Thursday, 12 January 2017

راہل گاندھی جی ! اس تیور کو برقرار رکھیے
ثناءاللہ صادق تیمی
2014 کے لوک سبھا الیکش میں بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے بعد ملکی سطح پر کانگریس کی جو شبیہہ بنی تھی اور جس طرح سے یہ قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں کہ کانگریس اب ملک کا ماضی ہے ، حال یا مستقبل نہیں ، اس میں اب کہیں نہ کہیں تھوڑی تبدیلی آنےلگی ہے ۔ لوک سبھا انتخاب سے پہلے ہی کانگریس نے جیسے اپنی شکست تسلیم کرلی تھی ، اس کے بڑے بڑے نیتا خاموش تھے ، حد تو یہ تھی کہ دو ٹرم میں اس نے جو کام کیے تھے ، اسے بھی وہ ٹھیک سے عوام تک نہیں لا پائی تھی ۔ ملک نے مودی جی پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں ریکارڈ جیت سے ہمکنار کیا تھا ، ان کے وعدے بھی بڑے لبھانے والے تھے لیکن آدھی مدت گزارنے کے بعد بھی وہ وعدے وعدے ہی ہیں بلکہ خود ان کی پارٹی نے بعض وعدوں کو انتخابی جملہ کہا ہے ۔ اس بيچ ملکی سطح پر جمہوری قدروں کی پامالی دیکھنے کو ملی ہے، آربی آئی سے لے مختلف دوسرے اداروں کا استقلال اور آزادی خطرے میں نظر آئی ہے ، تعلیمی اداروں میں خاص ذہنیت رکھنے والوں کو زبردستی بٹھایا گيا ہے، طلبہ کو سڑکوں پر آنا پڑا ہے ، ادباء شعراء کو اپنا ایوارڈ واپس کرنا پڑا ہے، ملک کے اقلیتوں میں سراسیمگی رہی ہے اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ دیش بڑی تیزی سے ہندوتو کی طرف جارہا ہے ۔ روزگار کے مواقع کیا بڑھتے ، لوگوں کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ کیا آتے الٹے نوٹ بندی کے زير اثر وہ خود اپنے پیسینے کی کمائی کے لیے ترس کر رہ گئے ہیں، پچاس دن سے زيادہ کا عرصہ گزرگیا ہےاور نوٹ بندی کے برے اثرات ختم نہيں ہوئے ۔ حد تو تب ہوگئی جب آرٹی آئی کے ذریعہ یہ معلوم ہوا کہ آر بی آئی کو اس بات کا علم ہی نہيں کہ نوٹ بندی کے بعد کتنے پیسے چھاپے گئے ہيں !!
  ڈھائی سال سے پہلے کی مدت پر نظر دوڑائیے تو پورے ملک میں لے دے کر کیجریوال یا پھر جے این یو کے کنہیا کمار اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھاتے نظر آرہے تھے ، لالو یادو نے بہار الیکشن کے موقع سے ضرور ماحول بنایا اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے لیکن ملکی سطح پر اپوزیشن کا وجود باضابطہ محسوس نہيں ہوا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کانگریس کو جس دن کا انتظار تھا وہ دن آگیا ہے ۔ اب تک جو پارٹی ڈیفینس کرتی نظر آرہی تھی وہ اب اٹیک کرنے کے رویے کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ ظاہر کررہی ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے ۔ راہل گاندھی نے جس طرح ڈریے نہیں ڈارائیے کا فارمولہ دیا ہے وہ اپنے آپ میں خوب ہے ، انہوں نے کھل کرکہا ہے کہ اچھے دن تب آئیں گے جب 2019 میں کانگریس جیت کر آئے گی ، اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اب کانگریس تھوڑی زیادہ سرگرمی کے ساتھ میدان میں آئے گی ۔ اس بیچ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پرینکا گاندھی کو میدان میں لے آیا گیا ہے ، یوپی الیکشن کے لیے ڈمپل یادو اور پرینکا گاندھی کے بیچ کی ملاقات اور اتحاد بنانے کی کوشش کو بہت محدود پیمانے پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ ڈھائی سال کے عرصہ کے گزرنےکے بعد کئی سطحوں پر مودی حکومت کو گھیرا جاسکتا ہے ۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، وعدہ خلاقی ، جمہوری اداروں کے استقلال کی پامالی ، کالا دھن اور کرپشن سے جڑی غلط دعویداری اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نوٹ بندی سے پیدا ہونے والی اقتصادی ایمرجینسی کی کیفیت ۔ اگر مکمل اعتماد اور تیاری سے کانگریس نے حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی تو اس کا فائدہ بہرحال اسے ملے گا ۔ جاننےکی بات یہ بھی ہے کہ اب کانگریس کے پاس گنوانے کے لیے کچھ بچا بھی نہیں ہے ، بھکتوں کو چھوڑ دیجیے تو عام آدمی بہر حال ناراض ہے اور اس ناراضگی کا مظاہرہ وہ الیکشن کے موقع سے کرسکتے ہيں ۔

  راہل گاندھی کو اپنا یہ تیور برقرار رکھنا ہوگا ، ان کے پارٹی کارکنان کو لوگوں تک پہنچنا ہوگا ، آن لائن اور ڈور ٹو ڈور کمپین سے کام لینا ہوگا ، اسی طرح انہیں سیاسی اتحاد سے بھی کام لینا ہوگا ، کہیں جھکنا تو کہیں جھکانا ہوگا لیکن سمجھداری دکھانی ہوگی ، سیکولر پارٹیوں سے جڑنا ہوگا تبھی جاکر وہ کچھ کر پائیں گے ۔ اتنی مدت گزرنے کے بعد مودی جی کا جادو اترنے لگا ہے ، عوام کو اب سمجھ میں آرہا ہے وہ بھاشن دینا جانتے ہیں لیکن اس طرح سے وکاش پرش نہیں ہیں جس طرح کا ہنگامہ مچایا گیا تھا ۔ کانگریس پہلی بار اس تیور میں نظر آرہی ہے ، اپنے کارکنان اور عوام میں اپنے تئیں یقین جگانے کے لیے بھی یہ ایک اچھی پالیسی ہےلیکن یہ اہم ضرور ہے کہ یہ تیور مدھم نہ پڑے ، رکے نہیں بلکہ مسلسل چلتا رہے ۔ آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں مختلف ہتھکنڈوں سے انہيں گھیرنا بھی چاہیں گیں ، خود مودی جی اوچھے حملوں سے بھی کام لے سکتے ہیں لیکن انہیں تیار رہنا ہوگا کہ اب اگر وہ اپنے اس تیور سے پیچھے ہٹتے ہیں تو یہ ان کا اور ان کی اپنی پارٹی کا ہی نقصان ہوگا ۔

