےلیے دعائے مغفرت کریں ۔
اللہ تعالی ڈاکٹر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ، بشری تقاضوں کے تحت ہوئی خطاؤں سے درگزر کرے، اہل خانہ سمیت پوری جماعت کو صبر جمیل عطا کرے اور ملت کو آپ کا نعم البدل عطا کرے ۔آمین۔

Wednesday, 11 May 2022

 من له إلمام بالتاريخ الهندي يعرف جيدا أن الإنكليز لما خافوا على حكومتهم مالوا إلى إثارة الفتن المختلفة بين سكان البلاد من الهندوسين و المسلمين و كانت على رأسها فتنة الهجوم على الأديان و خلق جو حار لعقد اجتماعات تسهم في زيادة الفرقة و الكراهية فيما بين الناس و كان الهجوم ضد الإسلام و المسلمين سافرا قويا و من كل جانب. فكان هناك مبشرون نصارى يهاجمون مدعومين من حكومتهم و هنادك ينشرون السموم و فرق حديثة داخلية تعمل لصالح العدو و هز كيان المجتمع المسلم. و اضطر المسلمون إلى مواجهة هذه التحديات و العداوات فقاموا بها أحسن قيام ، دافعوا عن دينهم و بينوا للناس ضعف استدلال العدو و في نفس الوقت كشفوا عن أديانهم و ما فيها من تناقضات و أوهام و بذلك تمكنوا من إرجاع خناجر العدو إلى حناجرهم و تقديم صورة الإسلام في حقيقتها المنورة و استفاد من هذه الجهود الشعب المسلم فاعتزوا بدينهم و ازداد إيمانهم به.

و كأننا في هذه الأيام نمشي إلى الورى فالقوة السياسية التي تهيمن على البلاد ميالة إلى إثارة الفتن من جديد فلا يمر يوم إلا و هناك هجوم سافر على كل ما يمت إلى الإسلام بصلة و هناك رجال الدين الهندوسي و رجال السياسة على شاشات التلفزيون يبثون الكراهية ضد الإسلام و المسلمين و يهجمون على دين الله المختار بتهم قديمة زائفة و لكن بلغة جديدة و أسلوب جديد و لأن الحكومة تؤيدهم و تتعاون معهم فإن الهجوم قوي و بدون احتشام . يستخدم العدو ما في وسعه من كذب و افتراء و تقليب للحقائق و لكن الساحة خالية من علماء و مفكرين مسلمين يتصدون لهذا الهجوم و يردون عليه و يقومون بالمقاومة و يكشفون ما في دين العدو من أباطيل و هذا أمر يبعث على القلق و الالم الشديدين.
العدو في ميدان يهاجم بما يستطيع به من مشاركة في مواقع التواصل الاجتماعي و التلفزيون و طبع كتب قديمة بأسلوب و ثوب جديد و تعليم الجيل الناشئ الجديد و نحن في معزل ليس لنا نصيب لا في الرد و لا في الهجوم.
و هذا أمر غريب و كأن العلماء أصيبوا بمركب النقص أو أنهم لا يدركون خطورة هذه الظاهرة التي من شأنها القضاء على قوة المسلمين الفكرية الدينية و زلزلة عقائد الشعب المسلم و التي يمكن أن تجرفهم إلى الارتداد و اللادينية و مقاومة هذه الظاهرة ليست صعبة ولكنها تتطلب قوة إيمانية و جهودا جبارة و حكمة بالغة و في جهود أسلافنا أمام هذه المحاولات الهجومية شئ كثير للرد و إرجاع الأمور إلى نصابها و لكننا نحتاج إلى إخراجه في ثوب جديد و تقديمه في لغة جديدة بأسلوب جديد كما نحتاج إلى تعليم الجيل الجديد و إعداده لمقاومة هذه الظاهرة بطرق مختلفة و وسائل عديدة متوفرة و هذه الجهود يمكن أن لا تقنع العدو و لكنها ستحافظ على الشعب المسلم و تمنعه من الجريان خلف التهم الزائفة و تزيد من اعتزازهم بالدين و على الأقل للحصول على هذا الهدف السامي يتحتم علينا أن نشعر بواجبنا و نقاوم هذه المحاولات العدائية الهدامة.
ثناء الله صادق التيمي

Monday, 5 July 2021

 

سوشل میڈیا پر فیڈ بیک کی سہولت : اخلاقیات اور تقاضے

ثناءاللہ صادق تیمی

ماس میڈیا میں فیڈ بیک کا مسئلہ بنا رہتا ہے ۔ ایک اخبار میں چھپنے والے ایک مضمون پر کبھی کوئی ایک تبصرہ چھپ گيا تو چھپ گیا ورنہ وہ بھی نہیں، جب کہ ایک اخبار کے قاری کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے ۔سوشل میڈیا کے ظہور کے بعد فیڈ بیک کی سہولت بڑھ گئی ،ایسا مانا جاتا رہا ہے اور اس میں ایک حد تک سچائی بھی ہے لیکن یہ مکمل سچائی نہیں ۔ تبصرہ مختلف مقاصد  کے تحت کیا جاسکتا ہے ۔ پچھلے دنوں ہماری ایک صاحب سے بات ہورہی تھی ، ہم نے انہیں بتایا کہ فلاں صاحب ما شاءاللہ آج کل ان کی تحریروں پر بڑے مثبت اور طویل کمنٹ لکھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا : ثناءاللہ بابو ، آج کل انہیں ایک نہایت ضروری کام کے لیے میری ضرورت ہے ۔ یہ سارے کمنٹس در اصل اسی ضرورت کی تکمیل کے لیے کیے جارہے ہیں ۔

