Tuesday, 4 February 2014

روشنی (ایک افسانہ )
ساگر تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی 110067
sagartaimi@gmail.com

" پروردگار عالم ! تجھے خبر ہے کہ یہ سارا کام میں صرف اور صرف تیری رضا جوئی کےلیے کرتا ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ میرے احباب اور دوست مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں ۔  لیکن میں یہ سب صرف اس لیے کرتا ہوں کہ میرا ان کے اوپر اثر باقی رہے اور میں ان سے دینی مشن میں کام لے سکوں ۔ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میرا مقصد سوائے تیری خوشنودی اور تیرے پیغام کی اشاعت کے اور کچھ نہیں ۔  پروردگار! میرا مال ، میری جان اور میری تعلیم اگر اس مشن میں کام آسکی تو ٹھیک ورنہ ان کا حاصل بھی کیا ہے ؟ "
     اجمل  کے سامنے یادوں کا سارا دریچہ کھل گيا ۔ وہ ملک کی بہت مشہور اور بہترین یونیورسٹی تھی ۔ صرف قابل اور محنتی طلبہ ہی اس یونیورسٹی میں داخلہ پاتے تھے ۔ وہاں داخلہ ملنے کا مطلب یہ مانا جاتا تھا کہ اب آپ کی زندگی کامیابی کے زینے پر قدم رکھ چکی ہے ۔ طلبہ بڑے جوش اور فخر سے بیان کرتے تھے کہ وہ اس یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں ۔ یونیورسٹی کا ماحول تھوڑا زیادہ ہی کھلا ہوا تھا ۔ آزادی اور الحاد کی تو جیسے وہاں سے ہوا ہی اٹھتی تھی ۔ ہم جنس پرستوں سےلے کر ہر طرح کے فیشن کو یہاں سے تقویت ملتی تھی ۔ لڑکیوں کی آزادی ہی نہیں بلکہ مکمل آزادی کی صدا جیسے اس یونیورسٹی کے بام ودر سے آتی تھی ۔ لڑکیوں کو ماں ، بہن ، بیوی اور دیوی ہونے تک پر اعتراض تھا ۔ وہ صرف لڑکیاں بننا چاہتی تھیں اور وہ بھی ایسی جیسی وہ خود چاتی تھیں ۔ انہیں یہ بالکل بھی گوارہ نہیں تھا کہ ان کے لباس ، بود و باش یا سوچنے سمجھنے کے انداز میں کسی قسم کی رخنہ اندازی کی جائے ۔ یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کا نظام نافذ تھا ۔ لڑکے اور لڑکیاں ہاسٹل میں رہتے تھے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں تھے ۔ رات رات بھر ڈھابے کھلے رہتے تھے ۔ وہاں تو جیسے رات ہوتی ہیں نہیں تھی ۔ پڑھنے والے بھی رات کو شب بیداری کا فریضہ انجام دیتے تھے اور مستیاں کرنے والے بھی شام کےبعد ہی حرکت میں آتے تھے ۔
       اجمل ایک متوسط گھرانے کا لڑکا تھا ۔ یونیورسٹی سے پہلے کی  تعلیم مدرسے میں ہوئی تھی ۔ جھارکھنڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے سے اس کا تعلق تھا ۔ وہ سانولے رنگت کا خوش شکل اور لمبا چوڑا  لڑکا تھا ۔ اس یونیورسٹی میں داخلہ سے پہلے اس نے ملک کی ایک دوسری یونیورسٹی سے بے ایڈ کیا تھا ۔ اس کے اندر بلا کی کشش پائی جاتی تھی ۔ مسکراہٹ جیسے اس کے وجود کا حصہ ہو ۔ اس کی آنکھوں میں گہرائی اور پیشانی  پر چمک تھی ۔ لڑکیاں بالعموم اس پر نثار ہو جاتی تھیں ۔ بی ایڈ کے زمانے میں اس کے اندر کافی تبدیلی رونما ہوئی تھی ۔ در اصل مدرسے کی پابند زندگی کے مقابلے میں اتنی آزاد زندگی میں وہ کچھ سے کچھ ہو گیا تھا ۔ یہ بات اس کے صرف قریبی دوست ہی جانتے تھے کہ وہ ایک مدرسے کا باضابطہ فارغ التحصیل عالم ہے ۔ دراصل وہ چاہتا بھی نہیں تھا کہ لوگ اسے اس حیثیت سے جانیں ۔ لیکن اتنی ساری تبدیلی اور آزادی کے باوجود اس کے اندر ایک چیز بڑی ریمارکیبل تھی ۔ وہ لوگوں کے کام بہت آتا تھا ۔ اس کی ایک بڑی خاصیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کی باتوں کو بالعموم ہنس کر ٹال دیتا تھا ۔ اس لیے اس کی کبھی کسی سے برائي نہيں ہوتی تھی ۔ وہ اپنے سرکل میں لڑکیوں سے تھوڑا زیادہ ہی کھلا ہوا تھا ۔ بات یہ تھی کہ وہ لڑکیوں کی تعریف کرنے کی خوبی سے واقف تھا ۔ لیکن بہرحال وہ اپنے حدود کو بھی نظر میں رکھتا تھا ۔