Sunday, 8 January 2017

ہمارا اسلامی لٹریچر اور بدلتی دنیا
ثناءاللہ صادق تیمی ، اسسٹنٹ پروفیسر امام یونیورسٹی ، ریاض
علامہ اقبال کا بڑا مشہور شعر ہے ۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
مولانا حالی کی اس بات کو خاص طور سے زبانوں کے تناظر میں دیکھیے تو اس کے اندر اور بھی سچائی نظر آئے گی ۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان پر مسلمانوں کی سلطنت قائم تھی ، حکمرانوں کی زبان فارسی تھی ، اس لیے دیکھتے دیکھتے ہر پڑھے لکھے انسان کی زبان فارسی ٹھہری اور اس میں کسی دین دھرم مسلک طبقے کا فرق نہیں رہا بلکہ فارسی ہی تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل سمجھی جانے لگی ۔ فارسی ہی کے زیر اثر پنپنے والی زبان اردو کا بھی یہی حال رہا ۔ مغلیہ سلطنت کے دور زوال میں اردو کا اٹھان شروع ہوا اور دیکھتے دیکھتے بغیر تفریق مذہب و ملت ہر مہذب انسان کی زبان اردو ہوگئی ۔ آج بھی سکھوں میں اردو کا چلن ہے ۔ ہمیں اس وقت شرم محسوس ہوئی جب ہم نے پٹنہ ایئر پورٹ پر ایک سکھ کو اردو کا اخبار خریدتے ہوئے دیکھا اور ہم نے خود انگریزی اخبار لیا ۔ فارسی اردو کے اثرات آج بھی عدالتوں کے اندر محسوس کیے جاسکتے ہیں ۔ ایک وقت تو وہ بھی تھا جب اردو کا شاعر کہتا تھا ۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
لیکن جب حالات بدلے توبدلنے والے حالات کو ہمارے اسلاف نے بڑی خوبی سے سمجھا اور آپ جائزہ لیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کتنی مختصر مدت میں اردو کے اندر کتنا اچھا خاصا اسلامی لٹریچر پھیل گیا ۔ کسی مبالغے کے بغیر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عربی کے بعد اسلامی ادب کا سب سے بڑا اور مضبوط حصہ اردومیں پایاجاتا ہے ۔ ہمارے اسلاف نے لگ بھگ سارے فنون پر اردو میں لکھا اور اس کثرت سے لکھا کہ آج بھی ان کی تابانی قائم ہے ۔ آپ کو اردو میں اسلام کے تمام گوشوں پرکتابیں مل جائیں گیں ، جب انہوں نے لکھا تو یقینا وہ وقت کی ضرورت بھی تھی اور الحمد للہ ان کی تحریروں سے دینی ضرورت کی تکمیل بھی ہوئی ، تب ایک بڑی اچھی بات یہ بھی تھی کہ اعلا تعلیم یافتہ طبقہ بھی اردو سے بہرور تھا اور کم پڑھا لکھا طبقہ بھی اردو جانتا تھا ، اس لیے اردو کی ایک مہذب تصنیف ہر سطح کے لوگوں کی تشنگی بجھا پانے میں کامیاب ہوجاتی تھی لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ حالات پھر ویسے نہیں رہے ، کافی کچھ بدلاؤ آیا ، مسلمانوں کے ہاتھوں سے اقتدار ہی نہیں گیا ، صرف انگریز حاکم ہی نہیں ہوئے ، ان کے ظلم و ستم کے مسلمان شکار ہی نہیں ہوئے ، ملک کو آزادی ہی نہيں ملی بلکہ آزادی کے ساتھ تقسیم کا گہرا گھاؤ بھی ملا ، ملکی سطح پراردو دشمنی بھی ملی ، مسلم ذہنوں میں مرعوبیت کا بچھو بھی ملا ، بے سروسامانی کی کیفیت بھی ملی اور یوں دیکھتے دیکھتے اردو بےچاری ان غریب مسلمانوں کی زبان بن کررہ گئی جن کے پاس اور کچھ پڑھنے کا ذریعہ نہیں رہا ، اردو روزگارسے الگ رہی اوراس کی جگہ انگریزی نے لیا ، انسان کو زندگی جینے کےلیے بہتر معاش کی بہت ضرورت ہوتی ہے ، وہ انہیں اسباب کو اختیار کرتا ہے جن سے اس کی معیشت مضبوط ہو سکے کہ سارا سماجی مقام اسی سے جڑا ہوتا ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صورت حال یہ ہوئی کہ تقسیم کے بعد اردو مسلمانوں کی ہی نہیں کمزور مسلمانوں کی زبان ٹھہری ( استثناءات سے انکار نہیں !! ) اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ آج جہاں اردو مدارس کے دم پر زندہ ہے وہیں یونیورسٹیوں کے اندر بھی اردو پڑھنے والوں کی اکثریت کسی نہ کسی شکل میں مدرسہ بیک گراؤنڈ ہی رکھتی ہے !!
جن کے حالات اچھے ہيں وہ عام حالات میں اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے ، ان کی زبان انگریزی ہے اور ہم نے اب تک قابل ذکر صورت میں اسلامی لٹریچر انگریزی میں تیار نہیں کیا ہے ۔ اب کیفیت یہ ہے کہ ویسے اعلا تعلیم یافتہ لوگ اپنی اسلامی معلومات کے لیے جن لوگوں کو پڑھ رہے ہیں ان میں یا تو مستشرقین ہیں یا پھر وہ لبرل لوگ ہیں جن کے قلم نے اسلام کو کمزور کرنے کی ہی کوشش کی ہے ۔ ایسے میں مسلمانوں کے اس تعلیم یافتہ طبقےکا صحیح اسلام سے دور رہنا کوئی ویسی تعجب خیز بات بھی نہیں ۔ مجھے ام القری یونیورسٹی میں میڈیکل سائنس کے ایک ہندوستانی پروفیسر کی اس بات سے تعجب نہیں ہوا کہ قرآن تو خیر ٹھیک ہے لیکن حدیث ہم تک صحیح طریقے سے نہیں پہنچی ، انہوں نے وہی باتیں دہرائیں جو مستشرقین یا لبرلز نے اپنی کتابوں میں لکھی ہیں ۔ ان حالات میں کیا ہمیں اپنے لٹریچر کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیا ہمیں یہ نہیں سجمھنا ہوگا کہ غیروں کو تو چھوڑ دیجیے خود اپنے پڑھے لکھے طبقے تک صحیح دین پہنچانے کے لیے ہمیں انگریزی کی ضرورت ہے ۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے بہر حال خوشی ہورہی ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہاں تک ان لوگوں نے بھی اس طرف پیش قدمی شروع کردی ہے جن پر عام طور سے دقیانوسیت اور قدامت پرستی کا الزام رہا ہے چنانچہ ملفوظات ، سوانح اور اس قبیل کی دوسری چیزیں بڑے پیمانے پر انگریزی میں ترجمہ کی جاری ہیں اور بازار میں دستیاب کرائی جارہی ہیں ، بعض مسلم جماعتوں کے پاس بھی قابل ذکر نہیں تو بھی ایک حد تک انگریزی میں اسلامی لٹریچر ہے لیکن اس پورے معاملے میں سب سے تہی دست ہم سلفیان ہند نظر آرہے ہیں ، ہم کہ جنہوں نے ہمیشہ علم وحکمت کی راہ میں قیادت کا فریضہ انجام دیا ہے ، ہم کہ جن سے جامعہ رحمانیہ منسوب رہا ہے ، ہم کہ جنہوں نے سب سے پہلے اصلاح نصاب کی آرہ میں تحریک چلائی ہے ، ہم کہ جنہوں نے جمعیت علماء ہند ہی نہیں ندوۃ العلماء کو بھی اپنی رہنمائی سے نوازا ہے ، ہم کہ جنہوں نے ہمیشہ حالات کو سمجھا ہے ۔ آج ہم کہیں نہ کہیں پیچھے نظر آرہے ہیں ۔ ابھی تک ہمارے پاس انگریزی میں کوئی قابل ذکر لٹریچر نہيں ہے ، ہمارے اسلاف کے قابل قدر اور بیش بہا سرمایوں کو انگريزی میں منتقل کرنے کا ہمارے پاس کوئی جذبہ یا منصوبہ بھی نہيں ہے ۔ اقبال کا ایک شعر یاد رہا ہے
چراغ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے
اگراجازت دی جائے تو عرض کروں کہ حالات کا یہ شدید تقاضہ ہے کہ ہم نہ صرف یہ کہ اپنے اسلاف کی متاع بے بہا کو انگریزی میں منتقل کرنے کا سامان کریں بلکہ مختلف موضوعات پر حالات وظروف کو سامنے رکھتے ہوئے لٹریچر بھی تیار کریں ۔ ہم نے اگر اور زيادہ کوتاہی برتی تو نتائج بہر صورت سنگین ہی ہوں گے ۔ اس کے لیے ہمیں کچھ اور نہیں جذبے اورمنصوبے کی ضرورت ہے ۔ آج دوسری زبانوں کے بہ نسبت انگریزی میں کام کرنا زيادہ آسان ہے ۔ اس کام کے لیے جہاں تنظیموں کو سرجوڑکر بیٹھ کرسوچنے کی ضرورت ہے ، حدیث ، تفسیر ، عقیدہ ، تاريخ اور دوسرے موضوعات پر باضابطہ لٹریچر تیار کرنے کی ضرورت ہے وہیں افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جن سے جہاں تک ہو سکے وہ کوتاہی نہ برتیں ۔ اس کا یہ قطعا مطلب نہیں کہ اردو میں کام کرنا چھوڑ دیا جائے کہ بہر حال اس کی اپنی ضرورت اور اہمیت ہے البتہ اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ انگریزی سے اب کسی بھی صورت بے اعتنائی نہ برتی جائے کہ پہلے تو غیروں تک بات پہنچانے کے لیے ہمیں انگریزی ضروری لگتی تھی اب تو اپنوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے بھی یہی ذریعہ رہ گيا ہے ۔ یاد رہے کہ دنیا کا کام چلتے رہنا ہے ، وہ کسی کے لیے نہیں رکتی ۔ حالات کے بدلاؤ کا ہم ساتھ نہیں دے پائیں گے تو یہ ہمارا ہی نقصان ہوگا ۔
لگے ہاتھوں ایک اور سچائی کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ جہاں ہمیں انگریزی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے وہیں ہندی سے بے اعتنائی بھی گھاتک ثابت ہوگی ۔ یہ بہر حال افسوسناک بات ہے کہ اتنی مدت سے ہندوستان میں ہم مسلمان جی رہے ہیں اور ہم نے اپنے برادران وطن کو اسلام سے روشناس نہیں کرایا ہے لیکن اب ہمیں نہ صرف یہ کہ اپنے غیر مسلم ہندو بھائیوں کے ایک بڑے طبقے تک پہنچنے کے لیے ہندی کی ضرورت ہے بلکہ خود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تک پہنچنے کے لیے بھی ہندی کی ضرورت ہے ۔ مدرسہ والوں کو چھوڑ دیجیے تو زيادہ تر مسلمانوں کو اردو رسم الخط میں پڑھنا لکھنا نہيں آتا ۔ ہندی کے قومی زبان ہونے کی وجہ سے انہیں ہندی تو آتی ہے لیکن اردو نہیں آتی ۔ اس کا اندازہ بات چیت میں کم ہوتا ہے کہ بہر حال پرورش وپرداخت تو مسلم گھرانوں میں ہوئی ہے ، سبحان اللہ ، ماشاءاللہ اور الحمد للہ جیسے الفاظ ہمیں دھوکہ میں ڈال دیتے ہیں لیکن جیسے پڑھنے لکھنے کی بات آتی ہے ساری حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ آپ کو تعجب ہوتا ہو تو ہوتا ہو لیکن یہ سچ ہے کہ اردو اخبارات کے معتد بہ صحافی ایسے ہیں جو اپنی رپورٹ رومن رسم الخط میں تیار کرتے ہیں وہ اردو کے فارسی رسم الخط سے واقف نہيں ہیں یعنی جو اردو کی روزی روٹی کھاتے ہیں ان کا یہ حال ہے تو سوچیے ان کا کیا حال ہوگا جنہیں اردو سے کوئی مطلب ہی نہیں ۔ شمالی ہندوستان ( جو کہ اردو کا بھی گہوارہ ہے ) کے مسلمانوں کی اکثریت ہندی اخبارات ہی پڑھتی ہے کہ انہيں اردو پڑھنا نہیں آتا ۔ ایسے میں کیا اس ضرورت سے انکار ممکن ہے کہ ہمیں اسلامی لٹریچر کو ہندی میں پیش کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آسان اردو( جو ہندی سینیما میں استعمال کی جاتی ہے ) میں چيزیں لکھی جائیں اور انہیں رومن رسم الخط میں چھاپا جائے ۔ یاد رہے کہ ہندی اور انگریزی کی طرف یہ توجہ اس لیے ضروری نہیں ہے کہ اس سے ہم غیر مسلموں تک دین پہنچا پائیں گے ، نہیں ، بلکہ یہ توجہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے ہم خود اپنے مسلمان بھائیوں تک اسلام پہنچا پائيں گے !!!

