Friday, 12 June 2015

دہشت گرد
ساگر تیمی
گھوپ اندھیرا تھا ۔ تنگی ہی تنگی تھی ۔ جیل کی اس کوٹھری میں حیات کے لیے نہیں موت کے لیے ہی جگہ ہو سکتی تھی ۔ جلال الدین کو اندر زنجیروں میں مقید گھسیٹ کر لایا گیا ۔ چہرے پر بھر کلا داڑھی ، آنکھوں میں چمک اور پیشانی پر سجدے کا نشان جس سے اس کے چہرے کی دمک اور بھی بڑھتی جارہی تھی ۔
جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے کوٹھری کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا : اب سمجھ میں آئے گا کمینے کہ دیش کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ ہم کیا برتاؤ کرتے ہیں ۔ جلال الدین کے ہونٹوں پہ پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی جو بہت جلد معدوم بھی ہوگئی ۔ سپرنٹنڈنٹ کے جانے کے بعد جلال الدین نے اپنےنزدیک کانسٹبل سے ایک لوٹے پانی کی درخواست کی ۔ کانسٹبل نے بادل نخواستہ حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے جلال الدین کو پانی کا لوٹا لاکر دیا ۔ جلال الدین نے وضوبنا کر نماز ادا کی اور اپنی جگہ بیٹھ کر قرآن حکیم کی تلاوت میں مصروف ہوگیا ۔ آہستہ آہستہ اس نے لوگوں سے اپنے مراسم بنانے شروع کیے ۔ کانسٹبل جو اس کی دیکھ ریکھ پر مامور تھا ، نسبۃ بڑی عمر کا آدمی تھا ۔ جلال الدین نے اس سے کہہ دیا کہ اسے اس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ وہ اپنے کام خود کرسکتا ہے بلکہ اس نے اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا شروع کردیا ۔ اس کوٹھری کے اندر موجود دوسرے قیدیوں کی بھی جلال الدین نے خدمت کرنی شروع کردی ۔ بالعموم وہ دو کام کرتا ۔ یا تو رب کی عبادت کرتا یا لوگوں کی خدمت ۔ جیل کے سارے قیدی رفتہ رفتہ اس کے گرویدہ ہوگئے ۔
   چنو کانسٹبل یہ تو دیکھ رہا تھا کہ جلال الدین رب کا گن گاتا ہے اور رب کے بندوں کی سیوا کرتا ہے ۔ لیکن اسے ایسا لگتا تھا کہ یہ آدمی ہے تو بہت خطرنا ک ۔ یہ تو دیش دروہی ہے ۔ معصوم لوگوں کی جان لیتا ہے ۔ ایسا یہ اس لیے کررہا ہے کہ ہمیں اپنے بس میں کرکے جیل سے بھاگ سکے ۔ در اصل یہ اس کی سازش ہے ۔ لیکن اسے ایک بات کھائے جارہی تھی کہ آخر جلال الدین شرماجی کی اتنی خدمت کیوں کررہا ہے ۔ کیا اسے یہ بات نہیں معلوم ہے کہ اسی شرما نے اسے جیل کی اس کال کوٹھری میں بھجوایا ہے اور نہ جانے کیوں خود اسے بھی اسی جیل میں آنا پڑ گیا ہے ۔
جلال الدین کے لیے وہ دن سخت ہوتا جب اعلا افسران کی پوری ٹیم آکر اس سے پوچھ تاچھ کرتی اور مختلف قسم کی گالیوں سے اسے نوازا جاتا۔ وہ سب کی سنتا اور بس اتنا کہتا کہ جن گناہوں کی بات آپ کرتے ہیں وہ نہ اخلاقی اعتبار سے اور نہ ہی دینی اعتبار سے جائز ہیں ۔ میں ایسا نہیں کرسکتا اور نہ میں نے ایسا کیا ہے ۔ اعلا افسران کہتے کہ  پھر جو مسلمان تمہاری طرح داڑھی والے یہ سب کرتے ہیں ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ جلال الدین کا ایک ہی جواب ہوتا : غلط کرنے والا چاہے جس نام کا ہو ، غلط غلط ہی ہوتا ہے ، وہ صحیح نہیں ہو سکتا ۔ معصوموں کی جان لینا حیوانیت ہے ، انسانیت نہیں ۔ اسلام تو اعلا انسانیت کا درس دیتا ہے ۔
چنو کانسٹبل یہ باتیں سنتا اور پھر اس کے دل میں طرح طرح کے خیالات گردش کرنے لگتے ۔ وہ سوچتا کہ یہ آدمی اتنے دن سے ہے ، دہشت گرد ہے تو پھر یہ اتنا اچھا کیوں ہے ؟ افسروں کے پاس بھی یہ کوئي غلط بات نہیں بولتا ۔ آج تک اس نے مجھ سے کچھ بھی غلط نہیں کہا ، الٹے میری خدمت کیا کرتا ہے ۔ اس کے ذہن میں ایک بات آئی کہ کیوں نہ شرما کے بارے میں اسے بتایا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ وہ نندو کے ساتھ کس قسم کا رویہ اپناتا ہے ؟ اس نے ایک دن جب کہ وہ اس کی خبر خیریت اور اس کے بچوں کی تعلیم وغیرہ سے متعلق دریافت کررہا تھا ۔ چنو نے بات کاٹ کر بتلایا کہ آپ کو مولانا صاحب! شرماجی ہی کی وجہ سے یہاں آنا پڑا ہے ۔ اسی نے آپ کے بارے میں باضابطہ گواہی دے کر آپ کو پھنسایا ہے ۔ جلال الدین نے خاموشی کے ساتھ اس کی بات سنی اور کہا کہ مجھے تو یہ بات نہیں معلوم تھی اور اگر ایسا تھا بھی تو آپ نے بتاکر اچھا نہیں کیا ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اب شرما جی کے بارے میں میرا اخلاقی رویہ خراب نہ ہو جائے ۔ انہوں نے ضرور غلط فہمی میں ایسا کیا ہوگا ۔ میری ان کی تو پہلے کی ملاقات بھی نہیں ہے ۔ خیرچلیے کوئي بات نہیں ۔
چنو نے نوٹ کیا کہ اس اطلاع کے باوجود جلال الدین کا رویہ شرما کے بارے میں بدلا نہیں ہے ۔ وہ پہلے ہی کی طرح بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ شرما کا خیال رکھ رہا ہے ۔ اب چنو کے دل کی دنیا بدلنے لگی ۔ اسے لگنے لگا کہ اس آدمی کو ضرور پھنسایا گیا ہوگا ورنہ اتنا اچھا آدمی معصوم لوگوں کی جان کیسے لے سکتا ہے ؟
     اس نے شرما جی  سے ایک روز پوچھ دیا کہ آپ نے جس دہشت گرد کے خلاف گواہی دی تھی وہ کیسا آدمی تھا ؟ وہ بہت خطرناک ، دیش دروہی اور معصوموں کی جانیں لینے والا آدمی تھا ، خونخوار اور نہایت گھٹیا ۔ چنو نے پھر سوال کیا تو کیا آپ نے اس کو دیکھا تھا ؟ تم اس قسم کے سوالات کیوں کررہے ہو ؟ یہ نہ تو تمہاری ذمہ داری ہے اور نہ تمہارا منصب ۔ تم اپنے کام سے کام رکھو ۔ چنو نے ہاں میں سر ہلایا اور کہا وہ تو آپ صحیح کہہ رہے ہیں ۔ ویسے اس آدمی جلال الدین نے میرے ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ انتہائی درجے میں خراب آدمی ہے ۔ بے ہودہ اور درندہ قسم کا ہے ۔ میں ۔۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چپ رہو ، وہ تو کتنا شریف ، سشیل ، نیک ، خدمت گزار اور اخلاق مند آدمی ہے ۔ سب کی خدمت کرتا ہے اور بقیہ وقت میں پوجا پاٹ میں لگا رہتا ہے ۔ تم کانسٹبل لوگ کسی اچھے انسان کی اچھائی قبول نہیں کرسکتے ۔ بولتے بولتے شرماجی کی آواز میں جوش کی کارفرمائی بڑھتی چلی گئی ۔ چنو نے کہا یہی تو مسئلہ ہے شرما جی کہ یہ وہی آدمی ہے جس کے خلاف گواہی دے کر آپ نے اسے دہشت گردی کے جرم میں پھنسوایا ہے ۔
شرما : کیا ؟ ایسا نہیں ہو سکتا ۔
چنو : ایسا ہی ہے !
