Wednesday, 28 December 2016

نکاح ثانی
ساگر تیمی
دالان میں وہی دس بارہ لوگ رہے ہوں گے ۔ گاؤں کے چودھری، مولوی ، کسان اور مزدور سب کی نمائندگی کسی نہ کسی طرح ہورہی تھی ۔ سب اپنی اپنی حیثيت کے مطابق ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔ مزدوروں کا ٹھکانہ وہی زمین کا فرش تھا ، کسان چوکی پر ، مولوی کے لیے کرسی تھی اور چودھری جی مسند پر ٹیک لگائے حقہ گڑگڑا رہے تھے ۔ بات امیرالاسلام کی ہی ہورہی تھی ، چودھری صاحب مزہ لے رہے تھے اور مولوی مرچ مصالحہ ملا رہا تھا ۔
چودھری : ویسے امیر صاحب  اتنے بھی بوڑھے تو نہیں ہوگئے ہیں کہ دوسری شادی نہیں کرسکتے ۔
مولوی : چودھری صاحب ! اس عمر میں نئی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے !
چودھری : اگر ایسی ہی بات ہے مولانا ! تو آپ اپنے اور ہمارے لیے بھی کوئی کمسن حسینہ کیوں نہیں دیکھتے ۔۔۔۔ اور دیر تک ٹھہاکے لگتے رہے ۔
چودھری : امیرالاسلام کو کم از کم یہ تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا ؟
مولوی : صرف بچوں پر نہيں جناب ! اثر تو سماج پر بھی پڑتا ہے ، اس عمر میں کیا شیطنت سوجھی ہے ان کو ، اب تو چھوٹی عمر کی بچیاں چاچا دادا کی عمر کے لوگوں سے گھبرا کر ہی رہیں گیں ۔
اب جیسے مزدوروں اور کسانوں کو بھی موقع ملا ۔ پلٹو کسان نے اپنی منطق رکھی ، بات یہ ہے مولوی صاحب کہ آپ جیسے ہی لوگ تو نکاح بھی پڑھائيں گے اور یہ بھی کہیں گے کہ شریعت کب منع کرتی ہے ؟ آپ تو خیر سے سمجھدار مولانا ہیں !! اس پر چودھری نے " سمجھدار" کو زرا زور دے کر ادا کیا اور پھر ٹھہاکے ہی ٹھہاکے تھے ۔ مولوی صاحب نے پہلے تو ذرا منہہ بنایا اور پھر خود بھی ٹھہاکے کا حصہ ہوگئے ۔ نتھنی مزدور نے اور بھی تگڑا دیا : بات یہ ہے حجور! کہ ہم مجدوروں کی حیشیت ہی نہیں ، امیر الاسلام ساحب کے پاش شلاحیت ہے تو وہ کررہے ہیں ، ویسے ہونے دیجیے تب پتہ چلے گا کہ کیا بیتتا ہے ان پر ۔۔۔
باتیں ہورہی تھیں ، اس بیچ چودھری صاحب کے یہاں سے چائے بھی آگئی اور اب تو جیسے اس محفل کو کم از کم ایک گھنٹہ اور کھنچ ہی جانا تھا ۔ اسی درمیان دالان سے امیرالاسلام کے منجھلے بیٹے شوکت کا گزرنا ہوا ، چودھری صاحب نے آواز دی ۔
شوکت بابو ! ارے سنیے ! مٹھائی کھلائیے ، پتہ چلا ہے کہ ایک دم سے جوان ماں آرہی ہے آپ کے گھر ! صاحب ! ہر ایک کو ایسی قسمت تھوڑی ہی ملتی ہے ! پھر سے ٹھہاکے تھے اور شوکت تیز قدموں سے سر نیچا کیے نکل بھاگے ۔
   برکت کا غصہ زیادہ خراب تھا ، ابو کو اب شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے ، یار! اب تو ہمارے بچے بڑے ہورہے ہیں ، کون سا امی مرگئی ہوئی ہیں ، یہ کس قسم کا شوق چرارہا ہے انہیں ؟
شوکت : بھیا ! گاؤں والے بھی مذاق اڑا رہے ہیں ، چودھری صاحب ، مولوی صاحب اور سب لوگ دالان میں تھے اور مزے لے رہے تھے ، ابو کو تو کسی نہ کسی طرح روکنا ہی پڑے گا ۔
برکت : وہ مانتے کب ہیں ، تمہاری بھابھی نے تو باضابطہ منع کیا لیکن پھربھی وہ نہیں مانے ۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ امی ہنگامہ کیوں نہیں کرتیں  اور نعمت ان کا ساتھ کیوں دے رہا ہے ؟
     شوکت : کیا معلوم ! امی اداس تو ضرور ہیں لیکن وہ کچھ بول نہیں رہی ہیں شاید وہ صدمے میں ہیں ۔
    ان کی باتیں جاری ہی تھیں کہ نعمت پہنچ گئے اور باتوں میں وہ بھی شامل ہوگئے ، پہلے تو انہوں نے ان کی بات سنی اور پھر کہنا شروع کیا ۔
نعمت : بات یہ ہے کہ اگر انہیں ایک اور شادی کی ضرورت ہے تو ہم انہیں روکنے والے کون ہوتے ہیں ، یہ ان کی زندگی ہے ، وہ اپنے حساب سے گزاریں ، اگروہ شادی کریں گے تو انہیں خوشی ہوگی اور ہم ان کی اولاد ہیں تو ہمیں بھی خوش ہونا چاہیے ، ہماری پرورش میں انہوں نے کون سی کمی کی ہے ؟ ہم ان کے جذبات کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں ، پہلے تو میں بھی آپ کی ہی طرح سوچتا تھا لیکن پھر مجھے لگا کہ اگر ابو کو ضرورت ہے تو ہم کون ہوتے ہيں روکنےو الے ؟
 دونوں بھائیوں نے برا سا منہہ بنایا ، نعمت کو الٹا سیدھا کوسا اور اٹھ کھڑے ہوئے ۔ چرچا پوری بستی میں ہوتا رہا ۔ جتنے منہہ اتنی باتیں ۔ ایک پر ایک لطیفے اور ایک پر ایک مسخراپن ۔ ہر محفل کی ایک ہی بات ، امیر الاسلام کی دوسری شادی !
          امیرالاسلام جانتے تھے کہ شادی ان کی مجبوری ہے ورنہ وہ گناہ میں بھی پڑسکتے ہیں ، وہ اپنی اہلیہ کو سمجھا بھی چکے تھے ، اہلیہ سمجھ بھی چکی تھیں اور چاہ بھی رہی تھیں کہ وہ ایک اور نکاح کرلیں ، جس سے نکاح ہونا تھا وہ کوئی اور نہیں ، ان کی اپنی پھوپھا زاد بیوہ بہن تھیں ، شادی کے تیسرے سال ہی زاہدہ کے شوہر کا انتقال ہوگيا تھا ، کوئی اولاد بھی نہیں تھی اور تب سے وہ ایسے ہی پڑی ہوئی تھیں ، وہ سوچ رہے تھے کہ ان کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی ، کسی گناہ میں بھی نہیں پڑیں گے اور بیوہ کی کفالت بھی ہوجائے گی ، ان کے چہرے کی چمک بھی لوٹ آئے گی ۔ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ لوگ آسانی سے نہیں مانیں گے لیکن وہ بڑے پر عزم تھے ۔ بیٹے تو آہستہ آہستہ مان بھی گئے لیکن اصل مرحلہ تب آیا جب خبر بیٹیوں کو پہنچی ۔ بڑی بیٹی تمنا نے تو گھر پر آکر دھرنا ہی دے دیا اور وہ اودھم مچایا کہ مت پوچھیے ، منجھلی کو تو اس سے کوئی خاص مطلب نہیں تھا لیکن چھوٹی بیٹی رخسار کا رویہ بڑی والی سے بھی کہیں دھماکہ خیز تھا ، وہ ایسے بھی باپ سے تھوڑی بے تکلف تھی ، آتے ہی اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا
ابو ! آپ کو تھوڑا تو ہمارا خیال کرنا چاہیے ، سب مذاق اڑا رہے ہيں ہمارا ! آپ کی عمر اب شادی کرنے کی نہیں ، اللہ اللہ کرنے کی ہے ، نماز روزہ کیجیے ، اعتکاف میں بیٹھیے ، حج کرنے جائیے ، تبلیغ میں نکلیے لیکن اللہ کے واسطے ہماری رسوائی کا یہ سب سامان تو مت کیجیے ۔ لوگ کیا کیا باتیں بنا رہے ہیں ، ہماری تو ناک میں دم ہے ۔ ہم کسی بھی صورت میں یہ شادی نہیں ہونے دیں گے ۔ یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو ! آپ تو کتنے سمجھدار تھے ! ہمیں کتنے پیار سے پالا پوسا ہے آپ نے! اب آپ کو خراب نہیں لگتا کہ ہم پر کیا کیا تیر طعنے کے برس رہے ہيں ، خود آپ کے بارے میں کیاکیا باتیں ہورہی ہیں ؟؟؟
   امیرالاسلام رخسار کی باتیں سن رہے تھے ، ان کی آنکھیں تو خاموش تھیں لیکن دل رورہا تھا ، اپنے کمرے میں آکر وہ اپنی بیوی کو دیکھتے تو وہ نیچے نگاہ کرکے رہ جاتی ، ایک بیٹا ، ایک بیوی کی خاموش رضامندی اور اپنا ارادہ اور بقیہ سب کے سب لوگوں کی مخالفت ۔ انہوں نے پھربھی نکاح کرنے کا ارادہ باندھے رکھا اور اپنا آخری فیصلہ پوری قوت سے یہ سنایا کہ جسے اعتراض ہے وہ اپنا راستہ لے سکتا ہے ، میں یہ شادی کروں گا ، چاہے جسے جو کہنا ہے کہے کہ یہ میں جانتا ہوں کہ یہ شادی کیوں ضروری ہے ۔