Sunday, 1 January 2017

سبق
ساگر تیمی
وہی رات کے کوئی تین بج رہے ہوں گے ، عندلیب اپنے کمرے میں سو رہا تھا ، یوں بھی ہاسٹل میں رہنے والے لڑکے بارہ بجے کے بعد ہی سوتے تھے ، اسی لیے اگر کوئی صبح صبح یونیورسٹی پہنچ جاتا تو اسے لگتا کہ یہ مردوں کی آرامگاہ تو نہیں ہے ؟ عندلیب کو ابھی ابھی نیند آئی تھی ، وہ کوئی دوبجے سوپایا تھا ، اسے لگا کہ اس کے گیٹ پر دستک ہورہی ہے ، پہلے تو اس نے نظر انداز کیا کہ اس وقت کون دستک دے گا ، اس کا وہم ہوسکتا ہے لیکن پھر کھٹکھٹ کی آواز تیز ہونے لگی ، اس نے چادر سے اپنا چہرا باہر نکالا ، لائٹ آن کی اور دیکھا تو واقعۃ اسی کا دروازہ پیٹا جارہا تھا ۔
اوئے مولی صاحب ! یار ! کھولو نا دروازہ ! ابے سالے ! کیسی نیند میں سوتا ہے ! کسی کی جان جارہی ہے اور تو گھوڑی بیچ کرسویا ہوا ہے ! کھول نہ یار ! اوئے عندلیب !!
 عندلیب کو پہچانتے دیر نہ لگی کہ یہ تو اس کے کلاس میٹ مصطفی کی آواز ہے ، دروازہ کھولنے پر مصطفی سامنے تھا ، اس کی سانسیں تيز چل رہی تھیں اور ٹھنڈی کے اس موسم میں پسینہ آرہا تھا ۔ عندلیب نے اسے اپنی چادر میں ڈھانپا ۔۔
عندلیب : ابے یہ رات گئے اس وقت کیا ہوا تمہیں ؟ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا تم نے کیا ؟ لاحول پڑھ کر تھکتھکا کر سوجانا تھا ، میری بھی نیند خراب کردی ۔۔
مصطفی : نہیں یار! میں بہت پریشان ہوں ، یار مجھے نیند نہيں آتی ، جب سونے کی کوشش کرتا ہوں ایسا لگتا ہے وہ یہیں ہے میرے سامنے ! دیکھ اگر میں مرجاؤں تو میرے جنازے کی نماز تو پڑھانا !
عندلیب : سالے ! یہ تو کیا بول رہا ہے ، تو مرے گا کیوں الو کہیں کے ، اتنی ایموشنل باتیں کرکے جان لے گا کیا میری ؟ اور یہ کون سامنے آجاتا ہے تیرے ؟ سایہ ہے کوئی ، بھوت پریت ہے ؟ کیا ہے ؟
مصطفی : نہيں یار ! وہ اپنی کلاس میٹ شوبھا نہیں ہے ، یار مجھے اس سے محبت ہوگئی ہے ، میں اس کے بغیر نہیں جی پاؤں گا ، یار مجھے سوتے جاگتے ہر جگہ وہی نظر آتی ہے ۔ پلیز تم کچھ کرو!
عندلیب : شوبھا !! اوراس کا ذہن تین چار سال پیچھے چلا گیا ۔ وہی برسات کا موسم تھا ، ملک کی ممتاز یونیورسٹی میں اس کا شمار ہوتا تھا ، اس ڈپارمنٹ میں کل پندرہ لڑکوں کا داخلہ ہوا تھا ، ان میں ایک وہ بھی تھا ، شکل و شباہت سے خوبصورت ، مناسب قدو قامت ، بہت ہوشیار نہیں لیکن نسبۃ بے خوف ضرور تھا ، عربی مدرسے سے فارغ ہوکر آیا تھا لیکن داڑھی بس نام کو تھی ، محنتی تھا لیکن جیسے شروع دن سے ہی اسے کسی لڑکی دوست کی تلاش تھی ۔ لڑکے لڑکی کے موضوع پر باتیں کرتے ہوئے اس کی ناآسودگی جھلک جاتی تھی ، شروعاتی چند مہینوں میں اس نے کئی لڑکیوں پر ڈور ڈالے تھے لیکن کہیں سے بھی اسے بہت اچھا ریسپانس نہیں ملا تھا ، جسے وہ اپنی کمزور انگريزی سے جوڑ کر دیکھتا تھا ۔ شوبھا خوب صورت تھی ، شوخ تھی اور ہوشیار بھی لیکن پڑھنے میں اس حساب سے کمزور تھی ، کئی لڑکے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا چکے تھے ، پوری کلاس میں پندرہ لڑکوں میں تین چار لڑکیاں ہی تھیں اور ان چار میں شوبھا نسبۃ زيادہ خوب صورت تھی ۔ دوستی کا ہاتھ بڑھانے والوں میں مصطفی قدرے مختلف تھا ، شوبھا نے ایک ایک کرکے سب کو کہیں نہ کہیں ریجیکٹ ہی کیا تھا البتہ وہ اس معاملے میں عقلمند واقع ہوئی تھی ، بہت سمجھدار ی الگ ہوجاتی تھی اور کسی کو پتہ بھی نہیں چل پاتا تھا ۔ مصطفی سے اس کی دوستی بڑھی تو اس کے لیے مصطفی سے جڑے رہنا گھاٹے کا سودا نہیں تھا ، اس کے اندر بلا کی وفاداری ، خدمت اور مدد کا جذبہ پایا جاتا تھا ، وہ اس کی ہر بات مانتا تھا ، ہر طرح کے معاملات میں اس کے لیے کھڑا رہتا تھا اور یوں دیکھتے دیکھتے سبھوں میں مصطفی ہی شوبھا کے ساتھ رہ گیا تھا ۔ کلاس میٹس میں ان دونوں کے بارے میں ایک پر ایک قصے گردش کرتے ، اپنے اپنے اندازے سے لوگ مزے لیتے ، مصطفی کو جیسے یہ سب سننے میں مزہ بہت آتا ، وہ زيادہ تر مسکراکر طرح دے دیتا یا پھر ایک دو بات ملا کر قصوں کی توثیق ہی کردیتا ۔ امتحانات کے مواقع سے دونوں زیادہ ساتھ نظر آتے ، مصطفی جی جان لگا کر شوبھا کی تیاری کراتا ، کہیں سے کوئی کمپنی کیمپس سیلیکشن کے لیے آتی تو دونوں امتحان میں ساتھ بیٹھتے اور خود سے زيادہ مصطفی شوبھا کے لیے کوشش کرتا ۔ یہ سب باتيں دوستوں میں مشہور تھیں ۔ احباب مزہ بھی لیتے لیکن وہ کبھی برا نہیں مانتا ۔ عندلیب سے کبھی کبھی بتاتا کہ یار یہ سب اسی لیے تو کررہا ہوں کہ آخر آنا تو میرے ہی گھر ہے ، اس لیے سمجھو کہ اس کے لیے نہیں خود اپنے لیے ہی محنت کررہا ہوں اور جب عندلیب اس سے پوچھتا کہ کیا اس نے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے یا شادی کرنے کا ارادہ جتایا ہے تو وہ مسکراتا اور کہتا : مولی صاحب ! فلسفے سے نکلو ، محبت میں اظہار معنی نہیں رکھتا ، سانسیں بولتی ہیں ، نگاہوں کو لب ہوتے ہیں ، حرکتیں بتاتی ہیں ، یہ محسوس کرنے کی ہوتی ہے بولنے کی نہیں ۔۔۔۔