شرما : کیا اسے معلوم ہے کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟
چنو : اسے تو میں نے ہی بتایا تھا آپ کے بارے میں ۔
شرما: کب ؟
چنو : کئی دن ہوگئے ۔
شرما : لیکن وہ تو میری خدمت پہلے سے بھی کہيں زيادہ کررہا ہے ۔
چنو : اسی لیے تو میری بھی سمجھ میں نہیں آرہا ۔ آپ نے ضرور کوئی بھول کی ہوگی ۔
شرما : اس کا مطلب ہے ان لوگوں نے مجھے بے وقوف بناکر ایک شریف آدمی کو پھنسا دیا ۔ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ وہ معصوموں کی جانیں لیتا ہے ، بم پھوڑتا ہے اور جہاں کہیں مسجد کے علاوہ کوئي دوسری عبادت گاہ دیکھتا ہے اس کا خون کھول جاتا ہے ۔ وہ دیش میں کسی غیر مسلم  کو جینے نہیں دینا چاہتا ۔ مجھ سے تو گھور پاپ ہوگیا ۔
چنو : یعنی آپ نے خود آنکھوں سے اسے جرم کرتے نہیں دیکھا تھا ؟
شرما : اب تم زيادہ تفصیل میں مت جاؤ ۔ میں بھگوان سے صرف یہ پرارتھنا کرتا ہوں کہ اب کی بار مجھے سب کچھ سچ سچ بولنے کی شکتی پردان کردے ۔ میں اس بھلے منش کو اس طرح پھنساکر چین کی زندگی نہیں جی پاؤنگا ۔
دوسرے دن اخبارات کی سرخی تھی کہ جلال الدین کے بارے میں نندو کا سنسنی خیز بیان ۔ نندو نے بتایا کہ جلال الدین نردوش ہے اور مجھے غلط طریقے سے استعمال کیا گیا تھا۔ جیل میں بہت قریب سے اس آدمی کو دیکھ کر ایسا لگا کہ یہ تو آدمی نہيں فرشتہ ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔  












Wednesday, 10 June 2015

چندہ : تصویر کا دوسرا رخ
ثناءاللہ صادق تیمی ،  مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
 ایک ایسا لفظ جس کے بولتے ہی انسان ایک دوسرے ہی احساس کے تلے دب جاتا ہے ۔ مدارس کے وہ طلبہ جو فراغت کے کنارے کھڑے ہوتے ہیں انہیں سب سے زيادہ کوئي لفظ گھبراہٹ میں ڈالتا ہے تو وہ یہی لفظ ہے ۔ ایسے کمال یہ بھی ہے کہ بالعموم اس سے زیادہ گھبرانے والے طلبہ ہی بعد کے زمانے میں اس کی زد میں آتےہیں یا یوں کہیے کہ چندے کی یہ دیوی ان پر ہی زیادہ مہربان ہوتی ہے ۔ مدارس و جامعات کے اندربالعموم اساتذہ چندہ کے دوران کے وہ دلسوز اور پریشان کن تجربات طلبہ سے شيئر کرتے ہیں کہ تھوڑی بہت غیرت رکھنے والا طالب علم بھی رات دن یہ دعا نہیں کرتا بھی تو سوچتا ضرور ہے کہ وہ اس صورت حال کی زد میں نہ آئے ۔ لفظ چندہ در اصل نئے فارغین مدارس کے لیے بڑے باپ کی ایک ایسی بد صورت دوشیزہ ہوتی ہے جس سے وہ کسی صورت میں شادی نہیں کرنا چاہتا لیکن اسے اپنی سماجی صورت حال کی وجہ سے ماں باپ کے آگے ہتھیار ڈال دینا پڑتا ہے ۔
     لیکن تھوڑا ٹھہر کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا چندہ کو لے کر اپنایا گیا یہ رویہ بجا ہے ؟ کیا چندہ واقعۃ ایک نامعقول اور غیر شریفانہ عمل ہے ؟ کیا چندہ سے منسلک ہماری کوئي تاریخ رہی ہے ؟ یہ ایک سماجی تفاعل ہے یا بنی نوع انسان کی باضابطہ ضرورت ؟
         زیادہ دور نہ جاکر اگر رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کر لیاجائے تو پتہ چلے کہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چندہ کیا ۔ غزوہ تبوک کے موقع سے عام منادی اور تمام لوگوں سے چندے کی درخواست کا ہمیں علم ہے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ بعض دوسرے مواقع سے بھی سماجی ضرورتوں کے تحت عہد نبوی میں چندہ کیا گیا ۔ زکوۃ کو چھوڑ دیجیے ۔ صدقے پر اسلام میں باضابطہ ابھارا گیا اور بہت سے مسلمان اپنی اس صفت کی وجہ سے مشہور بھی ہوئے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بطور مثال دیکھا جاسکتا ہے ۔     
          سچی بات یہی ہے کہ مشترک خیر پر مشتمل سماجی کاموں کے لیے چندہ کرنا ہی پڑتا ہے ۔ زيادہ بڑا کام ہمیشہ چندے سے ہی ہوتا آیا ہے ۔ حکومت اگر بہت مضبوط ہو تو اور بات ہے ورنہ چندہ کے بغیر کام چلتا کب ہے ۔ آج کی جمہوری دنیا میں بھی چندے کا کاروبار بہت زوروں پر ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اب نام تھوڑے خوب صورت گڑھ لیے گئے ہيں ۔ این جی اوز کیا کرتے ہیں ؟ مختلف ادارے جو فلاحی کاموں کے لیے بنائے گئے ہيں وہ مختلف طریقوں سے چندے وصول کرتےہیں اور پھر مستحقین تک پہنچانے کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ بڑی بڑی جمہوریتوں میں چندے بہت معنی رکھتے ہیں ۔ امریکہ کی ہر بڑی سیاسی پارٹی الیکشن لڑنے کے لیے چندہ کرتی ہے ۔ ہندوستان میں سیاسی پارٹیاں یہی کرتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ملک میں چندے دھونسیا کربھی لیے جاتےہیں اور آہ و زاری کرکے بھی اور یہ منحصر ہوتا اس بات پر ہے کہ دینے والے کی حیثیت کیا ہے ۔ شریفوں والی ڈھب ہے کیا غنڈوں والا طرز۔ خیر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ چندہ سے کہیں چھٹکارا نہیں ہے ۔
سر سید احمد خان نے جب علی گڑھ کالج بنانے کا پروگرام بنایا تو چندہ کے لیے نکلے ۔ بیان کیاجاتا ہے کہ ایک سیٹھ نے یہ کہہ کر ان کے منہ پر تھوک دیا کہ اکثر مولوی ملا ٹائپ کے لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں اور سرسید نے اپنی دستی سے تھوک صاف کرکے کہا کہ سیٹھ جی میں ایک اچھے کام میں آپ کا تعاون مانگ رہا تھا ۔ آگے آپ کی مرضی اور پھر سیٹھ جی نے معافی مانگی اور خطیر رقم سے نوازا ۔
         ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے سقوط کے بعد جب دینی اداروں کا جال بچھایا گیا تو ان کے چلانے کا ذریعہ یہی عوامی چندے بنے ۔ اصحاب خیر اور صاحبان دولت نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بڑے بڑے تعلیمی اور تصنیفی اور دوسرے رفاہی ادارے قائم ہوئے اور ان سے مسلم سوسائٹی کا فائدہ ہوا ۔ تقسیم ہند وپاک کے بعد ہندوستانی مدارس کے پاس سوائے عوامی چندہ کے اور کوئی ذریعہ نہ بچا اور وہ بھی ایسی صورت حال میں جب قوم تباہی و بربادی کے نہ جانے کیسے کیسے سیاہ دن دیکھ رہی تھی لیکن اللہ کے نیک بندوں کی کوشش اور اہل خیر کی سخاوت سے یہ کام ہوتا رہا ۔
 یہاں غور کرنےوالی بات یہ بھی ہے کہ مدارس کے وہ اساتذہ یا منسوبین جو چندہ کرنے کے لیے نکلتے تھے ان کے لیے سفیر کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا ۔ اور ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ سفیر کسی بھی ملک میں اپنے ملک کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ مدارس کے یہ سفیر اپنی عملی زندگی میں دعوت و تبلیغ اور حق و صداقت کے سفیر ہوا کرتے تھے ۔ ہمارا ماضی بتلاتا ہے کہ یہ سفراء دین و دعوت کا کاز سنبھالتے تھے ۔ یہ لوگوں کے بیچ وقت لگاتے تھے ۔ مدرسے کا چندہ بھی ہو جاتا تھا اور ان لوگوں کی دین سے جڑی اصلاح اور تزکیہ بھی ۔ کچھ بڑے مدارس کے ذمہ داران اسی لیے نکلتے تھے کہ دعوت کا کام ہو سکے گا ۔ اس سے رابطہ گہرا رہتا تھا ۔ اپنائیت اور محبت کے گلاب کھلے رہتے ہيں ۔ عوام علماء کی خدمت کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے تھے ۔