  بیٹیاں روپیٹ کر لوٹ گئیں ، بیٹے خاموش ہوگئے ، سماج البتہ چہ ميگوئی کرتا رہا ۔ لیکن امیر الاسلام کو جب یہ معلوم ہوا کہ زاہدہ اس شادی کے لیے تیار نہیں ہیں ، انہوں نےاب ارادہ ملتوی کردیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ اللہ کے واسطے وہ شادی کی بات کو بالکلیہ ختم کردیں تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھسک گئی ۔ وہ زير لب بدبدا رہے تھے : بے چاری کمزور بیوہ عورت ! گھٹیا سماج کے گھٹیا طنز میں آگئی !!! اور ان کی چہرے پر تفکرات کی لکیریں پھیل گئیں ۔۔۔

Saturday, 17 December 2016

غزل
ساگر تیمی
کدھر گیا وہ ملاقات میں نہیں آیا
عجیب خواب تھا کہ رات میں نہیں آيا
مجھے وہ کب سے نئی زندگی کا کہتا تھا
ہوا نکاح  تو بارات میں نہيں آیا
اسے ایمان کی دولت ملی تھی کچھ اتنی  
ستا بہت مگر حالات میں نہیں آيا
یہ کیسی مار پڑی موسموں کی قسمت پر
کہ پانی پھر سے کیوں برسات میں نہیں آیا
"فقیر " کھا گیا کتنے غریب لوگوں کو
عذاب کیوں اسی کی گھات میں نہیں آیا
 زبان اس کی کہ قینچی سے تیز چلتی تھی
زہے نصیب کہ تو بات میں نہیں آیا
مجھے بھی عشق نے ساگر بہت بلایا مگر
میں بے وقوف  خیالات میں نہیں آيا


Sunday, 20 November 2016

درد کی سوداگری
ثناءاللہ صادق تیمی
ہمارے دوست بے نام خاں کو کئی چیزيں پریشان کرتی ہیں اور ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جو چیزیں انہیں پریشان کرتی ہیں ، وہ بالواسطہ ہمیں بھی نہیں چھوڑتیں کہ بہر حال بے نام خاں ہم سے تبادلہ خیال کرتے ہی ہیں ۔ ان کے حساب سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا سیدھے طریقے سے نہیں چلتی ، کچھ نہ کچھ گڑبڑ کرتی ہی رہتی ہے ۔ سچ نہيں بولتی جھوٹ بولنے پر آمادہ رہتی ہے ، ایمانداری نہیں برتتی ، بے ایمانی سے کام لیتی رہتی ہے بلکہ المیہ تو یہ ہے کہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرتی ہے، روتی ہے تو اصلا ہنس رہی ہوتی ہے ، آنسو کے پیچھے مفاد کی دنیا آباد رہتی ہے ، چیخ کے پیچھے سودے رہتے ہیں ، ہنگامہ کے پیچھے سیاست رہتی ہے اور تو اور لوگوں کی موتوں پر بھی دنیا اس لیے روتی ہے کہ رونے سے فائدہ ہونے والا ہوتا ہے ۔
ہم نے کہا : خان صاحب ! کہیں آپ حد سے تو نہیں نکل رہے ، اس پر وہ ہنسے اور کہا کہ اے کاش ایسا ہی ہوتا ! لیکن کیا کہا جائے میرے سیدھے سادھے مولانا دوست ! دنیا ویسی ہے جیسی میں بتا رہا ہوں ۔ اب دیکھو ایران کہاں تو اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانا چاہتا تھا اور کہاں سچائی یہ تھی کہ دونوں ملکوں کے آپسی گہرے رشتے ہیں ، یہودیوں کے بڑے بڑے مراکز ہیں ایران میں ، امریکہ بہادر دہشت گردی کو دنیا سے مٹانا چاہتاتھا ، دینا کو ڈیموکریسی سکھانا چاہ رہاتھا اور کہاں صورت حال یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ جیسا آدمی صدر منتخب کیا گیا جسے بولنے تک کی تمیز نہیں۔ زبان سے بدتمیزی اور بدتہذیبی دونوں نکلتی ہے اور نفرت تو خیر کہنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم کو بھی ملک کا بہت درد ہے ، وقت بے وقت روتے ہیں اور عام جنتا کو لائن میں ایسا کھڑا کرتے ہیں کہ بے چاروں کی موت بھی آجاتی ہے ، درد اتنا ہے کہ ان کے لفظ لفظ سے نکلتا ہے لیکن وہ سجتے دھجتے ہیں کہ لاکھوں کڑوڑوں روپیہ صرف اپنے لباس پر خرچ کردیتے ہیں ۔ ویسے انہیں لوگوں کا خیال بہت ہے تبھی تو لوگ انہیں چاہتے بھی بہت ہیں !!
مسلمانوں کے بہت سے قلمکار، شاعر اور لیڈر قومی زوال پر آنسو بہاتے رہتے ہیں ، ہم ان کے آنسو کے اتنے قدران تھے کہ اکثر ان کے ساتھ خود بھی رونے لگتے تھے بلکہ عام جنتا کی مانند ہم ان سے کہیں زیادہ روتے تھے اور دل ہی دل ان کی سلامتی کی دعا کرتے تھے اور ان کی بے باکی پر رشک بھی آتا تھا ۔ یہ تو بعد میں جاکر کھلا کہ یہ زیادہ تر رونے والے تو مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں ، رونے کا پیسہ لیتے ہیں ، آہیں بھرنے کی فیس مقرر ہے ، چیخنے کا سودا کیا ہوا ہے ، ایک شاعر صاحب کہ اسٹیج پر قوم کی محبت اور زبوں حالی پر وہ وہ آنسو بہا رہے ہیں کہ یا اللہ ! خود بھی بے حال ہیں اور سامعین کا بھی رو رو کر برا حال ہے اور عالم یہ ہے کہ انہیں اس رونے کے لیے اسی غریب اور بد حال قوم کی طرف سے ایک لاکھ روپے دیے گئے ہیں ۔ ایک صاحب قلم کار ہیں ، لکھتے کیا ہیں کلیجہ نکال کر رکھ دیتے ہیں، ایک ایک لفظ سے درد پھوٹتا ہے ، آنسو رواں ہوتے ہیں ، حرف حرف غم و اندوہ کا اشاریہ نہیں اعلانیہ ہے لیکن جب اندر جائیے تو معلوم ہو کہ صاحب کی ساری شہرت اسی جذباتیت ، برانگیختگی اور درد انگیزی پر ٹکی ہے اور قوم کے درد سے ماشاءاللہ گھر اچھا خاصا آباد ہوگیا ہے ۔ حضور والا ! ایک بڑے صحافی ہیں ، اردو میں اپنا رسالہ نکالتے ہیں ، خوب چھپتا اور بکتا ہے عالی جناب کا اخبار ، زرد صحافت کی اس سے عمدہ مثال شاید ڈھونڈنے سے نہ ملے ، وہی صاحب انگریزی میں بھی لکھتے ہیں اور جب انگریزی میں لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کیا سنجیدہ آدمی ہیں ۔ اردو میں سنجیدگی سے لکھیں گے تو ملی درد کا اظہار کیسے ہوگا !!
لیڈران ہیں کہ ملت کی زبوں حالی پر ہی ان کی لیڈری قائم ہے ، اس لیے آنسو خوب بہاتے ہیں لیکن ملی کسی خدمت کے لیے کبھی کوشاں دکھائی نہیں دیتے ۔ یہ سوداگری کا وقت ہے ، کرایے پر عربوں کے یہاں رونے کے لیے لوگ بلائے جاتے تھے ، یہاں مختلف پیشہ کے لوگ ہیں لیکن اصلا ان کا پیشہ وہی ملی درد ہے ، اس درد میں اتنا خسارہ ضرور ہے کہ انجمن میں رونا پڑتا ہے لیکن فائدے اتنے ہیں کہ آنسو خود بخود جاری ہو جاتے ہیں ۔ ویسے صرف درد کی نہیں حوصلے کی بھی سوداگری ہوتی ہے ، ایک عالم باکمال جب بولتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو جائے گا اور جب اسٹیج سے اترتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی ہیئت بدلتے ہیں کہ کہیں کوئی پہچان نہ لے ، قوم کو وہ حوصلہ دیتے ہیں کہ پورا پنڈال نعرہ تکبیر سے گونج جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ابھی کفرستان میں اسلامستان کی فضا پیدا ہو جائے گی ۔

