Saturday, 6 December 2014

میں نہيں مانتا
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئي دہلی
  ہمارا تعلق اتفاق سے اردو ادب سے بھی رہا ہے ۔ اردو شاعری میں اقبال ، غالب اور مومن کے بعد ہم نے زیادہ تر فیض کو پڑھا ہے ۔ فیض احمد فیض کی نظم " مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ "  مزے لے لے کر پڑھتا رہا ہوں ۔ اور ان کی نظم (جو خاصی طویل بھی ہے ) " رقیب سے !" ایک زمانے میں میری زبان پر ہی رہتی تھی ۔ اس میں بھی خاص طور سے یہ بند
عاجزی سیکھی ، غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس وحرمان کے ، دکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مسائل کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے ، رخ زرد کے معنی سیکھے
محبت اگر یہی سب کچھ سکھاتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہر آدمی کو محبت کرنی چاہیے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ فیض صاحب کو سکھانے کے بعد یہ محبت شاید سبق بھول گئی یا پھر لوگ ہی ایسے نہیں ملے ۔ خیر ان دنوں کی ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ہم ہر ترقی پسند آدمی یا ادیب کو فیض کی طرح ہی سمجھدار اور کامران سمجھتے تھے ۔ ہماری نظر میں ترقی پسندی اور فیض میں کوئی فرق نہيں تھا ۔ ہم یہ بھی سوچتے تھے کہ ہر ترقی پسند شاعر یا ادیب فیض کی طرح ہی کلاسیکل لہجے میں نئے خیالات کا اظہار کرتا ہوگا اور اس کی باتیں دلوں کو چھو جاتی ہونگیں  ۔ یہ راز تو بہت بعد میں ہم پر کھلا کہ فیض کے علاوہ ترقی پسند شعراء اور ادباء کی زيادہ تر تعداد  نعرہ باز اور جلالی واقع  ہوئی ہے ۔ علی سردار جعفری ، مخدوم محی الدین اور مجاز وغیرہ کے یہاں جو غصہ اور احتجاج تھا اس نے بتایا کہ ایک شاعری کا نمونہ یہ بھی ہے ۔ مجاز کے " اے  غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں "  کا بھی ہمارے اوپر ایک جادو  سا چڑھا رہا ۔ اور ظلم و ستم کے ہر ایک مظاہرے کو دیکھ کر طبیعت یہی چاہتی کہ بس یہ نوچ لوں اور وہ نوچ لوں ۔ انہيں دنوں ہم نے حبیب جالب کی نظم " میں نہيں مانتا "  پڑھی اور بس ایسی یاد کرلینی چاہی کہ کبھی بھلائی نہ جاسکے ۔ ان دنوں جب ہمارے دوست کوئی بات کہتے تو ہم ان سے بس یہی کہتے " میں نہيں    مانتا " اور وہ بس کھسیا کر رہ جاتے ۔ نظم تھی
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
     لیکن اپنا جائزہ لینے کے بعد پتہ چلاکہ بھائی ہم تو ہر اچھی بری بات کو بس میں نہيں مانتا  ، میں نہیں مانتا کہ خانے میں ڈالتے جارہے ہیں اور اس  سے کوئی مسئلہ حل ہوتا دکھ نہيں رہا ہے ۔ تب ہم نے سوچا کہ احتجاج کرنے سے بہتر ہے کہ کوئی ایسا کا م کیا جائے کہ ہماری جگہ کوئی اور کہے میں نہیں مانتا ۔  " میں نہیں مانتا " کی پوری ذہنیت اگر غلط کو رد کرنے سے عبارت ہو تو بہت اچھی بات ہے ورنہ کبھی کبھی یہ انسان کی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے ۔  ممتا بنرجی نے جب بنگال میں حکومت ملنے کے بعد بھی دھرنا کی سیاست نہيں چھوڑنا چاہا تو ہمیں یہ بات اور بھی سمجھ میں آئی اور جب کیجریوال نے احتجاج کی سیاست ستا میں آنے کے بعد بھی جاری رکھی بلکہ وہ احتجاج کیا کہ خود حکومت کو تياگ دیا تو ہمیں سمجھ میں آیا کہ یہ ذہنیت کچھ اتنی اچھی بھی نہيں ہے ۔ لیکن معاف کیجیے گا سب کچھ مان لینے کی سیاست بھی کچھ اتنی اچھی بات نہيں ہے ۔ ہم نے اپنے کمیونسٹ دوستوں سے باتیں کرتے ہوئے اکثر ان سے کہا کہ بھائی آپ لوگ ہنگامہ تو خوب کرتے ہیں ۔ لیکن آپ کا سارا زور میں نہيں مانتا پر ہوتا ہے ۔ بنگا ل اور کیرالہ میں آپ کی حکومت تھی آہستہ ہستہ وہاں سے بھی آپ کا پتہ کٹ گيا لیکن آپ اب بھی میں نہیں مانتا ، نہیں مانتا کی رٹ لگائے ہوئے ہيں ۔ غلط کوروکنے کا اچھا راستہ یہ ہے کہ اچھائی کو بڑھا وا دیا جائے ۔ روکنے سے بہتر یہ ہے کہ آپ چلیے اور ایک نیا اچھا راستہ لوگوں کو دیجیے ۔ بالعموم ہم لوگوں کو غلط کہتے ہیں لیکن خود ایسا کچھ نہيں کرتے جس سے بھلائی کی راہ آسان ہو اور خیر کا سوتہ پھوٹے ۔  ہم مسلمانوں کے یہاں" افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر " ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہنا سب سے بہتر جہاد ہے ، کا چرچا خوب ہوتا ہے اور زیادہ تر لوگ غلط طریقے سے اپنے ہر ایک غلط سلط احتجاج کو اسی حدیث رسول سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہےکہ کلمہ حق کہنے کا رواج بڑھ بھی رہا ہے اور ظالم حکمرانوں کا رویہ اور سخت سے سخت بھی ہورہا ہے ۔ بات یہ ہے کہ بس الٹا سیدھا بول لینے کو ہم کلمہ حق کا اظہار سمجھ رہے ہیں ۔ ہمارے ایک دوست نے عرب ملکوں خاص طور سے سعودی عرب پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہاں لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے ۔ انہوں نے دو کتوں کی مثال دی اور کہا کہ ایک کتا مسکینی اور فاقہ کشی کی زندگی  جی رہا تھا جبکہ دوسرا عیش و عشرت میں  بسر کررہا تھا ۔ جب دونو ں میں بات ہوئی تو فاقہ کش کتے نے عیش میں جی رہے کتے سے کہا کہ اصل مزہ تمہارے ہیں کہ یہ عیاشیاں ہیں ۔ اس پر عیش و عشرت میں پل رہے کتے نے کہا کہ میرے بھائی اصل مزے تمہارے ہیں ۔ ہم سارے عیش کے باوجود خوش نہيں ہیں کہ ہمیں بھونکنے کی اجازت نہيں ہے ۔ یہ  اجازت تمہيں حاصل ہے ۔ ہم نے اپنے دوست سے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ عربوں سے چاہتے ہیں کہ وہ بھوکیں ۔  ہمارا مسئلہ " ميں نہيں مانتا " کا ہے اور وہ بھی غلط طریقے سے حالا نکہ حبیب جالب کی نظم تو بڑے سلیقے سے کہی گئی ہے ۔ زیادہ تر لوگ غلط منطق کے ذریعہ مفاہیم بدلتے ہیں ۔ خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہی کام کیا تھا ۔ ان الحکم الا للہ ( فیصلہ تو اللہ کا چلے گا ) کی رٹ لگا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تحکیم کے مسئلے پر گھیرنے کی کوشش کی تھی  ۔ چوتھے خلیفہ حضرت علی رضي اللہ عنہ نے اس وقت بڑی اچھی بات کہی تھی ۔" کلمۃ حق ارید بھا الباطل " بات تو حق ہے لیکن اس سے باطل کو حاصل کرنے کا منشا ہے ۔ ہمارے عہد کے زیادہ تر لوگ خوارجی نظریے کے حامل ہیں ۔ بولتے ہیں کلمہ حق اور مراد حصول باطل ہوتا ہے ۔ اور ذاتی طور پر میں کلمہ حق کے باطل مراد کے بارے میں یہی موقف اپنا نا چاہتا ہوں کہ " ميں نہيں مانتا " ۔