       لیکن جب حالات نے ایک اور موڑ لیا ۔ اللہ نے خلیجی ممالک کو تیل کی دولت سے مالا مال کیا اور ان ملکوں نے غریب مسلمانوں کا خیال کرنا شروع کیا ۔ اپنی دولت کے خزانے رفاہ عام کے لیے کھول دیے تو ان کا اچھا خاصا حصہ مدارس اسلامیہ ہندیہ کے ذمہ داران کو بھی ہاتھ لگا ۔ پھر ہوا یوں کہ رفتہ رفتہ پورا اعتماد باہری ڈالروں پر ہوگیا اور ملکی پیمانے پر عوامی چندے کی رفتار دھیمی ہوتے ہوتے نہ کے برابر ہوگئی ۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بالعموم چھوٹے مدارس کے اساتذہ جاتے ہیں یا پھر وہ حضرات جاتے ہیں جنہیں ان کی اپنی ضرورت کھینچ لے جاتی ہے ۔ اللہ کے ان بندوں کی بات نہیں کررہا جنہوں نے بھیک مانگنے کا یہ ایک خوبصورت رستہ چن لیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے " قلندران باصفا " کی تعداد دن بدن بڑھتی ہی جاتی ہے ۔
بڑے ادارے اور ان کے ذمہ داران کو اب عوام کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اور مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کا ذہن اس طرح بنا دیا جاتا ہے جیسے چندہ کرنا کوئی نہایت گرا ہوا کام ہو۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں اپنے ایک استاذ سے جو شاعر بھی تھے اور جنہوں نے ہمیں کچھ دن انگلش بھی پڑھایا تھا اور جن کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ چندہ کرنے کے گڑ سے واقف ہیں ، ہم نے ایسے مزاحیہ اندازمیں جس کے اندر ایک قسم کا طنزبھی پوشیدہ تھا، پوچھا تو سر! خوب چندہ کیا آپ نے ؟ انہوں نے ہمارا منشا بھانپ لیا اور کہا : جی جناب ! ہم نے خوب کیا ۔ ایسے آپ کے رئيس الجامعۃ بھی سعودی عرب میں چندہ کرتے ہیں تبھی آپ کا ادارہ چل رہا ہے !!! اور ہم بالکل چپ ہوگئے تھے ۔
       سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہندوستانی جامعات کے ذمہ داران ہندوستان کے باہر چندہ کرسکتے ہیں تو عوامی رابطہ بحال رکھنے کے لیے اور دعوتی نقطہ نظر سے ہندوستان کے اندر یہ کام کیوں نہیں کیا جا سکتا ۔
           چندہ صرف اقتصادی پہلو نہيں رکھتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس اعتبار سے بھی اس کی اہمیت کم نہیں ہے ۔ جس ملک میں مسلمانوں کا اپنا نظام نہیں ہو ، جہاں بیت المال طرح کی کوئي صورت نہ بن پارہی ہو اور جہاں زیادہ تر لوگ مادیت میں ڈوبے ہوئے ہوں وہاں اگر چندہ کرنے کے لیے نہ نکلا جائے تو صدقہ اور خیرات تو چھوڑ دیجیے لوگ زکوۃ تک نہیں نکالینگے ۔ اور ایسا ہو رہا ہے جب قوم کی بڑی تعداد اپنے مال میں واجب زکوۃ نہيں نکالتی ۔ مجھے نہیں معلوم لیکن کیا اس پوری صورت حال پر طبقہ علماء کو سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اب صاحبان مال و منال کو مدارس کے ذمہ داران سے یہ شکایت ہے کہ وہ مدارس کی چہار دیواری سے نہیں نکلتے ۔ کیفیت ایسی ہے کہ پہلے لوگ چندہ کرنے والے علماء سے پریشان تھے اور اب اچھے علماء کے چندہ نہ کرنے سے پریشان ہیں ۔
ایسے اس پورے معاملے میں لفظ کے اندر آئی تبدیلی سے بھی سبق سیکھا جا سکتا ہے ۔ پہلے سفیر پھر محصل اور اب تو دھڑلے سے مچند بولاجاتا ہے ۔ ایسے ہماری رائے میں اپنے لوگوں اور اپنی مٹی سے ٹوٹتا ہوا یہ منظر نامہ اہل مدارس کبیرہ کے دانشمندانہ رویے کے زمرے میں نہیں آتا !!!





Tuesday, 9 June 2015

غزل
ساگر تیمی
ہوا کی سمت ضرورت کا اعتبار کرو
بہت ہے فائدہ اس میں تو بار بار کرو
تمہاری عادت ہے کھانے کی کوئی بات نہیں
مگر ہماری بھی دعوت کبھی کبھار کرو
اگر ہے ظلم کی تقدیر ہی فنا ہونا
تو مٹ ہی جائے گا کچھ دن توانتظار کرو
خزاں کی اپنی سیاست ہے ، تم کرو اپنی
جفا کا زور گھٹاؤ ، وفا بہار کرو
کروگے عشق تو مٹنے کا غم نہیں ہوگا
ہماری مانو ، محبت کا کارو بار کرو
امیر ہونے سے سودا ضمیر کا ہوگا
تو یوں کرو کہ فقیری کو تاجدار کرو
وہ خود تو ظلم کے جویا ہیں ، بے مروت ہیں
مجھے یہ کہتے ہیں ساگر وفا شعار کرو


Saturday, 6 June 2015

تنہائی ! تنہائی ! تنہائی !
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
اردو کے سب سے بڑے شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب نے جانے کیا سوچ کر رکہا تھا ۔ مجھے تو لگتا ہے وہ بھی مجلسی آدمی تھے ۔ ٹھیک ہے ان کی زندگی میں مسائل بہت تھے اور انہوں نے لوگوں کو قریب سے دیکھا تھا اس لیے بنی نوع انسان کی بے وفائیوں اور جفاؤں سے تنگ آکر انہوں نے کہا ہوگا ۔ جناب اب چاہے انہوں نے جو سوچ کر بھی کہا ہو لیکن جو انہوں نے کہا وہ میرے لیے بڑا عجیب واقع ہوا ۔ ہوا یوں کہ ہم نے غالب کا شعر پڑھا ۔
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئي نہ ہو
ہم سخن کوئي نہ ہو اور ہم زباں کوئي نہ ہو
بے درودیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
کوئي ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئي نہ ہو
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئي نہ ہو
سعودی عرب آئے تو ہم اکیلے تو تھے نہیں ، اس لیے غالب کے مشوروں پر عمل کرپانے سے معذور تھے ۔ ہم رحمان برادران (ڈاکٹر ظل الرحمان تیمی اور حفظ الرحمن تیمی ) کے ہمراہ تھے اور ٹھیک سے ایک ہفتے ہوئے نہ تھے کہ مولانا نور عالم سلفی بھی ہم سے آملے تھے اور یوں پوری انجمن سی سج گئی تھی ۔ اوپر سے جناب عاصم صاحب سلفی کی کٹیا جہاں محفلیں ہی محفلیں تھیں ۔  ہم 19 جنوری کو سعودی عرب پہنچے تھے ۔ تب سے ابھی سے چار دن پہلے تک ہم سب ساتھ تھے ۔ اس لیے غالب کا شعر یاد تو آتا تھا لیکن ہم جھٹک دیا کرتے تھے ۔ لیکن ہوا یوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی محترمہ کو بلانے کا پورا انتظام کیا اورادھر مولانا نورنے بھی ان کے نقش قدم کی پیروی کی ۔ (اس وقت پہلی مرتبہ ایسا لگا کہ اے کاش ! ہمارے پاس بھی کم از کم ایک عدد بیوی ہوتی ! ) ہم نے سوچا تھا کہ یہ بندھے ہوئے پرندے جائینگے لیکن ہم تو آزاد پنچھی ہیں اور اس     "  ہم "میں ہم نے مولانا حفظ الرحمن تیمی کو بھی شامل رکھا تھا لیکن جب ان دو بزرگوں کی دیکھا دیکھی مولانا حفظ الرحمن تیمی بھی نکل کھڑے ہوئے تو ہم نے من ہی من غالب کو یاد کیا کہ چلو اب وہ کیفیت آہی گئی ہے جب ان کے مشوروں کو عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔
آپ سے کیا پردہ ہم ان کے جانے سے بہت خوش تھے ۔ یوں بھی ایک ساتھ رہنے میں اچھے اچھوں کے ساتھ گڑ بڑ ہونے کے اندیشے رہتے ہیں ۔ عام حالات میں رقابت نہیں ہوتی لیکن ایک ساتھ رہنے میں چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی غیر ضروری اہمیت اختیار کرجاتی ہیں اور بد مزگی پھیل جاتی ہے ۔ اللہ کا کرم رہا ایسا مرحلہ نہ کے برابر آیا اور ہم نے ایک ساتھ خوب گزارے ۔ " نہ کے برابر" کی ترکیب زیر غور رہے ! بعد میں الزام مت دیجیےگا کہ آپ نے تو سچ کہا ہی نہیں !!!