یوں دیکھیے تو  فیڈ بیک بہت گمراہ کن بھی ہوسکتا ہے ۔ لوگ باگ زيادہ تر  اپنے تعلقات ، تعصبات اور انسلاکات کے پیش نظر ہی کمنٹ کرتے ہیں ۔ ایک بڑے ذی علم اور صاحب تحقیق بزرگ نے ایک روز باتوں باتوں میں کہا : میں تو ان کی فلاں تحریرپر  کمنٹ کرتا ، لیکن وہ ناراض ہوجاتے ، سو چھوڑدیا !!!

جب کہ سچ پوچھیے تو  تحریر ہی کی طرح کمنٹ یا تبصرہ بھی دراصل  ایک بڑی امانت ہے ۔ ایک بڑی ذمہ داری ہے ۔ بعض لوگوں کے مختصر مگر جامع تبصرے بعض اوقات صاحبان تحریرسے بھی وقیع ہوتے ہیں اور زیر بحث موضوع کے کئی گوشے روشن ہوجاتے ہیں لیکن اگر تبصرہ یا کمنٹ کا مطلب صرف دوستی نبھانا ہو تو آپ نے کچھ بھی لکھا ہو" زبردست ، ماشاءاللہ ، کیابات ہے "کی برسات ہوجائے گی اور بس ! کچھ کم نصیبوں کو دوستی کا بس یہی مفہوم  معلوم ہے کہ اپنے منسلکین کی چھوٹی چيزوں کو بڑی بناکر پیش کرو اور یوں باہم تعلقات مضبوط رکھو لیکن اس چکر میں خود یہ کم نصیب اصحاب دانش وبینش کے یہاں بے اعتبار ہوجاتے ہیں اس کی انہیں خبر نہیں ہوتی جب کہ کچھ  کم ظرفوں کو یہ لگتا ہے کہ تبصرہ اور تنقید کے نام پر گالی بکنا ان کا حق ہے ، ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں سے دنیا اس لیے بھاگتی ہے کہ ان کے شر سے بچاجا سکے اور یہ شرار الناس خود کو تیس مار خاں سمجھنے لگتے ہیں !!!

کمال تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا میں فیڈ بیک کی دستیاب سہولت کے باوجود زيادہ تر لوگ خاموش قاری کی ہی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کا اندازہ آپ کو تب ہوتا ہے جب کبھی اتفاق سے  آپ سے کوئی غلطی  ہوجائے دیکھیے کیسے کیسے  لوگ" اصلاح " کے لیے آگے آتے ہیں ۔ اس وقت آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اچھا میرے فرینڈ لسٹ میں آن جناب بھی موجود ہیں ۔ وہ صرف موجود نہیں ہیں ، آپ کو پڑھ بھی رہے ہیں لیکن لائک ، کمنٹ کی زحمت نہيں کرتے ۔بعض اوقات ایسے لوگوں سے جب ملاقات ہو تو وہ آپ کی تحریروں کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور آپ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ جناب والا نے تو کبھی ایک لائک سے بھی نہیں نوازا تھا ۔ یوں غور کیجیے تو فیڈ بیک کی سہولت کے باوجود اس کا استعمال لے دےکر دوچار فیصد لوگ ہی کرتے ہیں ۔

لائک او ر کمنٹ کے معاملے میں ہم نے جب اپنے ایک ذی علم دوست سے اپنا طرز عمل شیئر کیا تو وہ حیران رہ گئے ۔ میں نے انہیں بتایا کہ اگر تحریر ہر طرح سے میرے فکرونظر کے مطابق ہو تو میں لائک کرتا ہوں ،اگر تحریر زيادہ پسند آئی تو  کچھ تعریفی کلمات وغیرہ بھی لکھتا ہوں ، اگرمیرے حساب سے  تحریر میں کوئی خامی ہو فکرو نظر کی یا زبان و بیان کی تو میں لائک نہیں کرتا۔ایسی صورت میں میں بالعموم انباکس کرکےصاحب تحریر کو مطلع کرتا ہوں اور اگر ان پر گہرا اعتماد ہوتو کمنٹ باکس میں بھی مہذب انداز میں اپنا موقف لکھ دیتا ہوں ۔بعض اوقات استفسار کی ضرورت ہوئی تو کال بھی کرلیتا ہوں یا زيادہ تر ایسی تحریروں پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے بچتا ہوں خاص طور سے تب جب تحریر میری دلچسپیوں کےموضوعات کو ٹچ نہ کررہی ہو ۔ ہمارے دوست کو اس حقیقت کے اظہار سے پہلے تک یہ لگ رہا تھا کہ ہم تک ان کی بہت سی  تحریریں پہنچتی ہی نہیں یا پھر ہم انہيں نظر انداز کردیتے ہیں ، پڑھتے نہیں ۔