مولوی صاحب ! آپ گدھے ہیں ، آپ کو رونا آتا ہی نہیں ، جوش دلانا بھی نہیں جانتے ، دعویداری بھی نہیں آتی ، چیخنے چلانے کی پریکٹس کافی کمزور ہے اور پھر سوچتے ہیں کہ اس میدان میں کریئر بنے گا تو آپ کیا سچ مچ میں گدھے نہیں ہیں ؟ یہ قوم مسلمان ہے ، گوشت خور قوم ہے ، جذبات اس کے سرد نہیں ، بھڑکائیے اور اونچائی پر پہنچتے جائیے ۔ علم ، سنجیدگی ، حکمت ، شعور، اخلاص اور صفائی لے کر نکلیے گا بے موت مر جائیے گا ۔ 

Friday, 3 June 2016

چلو اک بار پھر سے بچپنے میں لوٹ جائيں ہم
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
میری آغوش میں ایک پیارا سا بچہ تھا ، بے انتہا خوب صورت ، صحت مند اور کافی جاذب لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔ میں اس کوشش میں کہ وہ مسکرائے اپنے کئی نسخے آزما چکا تھا لیکن اس بچے کے چہرے پر تجسس کی لکیریں تھیں جو گھٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔ میرے ساتھ میں کھڑے میرے دوست بے نام خاں نے ایک قدرے نحیف قہقہہ لگایا اور کہا : بیٹے ! اگر تم نے چائلڈ سیکولوجی ( بچوں کی نفسیات ) پڑھی ہوتی تو تمہیں  معلوم ہوتا کہ یہ بچہ ابھی تمہیں پہچاننے کے پہلے مرحلے سے ہوکر دوسرے مرحلے میں آیا ہے ، پہلے خوف کی کیفیت تھی ، اب دیکھو تجسس کی کیفیت بن گئی ہے اور دوچار ملاقات ہوگی تو ہوتے ہوتے مانوسیت اورمحبت کی کیفیت پیدا ہوجائے گی جب بچہ تمہیں اپنا سمجھنے لگے گا اور اس کے بعد ہمارے دوست کی چائلڈ اور ایجوکیشن سیکولوجی پہ زبردست تقریر چل نکلی ، بی ۔ ایڈ کے زمانے کی ساری محنت انہوں نے ہم پر انڈیل دیا اور ہم استفادے کے بغیر رہ بھی نہ سکے !!!
انسانی زندگی میں بچپن سے جڑی یادیں بہت معنی رکھتی ہیں ۔ ناسٹلجیا میں بچپن کا حصہ زيادہ ہی ہوتا ہے ۔ بچپن کو ہم معصومیت ، الھڑپن ، لاپروائی ، بے ریائی ، صدق ،  فطرت اورچھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے  یاد کرتے ہیں ۔ شعراء ، ادباء اور مفکرین کے یہاں بچپن کی طرف پھر سے لوٹ چلنے کی حسرت مختلف اندازميں جلوہ گر ہوتی ہے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کی آپ بیتی میں جگہ جگہ جب یہ مصرعہ آتا تھا تو ہم کب سمجھتے تھے کہ مولانا کے یہاں یہ شدت کیوں ہے ؟
جوانی لے کے لوٹا دے میرا بچپن مجھے کوئی
بچپن بالعموم خوب صورت ہی ہوتا ہے ، اس محدود دنیا کی دانائیاں اور نادانیاں بڑی پر لطف ہوتی ہیں ، خواہشیں بنا پر کے اڑتی ہیں ، امنگوں کاشاہین پرواز بھرتا رہتا ہے ، مصلحتیں ، حکمتیں ، سمجھوتے راستے میں نہیں آتے لیکن دیکھتے دیکھتے یہ کب گزر جاتا ہے اور ہم کب بڑے ہوجاتے ہیں ، پتہ ہی نہیں چلتا اور پھر بہت جلد بڑے ہونے کی حسرت پھر سے بچہ ہوجانے کی حسرت میں بدل جاتی ہے ۔ منور رانا کا شعر ہے ۔
میری خواہش کہ میں پھر فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
لیکن عربی اخبار میں چھپی ایک چھوٹی سی تحریر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا ، مضمون نگار کا ماننا تھا کہ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتےہیں ہمارا تجسس ، سوال کرنے کی للک ، سب کچھ جان لینے کی دھن ، سب کچھ اپنا لینے کی خواہش مدھم پڑتی جاتی ہے اور ہم تخلیقی قوت سے انجماد کی طرف بڑھنے لگتے ہیں ، ان کے حساب سے بچپنہ صرف معصومیت سے عبارت نہیں ہوتا ، بچپنہ تو امنگ ، تخلیقیت ، لگن اور رکنے کا نام نہ لینے والے سوالات سے عبارت  ہوتا ہے اور یہی اوصاف در حقیقت زندہ قوموں کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں ، مضمون نگار نے پوری عرب قوم سے گزارش کی تھی کہ چلیے ہم پھر سے بچے ہو جاتے ہیں ، جستجو کی طرف لوٹ چلتے ہیں ، سوالات کرتے ہیں ، جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر پھر سوالات کرتے ہیں ، ساری بلندیاں حاصل کرلینے کی کوشش کرتے ہیں ، جھوٹ سچ کے چکر میں پڑے بغیر اپنے ہاتھوں سے اپنی کائنات بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، کئی گھروندوں میں کوئی نہ کوئی گھر نکل آئے گا ۔
مضمون کو پڑھتے ہوئے کئی سالوں پہلے کا اپنا ایک واقعہ ہمیں شدت سے ياد آیا ، ہوا یوں کہ ہمیں اپنے ایک بھتیجے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا تھا ، اب جو راستے بھر اس نے سوالات پوچھے ہیں تو جوابات تھک گئے ہیں اورکئی بار جھنجھلا گیا ہوں ، لیکن اسے لے بھی جانا ہے سو ناراض نہیں کرسکتا اوریوں برداشت کرنا پڑا ہے ۔
ابو !
ہاں بیٹے !
یہ گھر ہے ؟
 ہاں بیٹے !
اور اس کے آگے وہ کالا کالا کیا ہے ؟
بھینس ہے بیٹا !
بھینس ایسا ہوتا ہے ؟
ہاں بیٹے !
اچھا اوروہ سفید والا کیا ہے ؟
وہ گدھا ہے بیٹا !
ابو وہ کالا کیوں نہیں ہے ؟
بیٹے ! وہ اس لیے کہ وہ بھینس نہیں ہے !
اچھا تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔ چچا بھینس ہیں وہ تو کالے ہیں
نہیں بیٹا ! وہ تو آپ کے انکل ہیں
پر ہیں تو وہ کالے !
  اور سوالوں کی کوئی انتہا نہیں ، وہ تو کہیے کہ وہ جگہ آگئی اور ہم بچ گئے ۔
رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے " انما شفاء العی السوال " نہ آئے تو پوچھنا چاہیے ، بہت سارے معاملوں میں شریعت کا بھی مطالبہ ہم سے یہی ہے کہ ہم پھر سے بچپن والی صفتیں اپنے اندر پیدا کرلیں جیسے نہ جانیں تو پوچھیں ، جیسے کسی کے لیے کینہ کپٹ نہ رکھیں جیسے بچپن میں نہ رکھتے تھے ، جیسے کبھی ان بن ہوجائے تو معاف کردیں ، جلد بھول جائيں جیسے بچپن میں کرتے تھے کہ ابھی لڑائی کی اور ابھی پھر مل گئے ، لا یحل لامری مسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث ( مسلمان کےلیے جائزنہیں کہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے ) جو کام کریں دل سے کریں ، بے ریائی سے کریں جیسے بچپن میں کوئی دکھلاوا نہ تھا ۔ اپنی سلیم فطرت پر جئیں جیسے بچپن میں تھے " کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ "  کائنات کو خوب صورت کرنے کی کوشش کریں ، دوسروں کو گرائے بغیر خود آگے بڑھنے کے جتن کریں جیسے بچپن میں کرتے تھے ۔ سچ پوچھیے تو ہمیں اس بچپنے کی آج بہت ضرورت ہے جب دنیا شیطنت کے چنگل میں ہے ، تخلیقیت پر انجماد کے بادل ہیں ، امنگوں کے پر ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں اور خواہشوں میں بلندی کی بجائے پستی آگئی ہے ۔ جب شاعر یہ تک کہنے لگا ہے !
مرے دل کے کسی کونےمیں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دینا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
راجیش ریڈی
اس بچپنے کی طرف آئیے لوٹ چلیں جس میں تخلیقیت تھی ، امنگوں کے پرندے تھے ، سب کچھ حاصل کرلینے کاجذبہ تھا ، کائنات کو خوب صورت دیکھنے اور کرنے کی تمنا تھی ، ہمیں اس تخلیقیت کی آج بہت ضرورت ہے ۔ فرحت احساس کا بڑا پیارا شعر ہے
بچا کے لائیں کسی بھی یتیم بچے کو
اور اس کے ہاتھ سے تخلیق کائنات کریں
چھل کپٹ کی اس ماری دنیا میں اگر ہمارے اندر بچوں کی معصومیت اور تخلیقیت کے عناصر عود کر آئیں تو ہماری زندگی میں ایک بار پھر سے محبت کے گلاب کھل سکتے ہيں ، حسن کی کلیاں چٹک سکتی ہیں ، مسرت کی نسیم چل سکتی ہے ، ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں اور دینا اور بھی زيادہ حسین ہو سکتی ہے ۔ ندا فاضلی کا شعر ہے ۔
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ  بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
آئیے خود کو ہم بچپنے کے حوالے کردیتے ہیں ، مرنے سے پہلے پہلے تک اس بچپنے کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور زندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والی فرحت کی داغ بیل ڈالتے ہیں ۔


