Tuesday, 18 February 2014

                   مسلم سماج ، تعلیم اور خواتین  
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہرلال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی 110067
9560878759
عام طور سے کہا جاتا ہے کہ بہتر تعلیم سے بہتر سماج کی تشکیل عمل میں آتی ہے ۔ اور بہتر سماج تبھی بنتا ہے جب خواتین کی بہتر تعلیم ہوتی ہے ۔ پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم اور ایک خاتون کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ۔ تعلیم کو تحریک اور ترقی و بلندی کا ذریعہ بنا کر پیش کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ ادھر آکر مسلمانوں کے اندر بھی تعلیم پر زور بڑھا ہے اور مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں بھی لوگوں کے اندر سنجیدگی دیکھی جارہی ہے ۔ ورنہ ایک وقت تھا کہ جب ہمارے بڑے بڑے مفکرین خواتین کی اعلا تعلیم کے حق میں نہيں تھے ۔  اس سلسلے میں ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم محسن اور تعلیم کے بڑے رسیا سرسید احمد خان کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ ہر چند کہ ان کے یہاں اس سلسلے میں ایک طرح کی حکمت اور دانائی کا بھی عنصر پایا جاتا تھا کہ جب لڑکے پڑھے لکھے نہ ہونگے اور لڑکیاں تعلیم یافتہ ہونگی تو لڑکے ان کی بے قدری بھی کریںگے اور زندگی میں مسائل بھی جنم لینگے ۔ لیکن عمومی صورت حال یہ تھی کہ جب غالبا مولانا حالی کی بہن کو تعلیم دی جانے لگی تو ان کی دادی کا رو رو کر برا حال تھا ۔ مانا جاتا تھا کہ لڑکیاں پڑھ لکھ کر بہک جائینگی ۔ اسی لیے ہم پاتے ہیں کہ اس بیچ جو ناول وغیرہ اردو میں لکھے گئے ان میں عورتوں کی گھریلو تعلیم کی طرف کافی توجہ دی گئی اور اسے ضرورت بنا کر پیش کیا گیا ۔ اس سلسلےمیں ڈپٹی نذیراحمد اور راشد الخیری کا نام لیا جا سکتا ہے ۔
         بہرحال اس کے بعد ایک وقت آیا جب لڑکیوں کی گھریلو تعلیم عام ہوئی اور ان کے اندر تھوڑی بہت دینی تعلیم اور اخلاقیات پڑھانے کا باضابطہ رواج ہوگیا ۔ اس کے بعد ایک مرحلہ وہ آیا جسے ہم ایک قسم کے انقلاب کے طور پر دیکھ سکتے ہيں ۔ قدم قدم پر تعلیم نسواں کے مراکز کھولے گئے ۔ لڑکیوں کی تعلیم کے نام پر بہت سے "بنات" کی تاسیس عمل میں آئی ۔ اور یکایک ایسا لگا جیسے واقعۃ اصل ضرورت صرف لڑکیوں کی تعلیم ہی ہے ۔ پھر کیا تھا بہت سے لوگوں کی تجارت چل پڑی اور خدمت و تعلیم کے نام پر خوب پیسے کمائے گئے  ۔ ذاتی طور پر میں تعلیم کی ترویج و اشاعت کو تجارتی نقطہ نظر سے بھی  آگے بڑھانے کے خلاف نہيں ہوں۔ اس لیے کہ تجارت بری چیز نہیں ۔ تعلیم ضرورت ہے اور ضرورت کی چیزوں میں ہی تجارت کی جاتی ہے ۔ البتہ تجارت میں ایمانداری ، دیانتداری اور اصول پسندی کی بہرحال اپنی معنویت ہے ۔
         لیکن شکایت اگر ہے تو ہماری اس روش سے ہے جسے آسانی سے تقلیدی روش سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ ایک طرف بنات کی بات چلی اور سب لوگ بنات کھولنے میں لگ گئے اور ساری قوت اسی کی نذر کردی ۔ میں یہاں اس بات پر زورر دونگا کہ بنات کی آج بھی ضرورت باقی ہے لیکن اس کے لیے ہمارے اندر بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ ان علاقوں پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے جو اب بھی اس نعمت سے محروم ہيں ۔ بس یہ نہیں کہ سب کے سب جہاں تہاں یا بسا اوقات ایک ہی جگہ بغیر سوچے سمجھے بنات کھول رہے ہیں ۔ ضرورت دیکھی جائے اور پھر سرمایوں کا بہتر استعمال کیا جائے ۔ اور اس چکر میں اس بات کو فراموش نہ کیا جائے کہ خواتین سے متعلق ہماری دوسری ضروریات بھی ہیں ۔ اب ذرا تعلیم کو ہی لے لیجیے تو کیا یہ ضروری نہيں کہ ہمارے سماج میں مسلم خواتین ڈاکٹر ہوں ، نرس ہوں اور اعلا تعلیم یافتہ خواتین ہوں جو خواتین سے جڑے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے حل کرسکیں ۔ مختلف یونیوسٹیز اور دعوہ سینٹرز میں میرے خطاب کے درمیان مجھ سے یہ بات پوچھی گئی کہ جہاں جہاں مخلوط تعلیم کا نظام رائج ہے وہاں اپنی بہن بیٹیوں کو تعلیم کے لیے بھیجنا مناسب ہے یا نہیں ۔ میں نے اس موقع اسے اپنے پڑھے لکھے ، اعلا تعلیم یافتہ اور کامیاب پروفیسنل لائف جینے والے یا اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنے  والے دوستوں سے پوچھا کہ کیا ایسا نہيں ہو سکتا کہ ہم متبادل کی تلاش کریں ۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم ایسے اداروں کی بنیاد ڈالیں جہاں کلچر ہمارا ہو ، تہذیب ہماری ہو ، اصول ہمارے ہوں اور تعلیم آج کی ضرورتوں کے مطابق ہو ۔ کیا ہم اپنی خواتین کے لیے طبی ادارے نہیں کھول سکتے ؟ کیا ہم اپنی خواتین کو نرسنگ اور مڈوائف وغیرہ کی ٹریننگ نہیں دے سکتے ۔ کیا ہم ایسا انتظام نہیں کر سکتے کہ ہماری خواتین اسلامی کوڈ آف لائف میں رہتے ہوئے بہتر اعلا تعلیم سے بہرہ ور ہوں اور پھر وہ بھی فکری سطح پر زیادہ اعتماد کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا پرچار و پرسار کریں اور ضرورت پڑنے پر دشمنان دین مبین کو دنداں شکن جواب دے سکيں ۔
         مخلوط نظام تعلیم غیر اسلامی بھی ہے اور اس  کی مخالفت ضروری بھی ہے ۔ لیکن تاریخ بتلاتی ہے کہ صرف مخالفت کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ۔ اگرہم اور آپ متبادل تلاش کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ ضرورت رک نہیں سکتی ۔ ہم لاکھ مخلوط نظام تعلیم کی خطرناکی کا ہنگامہ کھڑا کریں لیکن چونکہ ہمارے پاس متبادل نہیں اس لیے یہ معلوم بات ہے کہ مسلمانوں میں جن کے پاس وسائل ہیں وہ اپنی بیٹیوں کو میڈیکل کی تعلیم دلانے کے لیے انہیں اداروں کا رخ کرتے ہیں ۔ ان میں بلاشبہ بہت سے ایسے لوگ ہيں جن کی ذہنیت اسلامی نہیں ، اس لیے ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ان میں کچھ ایسے بھی ہيں جو اسلامی ذہن رکھنے کے باوجود ایسا کرنے پر اس لیے مجبور ہیں کہ ان کے پاس متبادل نہیں ۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ایک طرف ہم اپنی عورتوں کی حد درجہ پردہ داری کے قایل ہیں جو بلاشبہ ہماری دینی اور اخلاقی غیرت کا اشاریہ ہے اور دوسری طرف ضرورت پڑنے پر خود ہمیں اپنی خواتین کو غیر محرم ہی نہیں ، غیر مسلم حضرات تک کے پاس بغرض علاج لے جانا پڑتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہم اپنی ضرورتوں کو فراموش نہيں کرسکتے ۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے کہ ہماری ضرورتیں بھی پوری ہو جائیں اور ہمیں اپنی تہذيب و تمدن اور طرز معاشرت سے سمجھوتہ بھی نہ کرنا پڑے اور ہمارا دینی تشخص بھی مضبوط رہے ۔ عام طور سے مسلم برادری کی پہچان ایک غیر تعلیم یافتہ اور پچھڑی ہوئی کمیونیٹی کی ہے  ۔ اس میں بلاشبہ حکومتوں کی اپنی حصہ داریاں ہیں لیکن ہمارا اپنا قصور بھی کچھ کم نہیں ہے ۔ غیر ضروری جلسے جلوس اور بے مطلب کے دکھلاوے میں ہم جتنا سرمایہ ضائع کردیتے ہیں اگر اس کا عشر عشیر بھی پلاننگ کے تحت بہتر مقصد اور ضرورت کو سامنے رکھ کر خرچ کیا جائے تو کایا پلٹ ہو سکتی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ کام آسان نہیں لیکن اگر ہمت ، حوصلے اور بلند فکری سے کام لیا جائے تو یہ ایسا کچھ مشکل بھی نہیں ہے ۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ اس طرف تو جہ دینا ضروری بھی ہے اور مجبوری بھی ورنہ ان آنکھوں نے ان یونیورسٹیز کے اندر جہاں مخلوط نظام تعلیم رائج ہے دختران ملت کی جو کیفیت دیکھی ہے اس سے کسی اچھے نتیجے کی توقع فضول ہی ہے ۔ کبھی کبھی تو دینی تعلیم سے آراستہ ان بہنوں کی کیفیت بھی خون کے آنسو رلا دیتی ہے  جو مدرسوں سے عربی دینی تعلیم کے حصول کے بعد اعلا تعلیم کی غرض سے ان دانش گاہوں کا رخ کرتی ہیں ۔ بھائیوں کا ذکر یہاں اس لیے جان بوجھ کر نہيں کیا جارہا کہ وہ تو جو ہے سو ہے ہی ۔ لیکن سوچنے کا زاویہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ تالاب میں کسی کو ڈھکیل کر اگر ہم یہ توقع رکھیں کہ اس کے کپڑے نہيں بھگینگے تو ظاہر ہے اسے ہماری عقلمندی کے زمرے میں نہيں رکھا جاسکتا ۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہ نکالا جائے کہ اس معاملے میں کچھ لوگوں کا رویہ زبردست کردار وعمل کا مظہر نہیں لیکن اتنا تو ہم سب جانتے ہیں کہ استثناءات بہر حال استثناءات ہی ہوتے ہیں ۔