اسی کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ فیڈ بیک کو قبول کرنے کا بھی ہے ۔ بڑے بڑے نام بھی اس معاملے میں عجیب وغریب واقع ہوئے ہيں ۔ کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کی وال پر آپ کو گالی دیں اور آپ انہيں دعائیں دیجیے ، ان کا شکریہ اداکیجیے ، ظاہر ہے کہ یہ ایسا مطالبہ ہے جسے کوئی بھی صاحب غیرت آدمی قبول نہیں کرے گا ، کچھ تو یوں برتاؤ کرتے ہیں جیسےوہ تحریر پڑھ کر احسان کرتے ہیں لیکن اس سے قطع نظر جو لوگ واقعی ایمانداری سے اور اصول وضوابط کو پیش نظر رکھ کر کمنٹ یا تبصرہ کرتے ہیں ، ان کے تبصرہ یا کمنٹ کو قبول کیا جانا چاہیے لیکن اس معاملے میں بالعموم لکھنے والوں کا رویہ بھی عجیب دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کے معاملے میں  ہمارے اور معروف صحافی شکیل حسن شمسی کےبیچ موقف کا اختلاف ہوا ۔ ہم نے انقلاب کے اداریے میں ان کی لکھی ہوئی باتوں کی کاٹ کی اور ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر موجود ان کی تحریروں پر کمنٹ کرکے حقیقت واضح کی ، بجائے اس کے کہ وہ اپنا موقف واضح کرتے انہوں نے یہ کیا کہ ہمارے کمنٹس ڈیلیٹ کردیے ، ہمیں بلاک کیا اور دوسرے دن کے اپنے اداریے میں یہ جھوٹ لکھا کہ سوشل میڈیا پر سوائے چند کے بقیہ سارے لوگ ان کے حامی تھے ۔ ہم نے دوسرے دن پھر تعاقب کیا اور لکھا کہ آخر یہ کس صحافت کی اخلاقیات میں سے ہے کہ آپ اپنے مخالف موقف کو ڈیلیٹ کردیجیے اور جو لوگ آپ کے حق میں لکھیں انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیجیے۔

ہمارے ایک دوست کارویہ یہ رہا  کہ انہیں اپنی تحریروں پر صرف تعریف چاہیے، کبھی کسی تحریر پر اگر کوئی ایسا تبصرہ ہوا جو ان کے مطابق نہیں تو سب سے پہلے تبصرہ ڈیلیٹ کرتے اور اس کے فورا بعد انباکس میں آکر محبتوں سے پوچھتے کہ حضور ، ایسی کیا بھول ہو گئی ؟ اب انہیں کون سمجھاتا کہ موقف میں اختلاف کا مطلب دوستی میں اختلاف نہیں ہوتا ۔ بالآخر تنگ آکر ہم نے حضور کی کسی بھی تحریر پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے خود کو روک لیا ۔

ان تفصیلات کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ لکھتے ہیں تو لکھتے رہیے ، لائک ، کمنٹ  کی قلت و کثرت سے مت گھبرائیے ،اپنا کام کرتے جائیے ۔ کوئی تبصرہ کسی خامی کی طرف اشارہ کرتا ہو تو دیکھ لیجیے کہ وہ خامی واقعی میں موجود ہے ، اگر ہے تو درست کرلیجیے ورنہ اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ ایسی کوئی خامی موجود نہیں ۔کوئی گالم گلوج کی زبان استعمال کرتا ہے یا  بقراطی دکھانے کےلیے آتا ہے توایسوں کے منہہ مت لگیے یا تو نظر انداز کیجیے یا پھر بلاک کرکے اپنی دنیا میں خوش رہیے ۔ ایسے بےہودوں کے چلے جانے سےسکون بڑھے گا ،کوئی نقصان نہيں ہوگا ۔در اصل ایسے لوگ اپنی غیر شریفانہ فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں ۔ آپ انہیں سدھار سکیں ، اس کے امکانات  نہ کے برابر ہوں گے ۔ اس لیے ایسوں کو بلاک کرکے اپنی دنیا میں اچھے لوگوں کے بیچ خوش رہنے کا راستہ کھلا رکھیے ۔

 