Monday, 28 September 2015

منی کا حادثہ
شہیدوں کے پاک خون سے ناپاک سیاست تک
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
اس مرتبہ اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں بھی حج کی سعادت نصیب ہوئی ۔ ہم نے پہلے لوگوں کی زبانی ( ان لوگوں کی زبانی بھی جو سعودی عرب کو ایسے گالیاں ہی دیتے ہیں ) سنا تھا کہ بہت ہی عمدہ اور قابل تعریف نظم رہتا ہے ۔ سعودی عرب کے لوگ حاجیوں کی دل کھول کر خدمت کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے اللہ نے انہیں ساری نعمتیں اس لیے دے رکھی ہوں کہ وہ دونوں ہاتھوں سے حاجیوں پر لٹاتے پھریں ۔ ہمیں اپنے صحافیانہ ذوق کی وجہ سے بھی اور اسلامی طرز فکر و نظر کی وجہ سے بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بشمول سعودی عرب سے ایک قسم کا لگاؤ تھا اور ہم یہاں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے رہتے تھے ۔ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کی جانب سے پیش کی جانے والی کوششوں سے آگاہ بھی ہوتے تھے اور خوش بھی کہ ایک ایسا ملک بھی ہے جس کے اندر اس پر آشوب دور میں بھی دینی حمیت اور ملی غیرت نہ صرف یہ کہ موجود ہے بلکہ قابل صد رشک ہے ۔ اللہ کا فضل دیکھیے کہ اللہ نے ہمیں حرم کی خدمت کے لیے پاک ترین سرزمین مکہ مکرمہ پہنچادیا ۔ یہاں آکر جب قریب سے سعودی عرب کو دیکھنے کا موقع ملا تو دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ اللہ یہاں کے لوگوں اور حکومت کے جذبہ خیر کو یوں ہی باقی رکھے ۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھ میں آیا کہ سعودی عرب کے مخالفین بھی حج کے بعد سعودی عرب کے بارے میں اچھی رائے دینے پر بالعموم مجبور کیوں ہوجا تے ہیں ۔
حج کی سعادت تو نصیب ضرور ہوئی لیکن پے درپے دو ایسے حادثے رونما ہوئے جس نے اندر سے پورا وجود زخمی کردیا ۔ پہلے کرین گرنے سے اللہ کے مہمانوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑا اور پھر حج کے درمیان منی کے اندربھگدڑ کی وجہ سے ایک ہزار سے زيادہ اللہ کے مہمان جاں بحق ہوگئے ۔
   منی کے حادثے پر کیا مسلمان  ہر ایک آدمی جس کے سینے میں دل تھا ، کراہ اٹھا ، ہم زندگی میں پہلی مرتبہ حج کی سعادت حاصل کررہے تھے ، دل کے کس کس گوشے میں سرور کا رنگ نہیں تھا ، آنکھوں میں چمک اور زبان پر تہلیل و تکبیر کی صدائیں اور کیا کیا ولولےنہیں تھے جو سینے میں اٹھ رہے تھے ،لیکن حادثے کے بارے میں جانتے ہی ایسا لگا جیسے یکایک کائنات کا حسن مرجھا گیا ہو ، دل کی دنیا بجھ سی گئی ہو اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا ہو ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
پوری دنیا کے' انسانوں' نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ۔ ہمیں یہ امید تھی کہ بعض مسلکی ، منہجی اور فکری اختلافات کے باوجود پوری دنیا کے مسلمان اس افسوسناک حادثے پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرینگے ، سعودی عرب کو دلاسہ دلائینگے اور اللہ سے دعا کرینگے کہ اللہ ہم مسلمانوں کو صبر کی توفیق دے اور دوبارہ اس قسم کے حادثے کے رونما ہونے سے بچاؤ کی توفیق ارزانی کرے ۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ امید بالکلیہ ٹوٹ گئی ، نہيں ، بلکہ بعض ذمہ دار اور سمجھدار لوگوں نے جس طرح سے حجاج کرام کی خدمتوں کے لیے پیش کی جارہی سعودی عرب کی خدمتوں کو سہارا اور حادثے پر صبر کی تلقین کی وہ بلاشبہ حوصلہ افزا اور قابل تعریف روش تھی ہم یہاں قاسمی برادران کا ذکر کرناچاہینگے جنہوں نے پوری سمجھداری اور کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پورے معاملے میں کافی محتاط اور صحیح رویہ اپنایا اور لوگوں کو سعودی عرب کے مخالفین اور سنی مسلمانوں کے اعداء کے فریب میں آنے سے بچانے کی کوشش کی ۔ فجزاہم اللہ خیرا