Sunday, 9 February 2014

رد عمل کی نفسیات خطرنا ک ہوتی ہے !!!
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی
       عام طور سے یہ بات مشہور ہے کہ عمل کا رد عمل ہوتا ہے ۔ ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے اور یہ بات کچھ اتنی غلط بھی نہیں ہے ۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ یقینا عمل کا رد عمل ہوا ہے لیکن اس معاملے میں یہ بات عام طور سے نظر انداز کی گئی ہے کہ یہ رد عمل بالعموم بہت اچھی شکل میں سامنے نہیں آتا ۔ اسی لیے اس کے نتائج بھی اچھے نہیں ہوتے ۔ ردعمل کی نفسیات در اصل ایک منفی نفسیات ہے ۔ رد عمل کے تحت سوچنے والوں کے اندر مثبت طرز فکروعمل کی کمی پائی جاتی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مثبت فکر کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ اس نفسیات کا شکار انسان بالعموم معاملے کے صرف ایک پہلو کو دیکھتا ہے اور دوسرے اہم پہلوؤں کو نظر انداز کردیتا ہے ۔ رد عمل کی نفسیات در اصل ایک قسم کے غلط ڈیفینس کے اظہار کے طور پر سامنے آتی ہے یا پھر اپنے فخر و اعتزاز کے بیان کے طور پر اور ان ہر دو صورت میں آدمی بہتر حکمت عملی اور صحیح شعور کی بجائے جذباتیت کا شکار ہوتا ہے اور یہ معلوم بات ہے کہ جذباتیت سے کبھی اچھے نتائج رونما نہیں ہوتے ۔
          تاریخ کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ رد عمل کی یہ نفسیات ہمیشہ غلط ہی رہی ہے ۔ ہر چند کہ وہ دینی،ملی اور قومی غیرت کی شکل میں ہی کبھی کبھی کیوں نہ ظاہر ہو ۔  اس قسم کے ایک رد عمل کی مثال ہمیں حضرت عمر رضي اللہ عنہ کے یہاں نظر آتی ہے جو انہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع سے صلح کے کڑے شرائط پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی پر دکھلایا تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیکھے قسم کے سوالات کیے تھے اور جن کا بہت ہی متوازن اور حکمت آمیز جواب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی اس حرکت پر زندگی بھر ملال رہا اور آپ اللہ سے اپنی مغفرت کی دعا کرتے رہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع سے حضرت عمر کی نہ صرف یہ کہ بات نہيں مانی بلکہ آپ نے مثبت طرز فکرو عمل کی ایک نہایت روشن مثال قائم کردی اور پیار سے پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنے عمل کو خدائی حکم قراردیا اور کسی قسم کے غصے یا رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال وہاں بھی نظر آتی ہے کہ جب ایک یہودی نے آپ کو السام علیک کہا تو آپ نے وعلیک کہا ۔ حضرت عائشہ رضي اللہ عنھا آپ کی بیوی تھیں اور آپ سے بلاشبہ بہت محبت کرتی تھیں ۔ یہودی کی یہ بات آپ کوبہت بری لگی اورآپ نے یہودی کو جلی کٹی سناتے ہوئے کہا کہ تم پر موت آجائے اور تم پر اللہ کی لعنت ہو ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو ایسا کہنے سے منع کیا اور جب حضرت عائشہ نے کہا کہ آپ نے سنا نہیں کہ اس یہودی نے آپ کو کیا کہا تو آپ نے فرمایا اے عائشہ ! اور کیا تم نے سنا نہيں کہ میں نے اسے اس کا جواب بھی دے دیا اور پھر آپ نے حضرت عائشہ کو رفق و نرمی برتنے کی تلقین کی ۔ اسی طرح جب ایک کافر نے آپ کو مذمم کہا تو آپ نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ میں تو محمد ہوں ۔
         انسانی زندگی میں ایسے مواقع بہت آتے ہیں جب انسان کے اندر اس قسم کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے ۔ در اصل انسان ایک سماجی جانور ہے ۔ اس کے اندرمختلف قسم کی خواہشیں پائی جاتی ہیں ۔ انسان اپنے تمام خواہشات کی تکمیل چاہتا ہے جب کہ اس محدود زندگی میں اس کی لامحدود خواہشات کی تکمیل ہو نہیں پاتی اور وہ ایک قسم کے احساس محرومی میں جینے لگتا ہے اور پھر یہ احساس محرومی اس کے اندر رد عمل کی نفسیات پیدا کردیتا ہے ۔ انسانوں سے گھرے ہونے کے باعث وہ بالعموم اپنی محرومی کا ذمہ دار خود کو سمجھنے کی بجائے دوسروں کو سمجھنے لگتا ہے کبھی کبھار بظاہر ایسا لگتا بھی ہے کہ اس کی پریشانی واقعی کسی اور کی وجہ سے ہی ہے اور پھروہ غلط سلط قسم کے اندازے لگا کر رد عمل کی نفسیات میں گھر جاتا ہے ۔ ایسے انسان کو در اصل ایک قسم کی بیماری لگ جاتی ہے ۔ وہ مریضانہ ذہنیت سے سوچنے لگتا ہے اور زندگی کے اس مختصر سے سفرمیں جس سے تس سے جھگڑنے لگتا ہے ۔
         اسلام سرے سے اس قسم کی نفسیات کو ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ در اصل وہ تمام ایسے طریقے سکھلاتا ہے جس سے انسان اس قسم کی رد عمل والی نفسیات سے بچ سکے ۔ وہ انسان کو سکھلاتا ہے کہ انسان کے پاس جب کوئي خبر پہنچے تو وہ کسی بھی قسم کے رد عمل سے پہلے اس خبر کے استناد کو تلاش کرے ۔ وہ پہلے یہ دیکھے کہ وہ خبر صحیح بھی ہے یا نہيں اور پھر ٹھہر کر اس کے ما لہ و ماعلیہ پر غور کرنے کے بعد حکمت و دانائی سے کوئی مثبت قدم اٹھائے ۔ اللہ فرماتا ہے ۔ یاایھا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین( الحجرات : 6 )