     خیر ان کے جانے کے بعد ہم نے خوب جھوم جھوم کر غالب کے مذکورہ اشعار پڑھے ۔ ہم خوب خوش تھے جناب کہ شاید پہلی مرتبہ غالب کے ان اشعار کو مکمل عملی پیکر نصیب ہوگا ۔ سب سے الگ ، غریب الدیار ، زبان کا مسئلہ اور وہ تمام کلپنائیں جو غالب کے ان اشعار میں ہیں ہمارے پاس موجود تھیں ، ہم نے اپنی قسمت پر ناز کیا اور غالب بے چارے پر ترس کھاتا رہا کہ بے چارے کو یہ عظیم فرصت مل ہی نہ پائی لیکن جناب عالی ! ہمیں کب خبرتھی کہ تنہائي کی یہ مٹھائی اتنی بھی میٹھی نہیں ہوتی ۔ یہ تو زہر کی گھونٹ ہے جو گلے سے اتارنی پڑتی ہے ۔ ہماری مجبوری یہ کہ ہم دو حیثیتیں رکھتے ہیں ایک شاعر اور ایک مولوی ہونے کی اور آپ مانیں یا نہ مانیں ان دونوں حیثییتوں کے لوگ مجلسی ہوتے ہیں ۔ باتوں کی کمائی کھاتے ہیں ۔ مولوی اگر وعظ نصیحت نہ کرے اور شاعر اگر اپنا دیوان کھول کر اپنی شاعری نہ سنائے تو دونوں بے چارے بے موت مر جائیں ۔ آپ سوچیے کہ اگر یہ دونوں کمی ایک ہی شخص میں جمع ہو جائے اور پھر اس پر تنہائی لاد دی جائے تو اس پر کیا بیتے گی ۔ دوچار دن کے اندر ہی کیفیت ایسی ہے کہ اگر غالب مل جائيں تو انہیں کو یاد رہے کہ کس سے ملاقات ہوئی تھی !!!
شروع شروع میں تو ہم خوب خوش تھے کہ اب کوئي پابندی نہیں ، جو جی میں آئے گا کرینگے ، جب طبیعت چاہے گی لائٹ آن کرینگے اور جب طبیعت چاہے آف کرینگے ۔ من کرے گا تو زور زور سے غزلیں گننگائینگے اور جی میں آئے گا تو دھیمے سروں میں گائینگے لیکن جناب جب پہلی غزل ہوئی ہے اور ادھر ادھر کوئی نظر نہيں آیا ہے تو اب آپ سے کیا بتاؤں کیا قیامت آئی ہے ۔ ایک وقت کو تو ایسا محسوس ہوا کہ درو دیوار ہاتھ جوڑے کھڑیں ہیں کہ اب بس بھی کریں ۔ ہمیں تو معاف کردیں !!!
مجلسی ہونے کا نقصان یہ ہے کہ آدمی خلوتی نہیں ہو پاتا اور جب خلوت آجاتی ہے جیسے ابھی ہمارے اوپر آئی ہوئی ہے تو بڑی اذیت ناک ہوتی ہے ۔ صورت حال ایسی ہوتی ہے کہ ذرا سا کہیں کچھ کھٹکا اور آدمی دروازہ کھولتا ہے کہ کوئی آیا ہوگا ۔ ہم کئی بار اسے تجربے سے گزر چکے ہیں ۔ کیف بھوپالی کے شعر کی گہرائی ان دنوں زیادہ ہی سمجھ میں آرہی ہے ۔
کون آئے گا یہاں کوئي نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
اور جناب ! فرصت اور تہنائی جب دونوں اکٹھے ہوجائیں تو اور بھی عذاب آتا ہے ۔ کاموں میں تو پتہ نہیں چلتا لیکن فرصت کے اوقات میں یہ آوارہ ذہن عجیب و غریب سیاحتیں کرتا رہتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرصت اور صحت کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے اندر اکثر لوگ غفلت برتتے ہیں تو ایسے تھوڑے ہی کہا ہے ۔ یہ ایک سچ  ہے اور اتفاق سے ان دنوں جبکہ ہم یہ سطور قلمبند کررہے ہیں ، فرصت کے لمحات ہی سے گزر رہے ہیں ۔ کسی وقت کیف بھوپالی کا مذکورہ شعر دہراتے ہیں اور کسی وقت فیض کی عظیم نظم " تنہائی " کی مالا جپتے ہیں ۔
پھرکوئی آیا دل زار نہیں کو ئی نہیں
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات ، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانےلگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سوگئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندھلا دیے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں بڑھادو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کرلو
اب یہاں کوئی نہیں ، کوئی نہين آئے گا
ہمارے دوست بے نام خاں ہماری موجودہ صورت حال پر خوب خوش ہیں ۔ کہتے بیٹے ! تم اس لیے پریشان ہو کہ اللہ والے نہيں ہو ورنہ خلوت تو اللہ والوں کے لیے سکون کا ذریعہ ، دل کے آباد کرنے کا وسیلہ اور خود کو سمجھنے کا سب سے اہم مرحلہ بن کر آتی ہے ۔ تنہائی تو ان کے لیے رحمت ہی رحمت ہوتی ہے ۔ وہ ذکر و اذکار اور عبادت و ریاضت میں لگے رہتے ہیں اور اپنے درجات بڑھاتے رہتے ہیں اور تم کج فہم ہو ورنہ غالب بھی اپنے مذکورہ شعر میں اللہ والوں کی اسی صف میں شامل ہونے کی کلپنا کررہا ہے ۔ تمہيں یہ سنہری موقع ملاہوا ہے لیکن تم اس سے پریشان ہو۔ تم وہ پہلے بے وقوف آدمی ہو جو اس خلوت کو عذاب کے طور پر دیکھ رہا ہے ۔ تم شاید بھول رہے ہو ، معاف کرنا! تمہیں یاد کب رہتا ہے کہ تم بھولوگے ! ورنہ اسی خلوت نے مہاتما بدھ کو گیان دلایا ، غار حراء کی گوشہ نشینی ہی میں رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ہم نے بیچ میں بے نام خاں کو روکتے ہوئے کہا لیکن خان صاحب ! اسی خلوت میں شیطانوں کا حملہ بھی خوب ہوتا ہے اور کیسے کیسے کشف و کرامات کے نمونے سامنے آتےہیں جو اول وہلہ ہی میں سمجھ میں آجاتے ہیں کہ شیطانی وساوس ہیں لیکن جنہيں دین و ایمان کی بلندی سمجھ کر اپنا لیا جاتا ہے !! بے نام خاں نے برا سا منہ بنایا اور بولے : تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم مثبت پہلوؤں کو دیکھنے کو تیار ہی نہیں ہو ۔ میں تو چلا ۔ اب تم اس تنہائی کو عذاب سمجھ کر جھیلو یا رحمت سمجھ کر خود احتسابی اور ذکروفکر کی دنیا بسالو یہ تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ بے نام خاں ۔۔۔۔۔ بے نام خاں ۔۔۔۔۔ لیکن تب تک بے نام خاں جا چکے تھے ۔ نہ جانے کس گوشے سے رگھوپتی سہائے فراق کورکھپوری کا شعر زبان پر آگیا ۔
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
تو ایسے میں تیری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں









Thursday, 28 May 2015

مسکراتا چہرا
ساگر تیمی
افسر : ہاں تو تم یہ بتاؤکہ دہشت گردوں کے کس کس گروہ سے تمہارا تعلق ہے ؟
ملزم : سر ! کسی سے نہیں ۔  
افسر: جھوٹ مت بولو ۔ اب تم ہمارے چنگل میں ہو تمہیں تو سچ بولنا ہی پڑے گا ۔
ملزم : سر ! جھوٹ بولنا ایسے بھی ہمارے دین میں حرام اور بڑا گناہ ہے ۔
افسر: کیا مطلب ؟
ملزم : سر! اگر ہم جھوٹ بولینگے تو ہمیں اللہ کے یہاں سزا ملے گی جو یہاں کی سزا سے زيادہ بڑی اور خطرناک ہوگی ۔
افسر : اچھا ! تم نے ہمیں بے وقوف سمجھ رکھا ہے ۔ پھر تمہارے لوگ اتنا جھوٹ کیوں بولتے ہیں ؟ لوگوں کی جانیں کیوں لیتے ہیں ؟
ملزم :  سر! اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کو صحیح دین کا پتہ نہیں ہے یا پھر وہ اپنے مفاد کے لیے دین کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔
افسر : تو تمہارا دین کیا کہتا ہے ؟