         یونیورسٹی میں اس کی دوستی ایک دوسری ہی  قسم کے طالب علم سے ہو گئی ۔ وہ در اصل اتفاق ہی تھا ۔ لیکن اجمل کے  سماجی اعتبارسے متحرک ہونے  اور اس کے  دوست شاداب کے خلوص کی وجہ سے اس کے اندر بہت گہرائي آگئی تھی۔ شاداب مضبوط ارادوں کا مالک جوان تھا ۔ لمبا چہرا ، چوڑی پیشانی ، چھوٹی چھوٹی سمجھدار آنھکیں اور اس پر لجائی ہوئي مسکراہٹ اسے وقار و اعتبار عطا کرتی تھی ۔ بہار کے ایک قصبے سے اس کا تعلق تھا۔ وضعداری اور دینداری اس کی اصل پہچان تھی   ۔ ان دونوں کے بیچ ایک اور تیسرا طلب بھی تھا نوید ۔ یہ در اصل ان دو انتہاؤں کے بیچ ایک پل کی حیثيت رکھتا تھا ۔ شاداب ایک ایمان والے عملی مسلمان کا نمونہ تھا ۔ پوری یونیورسٹی میں ہر طرح کے مسلم اور انسانیت کے مسائل کو لے کر وہ پریشان رہا کرتا تھا ۔ وہ اس دین بیزار دانش گاہ میں پکا سچا مسلمان تھا ۔ پانچ وقت کی نمازین ، ہفتے میں دو روزے سموار اور جمعرات کے اور ہمہ وقت وضو کی حالت میں رہنا اس کی عادت میں شامل تھا ۔ وہ نہ تو کوئي فلم دیکھتا تھا اور نہ فلموں سے اسے کسی قسم کی کوئي دلچسپی تھی۔ وہ کسی قسم کی بے مقصد مجلس کا حصہ بننا پسند نہیں کرتا تھا۔ یونیورسٹی میں کلچر کے نام پر آئے دن رقص و سرود وغیرہ کی محفلیں سجاکرتی تھیں لیکن اسے ان سے کوئی سروکارنہيں تھا ۔ در اصل اس کی پچھلی زندگی اس کے بقول جاہلیت کی تھی ۔ جب وہ صرف نام کا مسلمان تھا اور سارے کام غیر مسلموں والے کیا کرتا تھا ۔ اس کی عملی زندگی کو دیکھ کر اسیا لگتا جیسے وہ اپنی پچھلی زندگی کی تلافی کررہا ہو ۔ عام طور سے طلبہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس پر پھبتیاں کسا کرتے تھے ۔ در اصل وہ ایک الگ ہی قسم کا انسان تھا ۔ لوگوں کو اس کی اخلاقی بلندی اور اصول پسندی کا بھی اعتراف تھا اس کے باوجو نہ جانے کیوں اسے لوگ قبول کرنے کوتیار نہیں رہا کرتے تھے ۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے اپنے مقابلے میں اس کی نیکیوں کی وجہ سے لوگ اس سے چڑھ جاتے ہوں ۔ لیکن وہ تھا کہ بس اپنے کام میں لگاہوا تھا ۔ اس کے اندر ایسا نہیں کہ خامیاں نہیں تھیں۔ اسے تعریف بہت پسند تھی ۔ وہ بھی اپنے آپ کو کبھی کبھی اس طرح پیش کرتا جیسے واقعۃ اس کے علاوہ کوئی نیک ہو ہی نہیں لیکن ایسا کم کم ہی ہوتا تھا ۔ ان بن کی صورت میں وہ ہمیشہ معافی مانگنے میں جلدی کیا کرتا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرتے رہتے تھے اور جب اللہ رسول کا ذکر آتا تو وہ سیلاب کی مانند بہ جاتے ۔