          اسلام بتلاتا ہے کہ انسان کو اگر کسی معاملے میں بظاہر کوئی ناکامی ملے تو گھبرانے کی بجائے وہ اللہ سے امید باندھے اور صبر کا دامن تھام لے ۔ اس سے اس کے اندر بہتر خیالات پیدا ہوںگے اور وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے پھر سے کوشش کرے گا ۔ حدیث کے اندر اسے مومن کی ایسی خصوصیت سے تعبیر کیا گیا ہے جو اور کسی کے اندر نہیں پائی جاتی ۔ حدیث کے الفاظ ہیں ۔ عجبا لامر المومن ان امرہ کلہ لہ خیرو ما ذلک الا للمومن۔ ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرا لہ و ان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ  ۔ اسلام سکھلاتا ہے کہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ یہ عقیدہ در اصل انسان کے اندر ایک قسم کا اطمینان اور سکون پیدا کرتا ہے ۔ وہ رد عمل یا احساس محرومی تلے نہیں جیتا ۔ وہ اللہ سے لو لگاتا ہے اور ہر ایک ناکامی کے بعد زیادہ اعتماد سے کوشش کرتا ہے اور بالآخر وہ اپنی منزل کو پا ہی لیتا ہے ۔ قرآن کریم کے اندر اللہ نے فرمایا ہے ۔ والعاقبۃ للمتقین ۔ اس موقع سے  مجھے اس سلسلے میں کسی مفکر کی وہ بات یاد آتی ہے کہ آپ کوشش کرتے رہیں اور جب تک آپ کو آپ کا رزلٹ نہیں ملتا اس وقت تک یہ سمجھیں کہ ابھی اس کا آخری مرحلہ نہیں آیا ہے ۔
   رد عمل کے تحت جینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی مثبت انداز فکروعمل سے محروم ہو جاتا ہے ۔ وہ بات بات میں غصہ کرتا ہے اور لڑنے جھگڑنے کو تیار ہوجاتا ہے اور ہر جگہ اپنا نقصان کرتا ہے ۔  اسی لیے حدیث کے اندر آتا ہے کہ جب ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ انہيں نصیحت کریں تو آپ نے کہا کہ غصہ مت کرو۔ صحابی رسول نے تین مرتبہ آپ سے نصیحت کی درخواست کی اور آپ نے تینوں  مرتبہ یہی نصیحت کی کہ غصہ مت کرو ۔ اسلام اسی لیے کہتا ہے کہ انسان اپنے اندر زیادہ سے زیادہ جذبہ شکر کو پروان چڑھائے اور اپنے سے نیچے کو دیکھے اوپر کو نہیں تاکہ اس کے اندر شکر کے جذبات پیدا ہو سکیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ انظروا الی من ھو اسفل منکم ولا تنظروا الی من ھو فوقکم فھو اجدر ان لا تزدروا بنعمۃ اللہ علیکم ۔
       اجتماعی زندگی میں بھی اس نفسیات سے بچنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بتلاتی ہے کہ آپ نے حضرت خالد بن ولید کو اس جنگ کے موقع سے سیف اللہ کے خطاب سے نوازا جس کے اندر انہوں نے کمال ہوشیاری سے مسلم فوج کو بچ بچاکر دشمنوں کے نرغے سے نکال لیا تھا ۔ جب کچھ لوگوں نے اس  پر طنز کیا تو آپ نے اس کی تردید کی اور حضرت خالد کی تعریف کی ۔ حکمت عملی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوئے بغیر حقیقت کی روشنی میں کوئی فیصلہ لیتا ہے ۔ اس کی ایک مثال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں ملتی ہے کہ انہوں نے اپنے مثبت فکرو عمل کو کام  میں لاتے ہوئے اور صورت حال سے ڈرے بغیر نہایت حکمت و دانائی کا ثبوت پیش کیا اور حضرت اسامہ کے لشکر کو نہ صرف یہ کہ  روانہ کیا بلکہ منعین زکوۃ اور مرتدین کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی اور کامیاب و کامران ہوئے ۔ اس کی ایک مثال خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ملتی ہے کہ جب اہل مکہ نے بد عہدی کی اور صلح حدیبیہ کے دفعات کی خلاف ورزی کی تو آپ نے 8 ہجری میں مکہ پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا ۔ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ وہ مکہ کے سردار تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ اب مسلمانوں کی قوت کافی بڑھ چکی ہے اور اکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چڑھائی کردی تو ان کی فتح طے ہے ۔ اس لیے انہوں نے اپنی پوری کوشش اس بات میں لگادی کہ کسی بھی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کو باقی رکھنے پر رضامند کیا جائے ۔ لیکن یہ معلوم بات ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی کسی بھی صلح سے بالکلیہ انکار کردیا اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مکہ پر چڑھائی بھی کی اور کامران و کامیاب بھی  ہوئے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ نے اس سلسلے میں پوری انسانیت نوازی کا مظاہرہ کیا اور بے مثال فراخی اور کشادہ قلبی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے بد ترین جانی دشمنوں کو بھی بخش دیا۔
       آج مسلمانوں کے اندر انفرادی اور اجتماعی  سطح پر رد عمل کی نفسیات پیدا ہوگئی ہے ۔ اسی لیے وہ بجائے اس کے کہ حکمت و دانائی کا راستہ اپنائیں غلط سلط انداز میں رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ مہیا مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹی سیدھی مشکلوں کا رونا روتے ہیں اور ہر چھوٹی بڑی بات پر لڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ اس معاملے میں برصغیر ہندو پاک کے مسلمانوں کا گراف تھوڑا زیادہ ہی اونچا ہے ۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں پچھڑے ہوئے ہیں ۔ ان کے  پاس عذر بہت ہے ۔ شکایتیں بہت ہيں ۔ جا و بے جا شکووں کی بھرمار ہے لیکن ان کے اندر کچھ کرگزرنے کا جذبہ نہیں ۔ کوئي بہتر پلان نہیں ۔ حمکت و دانائی نہيں ۔ موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کا سلیقہ نہيں ۔ یاد رہے کہ رد عمل کی نفیسیات سے الگ ہو کر سوچنے کی دعوت دینے کا یہ مطلب ہرگز نہ نکالا جائے کہ آدمی بزدلی کا راستہ اختیار کرلے ۔ اس کا مطلب اصلا یہ ہے کہ آدمی صورت حال کا صحیح طریقے سے جائزہ لے کر مناسب قدم اٹھائے  ۔ اگر ضرورت اقدام کی ہو تو اقدام کرے اور اگر دفاع کی ہو تودفاع کرے اور اگر خموشی کے تقاضے ہوں تو خموشی کو ترجیح دے ۔ وہ جذباتیت سے بچے اور ہر ممکن کوشش کرے کہ مثبت انداز میں اپنا فریضہ ادا کرتا رہے ۔ اسے ایک حدیث کے اندر اس طرح سمجھا یا گیا ہے کہ اپنی ذمہ داری ادا کرو اور اپنے حقوق اللہ کے ذمے لگادو۔ حدیث کے الفاظ ہیں ۔ ادوا ماعلیکم و اسئلوا اللہ حقکم  ۔  دعا ہے کہ اللہ ہمیں رد عمل کی غلط نفسیات سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔



Tuesday, 4 February 2014

روشنی (ایک افسانہ )
ساگر تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی 110067
sagartaimi@gmail.com