Sunday, 4 July 2021

 سماج کے غیر صالح عناصر کی بیخ کنی کے لیے صالح عناصر کا باہم منظم ہونا ضروری ہے

ثناءاللہ صادق تیمی
کسی بھی معاشرے میں اچھے اور برے دونوں لوگ ہوتے ہیں ۔ معاشرہ بھانت بھانت کے لوگوں سے مل کر ہی معاشرہ بنتا ہے ۔ عام طور سے ہم معاشرے میں برے لوگوں کی کثرت اور ان کی قوت کا رونا روتے ہیں لیکن معاشرے کے اچھے لوگوں کو جو کام کرنا چاہیے وہ کرتے نہیں ۔ یوں برے لوگوں کی معاشرے پر گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور معاشرے میں برائیوں کو پنپنے کا موقع مل جاتا ہے ۔
عام سے عام مسلمان بھی اس بات سے واقف ہے کہ یہ امت امت دعوت ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ کہیں کوئی برائی دیکھے تو اس پر نکیر کرے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح حدیث میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تم میں سےجو کوئی کوئی منکر دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدلے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اسے دل میں برا جانے ۔گویا اس امت کی یہ ما بہ الامتیاز چيز ہےکہ وہ برائی کے خاتمے کی کوشش کرے اور بھلائیوں کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے کہ برائیوں کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اچھے لوگ باہم منظم ہوں اور مل جل کر کام کریں ۔حلف الفضول جو مکے میں اس لیے بنایا گيا تھا کہ ظلم او ر ظالموں کے بالمقابل مظلوموں کا ساتھ دیا جائے اس میں نہ صرف یہ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے بلکہ نبوت کے بعد بھی اس کی افادیت کا اظہار کرتے رہے اور فرماتے رہے کہ اگر اب بھی اس قسم کے کسی گروہ کا مجھے حصہ بننے کا موقع ملے تو مجھے خوشی ہوگی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ برے لوگوں کے بالمقابل اچھے لوگوں کو منظم ہوکر کام کرنا چاہیے اور جب ایسا ہوگا تبھی برائیوں پر قابو پایا جاسکے گا ۔
سماجی زندگی میں یہ تنظیم اور بھی معنی رکھتی ہے ۔ دیکھا جاتا ہے کہ برے لوگ دنیاوی مفادات کے لیے بہ آسانی کسی کی بھی سربراہی قبول کرلیتے ہیں اور اس کی بات بھی مانتے ہیں جب کہ اچھے لوگ ایک تو کوئی تنظیم بناتے نہیں اور اگر بنابھی لیں تو سربراہی کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے اور سب کچھ ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتا ہے جب کہ اللہ سے اجر وثواب کی امید تو ایسی مضبوط ہونی چاہیے کہ وہ بقیہ تمام دوسرے جذبوں پر حاوی ہو۔
تعاونوا علی البر والتقوی(نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو) کو عملی شکل دینے سے ہی معاشرے سے غیر صالح عناصر کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔ یہ برے لوگ اتنے مضبوط نہیں ہوتے جتنا ہم اپنے بکھراؤ سے انہیں مضبوط بنادیتے ہیں ۔انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ہم ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اس لیے وہ زيادہ جری ہوجاتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ چاہ کر بھی ان کے خلاف کچھ کرنہیں پاتے ۔ اس کا علاج یقین جانیں کہ صرف جلسے اور دینی اجتماعات اور وعظ و نصیحت کی محفلیں نہیں ہیں ، لوگوں کی تذکیر اور اصلاح کی کوشش ہر سطح پر ہونی چاہیے اور یہ سارے کام منظم ڈھنگ سے ہوں تو محمود بھی ہیں اور ان کے نتائج بھی رونما ہوتے ہیں لیکن یہ ساری کوششیں اور زیادہ کارگر تب ہوں گیں جب ہم معاشرے کی سطح پر بھلائيوں کی تنفیذ کو زیادہ آسان بنادیں ، جب ہم برائيوں کے خاتمہ کو عزت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کریں ، جب ہم بھلائی کرنے والوں کو مضبوط اور برائی کرنے والوں کو کمزور دکھاسکیں اور یہ تب ہوگا جب ہم اس کے لیے منظم کوشش کریں گے۔ جب ہم اچھے لوگ مل کر کوئی پلیٹ فارم بنائیں اور باہم معاہدہ کریں کہ ہم مل کر بھلائی کو عام کریں گے اور سماج سے برائیوں کا قلع قمع کریں گے ۔