  مصطفی نے عندلیب کا ہاتھ پکڑا اور جب کہا کہ یار میرا کچھ کرو ورنہ میں ہلاک ہو جاؤں گا تب جاکر عندلیب اپنے خیالوں سے باہر آیا اور اسے تسلیاں دینے لگا ۔
عندلیب : دیکھ ! اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، شوبھا یہیں ہے ، ایسا نہيں کہ وہ کہیں چلی گئی ہو ، تم اس سے جاکر صبح میں بات کرلینا ۔ یوں بھی تمہارے اس کے درمیان اچھی خاصی بے تکلفی ہے !
مصطفی : نہیں یار! میں کب سے کہنا چاہتا ہوں لیکن میں کہہ نہیں پاتا ۔ اس سے باتیں کرتے ہوئے میرے الفاظ دم توڑ دیتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ قوت گویائی چھین لی گئی ہے ۔ نہيں ہوپاتا مجھ سے یار !
عندلیب : تم تو کہتے تھے کہ احساس ہی سب کچھ ہے ، نگاہ بولتی ہے تو کیا اب اس کی نگاہ نے بولنا بند کردیا ؟؟
مصطفی : یار ! نگاہ تو اب بھی بولتی ہے لیکن جب تک بات شروع نہيں ہوگی ، مرحلہ آگے بڑھے گا کیسے ؟ باتوں کے بغیر تو کچھ بھی ہونے سے رہا ۔ پلیز تم کچھ کرو! یار پلیز!
عندلیب : ایسا ہے بیٹے ! چل ابھی تو جاکر سوجا ، میں صبح میں کوئی سیٹنگ کرتا ہوں ، دیکھتا ہوں کیا ہوپا تا ہے ۔
  دوسرے دن پھر صبح سویرے مصطفی اپنی سوجی سوجی آنکھوں کے ساتھ عندلیب کے پاس آگیا ۔ اب کہ عندلیب کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ کوئی حل نکالے ۔ اس نے دوسری کلاس میٹ لڑکی نہاریکا سے ساری باتیں بتائیں اور گزارش کی کہ وہ کسی طرح شوبھا سے بات کرکے مصطفی کی حالت سے اسے آگاہ کرے ۔ تیسرے دن نہاریکا نے عندلیب سے ڈھابے پر چائے پلانے کو کہا ۔ دونوں چائے پی رہے تھے اور نہاریکا بتارہی تھی ۔۔۔ عندلیب بھائی ! شوبھا تو میری بات سن کر ناراض ہی ہوگئی ، پہلے تو اس نے برا سا منہہ بنایا اور پھر بولی بھی تو یہ بولی : دیکھنا نہاریکا ! میرا ہسبینڈ  دیکھنے لائق ہوگا ۔ عورت اسے شریک سفر بناتی ہے جس کے پیھے وہ چل سکے اسے نہیں جو اس کے پیچھے چلتا ہو ۔ مصطفی اچھا لڑکا ہے ، سیدھا ہے ، دکھتا بھی ٹھیک ہی ہے ، پھر اس نے میری مدد بھی بہت کی ہے ، لیکن یار ! میں اسے ایک اچھے انسان اور دوست کے طور پر دیکھتی ہوں ، وہ کہیں سے بھی میرے آئیڈیل ہسبینڈ جیسا نہیں لگتا ۔ ایسے تم یہ باتیں کسی سے مت بتانا ، کل میں خود اس سے مل کر بات کرلوں گی ۔۔
عندلیب نے مصطفی سے صرف اتنا بتایا کہ کل شوبھا تم سے ملے گی اور دوسرے دن رات کے بارہ بجے جب مصطفی عندلیب کے کمرے میں آیا تو اس کا چہرا اترا ہوا تھا لیکن جنون یا دیوانگی کی کیفیت نہیں تھی ۔
عندلیب : ہاں ! بیٹے کیا ہوا ؟ ملی شوبھا ؟
مصطفی : ہاں یار ملی ، اس نے مجھے ریسٹورانٹ میں کھانے پر بلایا تھا ، کھانے کے بعد اس نے خود ہی اس موضوع کو چھیڑا ، اس نے آج کپڑے بھی بہت اچھے پہنے تھے ، بہت خوب صورت لگ رہی تھی ، مجھے لگا کہ وہ مجھے ہاں بولنے والی ہے لیکن اس نے اس سے زيادہ بڑی بات کی آج مجھ سے ۔ آج مجھے لگا کہ وہ تو مجھ سے کہيں زيادہ سمجھدار ، سنجیدہ اور عقلمند ہے ۔ عندلیب ! اس نے میرا شکریہ ادا کیا کہ میں نے اس کا ساتھ دیا ، اس کا اچھا دوست بن کر رہا ، اسے اس قابل سمجھا کہ اسے چاہ سکوں ، اس نے کئی بار مجھے تھینک یو کہا ۔ آج کھانے کے بل اس نے ہی ادا کیے لیکن پھر آج مجھے اس نے سمجھایا بھی ۔ اس نے کہا کہ میں اسے بہت اچھا لگتا ہوں ، ان فیکٹ وہ مجھ سے محبت بھی کرتی ہے ، میں ایک اسمارٹ اور قابل اعتماد مرد ہوں لیکن وہ ایسا اس لیے نہیں کرسکتی کہ ہم دونوں کی تہذیب الگ ہے ، دین الگ ہے ، رہنے سہنے کے ڈھنگ الگ ہیں ۔ اس نے بتایا کہ کتنے ارمانوں سے اس کے ماں باپ نے اسے پالا پوسا ہے ، اچھی تعلیم دلائی ہے ، یہاں تک بھیجا ہے ، انہیں کتنا فخر ہے اس پر ، اسی طرح اس نے مجھے احساس دلایا کہ میرے والدین نے بھی کتنی محبتوں سے مجھے پالا ہوگا ۔ یار! جب وہ یہ باتیں بتا رہی تھی تو مجھے اپنے والدین کی بہت یاد آرہی تھی ، میرے آنکھوں میں تو آنسو تھے ۔ اس نے مجھ سے کہا : مصطفی ! ہم کتنے برے ہوں گے اگر اپنی چھوٹی سی خواہش کے لیے اپنے ماں باپ اور خاندان کے سارے ارمانوں ، ان کے مان سمان اور عزت و آبرو کا خون کردیں ، تم ایک سمجھدار اور پڑھے لکھے آدمی ہو ، بتاؤ یہ بری بات ہوگی یا نہیں ، یہ مفاد پرستی ہوگی ، کمینگی ہوگی لیکن شرافت یا سلیقہ مندی تو نہیں ہوگی نا !
   عندلیب یار ! آج اس نے میری آنکھوں پر پڑی پٹی کھول دی ، مجھے سبق مل گیا اور عندلیب سوچ رہا تھا کہ جس سبق کے لیے اسے اتنے مرحلوں سے گزرنا پڑا وہ سبق کیا اس کے والدین نے اسے اپنے گھر میں نہیں پڑھایا ہوگا ، کیا اس کے اساتذہ نےاسے مدرسے میں نہيں بتایا ہوگا ، کیا کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Wednesday, 28 December 2016