لیکن حادثے کے فورا بعد ایران اور اس کے حلیفوں کی جانب سے جس قسم کا رویہ اپنایا گیا اس نے ہمیں صدمے میں ڈال دیا ۔ ہم جانتے تھے کہ ہمارے شیعہ برادران سنی مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں ، حضرات صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں ، مائی عائشہ پر تہمتیں تراشتے ہیں ، جھوٹ کی تقدیس کرتے ہیں ، ہم تاریخ کی ان سچائیوں سے بھی واقف تھے کہ انہوں نے ایک نہیں کئی ایک بار اللہ کے مامون گھر بیت اللہ شریف میں قتل و خون کی ہولی کھیلی ہے ، سازشوں کے تانے بن کر اللہ کے گھر اور ان کے حاجیوں کو زک پہنچانے کی کامیاب و ناکام کوشش کی ہے ، ہمیں علم تھا کہ وہ یمن کے اندر باغی حوثیوں کے پيچھے ہیں اور کسی بھی طرح سعودی عرب کو بالخصوص اور عرب ممالک کو بالعموم ستیاناس کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی وہ عداوت و دشمنی میں اس قدر اندھے ہو جائینگے کہ مقدس شہادتوں پر اپنی ناپاک سیاست کی عمارت تعمیر کرنے کی ناکام کوشش کرینگے ۔ جانوں کے ضیاع پر دلاسہ اور تعزیت تو دور کی بات الٹے وہ افتراء پردازیوں اور کذب بیانیوں کا مضحکہ خیز رویہ اپنائینگے ۔
     دشمنی میں قومیں کس حد گرسکتی ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے یہ الزام تک لگادیا کہ حادثہ پرنس محمد بن سلمان (ولی ولی العھد) کے ساتھ ان کے جتھے کی آمد سے رونما ہوا۔ پوری دنیا میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کرنے کی کوشش کی ، عالمی سطح پر سعودی عرب کو حاجیوں کی خدمت کے لیے نا اہل ثابت کرنے میں لگ گئے۔ تعجب کی انتہا تو تب ہوگئی جب نوری المالکی جیسے نکمے نے بھی زبان دازی شروع کردی اور مفسد جماعت حزب اللہ کا نام نہاد قائد حسن نصراللہ یہ کہتے سنا گیا کہ اس حادثے کے بعد سعودی عرب کے اس اصرار کی کوئی منطق نہیں رہ جاتی کہ وہی تنہا حاجیوں کی ضیافت کرے ۔
لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ تعجب کا موقع تھا بھی نہیں ، یہی ان کی اصل شناخت ہے پھر وہ اس سے الگ کیسے ہو سکتے تھے ۔ یہ تو ذہن و دماغ میں مدتوں سے پل رہے اس شیطنت کا اظہار ہے جس نے اندر اندر نہ جانے کتنی خباثتوں کی دنیا آباد کررکھی ہے ۔ خمینی نے اپنی موت سے پہلے کہا تھا " ہم ان شاءاللہ مناسب وقت میں  امریکہ اور آل سعود سے انتقام لے کر اپنے لوگوں کے غموں کا انتقام لینگے ، ہم اس بڑے جرم کی حسرتوں کا نشان ان کے دلوں پر چھوڑینگے ، ہم حق کی فتحیابی کا جشن مناکر شہداء کے خاندان کے حلق میں مٹھائياں ڈالینگے، ہم کعبہ کو گناہگاروں کے ہاتھوں سے آزاد کرکے مسجد حرام کو آزاد کرینگے "( یاد رہے کہ سعودی عرب میں  400 مجرم شیعوں کودھماکہ خیز مادوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے اور حجاج کرام کو قتل کرنے کی سازش کے جرم  میں تہہ تیغ کیا گیا تھا )
اور رفسنجانی نے 1987 میں کہا تھا " دنیا میں مسلمانوں کے علماء اگر مکہ مکرمہ کے چلانے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اس بات کی استعداد موجود ہے کہ وہ اس مقدس مقام کی آزادی کے لیے لڑائی لڑے "( الجزيرۃ ، 28 ستمبر 2015 ، کوثر الاربش کی تحریر)
 عرب ممالک بشمول سعودی عرب کو اللہ نے امن و امان اور استقرار کی دولت سے نوازے رکھا ، اس لیے ایرانی شیعوں کے لیے اپنے ان ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہ ہو سکا اور وہ گھٹیا حرکتوں پر اترآئے ، فکری جنگ سے کام لیا ، منافقین کی ایک جماعت تیارکی ، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناکر پیش کرنے والے پیشہ ور قلمکاروں کی کھیپ تیار کی ، مختلف طریقوں سے نوجوانوں کو بہلا پھسلاکر سنیوں اورعرب مسلمانوں کے خلاف اتارنے کی سازشیں رچیں اور امریکہ بہادر کے سامنے بڑے اعتماد سے کہا کہ ہمارا اصل دشمن اسرائیل نہیں سعودی عرب ہے اور ساتھ ہی ہر وہ حربہ اختیار کیا جس سے سعودی عرب کو بدنام اور کمزور کیا جاسکے اور عرب اورسنی مسلمانوں کو بے وزن کیا جاسکے ۔
منی کے دل دہلادینے والے حادثے کے پیچھے اسباب کیا تھے ، خامی انتظامی امور میں تھی ، کسی سازش نے اپنا کردار ادا کیا ہے ، ایرانیوں کی بے ہودہ حرکت تھی یا لمحاتی کسی چوک سے اتنا بڑا حادثہ رونما ہوگیا اس کی تحقیق ابھی جاری ہے ، وقت سے پہلے کسی موقف کی تائيد و توثیق مناسب نہیں لیکن ایران اور اس کے حلیفوں نے حادثے کے فورا بعد جس طرح کا رویہ اپنایا ہے اس سے ان کے دجل وفریب اور انسانیت دشمنی کا پردہ چاک ہوگیا ہے ۔ ہمیں خدائی نظام کے باغی بے دین ملحدوں اور اسلام دشمنی میں سر سے پیر تک ڈوبے ان انتہا پسند ہندوؤں سے اس لیے بھی کوئی شکوہ نہیں کہ انسانیت سے گرے ہوئے ان لوگوں سے ہمیں خیر کی توقع کبھی تھی بھی نہیں ۔ اس لیے وہ اس المناک حادثے پر اگر جشن منارہے ہیں یا تمسخر کررہے ہیں تو اس پر ہمیں بہت افسوس ہونا بھی نہیں چاہیے کہ درندوں سے انسانیت کی توقع بجا بھی نہیں ہوتی !!!