" پروردگار عالم ! تجھے خبر ہے کہ یہ سارا کام میں صرف اور صرف تیری رضا جوئی کےلیے کرتا ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ میرے احباب اور دوست مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں ۔  لیکن میں یہ سب صرف اس لیے کرتا ہوں کہ میرا ان کے اوپر اثر باقی رہے اور میں ان سے دینی مشن میں کام لے سکوں ۔ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میرا مقصد سوائے تیری خوشنودی اور تیرے پیغام کی اشاعت کے اور کچھ نہیں ۔  پروردگار! میرا مال ، میری جان اور میری تعلیم اگر اس مشن میں کام آسکی تو ٹھیک ورنہ ان کا حاصل بھی کیا ہے ؟ "
     اجمل  کے سامنے یادوں کا سارا دریچہ کھل گيا ۔ وہ ملک کی بہت مشہور اور بہترین یونیورسٹی تھی ۔ صرف قابل اور محنتی طلبہ ہی اس یونیورسٹی میں داخلہ پاتے تھے ۔ وہاں داخلہ ملنے کا مطلب یہ مانا جاتا تھا کہ اب آپ کی زندگی کامیابی کے زینے پر قدم رکھ چکی ہے ۔ طلبہ بڑے جوش اور فخر سے بیان کرتے تھے کہ وہ اس یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں ۔ یونیورسٹی کا ماحول تھوڑا زیادہ ہی کھلا ہوا تھا ۔ آزادی اور الحاد کی تو جیسے وہاں سے ہوا ہی اٹھتی تھی ۔ ہم جنس پرستوں سےلے کر ہر طرح کے فیشن کو یہاں سے تقویت ملتی تھی ۔ لڑکیوں کی آزادی ہی نہیں بلکہ مکمل آزادی کی صدا جیسے اس یونیورسٹی کے بام ودر سے آتی تھی ۔ لڑکیوں کو ماں ، بہن ، بیوی اور دیوی ہونے تک پر اعتراض تھا ۔ وہ صرف لڑکیاں بننا چاہتی تھیں اور وہ بھی ایسی جیسی وہ خود چاتی تھیں ۔ انہیں یہ بالکل بھی گوارہ نہیں تھا کہ ان کے لباس ، بود و باش یا سوچنے سمجھنے کے انداز میں کسی قسم کی رخنہ اندازی کی جائے ۔ یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کا نظام نافذ تھا ۔ لڑکے اور لڑکیاں ہاسٹل میں رہتے تھے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں تھے ۔ رات رات بھر ڈھابے کھلے رہتے تھے ۔ وہاں تو جیسے رات ہوتی ہیں نہیں تھی ۔ پڑھنے والے بھی رات کو شب بیداری کا فریضہ انجام دیتے تھے اور مستیاں کرنے والے بھی شام کےبعد ہی حرکت میں آتے تھے ۔
       اجمل ایک متوسط گھرانے کا لڑکا تھا ۔ یونیورسٹی سے پہلے کی  تعلیم مدرسے میں ہوئی تھی ۔ جھارکھنڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے سے اس کا تعلق تھا ۔ وہ سانولے رنگت کا خوش شکل اور لمبا چوڑا  لڑکا تھا ۔ اس یونیورسٹی میں داخلہ سے پہلے اس نے ملک کی ایک دوسری یونیورسٹی سے بے ایڈ کیا تھا ۔ اس کے اندر بلا کی کشش پائی جاتی تھی ۔ مسکراہٹ جیسے اس کے وجود کا حصہ ہو ۔ اس کی آنکھوں میں گہرائی اور پیشانی  پر چمک تھی ۔ لڑکیاں بالعموم اس پر نثار ہو جاتی تھیں ۔ بی ایڈ کے زمانے میں اس کے اندر کافی تبدیلی رونما ہوئی تھی ۔ در اصل مدرسے کی پابند زندگی کے مقابلے میں اتنی آزاد زندگی میں وہ کچھ سے کچھ ہو گیا تھا ۔ یہ بات اس کے صرف قریبی دوست ہی جانتے تھے کہ وہ ایک مدرسے کا باضابطہ فارغ التحصیل عالم ہے ۔ دراصل وہ چاہتا بھی نہیں تھا کہ لوگ اسے اس حیثیت سے جانیں ۔ لیکن اتنی ساری تبدیلی اور آزادی کے باوجود اس کے اندر ایک چیز بڑی ریمارکیبل تھی ۔ وہ لوگوں کے کام بہت آتا تھا ۔ اس کی ایک بڑی خاصیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کی باتوں کو بالعموم ہنس کر ٹال دیتا تھا ۔ اس لیے اس کی کبھی کسی سے برائي نہيں ہوتی تھی ۔ وہ اپنے سرکل میں لڑکیوں سے تھوڑا زیادہ ہی کھلا ہوا تھا ۔ بات یہ تھی کہ وہ لڑکیوں کی تعریف کرنے کی خوبی سے واقف تھا ۔ لیکن بہرحال وہ اپنے حدود کو بھی نظر میں رکھتا تھا ۔
         یونیورسٹی میں اس کی دوستی ایک دوسری ہی  قسم کے طالب علم سے ہو گئی ۔ وہ در اصل اتفاق ہی تھا ۔ لیکن اجمل کے  سماجی اعتبارسے متحرک ہونے  اور اس کے  دوست شاداب کے خلوص کی وجہ سے اس کے اندر بہت گہرائي آگئی تھی۔ شاداب مضبوط ارادوں کا مالک جوان تھا ۔ لمبا چہرا ، چوڑی پیشانی ، چھوٹی چھوٹی سمجھدار آنھکیں اور اس پر لجائی ہوئي مسکراہٹ اسے وقار و اعتبار عطا کرتی تھی ۔ بہار کے ایک قصبے سے اس کا تعلق تھا۔ وضعداری اور دینداری اس کی اصل پہچان تھی   ۔ ان دونوں کے بیچ ایک اور تیسرا طلب بھی تھا نوید ۔ یہ در اصل ان دو انتہاؤں کے بیچ ایک پل کی حیثيت رکھتا تھا ۔ شاداب ایک ایمان والے عملی مسلمان کا نمونہ تھا ۔ پوری یونیورسٹی میں ہر طرح کے مسلم اور انسانیت کے مسائل کو لے کر وہ پریشان رہا کرتا تھا ۔ وہ اس دین بیزار دانش گاہ میں پکا سچا مسلمان تھا ۔ پانچ وقت کی نمازین ، ہفتے میں دو روزے سموار اور جمعرات کے اور ہمہ وقت وضو کی حالت میں رہنا اس کی عادت میں شامل تھا ۔ وہ نہ تو کوئي فلم دیکھتا تھا اور نہ فلموں سے اسے کسی قسم کی کوئي دلچسپی تھی۔ وہ کسی قسم کی بے مقصد مجلس کا حصہ بننا پسند نہیں کرتا تھا۔ یونیورسٹی میں کلچر کے نام پر آئے دن رقص و سرود وغیرہ کی محفلیں سجاکرتی تھیں لیکن اسے ان سے کوئی سروکارنہيں تھا ۔ در اصل اس کی پچھلی زندگی اس کے بقول جاہلیت کی تھی ۔ جب وہ صرف نام کا مسلمان تھا اور سارے کام غیر مسلموں والے کیا کرتا تھا ۔ اس کی عملی زندگی کو دیکھ کر اسیا لگتا جیسے وہ اپنی پچھلی زندگی کی تلافی کررہا ہو ۔ عام طور سے طلبہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس پر پھبتیاں کسا کرتے تھے ۔ در اصل وہ ایک الگ ہی قسم کا انسان تھا ۔ لوگوں کو اس کی اخلاقی بلندی اور اصول پسندی کا بھی اعتراف تھا اس کے باوجو نہ جانے کیوں اسے لوگ قبول کرنے کوتیار نہیں رہا کرتے تھے ۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے اپنے مقابلے میں اس کی نیکیوں کی وجہ سے لوگ اس سے چڑھ جاتے ہوں ۔ لیکن وہ تھا کہ بس اپنے کام میں لگاہوا تھا ۔ اس کے اندر ایسا نہیں کہ خامیاں نہیں تھیں۔ اسے تعریف بہت پسند تھی ۔ وہ بھی اپنے آپ کو کبھی کبھی اس طرح پیش کرتا جیسے واقعۃ اس کے علاوہ کوئی نیک ہو ہی نہیں لیکن ایسا کم کم ہی ہوتا تھا ۔ ان بن کی صورت میں وہ ہمیشہ معافی مانگنے میں جلدی کیا کرتا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرتے رہتے تھے اور جب اللہ رسول کا ذکر آتا تو وہ سیلاب کی مانند بہ جاتے ۔