نکاح ثانی
ساگر تیمی
دالان میں وہی دس بارہ لوگ رہے ہوں گے ۔ گاؤں کے چودھری، مولوی ، کسان اور مزدور سب کی نمائندگی کسی نہ کسی طرح ہورہی تھی ۔ سب اپنی اپنی حیثيت کے مطابق ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔ مزدوروں کا ٹھکانہ وہی زمین کا فرش تھا ، کسان چوکی پر ، مولوی کے لیے کرسی تھی اور چودھری جی مسند پر ٹیک لگائے حقہ گڑگڑا رہے تھے ۔ بات امیرالاسلام کی ہی ہورہی تھی ، چودھری صاحب مزہ لے رہے تھے اور مولوی مرچ مصالحہ ملا رہا تھا ۔
چودھری : ویسے امیر صاحب  اتنے بھی بوڑھے تو نہیں ہوگئے ہیں کہ دوسری شادی نہیں کرسکتے ۔
مولوی : چودھری صاحب ! اس عمر میں نئی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے !
چودھری : اگر ایسی ہی بات ہے مولانا ! تو آپ اپنے اور ہمارے لیے بھی کوئی کمسن حسینہ کیوں نہیں دیکھتے ۔۔۔۔ اور دیر تک ٹھہاکے لگتے رہے ۔
چودھری : امیرالاسلام کو کم از کم یہ تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا ؟
مولوی : صرف بچوں پر نہيں جناب ! اثر تو سماج پر بھی پڑتا ہے ، اس عمر میں کیا شیطنت سوجھی ہے ان کو ، اب تو چھوٹی عمر کی بچیاں چاچا دادا کی عمر کے لوگوں سے گھبرا کر ہی رہیں گیں ۔
اب جیسے مزدوروں اور کسانوں کو بھی موقع ملا ۔ پلٹو کسان نے اپنی منطق رکھی ، بات یہ ہے مولوی صاحب کہ آپ جیسے ہی لوگ تو نکاح بھی پڑھائيں گے اور یہ بھی کہیں گے کہ شریعت کب منع کرتی ہے ؟ آپ تو خیر سے سمجھدار مولانا ہیں !! اس پر چودھری نے " سمجھدار" کو زرا زور دے کر ادا کیا اور پھر ٹھہاکے ہی ٹھہاکے تھے ۔ مولوی صاحب نے پہلے تو ذرا منہہ بنایا اور پھر خود بھی ٹھہاکے کا حصہ ہوگئے ۔ نتھنی مزدور نے اور بھی تگڑا دیا : بات یہ ہے حجور! کہ ہم مجدوروں کی حیشیت ہی نہیں ، امیر الاسلام ساحب کے پاش شلاحیت ہے تو وہ کررہے ہیں ، ویسے ہونے دیجیے تب پتہ چلے گا کہ کیا بیتتا ہے ان پر ۔۔۔
باتیں ہورہی تھیں ، اس بیچ چودھری صاحب کے یہاں سے چائے بھی آگئی اور اب تو جیسے اس محفل کو کم از کم ایک گھنٹہ اور کھنچ ہی جانا تھا ۔ اسی درمیان دالان سے امیرالاسلام کے منجھلے بیٹے شوکت کا گزرنا ہوا ، چودھری صاحب نے آواز دی ۔
شوکت بابو ! ارے سنیے ! مٹھائی کھلائیے ، پتہ چلا ہے کہ ایک دم سے جوان ماں آرہی ہے آپ کے گھر ! صاحب ! ہر ایک کو ایسی قسمت تھوڑی ہی ملتی ہے ! پھر سے ٹھہاکے تھے اور شوکت تیز قدموں سے سر نیچا کیے نکل بھاگے ۔
   برکت کا غصہ زیادہ خراب تھا ، ابو کو اب شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے ، یار! اب تو ہمارے بچے بڑے ہورہے ہیں ، کون سا امی مرگئی ہوئی ہیں ، یہ کس قسم کا شوق چرارہا ہے انہیں ؟
شوکت : بھیا ! گاؤں والے بھی مذاق اڑا رہے ہیں ، چودھری صاحب ، مولوی صاحب اور سب لوگ دالان میں تھے اور مزے لے رہے تھے ، ابو کو تو کسی نہ کسی طرح روکنا ہی پڑے گا ۔
برکت : وہ مانتے کب ہیں ، تمہاری بھابھی نے تو باضابطہ منع کیا لیکن پھربھی وہ نہیں مانے ۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ امی ہنگامہ کیوں نہیں کرتیں  اور نعمت ان کا ساتھ کیوں دے رہا ہے ؟
     شوکت : کیا معلوم ! امی اداس تو ضرور ہیں لیکن وہ کچھ بول نہیں رہی ہیں شاید وہ صدمے میں ہیں ۔
    ان کی باتیں جاری ہی تھیں کہ نعمت پہنچ گئے اور باتوں میں وہ بھی شامل ہوگئے ، پہلے تو انہوں نے ان کی بات سنی اور پھر کہنا شروع کیا ۔
نعمت : بات یہ ہے کہ اگر انہیں ایک اور شادی کی ضرورت ہے تو ہم انہیں روکنے والے کون ہوتے ہیں ، یہ ان کی زندگی ہے ، وہ اپنے حساب سے گزاریں ، اگروہ شادی کریں گے تو انہیں خوشی ہوگی اور ہم ان کی اولاد ہیں تو ہمیں بھی خوش ہونا چاہیے ، ہماری پرورش میں انہوں نے کون سی کمی کی ہے ؟ ہم ان کے جذبات کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں ، پہلے تو میں بھی آپ کی ہی طرح سوچتا تھا لیکن پھر مجھے لگا کہ اگر ابو کو ضرورت ہے تو ہم کون ہوتے ہيں روکنےو الے ؟
 دونوں بھائیوں نے برا سا منہہ بنایا ، نعمت کو الٹا سیدھا کوسا اور اٹھ کھڑے ہوئے ۔ چرچا پوری بستی میں ہوتا رہا ۔ جتنے منہہ اتنی باتیں ۔ ایک پر ایک لطیفے اور ایک پر ایک مسخراپن ۔ ہر محفل کی ایک ہی بات ، امیر الاسلام کی دوسری شادی !
          امیرالاسلام جانتے تھے کہ شادی ان کی مجبوری ہے ورنہ وہ گناہ میں بھی پڑسکتے ہیں ، وہ اپنی اہلیہ کو سمجھا بھی چکے تھے ، اہلیہ سمجھ بھی چکی تھیں اور چاہ بھی رہی تھیں کہ وہ ایک اور نکاح کرلیں ، جس سے نکاح ہونا تھا وہ کوئی اور نہیں ، ان کی اپنی پھوپھا زاد بیوہ بہن تھیں ، شادی کے تیسرے سال ہی زاہدہ کے شوہر کا انتقال ہوگيا تھا ، کوئی اولاد بھی نہیں تھی اور تب سے وہ ایسے ہی پڑی ہوئی تھیں ، وہ سوچ رہے تھے کہ ان کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی ، کسی گناہ میں بھی نہیں پڑیں گے اور بیوہ کی کفالت بھی ہوجائے گی ، ان کے چہرے کی چمک بھی لوٹ آئے گی ۔ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ لوگ آسانی سے نہیں مانیں گے لیکن وہ بڑے پر عزم تھے ۔ بیٹے تو آہستہ آہستہ مان بھی گئے لیکن اصل مرحلہ تب آیا جب خبر بیٹیوں کو پہنچی ۔ بڑی بیٹی تمنا نے تو گھر پر آکر دھرنا ہی دے دیا اور وہ اودھم مچایا کہ مت پوچھیے ، منجھلی کو تو اس سے کوئی خاص مطلب نہیں تھا لیکن چھوٹی بیٹی رخسار کا رویہ بڑی والی سے بھی کہیں دھماکہ خیز تھا ، وہ ایسے بھی باپ سے تھوڑی بے تکلف تھی ، آتے ہی اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا
ابو ! آپ کو تھوڑا تو ہمارا خیال کرنا چاہیے ، سب مذاق اڑا رہے ہيں ہمارا ! آپ کی عمر اب شادی کرنے کی نہیں ، اللہ اللہ کرنے کی ہے ، نماز روزہ کیجیے ، اعتکاف میں بیٹھیے ، حج کرنے جائیے ، تبلیغ میں نکلیے لیکن اللہ کے واسطے ہماری رسوائی کا یہ سب سامان تو مت کیجیے ۔ لوگ کیا کیا باتیں بنا رہے ہیں ، ہماری تو ناک میں دم ہے ۔ ہم کسی بھی صورت میں یہ شادی نہیں ہونے دیں گے ۔ یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو ! آپ تو کتنے سمجھدار تھے ! ہمیں کتنے پیار سے پالا پوسا ہے آپ نے! اب آپ کو خراب نہیں لگتا کہ ہم پر کیا کیا تیر طعنے کے برس رہے ہيں ، خود آپ کے بارے میں کیاکیا باتیں ہورہی ہیں ؟؟؟
   امیرالاسلام رخسار کی باتیں سن رہے تھے ، ان کی آنکھیں تو خاموش تھیں لیکن دل رورہا تھا ، اپنے کمرے میں آکر وہ اپنی بیوی کو دیکھتے تو وہ نیچے نگاہ کرکے رہ جاتی ، ایک بیٹا ، ایک بیوی کی خاموش رضامندی اور اپنا ارادہ اور بقیہ سب کے سب لوگوں کی مخالفت ۔ انہوں نے پھربھی نکاح کرنے کا ارادہ باندھے رکھا اور اپنا آخری فیصلہ پوری قوت سے یہ سنایا کہ جسے اعتراض ہے وہ اپنا راستہ لے سکتا ہے ، میں یہ شادی کروں گا ، چاہے جسے جو کہنا ہے کہے کہ یہ میں جانتا ہوں کہ یہ شادی کیوں ضروری ہے ۔