ملزم : سر ! ہمارا دین تو ایک اللہ کی عبادت کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور سارے انسانوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کو کہتا ہے اور ساتھ ہی یہ حکم دیتا ہے اللہ کی جو سچائی ہمارے پاس ہے وہ ہم تمام انسانوں تک پیار ، محبت اور حکمت سے پہنچائیں ،
افسر : پھرتم لوگ جہاد کس لیے کرتے ہو ؟ تم جہاد کو مانتے ہو کہ نہیں ؟
ملزم : سر ! جو جہاد کو نہ مانے وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ۔ ظلم کے خلاف لڑنا ، مظلوم کی مدد کرنا اور ظالم کے خلاف مورچہ سنبھالنے کو کون غلط کہہ سکتا ہے ۔ کیا آپ غلط کہتے ہیں ؟
افسر : اگرایسا ہے تو تم لوگ بم پھوڑ کر معصوموں کی جانیں کیوں لیتے ہو؟
ملزم : سر ! اسلام میں جہاد کا مطلب یہ ہےکہ ہم اپنے دین کی دعوت محبت سے آپ کو دیں ۔ آپ قبول کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی لیکن اگر کوي تیسرا فرد بیچ میں آکر یہ کہے کہ ہم تمہیں دین کی دعوت نہیں دینے دینگے ،وہ راستہ روکے تو ایسی صورت میں اگر طاقت ہوگی تو ہم اس سے لڑینگے اور اس رکاوٹ کو دور کرینگے اور طاقت نہيں ہوگی تو صبر کرینگے اور دعا کرینگے اور یہی جہاد ہے ۔ اور ہاں سر یہ فیصلہ عام آدمی نہيں کرے گا بلکہ اگر مسلم حکومت ہوگی تو وہ کرے گی ۔
افسر : اوراگر عام مسلمان جان لینے پر اتارو ہو جائے تو ؟
ملزم : سر! اسے اسلامی اعتبار سے غلط سمجھا جائے گا ، یہ فساد ہے  اور آپ چاہیں تو اسے دہشت گردی بھی کہہ سکتے ہیں ۔
افسر : اچھا ! تو آپ کے حساب سے ہندوستان میں جہاد ہے کہ نہيں ؟
ملزم : سر! یہاں تو ہمیں عبادت اور دعوت دونوں کی آزادی حاصل ہے ۔ ہماری جانیں محفوظ ، مال محفوظ اور ہم محفوظ ہیں بھلا یہاں جہاد کیسے صحیح ہو سکتا ہے ۔ یہاں تو رکاوٹ ہے ہی نہیں !
افسر : یعنی اگر روکاٹ ہوگی تو آپ جہاد کرینگے ؟
ملزم : سر ! ہمارے یہاں طاقت نہ ہونے کی صورت میں صبر ہے فساد نہیں اور اگر طاقت ہو تو جنگ ہے دہشت گردانہ کاروائیاں نہیں ۔
افسر : کمال ہے ۔ تم تو بالکل انوکھی تشریح کررہے ہو ۔ تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو ؟
ملزم : سر! میں اسلام کا عالم ہوں ۔ میں نے قرآن و حدیث پڑھا ہے اور ہم تمام مسلمانوں کو مدرسوں میں یہی پڑھایا جاتا ہے ۔
افسر : اچھا تو یہ بتلاؤ کہ ہم نے جب سے تمہیں پکڑا ہے ۔ تم لگاتار مسکرائے جارہے ہو ۔ ہمارے یہاں تو اچھے اچھوں کی حالت خراب ہو جاتی ہے ۔
ملزم : سر ! میں غلط نہیں ہوں ۔ اس کے باوجود مجھ پر زیادتی ہوگی تو میں صبر کرونگا اور مجھے پتہ ہے کہ اس پر صبر کرنے کی وجہ سے مجھے اللہ کے یہاں اجر ملے گا ۔ میں غلط ہوتا تو پریشان ہوتا ۔
افسر : اور تم جہاد اس لیے کروگے کہ جنت میں تمہیں حور ملے ؟
ملزم : سر! حور کے حصول کے لیے جہاد ضروری نہیں ہے جو کوئی مسلمان جنت میں جائےگا اسے حور ملے گی ۔
افسر : لیکن تم اب بھی کیوں مسکرارہے ہو ؟
ملزم : سر ! مسکرانا میرے لیے بھی اور آپ کے لیے بھی اچھا ہے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا بھی ہے کہ جب کسی سے ملو تو مسکراکر ملو ۔
افسر : یار ایسا ہے کہ تم یہاں سے جاؤ ۔ میں سمجھ نہیں پارہا کہ تمہارے ساتھ کیا کروں ؟ تم پہلے آدمی ہوجو ہماری کسٹڈی میں ہمیں ہی سوچنے پر مجبور کررہے ہو ۔ اگر تمہارا دین ایسا ہی ہے تو پھر یہ سب کیوں ہورہا ہے ؟ دیکھو۔ ابھی تم جاؤ ۔ جب ضرورت پڑےگی ہم تم سے بات کرینگے اور ہاں اسی طرح مسکراتے رہنا ۔ مسکراتے ہوئے تم بہت اچھے لگتے ہو ۔
    انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور میں اپنے ڈیرے پر آگیا ۔ عبدل اپنی پوری داستان سنارہاتھا اور میں اخبار کے سب سے پہلے صفحے پہ چھپی اس کی تصویر نہارے جارہا تھا ۔ وہی تصویر جس کے نیچے " دہشت گردانہ کاروائیوں کا ملزم " لکھا ہوا تھا ۔ سچ مچ عبدل تصویر میں بھی مسکرارہا تھا اور اس مسکراہٹ میں بلا کی معصومیت اور کشش تھی ۔





Thursday, 14 May 2015

مسلمانوں کی تاریخ معجزوں سے بھری ہوئي ہے
ثناءاللہ صادق تیمی ، الرئاسۃ العامۃ لشؤون المسجد الحرام و المسجد النبوی
قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ایسا لگتا ہے کہ جیسے اب ان قوموں کا مٹ جانا طے ہے ۔ کتاب حیات سے ان کے صفحات ہمیشہ کے لیے کھرچ کر الگ کردیے جائیگے اور روئے زمین پر ان کا نام لیوا کوئی نہ رہ جائے گا ۔ بہت سی قوموں اور تہذیبوں کے نام و نشان مٹے بھی ہیں اوروہ صحیح معنوں میں نسیا منسیا کی مثال بھی بنے ہیں ۔ امت مسلمہ کی تاریخ پر نظر دوڑائیے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تاریخ میں کئی موڑ ایسے آئے جب لگنے لگا کہ اس امت کی بساط لپیٹ دی جائے گی ۔ لیکن ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ کا سب سے روشن تجربہ یہ ہے کہ سورج کی مانند یہ امت کبھی غروب نہ ہوسکی ۔ اقبال نے کہا ہے ۔
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ، ادھر ڈوبے ادھر نکلے
ہماری شروعات ہی ایسی ہوئی کہ جیسے ایک چراغ مسلسل آندھی کی زد میں ہے ۔ لیکن مکہ کی پوری کافر برادری اپنے سارے سازو سامان ، آن و بان اور قوت وشہامت کے باوجود اس سراج منیر کا کچھ بھی بگاڑ پانے میں ناکام رہی ۔ اسے رسول الامۃ کا معجزہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے کہ جس دعوت کی شروعات ایک فرد نے کی تھی ، جسے ستایا گیا تھا ، جان لینے کی کوشش کی گئی تھی ، جس کے نادار ماننے والوں پر ظلم و عذاب کی ساری سنتیں تازہ کر دی گئی تھیں ، جسے خود اپنے شہر سے نکل جانے پر مجبور کردیا گیا تھا وہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ سال کی مختصر مدت میں بحیثيت فاتح لوٹتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اس کے سامنے اس کے سارے دشمن سرنیچا کیے عفوو درگذر کے سوالی بنے کھڑے ہیں ۔ غور سے دیکھیے تو مسلمانوں کی تاریخ ہی معجزوں کی تاریخ ہے ورنہ مضبوط پٹھوں والے نوجوانوں کے بیچ سے سورۃ یس کی ابتدائی آیتیں پڑھ کر نکل جانا آسان تھا کیا ۔ در اصل یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی ۔ تین سو تیرہ کے نہتھے جتھے کا ایک ہزار کے مسلح لشکرکو چت کردینا اور غزوہ احزاب میں باد باد صر صر کے ذریعہ دشمنان اسلام کے خیمے میں ہلچل پیدا کرکے مسلمانوں کی حفاظت ہم سے کیا کہتی ہے ؟