Saturday, 29 November 2014

غزل 
ساگر تیمی
 
یہ سلیقہ ہے وہ نبھائے گا
 
تم بلاؤ ، ضرور آئےگا
 
سوچتا ہے وہ کتنی شدت سے
 
اس کی شادی میں گانا گائے گا 
کیسی کھونے کی لت لگی ہوگی 
پا بھی جائے تو پا نہ پائےگا 
یہ عمارت نہیں ہے ، مسجد ہے 
توڑ کر بھی گرا نہ پائےگا 
تجھ سے غصہ ہے ، تیرا شیدائی 
تم مناؤ گے ، مان جائےگا 
اتنی الفت بھلی نہیں ہوتی 
بے وجہ بھی دوا کھلائےگا 
آپ ساگر سے مانگ کر دیکھیں 
مسکرائےگا ، جاں لٹائے گا

Monday, 24 November 2014

ڈر
ساگر تیمی
میں ڈرتا ہوں
مگر یہ بات تم سے کہ نہيں سکتا
کہ تم اتنے بہادر ہو
یہ دنیا تم سے ڈرتی ہے
سر محفل ہی تم سدا
 حق بول دیتے ہو
مگر یہ سچ ہے  اب بھی حق
کا کلمہ ہی شکار ناتوانی ہے
تسلط ظلم کو حاصل ہے
ظالم کا زمانہ ہے
بہادر میں بھی ہوں لیکن
یہ سارے قصے ، سب کہانی میری جرات کی
بنائی ہے کہ میں تم سے کہیں پیچھے نہ رہ جاؤں
مبادا ہار میری ہو نہ جائے ، جیت تم جاؤ
وگرنہ سینے میں بیٹھا
جریم راز جو میری طرح تیرا بھی بھیدی ہے
بتاتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں
اور سچے نہیں تم بھی 

Wednesday, 29 October 2014

غزل
ساگر تیمی
جتنی سوچی تھی نہیں اتنی یہ دنیا کم ہے
  آپ یہ سمجھیں کہ  اس میں میرا حصہ کم ہے
اور بھی روپ ہیں آنکھوں کا دریچہ کھولو
تم نے یہ جھوٹ سمجھ رکھا ہے جلوہ کم ہے
تیرا کہنا ہے  کہ عالم ہے فسادوں سے بھرا
میں یہ کہتا ہوں بھلا ہے مگر ایسا کم ہے
آ بھی جاؤ کہ اندھیروں کا مقدر چمکے
 کیونکہ ان آنکھوں میں جینے کو اجالا کم ہے
اور اک بات ہے جینے کی تمنا لیکن
اور اک بات ہے مرنے کا ارادہ کم ہے
خواب تو یہ ہے تجھے سونے کی دنیا دے دوں
اور اک جیب ہے کم بخت کہ پیسہ کم ہے
ایک تو دل ہے اور اس پر بھی بلا کا غرہ
بات یہ بھی ہے کہ  سینے  میں وہ رہتا کم ہے
میں بھی اک بار تجھے چھوڑ کر جانا چاہوں
پھر یہ کہنا کہ" یہ ساگر ہے اور اچھا کم" ہے


غزل
ساگر تیمی
وہ جو کہدے وہی ایمان نہیں ہو سکتا
کوئي قول نبی قرآن نہیں ہو سکتا
تیرے چہرے پہ تعجب کی لکیریں ہیں غلط
تو بھی اس بات سے انجان نہیں ہو سکتا
اتنی خوبی سے اجالے کو اندھیرا لکھا
ہوگا انسان وہ شیطان نہیں ہو سکتا
اور اک بات کی چاہیں  تو ضمانت لے لیں
لینے والا کبھی ذیشان نہيں ہو سکتا
 چاند کے بن بھی یہ  رات چمک سکتی ہے
ہاں مگر صبح کا امکان  نہيں  ہو سکتا  
بس اسی آس میں برسات کا موسم گزرا
مینہ برس جائے گا نقصان نہیں ہو سکتا
اور اک بات ہے ساگر کہ دعا لگ جائے
ہاں مگر ہر کوئي دھنوان نہیں ہو سکتا