           اجمل اور نوید بالعموم ایک طرف ہو جاتے اوراسے دق کیا کرتے ۔ اس کا مزہ لیتے ۔ اور جب وہ غصہ کیا کرتا تو یہ خوب خوش ہوتے ۔ پھر یہ دونوں ناراض ہو جاتے اور وہ انہیں منانے کے لیے کسی اچھے ریستوراں میں پارٹی دیتا اور پھر سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ۔ لیکن دوسرے طلبہ کے لیے یہ بڑی عجیب بات تھی ۔ وہ سوچتے کہ یہ دونوں آخر ایک ساتھ رہتے کیوں ہیں ۔ ان کی ایک ساتھ اتنی اچھی کیوں کر بن جاتی ہے ۔ کمال کی بات یہ تھی کہ اجمل اور نوید اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے نماز وغیرہ کی پابندی بھی کرلیا کرتے اور ہر طرح کے دینی اور سماجی کاموں کا حصہ ہو جایا کرتے ۔ البتہ ہر سموار اور جمعرات کو افطار کرنے کے باوجود انہیں کبھی نفلی روزے کی توفیق نہیں ملی تھی ۔ لیکن شاداب کے لیے اتنا بھی کم نہیں تھا کہ یہ لوگ نماز ادا کرلیتے ہیں ۔ دینی اور سماجی کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور ان کی وجہ سے اسے اپنے مقاصد کے حصول میں آسانی ہوتی ہے ۔ ایسے وہ ان کی مدد بھی کم نہیں کرتا تھا ۔ وہ ہمیشہ یہ کوشش بھی کرتا تھا کہ اگر وہ کوئی علمی کام کررہا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دوست بھی ایسا ضرور کریں ۔ وہ ٹیم ورک میں یقین رکھتا تھا ۔ وہ اتنا سماجی تھا کہ کبھی کبھی نوید اسے الٹے نصیحتوں سے نوازنے لگتا۔ اکیڈمک پر دھیان دینے کی گزارش کرنے لگتا۔ اور بالعموم وہ یا تو ہوں ہاں کرکے رہ جاتا یا پھر ٹوپک چینج کردیتا۔ در اصل وہ اپنے اسٹڈیز میں بھی اچھا ہی تھا ۔
             اتنے لمبے عرصے کی دوستی میں بہت سے ایسے مواقع آئے جب ان کے درمیان تو تو میں میں ہوئي ۔ وہ ایک دوسرے سے ناراض ہوئے اور پھر بات بن گئي۔ بات یہ تھی کہ نوید بالعموم الجھنے کی بجائے مذاق میں ٹال جاتا تھا اور اجمل کے اندر رد عمل کی نفیسات تھی نہیں ۔ اور اگر کبھی ایسا ہو بھی جاتا تو شاداب کی معافی کےبعد  معاملے کے نہ بننے کا سوال ہی نہیں بچتا ۔ حالانکہ ایسی کوششیں بھی کی جاتیں کہ ان تینوں میں کچھ گڑ بڑ ہوجائے ۔ لیکن شاداب کا خلوص سب پر حاوی پڑ جاتا ۔
         لیکن اس مرتبہ کی صورت حال کچھ اور ہی تھی ۔ شاداب کی معافی اور نوید کی صلح کرانے کی کوشش سب بے کار ہو چکی تھی ۔ در اصل اجمل نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اسے اب اس پابند زندگی سے پیچھا چھڑا ہی لینا ہے ۔ وہ یوں بھی اپنے لبرل دوستوں کے درمیان زیادہ ہی طنز کا نشانہ بن جایا کرتا تھا ۔ اسی لیے جب کسی بات پر شاداب نے اسے کچھ کہ دیا تو اب اسے جیسے ایک بہانہ ہاتھ لگ گیا ہو ۔ ایسے شاداب کے اندر بھی ایک قسم کا تحکمانہ انداز پایا جاتا تھا ۔ یہ سچ تھا کہ وہ اپنے دوستوں کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھتا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس خیال میں کبھی کبھی وہ دوستوں کی آزادی میں مخل بھی  ہو جایا کرتا تھا ۔ وہ جذبہ خلوص کی شدت میں بھول جاتا کہ لوگوں کے اپنے بھی احساسات ہوتے ہیں ۔ اس کے دوست باتوں باتوں میں اسے اس کا احساس بھی دلاتے لیکن وہ دوسری باتوں کی طرح اسے بھی ان کا مذاق ہی خیال کرتا ۔
 یہ صورت حال سب سے زیادہ نوید کے لیے  پریشان کن تھی ۔ اس لیے کہ وہ بہرحال یہ نہيں چاہتا تھا کہ جو رشتے اتنی مدت تک چلتے رہے ہیں ، وہ یوں ٹوٹ جائیں ۔ بات یہ بھی تھی کہ خود نوید بھی اس رشتے سے اتنا جڑ گيا تھا کہ اس کے بغیر اس کی پوری یونویرسٹی لائف بے کیف سی معلوم ہوتی تھی ۔ لیکن وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کی کوششیں بھی کچھ خاص نہیں کرپارہی ہیں ۔ اس کے سامنے ایک مرحلہ یہ بھی تھا کہ آخر وہ کیا کرے ۔ وہ دونوں سے محبت کرتا تھا ۔ اس کے لیے دونوں کو یوں الگ کرکے دیکھنا آسان نہیں تھا ۔ اسے کبھی کبھی شاداب کے مشن کی بھی یاد آتی تھی ۔ اور وہ جانتا تھا کہ ہر چند کہ وہ اور اجمل عملی سطح پر اس کے لیے بہت اچھے معاون نہيں ہیں لیکن یہ بھی سچ تھا کہ وہ دونوں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اس کے مشن کے لیے مفید تھے ۔ بات یہ تھی کہ خود نوید کے اندر بھی بہتر سماج بنانے کی للک کچھ کم نہ تھی ۔ وہ دین کے نظری پہلوؤں پر بطور خاص بہت گہری نظر رکھتا تھا ۔ اس نے اپنے وقت کے اچھے اسلامی مفکرین کو پڑھا تھا ۔ لیکن اس کی سیمابیت اسے کچھ کرنے نہيں دیتی تھی ۔ وہ اپنے آپ کو بیلینس نہیں کرپاتا تھا۔  در اصل مختلف میدانوں کی آری ترچھی معلومات کے سہارے وہ چاہتا تھا کہ ہر ایک فیلڈ سر کرلے ۔ اس لیے وہ کہیں پر اپنی پوری حصہ داری نبھا نہیں پاتا تھا۔ لیکن اس کا اصل پیشن در اصل یہی تھا کہ وہ بھی کچھ قابل ذکر کام کر سکے ۔ اس معاملے میں اسے اکثر اپنے والد کی یاد آتی تھی جو اسے ایک آئڈیل انسان کے طورپر دیکھنا چاہتے تھے ۔
        اجمل نے  آخری بار یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اب اسے شاداب سے تعلق توڑ لینا ہے ۔ وہ اپنا بچا کھچا سامان شاداب کے روم سے لے کر نکل جانا چاہتا تھا ۔ لیپ ٹاپ ، کپڑے اور کتابیں جب وہ لے کر نکلنے کا ارادہ کررہا تھا تو اس کی نظر شاداب کی  ڈائری پر پڑي اور وہ یہ سوچ کر اسے دیکھنے لگا کہ اتنی دیر میں اگر شاداب آگیا تو اسے آخری سلام کرکے نکل جائيگا ۔ اس کے سامنے ڈائری کا جو صفحہ کھلا اس نے اسے پریشان ہی کردیا ۔ اکثر وہ اور نوید یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ اگرہم دونوں نہ ہوں تو شاداب اکیلا مر جائے ۔ اس دقیہ نوس انسان کو بھلا کون اپنا ساتھ دے۔ ہم تو کسی کے ساتھ بھی نباہ سکتے ہیں ۔ اس کا تو کسی کے ساتھ نہيں چل پائیگا۔ یہ الگ بات تھی کہ کبھی کبھی وہ دونوں اس پر رشک بھی کیا کرتے تھے لیکن انہيں اپنی برتری کا احساس رہتا ہی تھا ۔ یہاں ڈائری یہ کہ رہی تھی کہ وہ تو ان دونوں کو ان دونوں سے بھی زیادہ جانتا ہے اور صرف اس لیے ان کے سارے نخرے برداشت کرتا ہے کہ اس کے اپنے نیک دینی اور ایمانی مقاصد حاصل ہو سکیں ۔ اجمل اب ایک دوسری ہی قسم کی پشیمانی میں مبتلا تھا۔ اس کے من میں آرہا تھا کہ ہم کتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے فکرمند تھے اور شاداب کتنی دور رس نگاہ سے دیکھ رہا تھا ۔ تیری تجارت کامیاب رہی دوست! کاش ہم تمہيں پہلے اس طرح سمجھ سکتے ! ہم تمہاری مجبوری نہیں تھے ۔ تم نے تو ہمیں اپنے اتنے اونچے مقاصد کا حصہ بنا لیا تھا ۔ اور اس کے لیے تم نے کیا کیا نہيں برداشت کیا تھا  ۔ اس نے سارا سامان وہیں چھوڑ دیا اور جب نوید کو ٹیلی فون کرکے اس نے یہ کہا کہ وہ شاداب سے معافی مانگنا چاہتا ہے تو نوید کے لیے اپنی خوشیوں پر قابو پانا آسان نہيں رہا اور اس کے آنسو نکل پڑے۔