    رسول کائنات کی وفات کے بعد ارتداد اور مانعین زکوۃ کے فتنے نے جس طرح سر اٹھایا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد مسلمان جس طرح سے ٹوٹے ہوئے تھے لگ تو ایسا رہا تھا کہ بس اب اس قافلے کے بکھر کر مٹ جانے کا وقت آگیا ہے لیکن صرف ایک آدمی کی بصیرت اور ایمان نے ایسا سماں پیدا کردیا کہ چاروں طرف مسلمانوں کی قوت کی دھاک بیٹھ گئی ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جس طرح سے گھیر کر بلوائیوں نے ظلم و تعدی کے سارے حدود پار کرتے ہوئے شہید کردیا ، سوچا جا سکتا ہے کہ مظلومیت اور حق کی کسمپرسی کی کیا کیفیت رہی ہوگی کہ لمبی چوڑی اسلامی حکومت کے فرمانروا کو یوں قتل کردیا جائے ۔ جنگ جمل اور جنگ صفین کے وہ لمحات کیسے رہے ہونگے جب ایک مسلمان کے مد مقابل دوسرا مسلمان رہا ہوگا ۔ تاریخ کے تجربات نے تاریخ سے یہی کہا ہوگا کہ اب اس قوم کا آخری وقت آرہا ہے لیکن یہ دیکھیے کہ امت بنو امیہ کی خلافت میں کس قوت سے ابھر رہی ہے !!
 تاتاریوں نے قتل و خون کا جو ننگا ناچ ناچا ہے اور امت کے اوپر جس قسم کا عذاب مہین نازل ہوا ہے کس کے گمان میں تھا کہ اللہ تبارک وتعالی اسی خونریز قوم کو کہ ایمان والوں کو مٹانے کے لیے اٹھی ہے ، ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنا دے گا ۔ یہ اس امت کا کیسا معجزہ ہے !!
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
دور کیوں جائیے اپنے ہندوستان ہی کی تاریخ کو ذہن میں رکھ لیجیے ۔ اور اس میں بھی مغلوں کی شاندار سلطنت کی نہیں بلکہ آزادی کے بعد تقسیم کی کوکھ سے جنم لینے والی اس صورت حال کو ذہن میں رکھ لیجیے جب پوری قوم بحیثيت قوم خوف کی نفسیات میں جی رہی تھی ۔ جب آئے دن فسادات کے نہ جانے کتنے گولے داغے گئے ، باضابطہ پلاننگ کرکے ان شہروں کو فسادات کی آگ میں جھونکا گیا جہاں ہماری معیشت مضبوط تھی ۔ فسطائی ذہنیت نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ 1992 میں بابری مسجد ڈھائی گئی اور ملک کے چاروں طرف الٹے ہمیں ہی نشانہ بنایا گیا ۔ ہمارے خلاف تعصب کے سارے بچھو آزمائے گئے اور نفرت کے سانپ کو ہمارے پیچھے چھوڑ دیا گیا لیکن انجام کار کیا ہوا ؟ کیا ہم مٹ گئے ؟ کیا ہماری بساط الٹ دی گئی ؟ کیا ہمارا ایمان اور ہمارے اعمال صالحہ کی روشنی مدھم پڑ گئی ؟ کیا حق و صداقت کے حاملین نے صبروشکیبائي کے ساتھ آگے کا سفر جاری نہيں رکھا ؟
اللہ کی قسم ہمارے دشمن کی یہ ذلت ہی ہے کہ انہوں نے درندگی اور سبعیت کے ایک پر ایک ریکارڈ بنا ڈالے لیکن انہيں کامیابی نہ مل سکی ۔ ہم نے ایمان ، عمل صالح اورمضبوط قوت دفاع کے ذریعہ ہر طرح کی صورت حال کا مقابلہ کیا اور الحمد للہ سرخرو ہوئے ۔ ایسا نہیں کہ اس بیچ ہمارا نقصان نہيں ہوا ، جانیں ضائع نہ گئیں ، عصمتیں تارتار نہ ہوئيں ، ہمارے جگرگوشوں پر آرے نہ چلائے گئے اور ہماری نگاہوں میں سلائیاں نہ پھیری گئیں لیکن یہ سچ ضرور ہے کہ ہم ڈوبے نہیں ، ہم نے پسپائي اختیار نہ کی اوربحیثیت ایک قوم کے ہمارا سفربہر حال جاری رہا ۔
    قوموں کی زندگی میں برے وقت آتے ہیں ۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ آج ان کی حکومت ہے جن کے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہيں ، جن کی پہچان نفرت اور شعار تعصب ہے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ یہ وقت سدا کے لیے باقی رہنے والا نہیں ہے ۔ دیکھ لیجیے کہ چہرے پر جو غازہ لیپا گیا تھا اب وہ پگھلنےلگا ہے ، نفرت کے سوداگروں کو عوام پھر سے دھتکاررہے ہیں اور کوئي بعید نہیں کہ مشرق سے ابھرنے والا سورج کوئي اور ہی پیغام لے کر نمودار ہو ۔ ہمارا علاج نہ تو ہمت شکن خوف میں ہے اور نہ ایمان فروش بزدلی میں اور نہ حماقت آمیز جوش میں ۔ ہمارے مسائل کا حل ایمان ، عمل صالح ، ٹھوس حکمت عملی ، بصیرت افروز پالیسی اورصبر وشکیبائی کے اس نور میں ہے جسے تقوی و پرہیزگاری قوت فراہم کرتی ہے ۔ اللہ کا ارشاد ہے ( وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا )
   یاد رہے کہ ہمارا مخالف چال چل رہا ہے کہ خوف کا ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ پوری قوم ترقی کے راستے سے ہٹ جائے لیکن یہ دشمن کو بھی پتہ ہے کہ اب یہ قوم بیدار ہے ، نگاہیں کھل چکیں ہیں ، عقلوں نے تقلید کی بندشیں توڑ دی ہیں ، ایمان میں قرار اور قوت ہے اور آگے بڑھنے کی امنگ اندھیروں سے پریشان ہونے والی نہیں ہے ۔ بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی سے مالامال یہ قوم شب دیجور کے شکم سے صبح تازہ نکال کر ہی دم لے گی ۔ بقول شاعر غلام ربانی تاباں ۔
یہ رات بہت تاریک سہی ، یہ رات بھیانک رات سہی
اس رات کے سینے سے پیدا اک صبح درخشاں کرنا ہے
اور علامہ اقبال کی زبانی
میں ظلمت شب میں لے کے نکلونگا اب درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری ، نفس میرا شعلہ بار ہوگا
  بعض افراد ایسے ہیں جن کے ایمان کی کمزوری اور تجربے کی کمی نے انہیں شاہراہ حق وصداقت سے منحرف کردیا ہے ، جنہوں نے دشمنوں کے خیمے میں جاکر پناہ ڈھونڈنا شروع کردیا ہے اور نفاق و تملق کی سیڑھی چڑھ کر نام نہاد ترقی کے راستے پر چلنے کی کوشش شروع کردی ہے، ہمیں ان کی طرف رشک بھری نگاہوں سے دیکھنے کی بجائے اس بھیانک نتیجے کا انتظار کرنا چاہیے جسے اللہ نے منافقوں اور ابن الوقتوں کے لیے مقرر کررکھا ہے ۔ اللہ کی سنت ان کے لیے بدلنے والی نہیں ہے اور یہ اپنے سیاہ اعمال کے منطقی نتیجے تک اب تب پہنچنے ہی والے ہیں ۔ بس ہمارا یہ یقین اور ایمان تازہ رہے کہ سچ کا مقدر شکست نہیں ہے اور تاریکی چاہے جتنی گہری ہو روشنی کی ہلکی سی کرن بھی اسے شکست فاش سے دوچار کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔
اپنی صفوں میں علم ہے ،جرائت ہے، وقت ہے
ایسا نہیں کہ سچ کا مقدر شکست ہے
ایمان تازہ رہے ۔ دشمن مکر کررہا ہے اور ہماری جانب سے اللہ کا مکر جاری ہے ۔ (ویمکرون و یمکر اللہ و اللہ خیر الماکرین ) وہ بھی مکرکررہے ہیں اور اللہ بھی مکرکررہا ہے اور اللہ سب سے بہتر مکر رکرنے والا ہے ۔ پھر یہ خوف کی نفسیات کیوں ؟ آگے بڑھنےمیں پریشانی کیوں ؟ لوٹے جانے کا ڈر کیوں ؟ اسے نکال پھینکیے کہ یہ ایمان کی کمزوری ہے ! اوربرملا کہ دیجیے !