Saturday, 29 August 2015

اردو کا اسلامی لٹریچر : جائزے کی ضرورت ہے !
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ،  سعودی عرب
 اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری اکثریت تقلیدی ذہنیت رکھتی ہے ۔ یہاں تقلیدی ذہنیت سے مراد ائمہ اربعہ کی فقہی تقلید نہیں ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملی سطح پر اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس طرف ایک چل پڑا سب چل پڑے ۔ ہم نئی راہ نکالنے کا کم ہی سوچتے ہيں ۔ اسی لیے بہت کم ایسا دیکھنے کو ملتا ہے جب کوئی ایسی چیز سامنے آتی ہو جسے دیکھ کر آپ مارے خوشی کے بالکل اچھل پڑیں اور ساتھ ہی آپ کو حیرت و استعجاب بھی ہو ۔ وجہ ظاہر ہے کہ ہم کرتے تو ہیں باتیں آزادی ، اجتہاد اور بلندی افکار کی لیکن چلتے ہیں ہمیشہ اسی راہ پر جس پر سب چلتے ہیں ۔ ہمارے یہاں ایک عجیب و غریب رویہ یہ پنپ چکا ہے کہ اگر کبھی کسی بڑے انسان سے کسی رائے میں اختلاف کیجیے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس بڑے انسان کی بے عزتی ہوگئی ، حالانکہ اختلاف رائے کا بے عزتی سے کوئی تعلق نہیں ۔ بدتمیزی اور اختلاف رائے میں آسمان زمین کا فرق ہے ۔ اور یاد رہے کہ جب تک ہماری نسل سچ کہنے اور سچائی کی راہ میں بزرگوں سے اختلاف کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں کرے گی وہ ترقی کی طرف اپنا قدم نہیں بڑھا پائے گی ۔ ہمیں یہ بات ذہن نشیں کرنی ہوگی کہ خطرہ مول لیے بغیر بڑی بلندیاں مشکل سے ہی ہاتھ آتی ہیں ۔
     اب ذرا اردو کے اسلامی رسالوں اور اردو اسلامی لٹریچر پر ہی ایک نظر ڈال لیجیے ۔ جس مکتب فکر کے رسالے آپ ہاتھ میں اٹھالیں سب کا طرزو انداز یکساں نظر آئے گا ۔ مثال کے طور پر ایک اہل حدیث ادارے سے نکلنے والے کسی ایک ماہنامے کو سامنے رکھیے اور پھر دوسرے کسی اہل حدیث ادارے سے نکلنے والے رسالے کو سامنے رکھیے آپ کو کوئی بہت بڑا فرق نظر نہیں آئے گا ۔ اسی طرح کسی دیوبندی مکتب فکر یا بریلوی مکتب فکر کے رسالے کو اٹھالیجیے آپ کو صورت حال ایسی ہی نظر آئے گی ۔ یہ سب در اصل تقلیدی ذہنیت کی اپج ہے ۔ ایک رسالہ مقبول ہوا سب نے اسی رسالے کی نقالی کرنی شروع کردی ۔ بالکل ایسے ہی جیسے پانچ سال سات پہلے ایم بی اے کرنے والوں کی کھپت زیادہ تھی ، اب جسے دیکھو ایم بی اے کررہا ہے ۔ پتہ چلا کہ اب ایم بی اے ہی ایم بی اے ہے ۔ نہیں ہے تو جاب نہیں ہے ۔
  مجھے یہ بات کم ہی سمجھ میں آتی ہے کہ جب ایک طرح کا رسالہ نکل ہی رہا ہے تو پھر اسی طرح کا ایک دوسرا رسالہ کیا ضروری ہے ۔ ٹھیک ہے کہ ہر ایک کا اپنا دائرہ ہوتا ہے اور ایک سطح پر اس کی افادیت سے انکار بھی نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم تھوڑا الگ نہیں سوچ سکتے ؟ کیا ذرا نیا راستہ نہیں اپنا سکتے ؟ کیا کوئی نیا تجربہ نہیں کرسکتے ؟ کیا نئے تجربوں کی ضرورت نہیں ہے ؟ کیا اور ایسے گوشے نہیں ہیں جن پر توجہ صرف کی جاسکتی ہو ؟ روایتی اور تقلیدی دائرے سے نکل کر ان دائروں تک نہیں پہنچا جا سکتا جہاں ضرورت بھی شدید ہے اور جہاں کچھ پایا بھی نہیں جاتا ؟
         عام طور سے مدارس سے تعلیم مکمل کیے بنا نکل جانے والے لوگ جو ابتدائیہ ، متوسطہ یا زیادہ سے زيادہ ثانویہ تک کی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں اور جنہیں اردو پڑھنے آتی ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ جو گورنمنٹ اسکولوں میں میٹرک وغیرہ کرکے تعلیم چھوڑ دیتے ہيں اور جنہیں اردو پڑھنے آتی ہے یا پھر وہ خواتین جن کی گھریلو تعلیم ہوتی ہے ۔ جنہیں قرآن کریم اور اردو پڑھنا آتا ہے ۔ کیا ہمارے پاس ان کے لیے کوئی لٹریچر ہے ؟  جب مذکورہ لوگوں کے بارے میں بات ہورہی ہے تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان کی استعداد اتنی زيادہ بھی نہیں ہوتی کہ وہ ان رسالوں سے استفادہ کرسکیں جو ہمارے دینی اداروں سے نکلتے ہیں ۔ ان کی استعداد یہ ہوتی ہے کہ وہ پیام تعلیم ، امنگ اور خاتون مشرق قسم کے رسالوں سے استفادہ کرسکیں ۔ اسی لیے ایسے لوگوں کے یہاں زيادہ تر خاتون مشرق ، پاکیزہ آنچل اور ہما وغیرہ کا ہی رواج دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ہمارے دینی حلقوں کی کمی یہ ہے کہ وہ مذکورہ طبقے کی تربیت کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ۔
    شمالی بہار کے اہل حدیث گھرانوں میں پہلے سواء الطریق کا چلن تھا ۔ ارباب حل وعقد کی دانشمندی دیکھیے کہ اب اس کتاب کا تذکرہ ہوتا ہے، کتاب کی صورت دیکھنے کو نہيں ملتی ۔ دیوبندی مکتب فکر کے لوگ اپنی بچیوں کو شادی کے موقع سے بہشتی زیور دیا کرتے تھے لیکن یہ سچ ہے کہ انہوں نے بھی اس کی تہذیب کی طرف دھیان نہیں دیا اور اس طرز پر ذرا بہتر اور جاذب اسلوب میں اس طرح کی کوئی اور چیز تیار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ بریلوی حضرات کے یہاں اس طرف آکر دینی رسالوں کے نکالنے کا رجحان بڑھا ہے لیکن ان کا رویہ بھی اس معاملے میں یکساں ہے ایسے شاید انہیں اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ خاتون مشرق اور پاکیزہ آنچل وغیرہ کے توسط سے جو دین مسلم گھروں میں داخل ہوررہا ہے وہ وہی دین ہے جن کے یہ ماننے والے ہیں ۔ جماعت اسلامی کا رویہ اچھا رہا ہے انہوں نے حجاب اسلامی ، بتول ، حسنات اور ذکری  جیسے رسالوں سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی رسائی محدود ہے ۔ ان کا اثر محدود ہے ۔ اگر ایسی کوششیں دوسری جماعتیں اپنی سطح سے بھی کریں توایک اچھی شروعات ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح ہمارے یہاں بچوں کا کوئی دینی رسالہ نہیں پایاجاتا ۔ یہ بوجھ بھی جماعت اسلامی والے ڈھوتے رہے ہیں ۔ حکومتی اداروں سے بعض بچوں کے رسالے نکلتے ہیں جیسے امنگ اور بچوں کی دنیا لیکن ان کا مقصد دینی تربیت نہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ہمارے دینی اداروں سے ایسے رسالے نہ کے برابر نکلتے ہیں جنہيں خالص علمی اور تحقیقی رسالوں کا نام دیا جاسکے ۔ دوسرے ملکوں کے لوگ جب کبھی یہ پوچھتے ہيں کہ آپ کے یہاں سے کوئی قابل ذکر علمی تحقیقی دینی رسالہ نکلتا ہو تو بتائیے تو ہمیں بغلیں جھانکی پڑتی ہے ۔  سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس جانب توجہ دینے کو تیار ہیں ؟ یا پھر ہمیں لگتا ہی نہیں کہ اس کی ضرورت بھی ہے ؟ کیا خاتون مشرق ، پاکيزہ آنچل اور امنگ کے اسلوب میں صحیح خالص دین کو پیش کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتی ؟ کیا قرآنی قصے خوبصورت اردو میں نہیں ڈھالے جاسکتے ؟ کیا صحابہ کرام کی زندگیوں سے لوگوں کو نہيں جوڑا جاسکتا ؟ کیا اسلامی عقائد کی آسان اور سہل تشریح و تعبیر نہیں کی جاسکتی ؟ کیا اسلامی تاریخ کے روشن واقعات دلچسپ پیرایے میں نہیں پیش کیے جاسکتے ؟
ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں ؟
    پچھلے دنوں مدینہ منورہ کے سفر کی سعادت حاصل ہوئی ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں فاضل طلبہ سے گفتکو کے درمیان میں نے جب یہ بات رکھی تو انہوں نے اس سے اتفاق کیا ۔ ہم نے ان سے گزارش کی کہ وہ اپنے دوستوں سے اس موضوع پر گفتگو کریں ، اس کے امکانات پر غور کریں اور پھر ان شاءاللہ اس طرف عملی اقدام کے بارے میں سوچیں ۔ میرا ذاتی طور پر یہ تاثر بہت گہرا رہا ہے کہ اگر اس جانب قدم بڑھایا جائے اور تھوڑی ایماندارانہ کوشش کی جائے تو بڑے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اپنی نسل کی تربیت ہماری ذمہ داری ہے ۔ یاد رہے کہ اگر شروع سے ان کے اندر اسلام کو بٹھادیا گیا تو پھر کوئی آندھی انہیں ہلا نہیں پائے گی ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سسٹم آپ کے پاس نہ ہو اور جہاں قدم قدم پر غیر اسلامی افکار و خیالات اور مظاہر کی دنیا آباد ہو وہاں اس قسم کی کوششیں بہت ضروری ہوتی ہیں ۔ اللہ ہمیں نیک توفیق دے ۔