Thursday, 23 January 2014

تقدیر پر ایمان : معنی ، مفہوم اور تقاضے
ثناءاللہ صادق تیمی
ایمان کا چھٹا رکن تقدیر پر ایمان لانا ہے ۔ بالعموم ہم تقدیر کے بارے میں گفتگو کرنا نہیں چاہتے ۔ بہت زیادہ قیل قال کرنا یا بال کی کھال نکالنا تو بلاشبہ غلط ہے اور اس سے نقصان ہی ہوتا ہے لیکن سرے سے اسے چھوڑ بھی دینا غلط ہے ۔ اگر تقدیر کو جانا نہ جائے تو پھر اس پر ایمان کیسے لایا جائے گا ۔
        بہت سے لوگوں کو تقدیر کے سلسلے میں پریشانیاں ہوتی ہیں اور وہ کافی کنفیوژن کے شکار رہتے ہیں ۔ ان کو لگتا ہے کہ جب سب کچھ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے تو پھر انسان تو مجبور محض ہے ۔ وہ چاہے کچھ بھی کرلے ہوگا تو وہی جو لکھا ہوا ہے ۔ وہیں کچھ لوگ اس کے بالکل بر خلاف یہ سوچتے ہیں کہ یہ تقدیر کوئی چیز نہيں ہے بلکہ انسان مختار اور آزاد ہے جو چاہے گا وہی ہوگا ۔ اصطلاح میں ایک زمانے میں پہلے کو جبریہ اور دوسرے کو قدریہ کہا گیا ۔ لیکن یہ جبریے اور قدریے آج بھی موجود ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ حق ان دونوں کے بیچ ہے ۔
       تقدیر کا مطلب ہے اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی کے علم ازلی کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے ۔ جو کچھ ہونے والا ہے اسے اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے اور جو فیصلے اس نے کردیے ہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ ساری کائنات اس کی مخلوق ہے اور سب کچھ اس کی مشیئت کے مطابق ہی چل رہا ہے ۔
     لیکن تقدیر پر ایمان لانے سے پہلے چند بنیادی باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے ۔
1۔ اللہ تعالی اس کائنات کا خالق و مالک ہے ۔ اللہ خالق کل شیء
2۔ کائنات کا سارا کاروبار اسی کی مشیئت کے مطابق چلتا ہے ۔
3۔ اس کا علم کائنات کے ذرے ذرے کو محیط ہے ۔ احاط بکل شیء علما
4۔ وہ عادل ہے اور ظلم کو اس نے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے ۔ یا عبادی انی حرمت الظلم علی نفسی فلا تظالموا علی انفسکم ۔
5۔ اسی نے انسان کے اعمال کو بھی پیدا کیا ۔ خلقکم و ما تعملون
6۔ وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے ۔ اسے یہ پسند نہیں کہ بندے نافرمان ہوجائیں ۔ لایرضی من عبادہ الکفر
7۔ اللہ اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اس سے بھی زیادہ جتنی ایک ماں اپنے بچے سے کرسکتی ہے ۔
8۔ اللہ رحیم ہے اور اس کی صفت رحمت اس کی صفت غضب پر حاوی ہے ۔ ان رحمتی وسعت غضبی ۔
       ان تمام امور پر اگر غور کیا جائے اور ایمان لایا جائے تو پھر انسان کو تقدیر کے بارے میں وہ کنفیوژن نہیں ہوگا جس میں بالعموم پڑ کر وہ پریشان ہوتا ہے اور بسا اوقات اپنا ایمان ہی ضائع کرلیتا ہے ۔  اور ان تمام امور کو ماننا اس لیے ضروری ہے کہ ان کا تعلق اللہ پر ایمان لانے سے ہے ۔ اب اگر اللہ پر ایمان ہی مکمل اور صحیح نہ ہو تو بھلا تقدیر پر ایمان کیسے صحیح ہو سکتا ہے ۔
   مختلف صحیح احادیث کے اندر اس بات کی وضاحت آئی ہے کہ ایک انسان نیکی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کےدرمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ گناہ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اور وہ جہنمیوں میں سے ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح ایک بندہ گنا ہ کا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ نیک کام کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جنتیوں میں سے ہو جاتا ہے ۔ اس قسم کی احادیث سے بالعموم لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ تب عمل کا کیا فائدہ ہے ؟  بالکل یہی سوال صحابہ کرام نے رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ عمل کرتے رہو اس لیے کہ جو جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے وہ کام اس کے لیے آسان کردیا جاتا ہے ۔
          تقدیر کے سلسلے میں لوگ بات کرتے ہوئے بالعموم اس بات کو فراموش کردیتے ہیں کہ تقدیر اللہ کے محیط علم کا حصہ ہے اور ہمیں اس کی کوئی خبر نہيں ۔ دنیا کے کسی بھی میدان سے متعلق اگر آپ ایسی چیز کے بارے میں بولیں جسے آپ نہيں جانتے تو لوگ آپ کو بیوقوف ہی کہینگے ۔ پھر بھلا کس قدر تعجب کی بات ہے کہ لوگ تقدیر میں کیا ہے اس کو نہيں جانتے اور بے مطلب اٹکل پچو مارتے رہتے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انسان جان بھی نہیں سکتا تبھی تو اس کی ذمہ داری کرتے رہنے کی ہے ۔ اللہ فرماتا ہے۔ سیقول الذین اشرکوا لوشاءاللہ ما اشرکنا ولا آباؤنا ولا حرمنا من شیء کذلک کذب الذین من قبلھم حتی ذاقوا باسنا قل ھل عندکم من علم فتخرجوہ لنا ان تتبعون الا الظن و ان انتم الا تخرصون، سورۃ الانعام    
دیکھیں یہاں بھی کافروں اور مشرکوں کا استدلال یہی ہے کہ اگر اللہ نے چاہا ہوتا تو ہم ایسا بالکل بھی نہیں کرتے ۔ اللہ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس ایسا کوئي علم ہے تو بولو ۔ سچی بات یہ ہے کہ تم صرف گمانوں سے کام لیتے ہو ۔
         یہاں اس بات کو سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ اللہ نے انسان کو محدود اختیار دیا ہے ۔ یعنی انسان نہ تو پورے طور پر مجبور ہے اور نہ پورے طور پر مقید ۔ اسے پروردگار نے اس کائنات میں بھیجا ہے اور اسے اتنی صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے مطابق جو چاہے کرسکے لیکن اس کا یہ اختیار بہر حال کلی نہیں جس طرح وزیر بہت سارے معاملات میں آزاد ہوتا ہے لیکن بہرحال اسے وزیر اعظم کے اندر ہونا ہوتا ہے ۔ جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ کو اصل طاقت مانا جاتا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزراء کچھ نہيں کرسکتے لیکن کسی نہ کسی کو تو بہر حال سب سے اوپر ماننا ہوگا ۔ یہی حیثيت سب سے بڑے ہونے کی کائنات کے معاملے میں اللہ کو حاصل ہے ۔ و للہ المثل الاعلی ۔ اللہ نے اسی لیے انسان کو ان معاملات میں جوابدہ بتایا ہے جن میں اس کا اختیار کام کرتا ہے اور ان معاملات میں اس سے پوچھ گچھ بھی ہوگی ۔ بقیہ جہاں اس کے اختیارات معدوم اس کی جوابدہی بھی ختم ۔ پاگل سے، بچے سے اور بھول کر کچھ کرنے والے سے نہیں پوچھا جائے گا ۔ کسی معاملے میں ایک دم مجبور انسان سے نہیں پوچھا جائیگا ۔ یہاں تک کہ کلمہ  کفر بھی اگر محبوری کی وجہ سے ہے تو وہ بھی معاف ۔ الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان ۔ انسان کی جوابدہی اس کے اختیار کے مطابق ہے ۔ اللہ نے انسان کو شعور دی ۔ اس کے پاس نبیوں اور رسولوں کو بھیج کر یہ مطالبہ کیا کہ ان اچھی تعلیمات پر چلو اور دنیا آخرت سنوار لو ۔ انا ھدیناہ السبیل  اما شاکراو اما کفورا۔ وہیں اس نے اس بات کی بھی وضاحت کردی کہ اتنا ڈرو جتنا ڈر سکتے ہو ۔ فاتقواللہ استعطتم ۔
 جو لوگ تقدیر کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ اگر کوئی آدمی ان کو نقصان پہنچائے اور کہے کہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا ہوا تھا تو کیا وہ مان لے گا یا پھر اس آدمی کو مورد الزام ٹھہرائے گا ۔ اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو کیا وہ جیسی تیسی چیز کو قبول کرلے گا یا پھر اس کی کوشش ہوگی کہ وہ اچھی سے اچھی چیز حاصل کرے ۔ تو پھر اللہ اور اس کے حکم کے معاملے میں تقدیر کو بہانا بنانا کہاں کا انصاف ہے ؟
     تقدیر پر ایمان در اصل ایک بڑا ہتھیار ہے کہ انسان کسی قسم کی ناامیدی کا شکار نہ ہو ۔ پریشانی لاحق ہوتو صبر کرے اور اگر خوشی حاصل ہو تو شکر بجالائے اور ہر دو صورت میں راضی بہ رضا رہے ۔ تقدیر در اصل آپ کے لیے قوت ہے لیکن یہ تب جب آپ اسے قوت بنا کر دیکھیں ۔ ایک ہی انسان ذمہ داری کو ذمہ داری سمجھ کر کیا سے کیا کارنامے انجام دیتا ہے اور ایک انسان ذمہ داری کو بوجھ سمجھ کر کیا کیا پریشانیاں کماتا ہے ۔ ذمہ داری تو ذمہ داری ہی رہتی ہے ۔ اس ایمان سے انسان کا اللہ پر ایمان مضبوط ہو تا ہے ۔ اس کے اندر کبر وغرور کی نفسیات جنم نہیں لیتی اور وہ صبر وشکر کے جذبے کے تحت جیتا ہے ۔ اسے یک گونہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ اللہ فرماتا ہے ۔ مااصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر۔ لکیلا تاسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتاکم واللہ لا یحب کل  مختال فخور ۔
تقدیر اللہ تبارک وتعالی کا راز ہے ۔ ہمیں ان باتوں پر ایمان لانا ہے جو بتلائی گئی ہیں اور جو نہیں بتلائی گئيں ان کے پیچھے پڑنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ۔ ایمان والے تقدیر کو اپنی سستی اور کاہلی کا ذریعہ نہيں بناتے وہ اسے اپنی قوت کا ذریعہ اور اپنی سعادت کا زینہ سمجھتے ہیں اور وہ کارہا ئے نمایاں انجام دیتے ہیں جن پر دنیا رشک کرتی ہے ۔ یاد رہے کہ تقدیر کا پتہ ہمیں اس وقت چلتا ہے جب وہ چیز وقوع پذیر ہو چکی ہوتی ہے ۔ واقع ہونے سے پہلے ہنگامہ کرنا حماقت کہ بغیر علم کی دعویداری اور وقوع پذیر ہونے کے بعد ہنگامہ غلط کہ جس پروردگار نے یہ تقدیر لکھی اسی نے صبر وشکر کی بھی تلقین کی ۔ ایک کو پکڑنا  اور ایک چھوڑنا صحیح نہیں ۔ اللہ ہمیں بہتر توفیق دے ۔ آمین ۔