جاننے والی بات یہ بھی ہے کہ معاشرے میں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہوتی لیکن زیادہ تر لوگ انتظار میں رہتے ہیں ، ان کے اندر جذبہ ہوتا ہے لیکن اس جذبے کو مہمیز کی ضرورت ہوتی ہے ، اندر اندر بہت سے لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان برائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے کیوں کہ کئی سطحوں پر برائیوں کی زد سب پر پڑتی ہے لیکن آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرپاتے ۔ اگر آپ کو ان باتوں پر یقین نہیں آتا تو آپ اپنے معاشرے میں اس کا آغاز کرکے دیکھیے ۔ آپ جن لوگوں میں بھلائیوں کے آثار دیکھتے ہیں ان سے ملیے اور اس موضوع پر گفتگو کیجیے آپ دیکھیں گے کہ جیسے وہ آپ کے انتظار ہی میں تھے ۔ آپ برے لوگوں کی قوت سے گھبرانے کی بجائے اچھے لوگوں کی قوت اکٹھی کیجیے اور باہم مل کر آگے بڑھیے ۔ کئی لوگ شروع میں گھبرائیں گے لیکن پھر ان میں بھی جرات پیدا ہوجائے گی ۔ اس طرح سماجی برائیوں کا قلمع قمع کرنا آسان ہوجائے گا ۔ آپ شادی کے رسومات پر قدغن لگا سکیں گے ، بے جا اسراف پر کنٹرول کرسکیں گے ، آپ بے حیائی اور بے شرمی کے کاموں کو روک سکيں گے اور ایک اچھا سماج تشکیل دے سکیں گے ۔
اس میں اللہ کی مدد بھی شامل حال ہوگی ۔ اللہ آپ کی غیبی مدد کرے گا ۔ ارادہ مضبوط کیجیے اور اچھے لوگوں سے مل کر برائیوں کے خاتمے کے لیےکمر کس لیجیے ۔ رونے دھونے اور شکوہ شکایت کرنے سے تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی تب آئے گی جب ہم اس تبدیلی کے لیے محنت کریں گے ۔
آج ہی سے آپ ہی اس کا آغاز کیجیے ۔ بڑے لوگوں کے ساتھ ساتھ جوانوں اور بچوں کی بھی ایک تنظیم بنائیے ۔ مقاصد طے کیجیے اور انہیں ان کے حصول میں لگا دیجیے ۔ انہیں اہمیت دیجیے ، ہفتے مہینے میں میٹنگ کیجیے ، کام کا جائزہ لیجیے اور دیکھیے کہ کیسی تبدیلی رونما ہوئی ہے ؟ رفتہ رفتہ آگے بڑھیے پہلے نماز وغیرہ پر فوکس کیجیے ، پھر سماجی برائیوں کے خاتمے کی طرف بڑھیے اور پھر کوشش کیجیے کہ سماجی اقتدار بھی برے لوگوں کے ہاتھ سے نکل کر آپ اچھے لوگوں کے ہاتھ میں آسکے ۔
خواتین کو اپنے اس قافلے کا لازمی حصہ بنائیے ۔ ہر آدمی اپنے اپنے گھر کی خاتون کو اس عظیم کام کی اہمیت سمجھائے اور پھر سمجھدار اور پڑھی لکھی خواتین کو آگے بڑھا کر ان کی تنظیم قائم کردیجیے ۔ خواتین میں نیکی کا جذبہ بہت ہوتا ہے انہیں بھی بس تحریک کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آپ یہ کوششیں بجا لائیے اور پھر دیکھیے کہ چند ہی مہینوں میں سماج کی کیسی کایہ پلٹ ہوگئی ہے ۔
ہاں یہ حقیقت بھی یاد رکھیے کہ ہم میں سے ہر آدمی میں بھلائی اور برائی کے عناصر موجود ہیں ، اس لیے کسی بھی اسٹیج پر چین سے بیٹھ مت جائیے ، تذکیر و تزکیہ اور اصلاح و تلقین کا سلسلہ برابر جاری رکھیے ۔ ان شاءاللہ جب اس قسم کی کوششیں ہوں گیں تو برے لوگوں کے لیے سماج میں جگہ نہیں بچے گی اور وہ بھی مجبورا ہی سہی اچھائی اختیار کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔
اللہ ہمیں توفیق دے ۔ آمین