لو ہم پھر جلا رہے ہیں چراغ
اے ہوا حوصلہ نکال اپنا









مدارس نہيں ، کالج کی ضرورت ہے ؟؟؟
(آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے )
ثناءاللہ صادق تیمی ، اسسٹنٹ پروفیسر ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض ، سعودی عرب
برصغیر ہندو پاک کی حد تک یہ بات پوری طرح درست ہے کہ اسلام کی روح ، مسلم شناخت اور دین کا جو کچھ بھی تصور و مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے اس میں مداراس اسلامیہ کا سب سے اہم کردارہے ۔  ہمارے اسلاف واقعۃ بڑے سمجھدار اور بصیرتوں کے مالک تھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد امت مسلمہ کے دینی تشخص کی حفاظت مشکل ہو جائے گی تو انہوں نے مدارس اسلامیہ کا جال پھیلا دیا ۔ سادگی ، قناعت اور جفاکشی کی بنیاد پر دینی تعلیم کا بندو بست کیا گيا اور دیکھتے دیکھتے یہ جال ایک ایک بستی میں مکتب کی شکل میں پھیل گیا ۔ پوری دنیا میں یہ بات مانی جاتی ہے کہ برصغیر کے اندر مسلمانوں میں اپنے دین کا شعور بہت ہوتا ہے اور یہ بات ہمیں تسلیم کرنی ہی پڑےگی کہ بہرحال یہ کریڈٹ مدارس ومکاتب اور اس کے اندر اپنی جاں سوزی اور جگرکاوی سے روشنی بکھیرنے والے علماء کو ہی جاتا ہے ۔ مدارس کا بنیادی مقصد دین کی تعلیم ، اسلامی دعوت کا فروغ اور اسلامی تربیت سے لیس مسلم نوجوانوں کی کھیپ تیار کرنا ہے ۔ آج سے بیس پچیس سال قبل تک مدارس میں تعلیم کا مطلب اللہ کے دین کی خدمت اور دعوت اسلامی کی اشاعت کا جذبہ ہوا کرتا تھا ۔ بہت سے صاحب حیثيت لوگ بھی اپنے بچوں کو اسی جذبے کے تحت مدارس کے اندر داخل کرتے تھے اور مدارس سے فارغ ہونے والے علماء بھی دعوت و خدمت سے جڑے معاملات سے خود کووابستہ رکھا کرتے تھے ۔ لیکن جب مغربی افکار کے زیر اثر مادیت کا طوفان اٹھا تو اس کی زد میں مدارس بھی آئے ۔ طلبہ مدارس کو خود کفیل کرنے کے لیے سائنس و ٹکنالوجی ، انگریزی اور عصری علوم پڑھانے کی پرزور وکالت کی گئی اور دیکھتے دیکھتے جہاں بہت سے مدارس نے اپنے نصاب میں ترمیم و تبدیل سے کام لیا وہیں بہت سے مدارس نے یونیورسٹیز سے اپنے ادارے کا الحاق بھی کرایا ۔ پھر دیکھنے میں یہ آیا کہ زیادہ تر بالیاقت اور ذہین طلبہ نے عصری جامعات کا رخ کرلیا۔ ایسے فارغین مدارس دعوت و تعلیم کے سوا دوسرے میدانوں میں اپنی حیثيت منوارہے ہیں ۔ خاص طور سے کارپوریٹ میں تو خوب کھپ رہے ہیں ۔ اتنا ہی پر شاید یہ معاملہ رک جاتا تو چل بھی جاتا لیکن ہوا یہ کہ اسی بیچ جب خلیج کے اندر دولت ظاہر ہوئی اور وہاں کے مسلمانوں نے مسلمانان عالم کو اپنے عطیات سے نوازنا شروع کیا تو برصغیر کے ارباب مدارس اس میں آگے آگے رہے ۔ بلڈنگیں بنیں ، بڑے بڑے مدارس وجود میں آئے ، بہت سا کام ہوا ، سعودی عرب نے اساتذہ کو تنخواہیں دینی شروع کی ، بہت سے اداروں کے اندر مدنی علماء مبعوث ہوئے اور یوں مدارس سے جڑا ہوا مفلسی کا تصور آہستہ آہستہ محو ہوتا گیا ۔ عوامی سطح پر یہ بات عام ہوئی کہ اب مدارس کے اندرتعلیم پانا دنیاوی زندگی کی آشائش کی قربانی پر نہیں ہے بلکہ صورت حال دونوں ہاتھ میں لڈو کی ہے یعنی دینی تعلیم سے حاصل ہونے والی عزت و وقار بھی ہے اور عصری علوم سے بہرور ہونے کے امکانات بھی اورنہیں تو ابتعاث کی دولت سے مالا مال ہونے پر خوشحال اور الجھنوں سے دور زندگی گزارنے کی سعادت بھی ۔ ایک خاص دائرے تک اس میں کوئي بڑا مضایقہ بھی نہیں تھا لیکن ہوا یوں کہ ارباب مدارس ، اساتذہ مدارس اور مدارس سے جڑے ہوئے لوگوں کے ذہن سے دعوت و خدمت کا تصور آہستہ آہستہ اگر ختم نہیں ہوا تو مدھم ضرور پڑا اور قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والے ادارے لاموجود الا البطن کی پکار لگانے لگے ۔ اس پر ایک دوسرا ظاہرہ یہ پیدا ہوا کہ پینٹ کو ٹ والے عصری علوم سے مالا مال حضرات اپنے طور پر دینی علوم حاصل کرکے دعوت کے میدان میں کود پڑے ۔ ان کے پاس دین کا علم تو کم تھا لیکن حالات پرنظر اچھی تھی ۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف تھے ۔ میڈیا میں رہنے کا ہنر آتا تھا چنانچہ رہا سہا کسر اس ظاہرے سے ٹوٹ گیا اور مرعوبیت کا مہیب سایہ گہرا سے گہرا ہوتا گیا ۔  اور نتیجہ اب اس طرح نکل رہا ہے کہ ارباب مدارس اب اپنی توجہ مدارس پر مرکوز کرنے کی بجائے مختلف قسم کے ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ ، بی ایڈ کالج اور جونئیر اسکولز وغیرہ پرصرف کرنے لگے ہيں ۔ اس سلسلے میں چند باتیں پیش کرنی ہیں ۔
1 ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اتنے زیادہ مدارس ہونے کے باجود ابھی بھی سماج میں علماء کی کمی ہے ۔ ایسا نہیں کہ سماج کے اندر علماء اتنے زيادہ ہوگئے ہيں کہ اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے ۔
2 ۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کو صحیح مانیں تو مسلمانوں کا صرف چار فیصد طبقہ مدارس میں تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ یعنی چھیانوے فیصد مدارس کے باہر ہے ۔
3 ۔ بڑے بڑے دینی مدارس اس بات کا رونا رورہے ہيں کہ انہیں بالیاقت اساتذہ نہیں مل رہے ہیں ۔ اس کا اندازہ اخبارات میں ارباب مدارس کی جانب سے دیے جانے والے اشتہارات سے لگایا جاسکتا ہے ۔
4 ۔ اگر ہم نگاہ اٹھا کر دیکھیں تو پتہ چلے کہ اب ہمارے اداروں سے ماہرین حدیث ، فقہ ، تفسیر ، تاریخ وغیرہ نہیں نکل رہے ہیں ۔ زیادہ تر ایسے افراد نکل کر آرہے ہيں جو تفقہ فی الدین کی صفت سے متصف نہیں ہیں ۔
5 ۔ بالعموم مدارس کے اندر وہ لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے اورجو دوسری دنیاوی علوم کے اخراجات برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوتے ۔