Monday, 20 January 2014

غزل
ساگر تیمی
سفر کی بات ہے موت و حیات مت کیجیے
تمام عمر تو رونے کی  بات مت کیجیے
چلی ہے بات جب کردار کے بلندی کی
تو بیچ بیچ میں صوم و صلوۃ مت کجیے
خدا کی ذات کے جب آپ ٹھہرے انکاری
تو بات بات میں پھر اس کی بات مت کیجیے
تمام دن تو  یوں ہی ضائع کردیا بے کار
اسی کی نذر تو اب پوری رات مت کیجیے
کبھی کبھار تو کچھ  اپنے دم ہو سے آخر
ہر ایک کام میں " تیرا ہی ساتھ " مت کیجیے
اسے بڑھائيے لیکن حدود میں رہیے
وہ آنکھ ہے تو اسے کائنات مت کیجیے
اسے غرور ہے ساگر امیر ہونے پر

فقیر آپ ہیں تو التفات مت کیجیے 

Sunday, 19 January 2014

آپ کس کے ساتھ ہیں؟
ثناءاللہ صادق تیمی
میرے دوست جناب بے نام خاں نے آتے ہی یہ سوال پوچھا کہ آپ کس کے ساتھ ہيں اور میں بالکل ہی ہڑبڑا گیا کہ آخر انہيں کیا جواب دوں ۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا انہوں نے کہا بھائی آخر آپ کسی کے ساتھ تو ہوں گے ۔  اس لیے کہ ہر صورت میں آدمی کسی نہ کسی کے ساتھ تو ہوتا ہی ہے ۔ پھر بتلائیے کہ آپ کس کے ساتھ ہيں ؟ میں نے جلدی جلدی میں کہا میں تو آپ کے ساتھ ہوں ! اس پر ہمارے دوست ناراض ہوگئے ۔ جناب آپ مولویوں کو ہمیشہ مذاق کیوں سوجھتی رہتی ہے ۔ میں بالکل سنجیدہ ہوں ۔ آج کی زبان میں کہوں تو میں بالکل سیریس ہوں ۔ میں نے کہا اگر آپ سیریس ہیں تو بھائی ہاسپیٹل جائیے ۔ میرا دماغ کیوں کھا رہے ہیں  ۔  اگر اکیلے نہيں جا سکتے تو چلیے  بھائی میں ہی پہنچا دیتا ہوں ۔ اس پر بے نام خاں اپنی بتیسیوں کے ساتھ ہنسنے لگے اور بولے دیکھو تم کتنے سیدھے ہو ۔  میں سنجیدہ ہوں ۔ سیریس نہيں ۔ اگر سیریس ہوتا تو تم سے اس طرح کیسے بات کررہا ہوتا ۔ میں نے کہا تو پھر جھوٹ بولنے کی ضرورت کیا تھی ۔ اور ہمارے دوست سر پکڑ کر بیٹھ گيے ۔  تھوڑی دیر بعد پھر گویا ہوئے چلو اچھا بتاؤ تم کس کے ساتھ ہو ؟ بھائی میں تو کسی کے ساتھ نہیں ہوں ۔ تم پوچھنا کیا چاہتے ہو؟ اگر تم سیریس نہيں ہو تو مجھے لگتا ہے کہ میں ضرور سیریس ہوجاؤںگا ۔ ایسے میں مسلمان ہوں اور ہر اس چیز کے ساتھ ہوں جو مسلمان ہے اور ہر اس چیز سے الگ جو مسلمان نہيں ہے ۔ یعنی کہ تم پورے طور پر ایک انتہا پرست مسلمان ہو ۔ ہاں وہ تو ہوں اور نہ بھی رہوں تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ چہرا کچھ ایسا ہے کہ لوگ خواہ مخواہ ایک انتہا پسند مسلمان سمجھ لیتے ہیں ۔ خیر چلو اب بتاؤ کہ تم کس کے ساتھ ہو ؟  یعنی تمہيں یہ بات ابھی سمجھ میں نہيں آئی کہ میں کس کے ساتھ ہوں ۔ تم میرا دماغ مت خراب کرو ، میں کسی کے ساتھ نہيں ہوں۔  بے نام خاں اب میری ناراضگی سے پریشان ہورہے تھے ۔ انہوں نے پیار کے ساتھ میرے گال کو چھوا ، داڑھی پر تقدس آمیز نگاہ ڈالی اور کہا کہ میرے دوست ناراض ہونے کی کوئی بات نہيں بس اتنا ہی تو بتانا ہے کہ تم کس کے ساتھ ہو ؟ مجھے اس بار واقعی بہت غصہ آیا ۔ وہ تو اسلام میں غصہ حرام ہے سو میں نے برداشت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ دوست میں نہ کسی کے ساتھ تھا نہ کسی کے ساتھ ہوں۔ میں ایک عام سا انسان اور ایک بے عمل سا مسلمان ہوں ۔ لوگ میری داڑھی اور شکل و شباہت سے بالعموم دھوکہ کھا جاتے ہيں ۔ اس لیے جہاں کچھ لوگ مجھے خدارسیدہ ، بزرگ اور مستجاب الدعوات سمجھتے ہيں وہيں پڑھے لکھے سمجھدار لوگ جاہل ، احمق اور بے وقوف ہی نہیں دقیانوس بھی سمجھ لیتے ہیں اور میں تمہیں صحیح بتاتا ہوں کہ جہاں مجھے پہلے گروہ کی سادہ لوحی پر ترس آتا ہے اور ان سے محبت ہو جاتی ہے وہيں دوسرے گروہ کی حماقت پر ہنسی بھی آتی ہے اور میں اپنی ہنسی روک نہیں پاتا ۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ مجھے مولانا سمجھتے ہیں وہ میری اس لیے زیادہ عزت کرتے ہیں کہ میں انگلش میں بھی یس نو کر لیتا ہوں ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ یس اور نو بھی میں ان سادہ لوحوں کے سامنے ہی کرتا ہوں ۔ کبھی کسی انگریزی تعلیم یافتہ انسان کے سامنے ایسا بالکل بھی نہیں کرتا ۔ بعض جو سیدھے اور تعلیم یافتہ حضرات ہیں وہ اس لیے مجھ سے مرعوب رہتے ہيں کہ میں ان کے سامنے ہمیشہ بھاری بھرکم اردو میں بولتا ہوں ۔ وہ بیچارے سمجھتے ہیں کہ میری صلاحیت بہت زیادہ ہے تبھی تو اتنی بھاری زبان استعمال کرتا ہوں ۔ میں بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہوں اور کبھی کبھار عربی کے ایک دو جملے بول کر  اپنی قابلیت کا جھنڈا گاڑ دیتا ہوں ۔ بس یہی تو میں کرتا ہوں ۔