Monday, 17 August 2015

سیرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی عصری معنویت
ثناءاللہ صادق تیمی ، اسسٹنٹ پروفیسر ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض
          اسلامی تاریخ میں شروع عباسی دور کو عصر ذہبی(سنہری دور) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ اسی عہد میں علوم و فنون کا ارتقاء عمل میں آیا ۔ حدیث ، تفسیر ، بلاغہ ، جغرافیہ ، طب ، فلکیات ، ادب اور بقیہ دوسرے علوم وفنون کی شاخیں نکلیں اور مضبوط ہوئیں لیکن اسی عہد میں اور خاص طور سے مامون کے زمانے میں بیت الحکمۃ بھی بنایا گيا جس کے اندر یونانی فلسفہ کی کتابوں کا ترجمہ عمل میں آیا اور دیکتھے دیکھتے معتزلہ کے ہاتھوں اپنے ہاتھ پاؤں پسارنے لگا ۔ قرآن کریم اور انبیائی طریق دعوت کا مطالعہ کیجیے تو ایک بات سمجھ ميں آتی ہے کہ اللہ نے قرآن حکیم کے اندر کائنات میں غور و فکر کرنے کا حکم بھی دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس غور وفکر کے نتیجے میں انسان کا اللہ پر ایمان مضبوط ہوتا ہے لیکن اللہ کی ذات و صفات میں بے مطلب کی موشگافیوں میں الجھایا نہیں ہے بلکہ امور غیبیہ سے متعلق ایمان لانے کو ہی اصل بتلایا ہے ۔ تمام انبیاء بشمول نبی کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ دعوت و عمل یہی رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کے اندر ذوق عبودیت کے ساتھ حسن عمل اور جذبہ جہاد موجزن تھا اور دیکھتے دیکھتے انہوں نے ایک دنیا تک اسلام کی سچائی کو پہنچادیا ۔ بنیادی طور پر اسلام اسی سچے عقیدے اور حسن عمل کی دعوت لے کر آیا تھا ۔ لیکن جب یونانی فلسفہ سے مسلمان آشنا ہوئے اور معتزلہ نے اسے نہ صرف یہ کہ قبول کیا اور دین کو فلسفیانہ موشگافیوں کی نذر کیا بلکہ اس کی ترویج و اشاعت بھی شروع کی ۔  وقت وہ تھا کہ اسلامی حکومت کی چولیں مضبوط تھیں ، نظام اپنی جگہ پر پوری طرج چست درست تھا اورعلماء آسانیوں میں تھے ۔ انہوں نے تعقل آمیزی اور فلسفہ طرازی میں خود کو بری طرح لگادیا اور وہاں وہاں اپنی عقل و خرد کے گھوڑے دوڑانے لگے جہاں عقل و خرد کی رسائی تھی ہی نہیں اور یوں پورے عالم اسلام کو ایک عجیب وغریب قسم کی ایمان سوز بدعت میں مبتلا کردیا ۔ اس کا تجزیہ کرتے ہوئے احمد امین جو معتزلہ کے بڑے قدردان اور حامی ہیں ، لکھتے ہیں " ان پر ( معتزلہ ) پر یہ مواخذہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے دین کو عقلی مسائل اور منطقی دلائل کے مجموعے میں بدل دیا ۔ یہ منہج فلسفہ میں تو درست ہو سکتا ہے لیکن دین کے معاملےمیں درست نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے کہ دین اس سے زیادہ زندہ شعور کا تقاضہ کرتا ہے جتنا کہ منطقی قواعد کرسکتے ہیں " (رجال الفکر والدعوۃ فی الاسلام ص 195 نقلا من ضحی الاسلام )  فتنہ خلق قرآن اسی فلسفہ آمیزی اور تعقل پرستی کانتیجہ تھا جسے مامون کی سرپرستی میں اس کے درباری معتزلی علماء نے اتنا بڑا مسئلہ بنادیا کہ انبیائی طریقہ عمل اور قرآنی و محمدی سنت کے برعکس ایک نئے طرز فکر و عمل کو ناکارنے کے لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو تاريخ ساز قربانی دینی پڑی ۔
      امام احمد بن حنبل کو بجا طور پر امام اہل السنۃ و الجما‏عۃ کہا جاتا ہے ۔ مانا جاتا ہے کہ اللہ نے دو مشکل وقتوں میں اپنے دو خاص بندوں کے ذریعے اپنے دین کی حفاظت کی ۔ ایک رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب مانعین زکوۃ اور مرتدین (اسلام سے پھر جانے والوں  ) کا فتنہ اٹھا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قوت ایمانی نے اس کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اللہ کی نصرت سے مالا مال ہوئے اوردوسرے جب قرآن کریم کے مخلوق ہونے کا شوشہ چھوڑ کر فتنہ اٹھایا گیا اور جب ایک دو کے علاوہ سارے علماء نے حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے ہی میں اپنی عافیت سمجھی تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پہاڑ جیسے موقف نے اللہ کے دین کی حفاظت کی ۔ امام احمد بن حنبل ائمہ اربعہ میں سے ایک ہیں ۔ محدثین کے زمرے میں بھی ان کا شمار کبار ائمہ حدیث میں ہوتا ہے ۔ مسند احمد بن حنبل ان کی مشہور و معروف اور معتبر کتاب ہے ۔ 164 ہجری میں آپ کی پیدائش ہوئی اور 241 ہجری میں آپ کا انتقال ہوا ۔
امام احمد بن حنبل اپنی خدمت حدیث اور خدمت فقہہ کے لیے تو جانے جاتے ہی ہیں لیکن خاص طور سے آپ کو آپ کی پاکیزہ سیرت ، روشن کردار، زہد و ورع ، صبر وقناعت ، اتباع سنت رسول،  پہاڑ جیسے غیر متزلزل ایمان اور منہج صحابہ و تابعین پرقائم رہنے کے لیے جان کی بازی تک لگادینے کے فراواں جذبے کے لیے جانا جاتا ہے ۔ امام یحی بن معین فرماتے ہیں " میں نے احمد بن حنبل کے جیسا کسی کو نہیں دیکھا ۔ میں ان کے ساتھ پچاس سال تک رہا ۔ انہوں نے کبھی اپنی نیکی اور کامیابی کے لیے ہمارے سامنے فخر نہیں کیا " (حلیۃ الاولیاء 9/181 ) ربیع بن سلیمان کی روایت ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں " احمد بن حنبل آٹھ خصلتوں میں امام ہیں ۔ حدیث میں امام ہیں ، فقہ میں امام ہیں ، لغت میں امام ہیں ، قرآن میں امام ہیں ، فقر میں امام ہیں ، زہد میں امام ہیں ، ورع میں امام ہیں اور سنت میں امام ہیں " ( مناقب الامام احمد ، مقدمۃ التحقیق ص 10 از عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی ) عبدالرزاق بن ھمام کہتے ہیں " میں نے احمد بن حنبل سے زیادہ فقیہہ اور صاحب ورع شخص نہیں دیکھا " (ایضا ) عبدالملک المیمونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں " میری آنکھوں نے احمد بن حنبل سے زیادہ بہتر کسی کو نہیں دیکھا۔ میں نے محدثین میں ان سے زیادہ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرنے والا اور حدیثوں پر شدت سے عمل کرنے والا نہيں دیکھا جبکہ وہ حديث ان کے نزدیک صحیح ہو " ( ایضا ص 11 ) مروذی نے ان س روایت کیا ہے کہ " میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کوئی حدیث لکھی تو اس پر عمل کیا یہاں تک کہ میری نظروں سے گزرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور ابوطیبہ کو ایک دینار دیا تو میں نے جب پچھنا لگوایا تو حجام کو ایک دینار دیا " (ایضا 12 ) امام احمد بن حنبل کے بیٹے صالح بن احمد روایت کرتے ہیں کہ واثق کی طرف سے اسی کے عہد حکومت میں ایک پروانہ آیا جس کے اندر ہماری پریشان کن صورت حال کا ذکر تھا ۔ اور چارہزار درہم تھے اور گزارش کی گئی تھی کہ قرض ادا کرلیں ، اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں اور یہ وضاحت بھی تھی کہ یہ صدقہ خیرات کا مال نہیں ہے بلکہ اپنے والد صاحب سے ملی وراثت کا حصہ ہے ۔ والد صاحب نے جواب میں لکھا " آپ کا خط ملا ، ہم عافیت میں ہیں ، قرض خواہ ہمیں تنگ نہیں کرتا اور اہل و عیال الحمد للہ اللہ کی نعمت میں جی رہے ہیں " اور یوں دراہم لوٹادیا ۔ ایک سال کے بعد جب ہم نے اس کا ذکر کیا تو کہا کہ اگر ہم نے قبول بھی کرلیا ہوتا تو اب تک وہ ختم ہی ہو چکا ہوتا ۔ (ایضا 16 )