        ان حقائق کو سامنے رکھیے ، مدارس کے اہداف ومقاصد کو ذہن میں رکھیے اور پھر ذرا اس رجحان کے بارے میں سوچیے ۔ وہ صاحبان مدارس جن کے پاس پیسے ہیں وہ تیزی سے بی ایڈ کالج ، اسکول اور ٹکنیکل انسٹیٹیوٹ کھولنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں ۔ یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ اہل خیر حضرات کے وہ پیسے جو کمزور اور غریب طلبہ کی کفالت کے لیے دیے جاتے ہیں ان سے ایسے ادارے کھولے جارہے ہیں جن کے اندر غریبوں کے لیے کوئي جگہ نہیں ۔ کمال تو یہ ہے کہ بعض ارباب مدارس نے تو اپنے مدرسوں کے اندر داخلہ پانے کی فیس بھی اتنی بڑھادی ہے کہ ایک غریب آدمی اپنے بچے کو دینی تعلیم دلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ ہمارے حساب سے ایسے ذمہ داران مدارس کو اپنے مین گیٹ پر جلی حروف میں لکھ دینا چاہیے کہ ہمارا مدرسہ غریبوں کی تعلیم کے لیے نہیں ہے ۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ دینی تعلیم اس وقت مہنگی کی جارہی ہے جب لگ بھگ پوری دنیا میں بنیادی تعلیم کو بچے کا حق بتایا جارہا ہے اور حکومتیں مفت تعلیم کا نظم کررہی ہیں ۔ بعض احباب کے واسطے سے یہ بات بھی معلوم ہوئي کہ گلف وغیرہ میں لوگ مشروع کے نام پر ہی پیسے دیتے ہیں وہ دینی تعلیم کے نام پر پیسہ نہيں دیتے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ارباب حل وعقد جو خلیجی ممالک میں ما شاءاللہ اپنی اچھی خاصی پہچان رکھتے ہیں ۔ ان میں سے بعض کی امراء اور ملوک تک رسائی ہے کیا وہ انہیں یہ نہیں سمجھا سکتے کہ ہمارے یہاں کس چیز کی ضرورت ہے ؟
بہت سے ادارے کی صورت حال یہ ہے کہ مدرسہ بے چارا کسمپرسی میں مبتلا ہے ، اساتذہ لائق فائق نہیں ہیں ، طلبہ گھٹتے گھٹتے نہ کے برابر رہ گئے ہيں لیکن ہاں یونانی کالج اور اسکول کی دنیا پوری طرح آباد ہے ۔
   آپ کو یہ جان کر کیا معلوم کیسا لگے لیکن یہ سچ ہے کہ بہت سے روشن خیالان ارباب مدارس نے اپنے مدارس کو کالج میں بدل دیا ہے ۔ اب ان کے یہاں مدرسہ نہیں کہ اس سے تو آمدنی کی بھی توقع نہیں ہوتی اور چندے کی ذلت بھی اٹھانی پڑتی ہے اس لیے اسی چندے کے مال سے بنائے گئے مدرسے کو اسکول بنادیا ۔ ہماری ملاقات ایک طالب علم سے ہوئی ، عربی اور انگلش بچے کی اس کے اپنے مستوی کے حساب سے اچھی تھی ہم نے پوچھا کہاں پڑھتے ہو بابو؟ طالب علم کا جواب تھا : شیخ! ناظم صاحب نے تو مدرسہ کو اسکول میں بدل دیا ہے ۔ کسی اچھے مدرسے کی تلاش میں ہوں ۔۔۔۔۔ ۔
ایک صاحب کے اوپر سماجی خدمت اوررفاہ عام کا وہ بھوت سوار ہوا کہ انہوں نے اپنے تعلیمی ادارے کی ساری توجہ رفاہ عام پر لگادی ۔ حضرت تو اتنے چمکے کہ کیا سماج اور کیا سیاست ہر جگہ ان کی چاندی ہوگئی ۔ ہاں البتہ وہ بیچارا مرکز علم و آگہی کہیں کا نہ بچا ۔ جہاں سے باصلاحیت علماء اور دعاۃ نکلا کرتے تھے اب صورت حال یہ ہے کہ بس نام کی دینی تعلیم ہورہی ہے اور ساری توجہ کہیں اور ہے ۔
      ہم نے خود جے این یو میں اعلا تعلیم حاصل کی ہے ۔ ہم عصری علوم کے خلاف ہو بھی نہیں سکتے ۔ لیکن جس طرح سے ارباب مدارس عصری علوم کی خدمت کرنا چاہ رہے ہيں وہ بلا شبہ خطرنا ک ہے ۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ جب مدرسے کے ساتھ اسکول کھولا جاتا ہے تو مدرسہ کی بجائے ذمہ دارکی ساری توجہ اسکول پر ہوتی ہے ۔ مدرسہ کے طلبہ کے بالمقابل اسکول کے طلبہ کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اور یوں مدرسہ کے طالب علم کے اندر ایک قسم کا احساس کمتری پیدا ہونے لگتا ہے ۔ مدرسے کے مؤسس کا اخلاص اپنی جگہ لیکن ان کے وارثین مدرسہ کو بس نام کے لیے چلاتے ہيں ۔ ان کی محنت و لگن کا سارا مرکز اسکول ، کالج یا انسٹیٹیوٹ ہوتا ہے ۔ عام طور سے کہا جاتا ہے کہ ہم عصری تعلیم دینی ماحول میں دینگے اورصورت حال کیا ہوتی ہے وہ اتنی بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔
    ذاتی طور پر جب جب میں عزیز وطن ہندوستان کے اندر مدارس کے بارے میں سوچتا ہوں نہ جانے کیوں ایک عجیب وغریب خوف چھاجاتا ہے ۔ میرے بعض احباب کو لگتا ہے کہ میں پیچھے کی طرف ڈھکیلنے کی کوشش کررہا ہوں جبکہ مجھے لگتا ہے کہ اگر وقت پر ہی دھیان نہيں دیا گیا توبساط الٹی بھی جاچکی ہوگی اور احساس بھی نہ ہوگا ۔
ایک طرف فرقہ پرست ذہن لوگ ہیں جن کی نظر میں یہ دینی ادارے کانٹوں کی مانند چبھ رہے ہیں اور وہ مختلف حربے اختیار کرکے ان پر روک لگانے کی کوشش میں ہیں اور دوسری طرف ہماری دینی قیادت ہے جو خود ہی اس سے دست برداری کی کیفیت میں ہے ۔ اس نکتے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اسکول ، کالج اور انسٹیٹیوٹ اور لوگ بھی کھول سکتے ہيں اور چلا سکتے ہیں (بہت سے لوگ کامیابی سے چلا بھی رہے ہیں ) لیکن مدرسہ تو ہم علماء کی وراثت ہے ۔ مرعوبیت یا مادہ پرستی کا یہ کون سا اندھیرا ہے جس میں روشنی سے دست برداری کی کیفیت دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ لکھ لیجیے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو آنے والی نسل کتابوں میں مدارس کا تذکرہ سنےگی اور دین کے نام پر چند رسوم و رواج کی پابند ہوگی اور شاید وقت گزرتے گزرتے وہ بھی ناپید ہوتے جائینگے ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن سچائی سے آنکھیں موندی بھی کیسے جائیں ؟
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
حالات اور وقت کا ساتھ دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا آدمی اپنی اساس ہی بدل دے ۔ مدارس پر جب زيادہ توجہ کی ضرورت ہے ارباب مدارس ان سے اعراض برت کر کسی اور طرف رخ کررہے ہیں ۔ انسان کو غلطیوں سے سیکھنا چاہیے ۔ تجربات بھی برے نہیں ہوتے لیکن ایسے تجربات جن سے بنیاد متاثر ہوتی ہو ان سے توبہ ہی بھلی ہوتی ہے ۔
 اللہ ہمیں نیک توفیق سے نوازے ۔ آمین