           اجمل اور نوید بالعموم ایک طرف ہو جاتے اوراسے دق کیا کرتے ۔ اس کا مزہ لیتے ۔ اور جب وہ غصہ کیا کرتا تو یہ خوب خوش ہوتے ۔ پھر یہ دونوں ناراض ہو جاتے اور وہ انہیں منانے کے لیے کسی اچھے ریستوراں میں پارٹی دیتا اور پھر سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ۔ لیکن دوسرے طلبہ کے لیے یہ بڑی عجیب بات تھی ۔ وہ سوچتے کہ یہ دونوں آخر ایک ساتھ رہتے کیوں ہیں ۔ ان کی ایک ساتھ اتنی اچھی کیوں کر بن جاتی ہے ۔ کمال کی بات یہ تھی کہ اجمل اور نوید اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے نماز وغیرہ کی پابندی بھی کرلیا کرتے اور ہر طرح کے دینی اور سماجی کاموں کا حصہ ہو جایا کرتے ۔ البتہ ہر سموار اور جمعرات کو افطار کرنے کے باوجود انہیں کبھی نفلی روزے کی توفیق نہیں ملی تھی ۔ لیکن شاداب کے لیے اتنا بھی کم نہیں تھا کہ یہ لوگ نماز ادا کرلیتے ہیں ۔ دینی اور سماجی کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور ان کی وجہ سے اسے اپنے مقاصد کے حصول میں آسانی ہوتی ہے ۔ ایسے وہ ان کی مدد بھی کم نہیں کرتا تھا ۔ وہ ہمیشہ یہ کوشش بھی کرتا تھا کہ اگر وہ کوئی علمی کام کررہا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دوست بھی ایسا ضرور کریں ۔ وہ ٹیم ورک میں یقین رکھتا تھا ۔ وہ اتنا سماجی تھا کہ کبھی کبھی نوید اسے الٹے نصیحتوں سے نوازنے لگتا۔ اکیڈمک پر دھیان دینے کی گزارش کرنے لگتا۔ اور بالعموم وہ یا تو ہوں ہاں کرکے رہ جاتا یا پھر ٹوپک چینج کردیتا۔ در اصل وہ اپنے اسٹڈیز میں بھی اچھا ہی تھا ۔
             اتنے لمبے عرصے کی دوستی میں بہت سے ایسے مواقع آئے جب ان کے درمیان تو تو میں میں ہوئي ۔ وہ ایک دوسرے سے ناراض ہوئے اور پھر بات بن گئي۔ بات یہ تھی کہ نوید بالعموم الجھنے کی بجائے مذاق میں ٹال جاتا تھا اور اجمل کے اندر رد عمل کی نفیسات تھی نہیں ۔ اور اگر کبھی ایسا ہو بھی جاتا تو شاداب کی معافی کےبعد  معاملے کے نہ بننے کا سوال ہی نہیں بچتا ۔ حالانکہ ایسی کوششیں بھی کی جاتیں کہ ان تینوں میں کچھ گڑ بڑ ہوجائے ۔ لیکن شاداب کا خلوص سب پر حاوی پڑ جاتا ۔
         لیکن اس مرتبہ کی صورت حال کچھ اور ہی تھی ۔ شاداب کی معافی اور نوید کی صلح کرانے کی کوشش سب بے کار ہو چکی تھی ۔ در اصل اجمل نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اسے اب اس پابند زندگی سے پیچھا چھڑا ہی لینا ہے ۔ وہ یوں بھی اپنے لبرل دوستوں کے درمیان زیادہ ہی طنز کا نشانہ بن جایا کرتا تھا ۔ اسی لیے جب کسی بات پر شاداب نے اسے کچھ کہ دیا تو اب اسے جیسے ایک بہانہ ہاتھ لگ گیا ہو ۔ ایسے شاداب کے اندر بھی ایک قسم کا تحکمانہ انداز پایا جاتا تھا ۔ یہ سچ تھا کہ وہ اپنے دوستوں کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھتا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس خیال میں کبھی کبھی وہ دوستوں کی آزادی میں مخل بھی  ہو جایا کرتا تھا ۔ وہ جذبہ خلوص کی شدت میں بھول جاتا کہ لوگوں کے اپنے بھی احساسات ہوتے ہیں ۔ اس کے دوست باتوں باتوں میں اسے اس کا احساس بھی دلاتے لیکن وہ دوسری باتوں کی طرح اسے بھی ان کا مذاق ہی خیال کرتا ۔
 یہ صورت حال سب سے زیادہ نوید کے لیے  پریشان کن تھی ۔ اس لیے کہ وہ بہرحال یہ نہيں چاہتا تھا کہ جو رشتے اتنی مدت تک چلتے رہے ہیں ، وہ یوں ٹوٹ جائیں ۔ بات یہ بھی تھی کہ خود نوید بھی اس رشتے سے اتنا جڑ گيا تھا کہ اس کے بغیر اس کی پوری یونویرسٹی لائف بے کیف سی معلوم ہوتی تھی ۔ لیکن وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کی کوششیں بھی کچھ خاص نہیں کرپارہی ہیں ۔ اس کے سامنے ایک مرحلہ یہ بھی تھا کہ آخر وہ کیا کرے ۔ وہ دونوں سے محبت کرتا تھا ۔ اس کے لیے دونوں کو یوں الگ کرکے دیکھنا آسان نہیں تھا ۔ اسے کبھی کبھی شاداب کے مشن کی بھی یاد آتی تھی ۔ اور وہ جانتا تھا کہ ہر چند کہ وہ اور اجمل عملی سطح پر اس کے لیے بہت اچھے معاون نہيں ہیں لیکن یہ بھی سچ تھا کہ وہ دونوں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اس کے مشن کے لیے مفید تھے ۔ بات یہ تھی کہ خود نوید کے اندر بھی بہتر سماج بنانے کی للک کچھ کم نہ تھی ۔ وہ دین کے نظری پہلوؤں پر بطور خاص بہت گہری نظر رکھتا تھا ۔ اس نے اپنے وقت کے اچھے اسلامی مفکرین کو پڑھا تھا ۔ لیکن اس کی سیمابیت اسے کچھ کرنے نہيں دیتی تھی ۔ وہ اپنے آپ کو بیلینس نہیں کرپاتا تھا۔  در اصل مختلف میدانوں کی آری ترچھی معلومات کے سہارے وہ چاہتا تھا کہ ہر ایک فیلڈ سر کرلے ۔ اس لیے وہ کہیں پر اپنی پوری حصہ داری نبھا نہیں پاتا تھا۔ لیکن اس کا اصل پیشن در اصل یہی تھا کہ وہ بھی کچھ قابل ذکر کام کر سکے ۔ اس معاملے میں اسے اکثر اپنے والد کی یاد آتی تھی جو اسے ایک آئڈیل انسان کے طورپر دیکھنا چاہتے تھے ۔
        اجمل نے  آخری بار یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اب اسے شاداب سے تعلق توڑ لینا ہے ۔ وہ اپنا بچا کھچا سامان شاداب کے روم سے لے کر نکل جانا چاہتا تھا ۔ لیپ ٹاپ ، کپڑے اور کتابیں جب وہ لے کر نکلنے کا ارادہ کررہا تھا تو اس کی نظر شاداب کی  ڈائری پر پڑي اور وہ یہ سوچ کر اسے دیکھنے لگا کہ اتنی دیر میں اگر شاداب آگیا تو اسے آخری سلام کرکے نکل جائيگا ۔ اس کے سامنے ڈائری کا جو صفحہ کھلا اس نے اسے پریشان ہی کردیا ۔ اکثر وہ اور نوید یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ اگرہم دونوں نہ ہوں تو شاداب اکیلا مر جائے ۔ اس دقیہ نوس انسان کو بھلا کون اپنا ساتھ دے۔ ہم تو کسی کے ساتھ بھی نباہ سکتے ہیں ۔ اس کا تو کسی کے ساتھ نہيں چل پائیگا۔ یہ الگ بات تھی کہ کبھی کبھی وہ دونوں اس پر رشک بھی کیا کرتے تھے لیکن انہيں اپنی برتری کا احساس رہتا ہی تھا ۔ یہاں ڈائری یہ کہ رہی تھی کہ وہ تو ان دونوں کو ان دونوں سے بھی زیادہ جانتا ہے اور صرف اس لیے ان کے سارے نخرے برداشت کرتا ہے کہ اس کے اپنے نیک دینی اور ایمانی مقاصد حاصل ہو سکیں ۔ اجمل اب ایک دوسری ہی قسم کی پشیمانی میں مبتلا تھا۔ اس کے من میں آرہا تھا کہ ہم کتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے فکرمند تھے اور شاداب کتنی دور رس نگاہ سے دیکھ رہا تھا ۔ تیری تجارت کامیاب رہی دوست! کاش ہم تمہيں پہلے اس طرح سمجھ سکتے ! ہم تمہاری مجبوری نہیں تھے ۔ تم نے تو ہمیں اپنے اتنے اونچے مقاصد کا حصہ بنا لیا تھا ۔ اور اس کے لیے تم نے کیا کیا نہيں برداشت کیا تھا  ۔ اس نے سارا سامان وہیں چھوڑ دیا اور جب نوید کو ٹیلی فون کرکے اس نے یہ کہا کہ وہ شاداب سے معافی مانگنا چاہتا ہے تو نوید کے لیے اپنی خوشیوں پر قابو پانا آسان نہيں رہا اور اس کے آنسو نکل پڑے۔











Thursday, 23 January 2014

تقدیر پر ایمان : معنی ، مفہوم اور تقاضے
ثناءاللہ صادق تیمی
ایمان کا چھٹا رکن تقدیر پر ایمان لانا ہے ۔ بالعموم ہم تقدیر کے بارے میں گفتگو کرنا نہیں چاہتے ۔ بہت زیادہ قیل قال کرنا یا بال کی کھال نکالنا تو بلاشبہ غلط ہے اور اس سے نقصان ہی ہوتا ہے لیکن سرے سے اسے چھوڑ بھی دینا غلط ہے ۔ اگر تقدیر کو جانا نہ جائے تو پھر اس پر ایمان کیسے لایا جائے گا ۔