    امام شافعی نے ان سے کہا : امیر المؤمنین نے مجھ سے کہا کہ ہے کہ میں یمن کے لیے کوئی قاضی تلاش کروں ۔اورآپ عبدالرزاق کے پاس جانا چاہتے ہیں ۔ یہ لیجیے آپ کو آپ کی مراد مل گئی ، حق کے ساتھ فیصلے کیجیے اور عبدالرزاق سے وہ سب سیکھیے جس کے آپ جویا ہیں ۔ امام احمد نے امام شافعی سے کہا " اگر دوبارہ یہ بات میں آپ سے سنوں گا تو آپ مجھے اپنے پاس نہیں دیکھینگے "
خشیت الہی کا وہ عالم تھا کہ ان کے بیٹے صالح کہتے ہیں کہ جب کوئی ابو کو دعا دیتا تو کہتے کہ اعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے ۔ (ایضا )
         یہ چند شہادتیں اس لیے پیش کی گئی ہیں کہ اندازہ ہو سکے کہ وہ آدمی جو تن تنہا دنیا کی سب سے بڑی حکومت سے ایمان و عقیدہ کے مسئلے پر ٹکر لے رہا تھا وہ داخلی طور پر کس قدر مضبوط کردار کا مالک تھا ۔ مصر کے بڑے عالم ابوزہرہ مصری نے اپنی کتاب "ابن حنبل حیاتہ وعصرہ ۔ آراءہ وفقہہ" میں  لکھا ہے کہ جب مامون کے اس مطالبے پر کہ قرآن کو مخلوق ماناجائے ، بعض علماء ومحدثین نے انکار سے کام لیا تو اس نے انہیں خط لکھا اور ایک ایک کو ان کی بعض کمیوں کی یاد دلائی اور کہا کہ ان کمیوں کو افشا کرکے انہیں رسوا کردے گا ، اپنے احسانات بھی یاد دلائے اور یوں انہيں خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس کے پاس امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو مطعون کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی ۔ اس نے اور اس کے بعد معتصم نے انہيں زدو کوب تو کیا لیکن کوئی ان کے کردار و عمل پر حرف اٹھانے کی جرات نہ کرسکا ۔
        امام احمد بن حنبل کا اصل کردار صرف یہ نہيں کہ انہوں نے معتزلہ کے اس رویے کی مخالفت کی اور قرآن کو مخلوق ماننے سے انکار کردیا بلکہ اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے طریقہ نبی اور قرآنی فکر کو باقی رکھنے پر اصرار کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فلسفہ آمیزیوں میں پڑے ہی نہیں ، مناظرہ کیا ہی نہیں اور کہا تو یہ کہا کہ کتاب وسنت کی کوئی دلیل دے دو اور ہم تسلیم کیے لیتے ہیں ۔ احمد بن ابی دؤاد رئیس المعتزلین کو اس بات کا قلق تھا کہ احمد بن حنبل اس مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور احمد بن حنبل کی فراست یہ تھی کہ قرآن وسنت کا کوئی نص لاؤ اور ہم قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور یوں انہوں نے سرے سے اس پورے طرز فکرو عمل کا راستہ ہی بند کردینا چاہا ۔ اور ہر چند کہ اس راہ میں انہيں جاں سوز مراحل سے گزرنا پڑا ، کوڑے کھانے پڑے ، بے عزتیاں سہنی پڑیں لیکن ٹس سے مس نہ ہوئے اور پھر وہ وقت آیا جب اللہ نے ایک احمد بن حنبل کے ذریعہ پورے دین کو محفوظ کردیا ۔ واثق کے زمانے میں جب محدثین اور اہل سنت و الجماعت کے علماء کی قدردانی ہونے لگی اور اس نے چاہا کہ امام احمد بن حنبل کو نوازے تو امام احمد بن حنبل نے اسے پہلی آزمائش سے زیادہ سخت سمجھا اور اس آزمائش میں بھی کھڑے اترے ۔
     امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی فراست اور قوت ایمانی کا یہی مظہر نہیں بلکہ عظیم مظہر یہ بھی ہے کہ جب معتصم انہیں زدوکوب کررہا ہے اور ان کے اوپر عذاب کی سنتیں تازہ کی جارہی ہیں تب بھی وہ اسے امیر المؤمنیں کہہ کرہی خطاب کررہے ہیں ۔ اس پورے مرحلے میں لمحے بھر کو ان کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ وہ بغاوت کردیں یا عوام کو حکومت کے خلاف ورغلا دیں حالانکہ جس طرح پورے عالم اسلام میں ان کی پذیرائی تھی اور اس مسئلے میں جس طرح پوری مسلم دنیا ان کی طرف نگاہ اٹھائے ہوئی تھی کچھ اتنا بعید بھی نہ تھا کہ وہ اگر اشارہ کردیں تو عوام تختہ الٹنے کو تیار ہو جائیں لیکن وہ تھے بھی تو امام اہل السنۃ و الجما‏عۃ کیسے کرسکتے تھے ایسا غیر اسلامی عمل !
      آج کے اس پر فتن دور میں کئی ایک اعتبار سے اس سیرت کی مسلمانان عالم کو ضرورت ہے جسے سیرت امام احمد بن حنبل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ سنت رسول پر عمل کرنے کا جذبہ فراواں ، زہدو ورع ، علم و عمل ، صحابہ کرام کے نقش قدم کی پیروی اور ہر صورت میں اشتعال انگیزیوں سے دور رہنے کی بے نظیر مثال ۔ آج واقعۃ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ جب مختلف غلط سلط فلفسیانہ موشگافیوں کے ذریعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے کہ مسلمان نبوی طرز فکر و عمل پر اس طرح جم جائے جس طرح احمد بن حنبل جم گئے تھے ۔ آج مسلمان دور آشوب و فتن میں اسی طرح اشتعال انگیزیوں سے خود کو بچائے جس طرح امام احمد بن حنبل نےبچایا تھا ۔ آج مسلمان سنت رسول کو اسی شدت سے عمل میں لے لے جس طرح احمد بن حنبل کیا کرتے تھے ۔ آج مسلمان کا علماء طبقہ حب دنیا سے ایسے ہی کنارہ کش ہو جائے جس طرح احمد بن حنبل تھے ۔ آج ہمارے پاس علم و شعور کا ایسا ہی خزانہ ہو جیسا کہ امام احمد بن حنبل کے پاس تھا ۔ کتنی ضرورت ہے آج ہم میں احمد بن حنبل جیسے علماء کی کہ احمد بن ابراہیم الدورقی کہتے ہیں " جس کسی کو دیکھو کہ وہ احمد بن حنبل کا برا تذکرہ کرتا ہے اس کے اسلام پر اتہام لگاؤ " (تاریخ بغداد للخطیب : 4 /431 ) قتیبہ بن سعید کہتے ہیں " جب کسی شخص کو احمد بن حنبل سے محبت کرتے پاؤ تو جان لو کہ وہ صاحب سنت ہے " (ترجمۃ الامام احمد ، ص 16 ) اور علی بن المدینی شیخ البخاری کہتے ہیں " اللہ نے ارتداد کے دن ابوبکر کے ذریعہ  اور آزمائش کے دن احمد بن حنبل کے ذریعہ اس دین کو شوکت بخشی ( ایضا 17 )

    کیا ہم اس بات کے لیے خود کو تیار کررہے ہيں کہ اللہ ہمارے ذریعہ اس فتنے کے دور میں اپنے دین ( قرآن و سنت ) کی حفاظت کرلے ؟ کیا ہم احمد بن حنبل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہيں ؟ ہے کوئ سننے والا ؟؟؟