Tuesday, 21 October 2014

مولانا ادیب
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئي دہلی
 آپ شاید نہ مانیں لیکن ہمارے دوست بے نام خان ہمیں جب چڑھانا چاہتے ہیں تو اسی طرح پکارتے ہیں ۔ اور میرے ناراض ہونے پر بڑے اعتماد اور سنجیدگی سے کہتے ہیں کہ بھائی ٹھیک ہے تم ادیب نہيں ہو کہ کوئي مولانا ادیب ہو بھی نہیں سکتا لیکن مولانا تو ہو نا! اس میں اس قدر برہم ہونے کی کوئي ضرورت نہیں ہے ۔ اور اس کے بعد ہمارے اور ان کے درمیان ادیب اور مولانا کے موضوع پر پوری بحث چل پڑتی ہے ۔ ہمارے دوست کے حساب سے مولانا ہونے کا مطلب ہی یہ ہوا کہ اس کے اندر ادیبوں والی فراخدلی ، اعلا ظرفی ، وسعت نظر اور تحمل نہیں ہوگا اور ادیب ہونے کا مطلب ہی ہے کہ اس کے اندر مولاناؤں والی کج فکری ، ضد ، جوش اور اشتعال انگیزی نہیں ہوگي ۔ پھر بھلا ایک ہی آدمی ادیب اور مولانا کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ صفات ایک ساتھ جمع کیسے ہو سکتے ہیں ؟ یہ تو آپس میں ضدین ہیں ؟
   آپ ہوں تو نہ معلوم کیا کریں لیکن میں انہیں اپنی طرف سے مثالیں دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی تو مولانا تھے اور عربی کے ادیب بھی تھے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی مولانا تھے اور صاحب انشاپرداز اور  صاحب طرز خاص ادیب بھی تھے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد مفسر قرآن بھی تھے اور باضابطہ ادیب بھی تھے ۔ مولانا سید سلیمان ندوی مولانا بھی تھے اور ماہر لسانیات ادیب بھی تھے اور میں مثالیں پورے جوش و ولولے کے ساتھ دیتا چلا جاتا ہوں ۔ اس درمیان وہ اس طرح سنتے ہيں جیسے اب وہ قائل ہوگئے ہیں اور جب میں سامنے والی میز پہ جوش و اعتماد کے عالم میں اپنی ہتھیلی مارتا ہوں تو ہولے ہولے مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں تو انہيں دلائل کے سہارے آپ اتنی لمبی چوڑی ہانک رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ آپ  مجھے چت کردینگے ۔
   جناب!  مولانا ابوالحسن علی ندوی کو اردو والے تو خیر ادیب سوچنے کی بھی غلطی نہیں کرتے اور عربی والے انہيں ہندوستانیوں میں ایسا عالم مانتے ہیں جنہیں عربی بھی لکھنے بولنے آتی ہے ۔ اور لکھنے کی بھی صلاحیت دوسرے ہندوستانیوں کے بالمقابل اچھی مانتے ہیں عربوں کے بالمقابل نہیں ۔ ایسے ان کے اندر خود ایک خوبی یہ تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو کبھی ادیب نہیں سمجھا ۔ یوں بھی تخلیقی ادب میں ان کی کوئي حصہ داری ہے بھی نہیں ۔