  بیٹیاں روپیٹ کر لوٹ گئیں ، بیٹے خاموش ہوگئے ، سماج البتہ چہ ميگوئی کرتا رہا ۔ لیکن امیر الاسلام کو جب یہ معلوم ہوا کہ زاہدہ اس شادی کے لیے تیار نہیں ہیں ، انہوں نےاب ارادہ ملتوی کردیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ اللہ کے واسطے وہ شادی کی بات کو بالکلیہ ختم کردیں تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھسک گئی ۔ وہ زير لب بدبدا رہے تھے : بے چاری کمزور بیوہ عورت ! گھٹیا سماج کے گھٹیا طنز میں آگئی !!! اور ان کی چہرے پر تفکرات کی لکیریں پھیل گئیں ۔۔۔

Saturday, 17 December 2016

غزل
ساگر تیمی
کدھر گیا وہ ملاقات میں نہیں آیا
عجیب خواب تھا کہ رات میں نہیں آيا
مجھے وہ کب سے نئی زندگی کا کہتا تھا
ہوا نکاح  تو بارات میں نہيں آیا
اسے ایمان کی دولت ملی تھی کچھ اتنی  
ستا بہت مگر حالات میں نہیں آيا
یہ کیسی مار پڑی موسموں کی قسمت پر
کہ پانی پھر سے کیوں برسات میں نہیں آیا
"فقیر " کھا گیا کتنے غریب لوگوں کو
عذاب کیوں اسی کی گھات میں نہیں آیا
 زبان اس کی کہ قینچی سے تیز چلتی تھی
زہے نصیب کہ تو بات میں نہیں آیا
مجھے بھی عشق نے ساگر بہت بلایا مگر
میں بے وقوف  خیالات میں نہیں آيا