میرے دوست نے میری ان باتوں کو اتنی غور سے سنا تھا کہ میں نے سمجھا کہ ان کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ میں کیا ہوں اور کیا کرتا ہوں ۔ لیکن جب انہوں نے زبان کھولی تو پہلا سوال یہی کیا کہ اچھا  یہ تو سب تو ٹھیک ہے یہ بتلائیے کہ آپ کس کے ساتھ ہيں ؟ اب میرے لیے غصہ پر قابو پانا آسان نہيں تھا ۔ میرے اضطراب کی شدت بڑھ رہی تھی اور میں بہت بری طرح پریشان ہو رہا تھا۔ میں نے ایسے ہی  بغیر کچھ سمجھے بول دیا کہ میں لالو پرساد یادو کے ساتھ ہوں ۔ بے نام خاں اچھل پڑے۔ ارے تو اس ميں اتنی دیر لگانے کی کیا ضرورت تھی ۔ پہلے بھی تو بول سکتے تھے ۔ چلیے مولانا ہیں کچھ تو گھما پھرا کر ہی بولیں گے ۔ تو آپ لالو پرساد کے ساتھ ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ سیکولر پارٹی کے ساتھ ہيں ؟ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نتیش کے ساتھ کیوں نہيں ہیں ؟  سونیا جی سے آپ کو کیا پرابلم ہے ؟ اور کیجریوال نے آپ کیا بگاڑا ہے ؟ آپ عام آدمی کے ساتھ کیوں نہيں ہیں ؟؟؟
پے درپے سوالات نے مجھے بالکل ہی پریشان کردیا ۔ مجھے تو سمجھ میں آہی نہيں رہا تھا کہ کیا بولوں ۔ کوئی بات نہیں مولانا ! آپ کوئی اکیلے بے وقوف نہیں ہیں جو لالو پرساد کے آج بھی ساتھ ہيں ۔ بہت سے لوگ ہيں ۔ دنیا لالو سے ہو کر نتیش اور ان سے بھی بڑھ کر کیجریوال تک آگئي اور آپ ہيں کہ لالو تک ہی ہیں ۔ جواب ہی نہيں آپ کا تو ؟ واہ کیا پچھڑاپن ہے ! واہ واہ! سبحان اللہ !!  اچھا تو یہ بتلائیے کہ آپ خاندانی لالوئی ہیں یا پھر صرف آپ لالوئي ہیں اور آپ کے گھر کے دوسرے افراد نتیشی ہیں اور کچھ کانگریسی اور کچھ مودیائی ۔ معاف کیجیے گا آپ لوگ مودیائي تو نہيں ہو سکتے ؟  نہیں نہيں ہو بھی سکتے ہیں ۔ آپ لوگوں نے ہی تو اسے ٹوپی پہنایا تھا ۔ کبھی کھبی تو آپ لوگ بیان بھی دیتے ہیں اس کے حق میں ؟ بولیے بھی بھائي ؟  میں نے بے نام خاں سے پوچھا کہ کیا بولوں ؟  اس پر وہ ناراض ہو کر کرخت لہجے میں بولے یہی کہ لالوئی ہی کیوں ہیں آپ ؟  اور خدارا اب یہ مت بولیے گا کہ آپ مسلمان ہيں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے کہ پھر میں آپ سے پوچھونگا کہ آپ کون سے مسلمان کے ساتھ ہيں ؟ شیعہ مسلمان یا سنی مسلمان ؟  شیعہ مسلمان تو پھر زیدی شیعہ مسلمان یا اثناعشری شیعہ مسلمان ۔ رافضی شیعہ مسلمان یا رضوی شیعہ مسلمان ؟ سنی مسلمان تو پھر حنفی سنی مسلمان یا پھر شافعی سنی مسلمان ۔ حنبلی سنی مسلمان یا مالکی سنی مسلمان یا پھرا ہل حدیث سنی مسلمان ۔ حنفی سنی مسلمان تو پھر تبلیغی مسلمان یا خانخاہی مسلمان یا پھر جماعت اسلامی والا مسلمان ۔ اہل حدیث مسلمان تو سیدھا والا اہل حدیث مسلمان یا پھر غرباء والا اہل حدیث مسلمان ؟؟؟
 میں اس سے پہلے کہ بے نام خاں کے سوالات کے حصار کو توڑتا ، بے نام خاں گویا ہوئے ۔ تو بتاؤ کہ تم لالوئی کیوں ہو ؟ اور دوسرے کیوں نہیں ؟ میں نے بھی اب غصے کو موقع دیا اور کہا کہ بھائي کس کانگریس کے ساتھ رہوں ۔ سیکولر کانگریس کے ساتھ یا فاسسٹ کانگریس کے ساتھ ۔ کس نتیش کے ساتھ رہوں وہ جو مودی کے ساتھ تقریر کرتا ہے اور بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بناتا ہے یا اس نتیش کے ساتھ جو ان سے دوری بنا کر اپنے آپ کو سیکولر ثابت کرتا ہے اور اسکولوں ميں سورج نمسکار لاگو کرواتا ہے ۔ اس کیجریوال کے ساتھ جو انا ہزارے کے ساتھ تھا یا اس کیجریوال کے ساتھ جو ان سے الگ ہے اور ابھی دہلی کا وزیر اعلی ہے ۔ اس مودی کے ساتھ جو مسلمانوں کا باضابطہ قاتل ہے یا اس مودی کے ساتھ جو اب صرف اور صرف وکاس کی بات کرتا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی ریلی میں ٹوپی لگا کر آئيں ۔ بتاؤ کس کے ساتھ جاؤں ؟  اس لیفٹ کے ساتھ جو اعتدال پسند ہے اور سیکولزم میں وشواس رکھتا ہے یا اس لیفٹ کے ساتھ جو انتہا پسند ہے اور سیکولر حکومتوں کے بھی خلاف ہے ۔ کہاں جاؤں اور کس کے ساتھ رہوں ۔ ان ماڈرن لوگوں کے ساتھ جو دین کا مذاق اڑاتے ہیں ، مولویوں کوگالی دیتے ہیں اور اپنے آپ کو برہنہ کرکے روشن خیالی پر اتراتے ہیں یا ان روشن خیالوں اور ماڈرن لوگوں کے ساتھ جو گالی تو نہيں دیتے ، مذاق تو نہیں اڑاتے لیکن بےوقوف ضرور سمجھتے ہیں اور جو ہمیشہ لپیٹ کر بات کرتے ہیں اور گھما پھرا کر کہ کوئی مطلب ہی نہیں چھوڑتے ؟؟؟ اب تم بتلاؤ کہ میں کدھرجاؤں اور کس کے ساتھ رہوں ؟؟؟
       اب اتفاق سے پریشان ہونے کی باری بے نام خاں کی تھی ۔ اس لیے انہوں نے کہا : چھوڑو بھی یا ر کہاں ہم لوگ بے مطلب سیاست ویاست کے چکر میں پڑ گيے ۔ یہ بتاؤ کہ تمہاری شادی کب ہورہی ہے ؟؟؟ اور میں مسکرائے بغیر رہ نہيں پایا ۔






Saturday, 11 January 2014

غزل
اک موڑ پر تم بیٹھو، اک موڑ سنبھالیں ہم
اس طرح سے دنیا کی ، تصویر سدھاریں ہم
اک ہاتھ میں خنجر ہے، اک آنکھ میں آنسو بھی
خنجر کو کریں نابود، آنسو کو مٹائیں ہم
الفت کے پجاری ہم ، وہ ظلم کے ٹھیکیدار
محروم محبت کو، اک جام پلائیں ہم
تم حسن کی ملکہ ہو، میں عشق کا پاگلپن
شیریں کو سنوارو تم، فرہاد بنائیں ہم
اس طرح محبت کی، تعریف رقم ہوگی
اک شعر سناؤ تم ،اک شعر سنائیں ہم
اک روز حقیقت میں، یہ ظلم فنا ہوگا
اس خواب کی اچھی سی، تعبیر نکالیں ہم
اک تیرا تصرف ہے، اک میری ہنرمندی
اک شہر اجاڑو تم، اک شہر بسائیں ہم
اک شخص محبت ہے، اک شخص عداوت بھی
ان دونوں کو آپس میں، کس طرح ملائیں ہم
ساگر کو تلاطم سے ، کچھ فرق نہیں پڑتا
اک جست لگاؤ تم، اک جست لگائیں ہم