   مولانا عبدالماجد دریابادی بے چارے ادیب ضرور تھے اور صاحب طرز ادیب لیکن آپ کو دھوکہ نہ کھانا چاہیے وہ مولانا نہیں تھے ۔ در اصل ان کے اوپر مولانا لوگوں نے جال پھینک دیا اور بے چارے سیدھے آدمی پھنس گئے اور خود کو مولانا سمجھ بیٹھے اور اس غلطی میں پڑنے کی وجہ سے ایسی ایسی ادیبانہ غلطیاں ان سے ہوئیں کہ آج بھی ادب کا سنجیدہ طالب علم ان سے نالاں ہی رہتا ہے ۔' انگارے' کے بارے میں ان کے مولویانہ خیالات بتلاتے ہیں کہ آدمی اگر مولوی نہ بھی ہو اور اس کے اندر مولانائیت آگئی تو وہ کس قدر ذہنی طور پر سکڑ جاتا ہے ۔ مولانا سید سلیمان ندوی مولانا سے زیادہ عالم تھے البتہ ادیب انہیں نہیں کہا جاسکتا ۔ اردو کی ابتداء اور نشو و نما کے بارے میں ایسے بھی ان کی رائے کمزور ہی مانی گئی ہے ۔ ان کی زبان میں رچاؤ تو ہے لیکن تخلیقی ادب میں ان کی کوئی حصہ داری نہیں ۔ شاعری کی تو وہ بھی بہر حال قابل ذکر نہیں ہے ۔ مولانا ابو الکلام آزاد بلاشبہ بڑے اچھے صحافی اور سیاست داں مانے گئے ہیں لیکن ان کی ادیبانہ اور مولویانہ دونوں حیثيت تسلیم شدہ حقیقت نہيں ہے ۔ مولانا کو مولوی لوگ ادیب اور ادیب لوگ مولوی سمجھتے ہیں ۔ ہاں البتہ یہ دونوں انہیں صحافی اور سیاستداں ضرور مانتے ہیں ۔ اور ایسے بھی میری نظر سے دیکھیے تو تذکرہ جیسی کتاب لکھنے والا آدمی ادیب ہو بھی کیسے سکتا ہے ۔ اللہ ہی جانے وہ کتاب انہیں خود بھی سمجھ میں آئی تھی یا نہیں ۔ میں آپ کو صحیح صحیح بتارہا ہوں کہ آج کے ننانوے فیصد ادیب کو تذکرہ دیکھ کر پڑھنے میں اچھی خاصی دشواری کا سامنا ہوتا ہے سمجھنے کا مرحلہ تو بعد کا ہے ۔
    مولانا ! یہ سب بڑے بودے دلائل ہیں ۔ سچی بات یہی ہے کہ کوئي مولانا مولانا رہتے ہوئے ادیب نہیں ہو سکتا اور کوئي ادیب ادیب رہتے ہوئے مولانا نہیں ہو سکتا ۔ آپ خود کو دونوں سمجھتے ہو اس لیے دیکھو کہیں نہيں ہو ۔
      میں نے پھر بھی ان سے کہا کہ ادیب ہونے کی خوبی تسلیم لیکن مولوی ہونے کے جو خصائل آپ نے گنوائے ہيں وہ آپ کو نہيں لگتا کہ آپ کی جھلاہٹ کے  آئینہ دار ہیں ۔ بھئي مولانا لوگ تو سادگی ، بے ریائی اور خدمت خلق سے بھرپور زندگی بسر کرتے ہیں اور آپ ان کے اوپر کیا کیا الزام دھر رہے ہیں ۔ ان کی تو پوری زندگی عبادت ، صبر وتوکل اور زہدو ورع سے عبارت ہوتی ہے ۔
ابھی میری بات پوری بھی نہیں ہوئي تھی کہ میرے دوست نے مجھے خاموش کرتے ہوئے کہا : شاید کبھی یہ باتیں درست رہی ہونگیں ۔ لیکن اب اللہ کے واسطے ان الفاظ کو مولانا لوگوں سے جوڑ کر ان کا تقدس پامال مت کرو ۔ دنیا میں دو بدنام پیشے ہیں سیاست اور مولویت ۔ اور یاد رہے کہ سیاست بھی اتنی چوکھی نہیں ہوتی جتنی مولانائيت ہوتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ اللہ کے بندے آج بھی اجداد کی وراثت سنبھالے ہوئے ہونگے اور بہت ممکن ہے کہ مولانا لوگوں میں بھی کچھ اللہ والے ہوںگے لیکن یہ ہونگے بھی تو آٹے میں نمک کے برابر ۔ تم میرا منہ نہ ہی کھلواؤ تو اچھا ہو ورنہ خود تمہیں سر چھپانے کو جگہ نہیں ملیگی ۔ اور دیکھو اس موضوع کو یہیں بند کرو تو بھلا ہو ۔ مجھے تاریخ کا بھی علم ہے اور آج کی صورت حال سے بھی واقف ہوں ۔ تم مولویوں کا دکھڑا یہی ہے کہ تم کل کی عظمتوں کا گنگان کرتے نہيں تھکتے اور آج کی غلاظتوں پر نظر ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ بھائی میں ان باتوں میں جانا اچھا نہیں سمجھتا ۔ البتہ ادیب ہونے کے لیے مولانائيت سے توبہ کرنا ضروری ہے ۔ جب نیاز فتح پوری نے مولانا لوگوں سے پیچھا چھڑایا ہے تب کہیں جاکر اتنے بڑے ادیب بنے ہیں ۔ مثالیں تو اور بھی ہیں ۔ لیکن چھوڑو اور تم مولویوں کا حال کیا ہے ۔ اردو لکھتے ہو تو لگتا ہے جیسے سارے بھاری بھرکم الفاظ ایک ہی جملے میں استعمال کرلینے ہیں ۔ قومہ ، فل اسٹاپ اور دوسرے علامات کی کیا معلوم کوئي خبر ہوتی بھی ہے یا نہيں ۔ عربی اور فارسی کے ایسے ایسے الفاظ کہ توبہ بھلی ۔ 'ھلم جرا' اور' وقس علی ھذا' لکھ کر سوچتے ہو شیر مار گرایا ہے ۔ اب تم لوگوں کو کون بتلائے کہ بھائی صاف ستھری اور سادہ زبان میں پیغام پہنچ جائے تو اسے ہی ادب کہتے ہیں لیکن تمہیں  تو اپنی علمیت ، ادبیت اور نہ جانے کیا کیا تیت کی دھونس جھاڑنی ہوتی ہے ۔ ارے مولانا ! مسئلہ یہ بھی ہے کہ تم مولانا لوگ ادیبوں کو تو اس قابل سمجھتے نہیں کہ انہيں پڑھا جائے اور پھر جب تمہارے لکھے ہوئے ' اعلا مقالات ' لوگوں کو پسند نہیں آتے تو الٹے کہتے ہو کہ نام نہاد ادیبوں نے لوگوں کا ذوق بگاڑ دیا ہے ۔ مجال جو خود احتسابی کا جذبہ ابھر جائے ۔ مولانا مودودی ، سلیمان ندوی ، شبلی نعمانی ، ابوالکلام آزاد اور عبدالماجد دریابادی کا نام لے کر اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش تو کرتے ہو لیکن کبھی ان کی طرح لکھنے کی اور انہیں کی طرح محنت کرنے کے بارے میں سوچتے ہو ؟ شاعری میں علامہ اقبال پر خوب فخر کرتے رہو لیکن کبھی تو یہ کوشش بھی کرو کہ کچھ اچھی شاعری کے نمونے تمہارے دم سے بھی معرض وجود میں آئیں ۔ کبھی شاعری کرتے ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے بوڑھا آدمی سکرات الموت میں مبتلا ہے ۔
میں نے دیکھا کہ میرے دوست بالکل میرے (مولویانہ ) انداز میں نصیحت کرنے لگے ہیں اس لیے میں نے بحث تمام کیے بغیر بھاگ لینے کو اچھا سمجھا ۔ آپ کیا کرتے آپ سوچیے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔





Sunday, 19 October 2014

غزل
ساگر تیمی
بجھی ہوئي ہے تو کتنی اداس لگتی ہے
مری گڑیا کسی وحشی کے پاس لگتی ہے
 یہ زندگی کہ جسے میں حیات کہتا ہوں
یہ نک چڑھی مجھے جھگڑالو ساس لگتی ہے
کسی نے کیا دیا باتیں! دعا کے لہجے میں
تمام عمر ہی نذر سپاس لگتی ہے
بہت ہی دور ہے نزدیک جاکے دیکھو تو
وہی وفا جو یہيں آس پاس لگتی ہے
اسی کو کہتے ہیں شاید وفا کی مضبوطی
وہ ڈانٹتی ہے مگر بے ہراس لگتی ہے
نقاب اچھا ہے فتنوں کو روکتا ہے مگر
حیا نہ ہو تو نظر بے لباس لگتی ہے
مزہ تو ویسے بہت ہے کلاس لینے میں 
مزہ بھی آئے جب اپنی کلاس لگتی ہے
یہی ہے زندگی ساگر مرے تجربے میں
حسین ہے مگر اکثر اداس لگتی ہے