Sunday, 20 November 2016

درد کی سوداگری
ثناءاللہ صادق تیمی
ہمارے دوست بے نام خاں کو کئی چیزيں پریشان کرتی ہیں اور ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جو چیزیں انہیں پریشان کرتی ہیں ، وہ بالواسطہ ہمیں بھی نہیں چھوڑتیں کہ بہر حال بے نام خاں ہم سے تبادلہ خیال کرتے ہی ہیں ۔ ان کے حساب سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا سیدھے طریقے سے نہیں چلتی ، کچھ نہ کچھ گڑبڑ کرتی ہی رہتی ہے ۔ سچ نہيں بولتی جھوٹ بولنے پر آمادہ رہتی ہے ، ایمانداری نہیں برتتی ، بے ایمانی سے کام لیتی رہتی ہے بلکہ المیہ تو یہ ہے کہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرتی ہے، روتی ہے تو اصلا ہنس رہی ہوتی ہے ، آنسو کے پیچھے مفاد کی دنیا آباد رہتی ہے ، چیخ کے پیچھے سودے رہتے ہیں ، ہنگامہ کے پیچھے سیاست رہتی ہے اور تو اور لوگوں کی موتوں پر بھی دنیا اس لیے روتی ہے کہ رونے سے فائدہ ہونے والا ہوتا ہے ۔
ہم نے کہا : خان صاحب ! کہیں آپ حد سے تو نہیں نکل رہے ، اس پر وہ ہنسے اور کہا کہ اے کاش ایسا ہی ہوتا ! لیکن کیا کہا جائے میرے سیدھے سادھے مولانا دوست ! دنیا ویسی ہے جیسی میں بتا رہا ہوں ۔ اب دیکھو ایران کہاں تو اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانا چاہتا تھا اور کہاں سچائی یہ تھی کہ دونوں ملکوں کے آپسی گہرے رشتے ہیں ، یہودیوں کے بڑے بڑے مراکز ہیں ایران میں ، امریکہ بہادر دہشت گردی کو دنیا سے مٹانا چاہتاتھا ، دینا کو ڈیموکریسی سکھانا چاہ رہاتھا اور کہاں صورت حال یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ جیسا آدمی صدر منتخب کیا گیا جسے بولنے تک کی تمیز نہیں۔ زبان سے بدتمیزی اور بدتہذیبی دونوں نکلتی ہے اور نفرت تو خیر کہنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم کو بھی ملک کا بہت درد ہے ، وقت بے وقت روتے ہیں اور عام جنتا کو لائن میں ایسا کھڑا کرتے ہیں کہ بے چاروں کی موت بھی آجاتی ہے ، درد اتنا ہے کہ ان کے لفظ لفظ سے نکلتا ہے لیکن وہ سجتے دھجتے ہیں کہ لاکھوں کڑوڑوں روپیہ صرف اپنے لباس پر خرچ کردیتے ہیں ۔ ویسے انہیں لوگوں کا خیال بہت ہے تبھی تو لوگ انہیں چاہتے بھی بہت ہیں !!
مسلمانوں کے بہت سے قلمکار، شاعر اور لیڈر قومی زوال پر آنسو بہاتے رہتے ہیں ، ہم ان کے آنسو کے اتنے قدران تھے کہ اکثر ان کے ساتھ خود بھی رونے لگتے تھے بلکہ عام جنتا کی مانند ہم ان سے کہیں زیادہ روتے تھے اور دل ہی دل ان کی سلامتی کی دعا کرتے تھے اور ان کی بے باکی پر رشک بھی آتا تھا ۔ یہ تو بعد میں جاکر کھلا کہ یہ زیادہ تر رونے والے تو مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں ، رونے کا پیسہ لیتے ہیں ، آہیں بھرنے کی فیس مقرر ہے ، چیخنے کا سودا کیا ہوا ہے ، ایک شاعر صاحب کہ اسٹیج پر قوم کی محبت اور زبوں حالی پر وہ وہ آنسو بہا رہے ہیں کہ یا اللہ ! خود بھی بے حال ہیں اور سامعین کا بھی رو رو کر برا حال ہے اور عالم یہ ہے کہ انہیں اس رونے کے لیے اسی غریب اور بد حال قوم کی طرف سے ایک لاکھ روپے دیے گئے ہیں ۔ ایک صاحب قلم کار ہیں ، لکھتے کیا ہیں کلیجہ نکال کر رکھ دیتے ہیں، ایک ایک لفظ سے درد پھوٹتا ہے ، آنسو رواں ہوتے ہیں ، حرف حرف غم و اندوہ کا اشاریہ نہیں اعلانیہ ہے لیکن جب اندر جائیے تو معلوم ہو کہ صاحب کی ساری شہرت اسی جذباتیت ، برانگیختگی اور درد انگیزی پر ٹکی ہے اور قوم کے درد سے ماشاءاللہ گھر اچھا خاصا آباد ہوگیا ہے ۔ حضور والا ! ایک بڑے صحافی ہیں ، اردو میں اپنا رسالہ نکالتے ہیں ، خوب چھپتا اور بکتا ہے عالی جناب کا اخبار ، زرد صحافت کی اس سے عمدہ مثال شاید ڈھونڈنے سے نہ ملے ، وہی صاحب انگریزی میں بھی لکھتے ہیں اور جب انگریزی میں لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کیا سنجیدہ آدمی ہیں ۔ اردو میں سنجیدگی سے لکھیں گے تو ملی درد کا اظہار کیسے ہوگا !!
لیڈران ہیں کہ ملت کی زبوں حالی پر ہی ان کی لیڈری قائم ہے ، اس لیے آنسو خوب بہاتے ہیں لیکن ملی کسی خدمت کے لیے کبھی کوشاں دکھائی نہیں دیتے ۔ یہ سوداگری کا وقت ہے ، کرایے پر عربوں کے یہاں رونے کے لیے لوگ بلائے جاتے تھے ، یہاں مختلف پیشہ کے لوگ ہیں لیکن اصلا ان کا پیشہ وہی ملی درد ہے ، اس درد میں اتنا خسارہ ضرور ہے کہ انجمن میں رونا پڑتا ہے لیکن فائدے اتنے ہیں کہ آنسو خود بخود جاری ہو جاتے ہیں ۔ ویسے صرف درد کی نہیں حوصلے کی بھی سوداگری ہوتی ہے ، ایک عالم باکمال جب بولتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو جائے گا اور جب اسٹیج سے اترتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی ہیئت بدلتے ہیں کہ کہیں کوئی پہچان نہ لے ، قوم کو وہ حوصلہ دیتے ہیں کہ پورا پنڈال نعرہ تکبیر سے گونج جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ابھی کفرستان میں اسلامستان کی فضا پیدا ہو جائے گی ۔

مولوی صاحب ! آپ گدھے ہیں ، آپ کو رونا آتا ہی نہیں ، جوش دلانا بھی نہیں جانتے ، دعویداری بھی نہیں آتی ، چیخنے چلانے کی پریکٹس کافی کمزور ہے اور پھر سوچتے ہیں کہ اس میدان میں کریئر بنے گا تو آپ کیا سچ مچ میں گدھے نہیں ہیں ؟ یہ قوم مسلمان ہے ، گوشت خور قوم ہے ، جذبات اس کے سرد نہیں ، بھڑکائیے اور اونچائی پر پہنچتے جائیے ۔ علم ، سنجیدگی ، حکمت ، شعور، اخلاص اور صفائی لے کر نکلیے گا بے موت مر جائیے گا ۔ 