Sunday, 12 May 2019


مسنگ پوائنٹ کیا ہے ؟
 ثناءاللہ صادق تیمی
ہمارے دوست بے نام خاں کا کمال یہ ہے کہ ان کے ذہن ودماغ میں ایک پر ایک سوال آتے رہتے ہیں اور وہ سوال کرتے بھی رہتے ہيں ۔ سوال ان کے ذہن میں آنے کا رہے تو کوئی مسئلہ نہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ سوال ان کے ذہن میں آتا ہے اور وہ میرا سر کھانے آجاتے ہیں ۔ ہاں جی مولانا صاحب ، یہ بتاؤ کہ جب اسلام اتنا واضح اور اچھا دین ہے تو مسلمانوں کی زندگی میں مسنگ پوائنٹ کہاں ہے ؟ آخر مسلمان کیوں بے حیثيت بنے ہوئے ہیں ؟ اسلام ان کی زندگی میں اسی اچھائی کے ساتھ کیوں نظر نہيں آتا ؟
میں نے کہنا چاہا کہ خان صاحب ، اگر تمہاری نظر میں حسن ہو تو اسلام مسلمانوں میں نظر آئے گا اب جب کہ تم کالے چشمے سے ہی دیکھوگے تو اچھائی بھی برائی ہی نظر آئے گی ۔ آئے گی یا نہیں ؟ بتاؤ ۔ خان صاحب نے قہقہ لگایا اور کہا : پرابلم تو یہی ہے کہ تم مولویت پر اتارو ہو جاتے ہو ، ارے بھائی ، میرا مطلب تھا کہ دیکھو اسلام میں سائل کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے ؟ یہ درست ہے ، یہ بھی ہے کہ اگر کوئی گھوڑے پر سوار ہو کر آئے پھربھی اسے دے دو ، یہ سب درست لیکن اسی اسلام میں کسب حلال کی فضیلت بھی تو بہت ہے ، اسی اسلام میں اپنے ہاتھ کی کمائی کو سب سے اچھی روزی بھی تو کہا گیا ہے ، اسی اسلام میں گداگری اور بھيک مانگنے کو ذلت سے بھی تو تعبیر کیا گيا ہے ، اسی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کو یہ عملی تعلیم بھی تو دی ہے کہ گھر کا سازوسامان بیچ کر ہی سہی لیکن حلال روزی کی تلاش کرو اور یہی اچھا راستہ ہے تو مجھے بتاؤ کہ تم مولوی لوگ جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت بتاتے ہو ، سائل کو جھڑکنے سے منع کرتے ہو تو وہیں خود بھیک مانگنے کی ذلت پر گفتگو کیوں نہیں کرتے ، پورے معاشرے میں یہ کیوں نہیں بتاتے کہ مانگنا بہت برا عمل ہے ۔
سنو ، دہشت گردی کے لیے اسلام میں جگہ نہیں ہے ، یہ فساد فی الارض ہے ، لیکن اسلام میں جہاد تو ہے ، اب تم مولوی لوگ دنیا کے ڈر ہی سے سہی جب دہشت گردی کی اتنی مذمت کرتے ہو ، چلو اچھا کرتے ہو لیکن یارو، کبھی جہاد کا جو صحیح اسلامی مفہوم ہے وہ تو بتاؤ ، یہ پتہ تو چلے کہ اسلام میں جہاد کیا ہے اور دہشت گردی کیا ہے ؟ نوجوان بے چارا کنفیوزن میں رہتا ہے ، کیا تم بتا پاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں اللہ کے کلمے کی بلندی کے لیے باضابطہ اسلامی حکمراں کے جھنڈے تلے دعوت و تبلیغ اور جزیہ و تحفظ کی پیش کش کے بعد جب ان لوگوں سے لڑائی ہوگی جو دعوت الی اللہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں تو جہاد ہوگا جس میں بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو نشانہ نہيں بنایا جائے گا ، عبادتگاہوں اور ان کے عبادت گزاروں کو نہیں چھیڑا جائے گا ، درخت نہيں جلائے جائیں گے ، کھیتیاں نہیں اجاڑی جائیں گی ، ایک مسلمان بھی کوئی معاہدہ کرلے گا تو اس معاہدے کو مانا جائے گا اور اس کے خلاف جو ہوگا وہ دہشت گردی ہوگی ، اب چاہے کرنے والا خود کش بمباری کرے یا کسی بازار ، چرچ ، مسجد ، مدرسہ ، اسکول ، گاؤں ، شہر کسی کو نشانہ بنائے اور معصوموں کا قتل کرے ۔ اس پورے معاملے میں مسنگ پوائنٹ کیا ہے ؟