Friday, 3 June 2016

چلو اک بار پھر سے بچپنے میں لوٹ جائيں ہم
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
میری آغوش میں ایک پیارا سا بچہ تھا ، بے انتہا خوب صورت ، صحت مند اور کافی جاذب لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔ میں اس کوشش میں کہ وہ مسکرائے اپنے کئی نسخے آزما چکا تھا لیکن اس بچے کے چہرے پر تجسس کی لکیریں تھیں جو گھٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔ میرے ساتھ میں کھڑے میرے دوست بے نام خاں نے ایک قدرے نحیف قہقہہ لگایا اور کہا : بیٹے ! اگر تم نے چائلڈ سیکولوجی ( بچوں کی نفسیات ) پڑھی ہوتی تو تمہیں  معلوم ہوتا کہ یہ بچہ ابھی تمہیں پہچاننے کے پہلے مرحلے سے ہوکر دوسرے مرحلے میں آیا ہے ، پہلے خوف کی کیفیت تھی ، اب دیکھو تجسس کی کیفیت بن گئی ہے اور دوچار ملاقات ہوگی تو ہوتے ہوتے مانوسیت اورمحبت کی کیفیت پیدا ہوجائے گی جب بچہ تمہیں اپنا سمجھنے لگے گا اور اس کے بعد ہمارے دوست کی چائلڈ اور ایجوکیشن سیکولوجی پہ زبردست تقریر چل نکلی ، بی ۔ ایڈ کے زمانے کی ساری محنت انہوں نے ہم پر انڈیل دیا اور ہم استفادے کے بغیر رہ بھی نہ سکے !!!
انسانی زندگی میں بچپن سے جڑی یادیں بہت معنی رکھتی ہیں ۔ ناسٹلجیا میں بچپن کا حصہ زيادہ ہی ہوتا ہے ۔ بچپن کو ہم معصومیت ، الھڑپن ، لاپروائی ، بے ریائی ، صدق ،  فطرت اورچھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے  یاد کرتے ہیں ۔ شعراء ، ادباء اور مفکرین کے یہاں بچپن کی طرف پھر سے لوٹ چلنے کی حسرت مختلف اندازميں جلوہ گر ہوتی ہے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کی آپ بیتی میں جگہ جگہ جب یہ مصرعہ آتا تھا تو ہم کب سمجھتے تھے کہ مولانا کے یہاں یہ شدت کیوں ہے ؟
جوانی لے کے لوٹا دے میرا بچپن مجھے کوئی
بچپن بالعموم خوب صورت ہی ہوتا ہے ، اس محدود دنیا کی دانائیاں اور نادانیاں بڑی پر لطف ہوتی ہیں ، خواہشیں بنا پر کے اڑتی ہیں ، امنگوں کاشاہین پرواز بھرتا رہتا ہے ، مصلحتیں ، حکمتیں ، سمجھوتے راستے میں نہیں آتے لیکن دیکھتے دیکھتے یہ کب گزر جاتا ہے اور ہم کب بڑے ہوجاتے ہیں ، پتہ ہی نہیں چلتا اور پھر بہت جلد بڑے ہونے کی حسرت پھر سے بچہ ہوجانے کی حسرت میں بدل جاتی ہے ۔ منور رانا کا شعر ہے ۔
میری خواہش کہ میں پھر فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
لیکن عربی اخبار میں چھپی ایک چھوٹی سی تحریر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا ، مضمون نگار کا ماننا تھا کہ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتےہیں ہمارا تجسس ، سوال کرنے کی للک ، سب کچھ جان لینے کی دھن ، سب کچھ اپنا لینے کی خواہش مدھم پڑتی جاتی ہے اور ہم تخلیقی قوت سے انجماد کی طرف بڑھنے لگتے ہیں ، ان کے حساب سے بچپنہ صرف معصومیت سے عبارت نہیں ہوتا ، بچپنہ تو امنگ ، تخلیقیت ، لگن اور رکنے کا نام نہ لینے والے سوالات سے عبارت  ہوتا ہے اور یہی اوصاف در حقیقت زندہ قوموں کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں ، مضمون نگار نے پوری عرب قوم سے گزارش کی تھی کہ چلیے ہم پھر سے بچے ہو جاتے ہیں ، جستجو کی طرف لوٹ چلتے ہیں ، سوالات کرتے ہیں ، جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر پھر سوالات کرتے ہیں ، ساری بلندیاں حاصل کرلینے کی کوشش کرتے ہیں ، جھوٹ سچ کے چکر میں پڑے بغیر اپنے ہاتھوں سے اپنی کائنات بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، کئی گھروندوں میں کوئی نہ کوئی گھر نکل آئے گا ۔
مضمون کو پڑھتے ہوئے کئی سالوں پہلے کا اپنا ایک واقعہ ہمیں شدت سے ياد آیا ، ہوا یوں کہ ہمیں اپنے ایک بھتیجے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا تھا ، اب جو راستے بھر اس نے سوالات پوچھے ہیں تو جوابات تھک گئے ہیں اورکئی بار جھنجھلا گیا ہوں ، لیکن اسے لے بھی جانا ہے سو ناراض نہیں کرسکتا اوریوں برداشت کرنا پڑا ہے ۔
ابو !
ہاں بیٹے !
یہ گھر ہے ؟
 ہاں بیٹے !
اور اس کے آگے وہ کالا کالا کیا ہے ؟
بھینس ہے بیٹا !
بھینس ایسا ہوتا ہے ؟
ہاں بیٹے !
اچھا اوروہ سفید والا کیا ہے ؟
وہ گدھا ہے بیٹا !
ابو وہ کالا کیوں نہیں ہے ؟
بیٹے ! وہ اس لیے کہ وہ بھینس نہیں ہے !
اچھا تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔ چچا بھینس ہیں وہ تو کالے ہیں
نہیں بیٹا ! وہ تو آپ کے انکل ہیں
پر ہیں تو وہ کالے !
  اور سوالوں کی کوئی انتہا نہیں ، وہ تو کہیے کہ وہ جگہ آگئی اور ہم بچ گئے ۔
رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے " انما شفاء العی السوال " نہ آئے تو پوچھنا چاہیے ، بہت سارے معاملوں میں شریعت کا بھی مطالبہ ہم سے یہی ہے کہ ہم پھر سے بچپن والی صفتیں اپنے اندر پیدا کرلیں جیسے نہ جانیں تو پوچھیں ، جیسے کسی کے لیے کینہ کپٹ نہ رکھیں جیسے بچپن میں نہ رکھتے تھے ، جیسے کبھی ان بن ہوجائے تو معاف کردیں ، جلد بھول جائيں جیسے بچپن میں کرتے تھے کہ ابھی لڑائی کی اور ابھی پھر مل گئے ، لا یحل لامری مسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث ( مسلمان کےلیے جائزنہیں کہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے ) جو کام کریں دل سے کریں ، بے ریائی سے کریں جیسے بچپن میں کوئی دکھلاوا نہ تھا ۔ اپنی سلیم فطرت پر جئیں جیسے بچپن میں تھے " کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ "  کائنات کو خوب صورت کرنے کی کوشش کریں ، دوسروں کو گرائے بغیر خود آگے بڑھنے کے جتن کریں جیسے بچپن میں کرتے تھے ۔ سچ پوچھیے تو ہمیں اس بچپنے کی آج بہت ضرورت ہے جب دنیا شیطنت کے چنگل میں ہے ، تخلیقیت پر انجماد کے بادل ہیں ، امنگوں کے پر ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں اور خواہشوں میں بلندی کی بجائے پستی آگئی ہے ۔ جب شاعر یہ تک کہنے لگا ہے !
مرے دل کے کسی کونےمیں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دینا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
راجیش ریڈی
اس بچپنے کی طرف آئیے لوٹ چلیں جس میں تخلیقیت تھی ، امنگوں کے پرندے تھے ، سب کچھ حاصل کرلینے کاجذبہ تھا ، کائنات کو خوب صورت دیکھنے اور کرنے کی تمنا تھی ، ہمیں اس تخلیقیت کی آج بہت ضرورت ہے ۔ فرحت احساس کا بڑا پیارا شعر ہے
بچا کے لائیں کسی بھی یتیم بچے کو
اور اس کے ہاتھ سے تخلیق کائنات کریں
چھل کپٹ کی اس ماری دنیا میں اگر ہمارے اندر بچوں کی معصومیت اور تخلیقیت کے عناصر عود کر آئیں تو ہماری زندگی میں ایک بار پھر سے محبت کے گلاب کھل سکتے ہيں ، حسن کی کلیاں چٹک سکتی ہیں ، مسرت کی نسیم چل سکتی ہے ، ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں اور دینا اور بھی زيادہ حسین ہو سکتی ہے ۔ ندا فاضلی کا شعر ہے ۔
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ  بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
آئیے خود کو ہم بچپنے کے حوالے کردیتے ہیں ، مرنے سے پہلے پہلے تک اس بچپنے کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور زندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والی فرحت کی داغ بیل ڈالتے ہیں ۔