دیکھو مولانا ، اسلام میں روحانیت ہےیا نہیں ہے ؟ اب یہ بتاؤ کہ اسلام کی روحانیت یہ ہے کہ تصوف کے سارے سلسلے طے کرو ، اللہ اور بندے کا فرق مٹادو ، من تو کی تفریق ختم ہو جائے ، مزاروں اور خانقاہوں کا ایسا سلسلہ بنادو جہاں دنیا سے کنارہ کشی ہی روحانیت کی معراج ہو یا پھر اسلامی روحانیت یہ ہے کہ دنیا کا حصہ رہ کر بھی دنیا کو خود پر حاوی نہ ہونے دو ، حلال کماؤ ، اللہ کی عبادت کرو ، حسب استطاعت عبادت و ریاضت اور تزکیہ نفس کی کوشش کرو ، توکل و قناعت سے کام لو اور درجہ احسان تک پہنچنے کی کوشش کرو ۔ مجھے بتاؤ کہ آخر جو لوگ متصوفانہ روحانیت کے خلاف ہیں وہ حقیقی روحانیت کی توضیح و تشریح کیوں نہيں کرتے ؟
مولانا صاحب ، مسنگ پوائنٹ ہے ، عصری تعلیم اور دینی تعلیم کے بیچ کھائ سی بنی ہوئی ہے ، یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا کہ اسلام میں علم کی تفریق درست نہیں ہے ، چلو مانا کہ درست نہیں ہے لیکن میرے مولانا دوست ، جتنے اسلامی تعلیم کے ادارے ہیں وہاں تو عملا یہ تفریق پائی جاتی ہے ، پائی جاتی ہے یا نہیں ؟ اب آپ کو یہ تو کوشش کرنی ہی پڑے گی کہ یہ تفریق عملا بھی ختم ہو ، مسنگ پوائنٹ کہاں ہے ، یہ تو آپ کو ڈھونڈنا ہی پڑے گا ، آپ نے جیسی تیسی لولی لنگڑی انگریزی پڑھادی اور سمجھا کہ آپ نے عصری علوم کا حق ادا کردیا تو آپ کی دانشمندی پر صرف قہقہ لگایا جاسکتا ہے ۔ مولانا صاحب ، معاشیات ، ماحولیات ، سماجیات ، فلکیات ، ریاضیات وغیرہ کی گتھیاں انگریزی سے نہیں سلجھتیں ، ان موضوعات کو پڑھنے سے سلجھتی ہیں ۔ اب تک آپ کے یہاں اسی بات پر بحث جاری ہے کہ عصری علوم کیا ہیں اور اسلامی علوم کیا ہیں ۔ شرعی علوم کے نام پر آج بھی نہ جانے کیا کیا الم غلم پڑھائے جارہے ہو ۔
دیکھو مولوی صاحب ، مسنگ پوائنٹ تو تلاش کرنا ہی پڑے گا ۔ جنہیں اللہ پر توکل ہے انہيں اسباب اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہيں ہوتی اور جنہیں اسباب کا اختیار کرنا ضروری لگتا ہے انہیں عملا توکل سے بیر ہے ، مسنگ پوائنٹ تو ہے نا آخر ، آپ مولانا لوگ اس مسنگ پوائنٹ پر کام کیجیے ، بتائیے کہ اسباب اختیار کرنے کے بعد نتائج کا معاملہ اللہ کے سپرد کرکے توکل کرنا ہے ۔ بتائیے کہ عصری علوم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جیسی تیسی انگریزی پڑھادی اور طرم خاں بن گئے ، بلکہ ضروری ہے کہ نصاب کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ شرعی علوم زد پر بھی نہ آئیں اور بقیہ دوسرے مفید علوم سے طلبہ مستفیض بھی ہوسکیں ۔
میں نے خان صاحب کو بتانا چاہا کہ بھائی ، مولانا لوگ تو یہ وضاحتیں کرتے ہی رہتے ہیں لیکن تب تک وہ اپنی بات ختم کرکے رفو چکر ہوچکے تھے !!!

Thursday, 5 April 2018


مسلمانان ہند ، مسلم دنیا   اور  نئے تقاضے
ثناءاللہ صادق تیمی
ہندوستان  میں مسلمانوں کی حالت بھی عجیب ہے ۔ انہیں خود اپنی اتنی پروا نہیں رہتی جتنی دوسرے ملکوں میں بس رہے مسلمان بھائیوں کے لیے وہ پریشان رہتے ہیں ۔ ابھی بھی آپ دیکھیں گے کہ ان کے یہاں ہندوستان کی موجودہ صور ت حال سے کہیں زياد ہ فلسطین ، خلیجی ممالک اور دوسرے  خطوں کے سلسلے میں  فکرمندی  پائی جاتی ہے ۔ یہ فکرمندی در اصل اس عقیدے کا نتیجہ ہے جس کی رو سے دنیا کے سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں ، اس پورے منظر کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ میں تھوڑا پیچھے بھی جانا پڑے گا ۔ معلوم بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نہیں بھی تو ایک بڑی تعداد عرب ممالک ، ایران اور خراسان وغیرہ سے آکر یہاں بسی ہے ، ہندوستانی بادشاہ عرب حکمرانوں سے اجازت حکومت لیتے تھے اور اس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی ، ہم مسلمانوں نے بیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے دہے میں خلافت تحریک چلائی ہے ، جس خلافت کا ہندوستان سے بس یہ تعلق تھا کہ مسلمانوں کو وہاں ایک مرکز قوت نظر آتی تھی ورنہ ترکی سے اور کیا رشتہ ہو سکتا تھا ،یہ دینی حمیت اور اسلامی اخوت تھی کہ ترکی کی خلافت عثمانیہ کو بچائے رکھنے اور مضبوط رکھنے کی تحریک ہم ہندوستان میں چلا رہے تھے ۔ جس کا جو منطقی نتیجہ نکلنا تھا وہ نکل کر رہا ۔ ہمارا دینی مرکز جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے وہیں صوفیا کے مختلف سلسلوں کو بغداد وغیرہ سے خاص لگاؤ رہا ہے اور ان کے لیے وہی خطہ   مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اس تناظر میں عرب ممالک کے تئیں یہ فکر مندی نہ تو تعجب خيز ہے اور نہ ہی  مستبعد البتہ افسوسناک بات یہ ہےکہ اب اس رشتے میں مسلکی زہر پیوست ہوگیا ہے ۔ اندھی عقیدتیں اورکم تر جانکاری کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی جاری رہتی ہے ۔ ہماری اکثریت کو ان خطوں کی ٹھوس جانکاری نہیں ہےلیکن سب سے زیاد ہ یقین کے ساتھ انہیں خطوں سے متعلق ہماری باتیں سامنے آتی ہیں ۔ ا س کی  ایک وجہ اس طرف آکر ان ملکوں میں پائی جانے والی دولت بھی ہے ، جس سے انکار ممکن نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ  نیشن  اسٹیٹ کا حوالہ دے کر بر صغیر کے مسلمانوں سے یہ توقع رکھتے ہيں کہ وہ عرب ممالک کے مسائل پر رائے زنی سے گريز کریں وہ ایک ایسی توقع رکھتے ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوگی البتہ یہ بہر حال افسوسناک ہے کہ ہم ہندوستان  کے لوگ خود اپنے گھر کی خبر اس طرح نہیں لیتے جس طرح لینی چاہیے ۔ تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ ہماری یہی توجہ پاکستان ، بنگلہ دیش ، نیپال ، برما ، بھوٹان   اور مالدیپ کے مسلمانوں کے تئیں دیکھنے میں نہيں آتی ۔  نہ معلوم کیوں یہاں آکر ہماری اخوت ایمانی اور غیرت دینی کیوں کمزور پڑجاتی ہے !!
ہندوستان ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے ، ایک دوسرے پر لعنت کے تیر برساکر ہم اپنے دشمنوں کو صرف مضبوط ہی کرسکتے ہیں ، ہمارے دشمنوں کو پتہ ہے کہ وہ ہمیں ہندوستان سے مٹا نہیں سکتے اس لیے وہ ہمیں بےدست و پا کرنے کی کوشش میں ہیں ، سیاسی سطح پرہمیں بے وقعت بنانے سے لے کر  ہر طرح کے سماجی اور عوامی پلیٹ فارم سے وہ ہمیں دور کردینا چاہتے ہیں ، ان کی خواہش اور سازش دونوں یہ ہے کہ وہ ہمیں چھوٹے چھوٹے اور غیر اہم مسائل میں الجھا کر رکھیں اور قومی سطح پر ہمارے  بحیثيت ایک مضبوط ملت کے اٹھان کو روکا جا سکے ، اسی لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے مسائل باہر لائے جارہے ہیں جن کا قوم ملت کی ترقی و تعمیر سے دور دور تک کا رشتہ نہیں ، ایسے مسائل کو چھیڑا جارہا ہے جن سے مسلمانوں کے مختلف مسالک  اور فرقوں کے بیچ دوری پیدا کرکے دشمنی کے بیج بوئے جا سکیں ۔
اس صورت حال میں ہماری سمجھدار ی بہر حال اسی میں ہے کہ ہم اپنی تعمیری پیش رفت کو متاثر نہ ہونے دیں ، تعلیم و تعلم کی راہ پر جو قافلہ چل پڑا ہے وہ بے راہ نہ ہو نے پائے ، ایک جمہوری ملک میں جو مواقع دستیاب ہیں وہ ہاتھوں سے چھوٹنے نہ پائیں بلکہ حالات کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ان کوششوں کو اور مضبوط کیا جائے ، نئے نئے ادارے وجود میں آئیں اور دو قدم آگے بڑھ کر ملت کی تعمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے ۔ ہماری تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم نا موافق حالات میں اور بھی زیاد ہ بہتر نتیجے حاصل کرتے ہیں ۔ انیسویں صدی کے آخری نصف اور بیسوی صدیں کے پہلے نصف کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اس عرصے میں ہمارے ہاتھ سے اقتدار نکل گیا وہیں ہم نے کئی سطحوں پر بے مثال کارنامے بھی انجام دیے اور ہم میں ایسے ایسے دماغ اور افراد ابھرے جنہوں نے نازک وقت میں ملت کی بہترین رہنمائی کا فريضہ انجام دیا ۔ سر سید ،  شبلی ، اقبال ، آزاد اور بقیہ رہنماؤں اور ان کے کارناموں کو  دیکھیے تو آنکھیں چمک اٹھتی ہیں ۔موجودہ حالات میں مسلک مسلک ، ایران سعودی اور ترکی وہابی کا کھیل کھیلنے سے قبل یہ ضرور دیکھیے کہ آپ کی اپنی کشتی کس منجھدار میں ہے ۔ یاد رکھیے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہندوستان میں بستی ہے ، اس آبادی میں ایک پر ایک بڑے لوگ ہیں ، بڑا دماغ اور شعور ہے ، آنے والی نسلیں ہمیں نہیں بخشیں گیں کہ اگر یہ دماغ اور شعور تعمیر کی بجائے تخریب یا آپسی اختلافات کی نذر ہوگیا ۔
دشمن تاک میں ہے ، اس نے اپنے جال پھیلا دیے ہیں لیکن ہمارا ایمان ہے کہ ہم بہر حال دشمن کو مات دیں گے اور سرخروئی ہمارا ہی مقدر ہوگی ۔ اللہ کرے کہ ہم حالات کو سمجھ سکیں اور بہتر سمت میں اپنی قوت لگا سکیں ۔راحت کی زبانی ہم اور بھی مضبوطی سے کہ سکیں ۔
ابھی غنیمت ہے صبر میرا ، ابھی لبالب بھرا نہیں ہوں
مجھے وہ مردہ سمجھ رہا ہے ، اسے کہو میں مرا نہیں ہوں
وہ  کہ رہا ہے کہ کچھ دنوں میں مٹا کے رکھ دوں گا نسل تیری
ہے اس کی عاد ت ڈرا رہا ہے ، ہے میری فطر ت ڈرا نہیں ہوں
راحت اندوری