        بہت سے لوگوں کو تقدیر کے سلسلے میں پریشانیاں ہوتی ہیں اور وہ کافی کنفیوژن کے شکار رہتے ہیں ۔ ان کو لگتا ہے کہ جب سب کچھ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے تو پھر انسان تو مجبور محض ہے ۔ وہ چاہے کچھ بھی کرلے ہوگا تو وہی جو لکھا ہوا ہے ۔ وہیں کچھ لوگ اس کے بالکل بر خلاف یہ سوچتے ہیں کہ یہ تقدیر کوئی چیز نہيں ہے بلکہ انسان مختار اور آزاد ہے جو چاہے گا وہی ہوگا ۔ اصطلاح میں ایک زمانے میں پہلے کو جبریہ اور دوسرے کو قدریہ کہا گیا ۔ لیکن یہ جبریے اور قدریے آج بھی موجود ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ حق ان دونوں کے بیچ ہے ۔
       تقدیر کا مطلب ہے اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی کے علم ازلی کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے ۔ جو کچھ ہونے والا ہے اسے اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے اور جو فیصلے اس نے کردیے ہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ ساری کائنات اس کی مخلوق ہے اور سب کچھ اس کی مشیئت کے مطابق ہی چل رہا ہے ۔
     لیکن تقدیر پر ایمان لانے سے پہلے چند بنیادی باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے ۔
1۔ اللہ تعالی اس کائنات کا خالق و مالک ہے ۔ اللہ خالق کل شیء
2۔ کائنات کا سارا کاروبار اسی کی مشیئت کے مطابق چلتا ہے ۔
3۔ اس کا علم کائنات کے ذرے ذرے کو محیط ہے ۔ احاط بکل شیء علما
4۔ وہ عادل ہے اور ظلم کو اس نے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے ۔ یا عبادی انی حرمت الظلم علی نفسی فلا تظالموا علی انفسکم ۔
5۔ اسی نے انسان کے اعمال کو بھی پیدا کیا ۔ خلقکم و ما تعملون
6۔ وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے ۔ اسے یہ پسند نہیں کہ بندے نافرمان ہوجائیں ۔ لایرضی من عبادہ الکفر
7۔ اللہ اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اس سے بھی زیادہ جتنی ایک ماں اپنے بچے سے کرسکتی ہے ۔
8۔ اللہ رحیم ہے اور اس کی صفت رحمت اس کی صفت غضب پر حاوی ہے ۔ ان رحمتی وسعت غضبی ۔
       ان تمام امور پر اگر غور کیا جائے اور ایمان لایا جائے تو پھر انسان کو تقدیر کے بارے میں وہ کنفیوژن نہیں ہوگا جس میں بالعموم پڑ کر وہ پریشان ہوتا ہے اور بسا اوقات اپنا ایمان ہی ضائع کرلیتا ہے ۔  اور ان تمام امور کو ماننا اس لیے ضروری ہے کہ ان کا تعلق اللہ پر ایمان لانے سے ہے ۔ اب اگر اللہ پر ایمان ہی مکمل اور صحیح نہ ہو تو بھلا تقدیر پر ایمان کیسے صحیح ہو سکتا ہے ۔
   مختلف صحیح احادیث کے اندر اس بات کی وضاحت آئی ہے کہ ایک انسان نیکی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کےدرمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ گناہ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اور وہ جہنمیوں میں سے ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح ایک بندہ گنا ہ کا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ نیک کام کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جنتیوں میں سے ہو جاتا ہے ۔ اس قسم کی احادیث سے بالعموم لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ تب عمل کا کیا فائدہ ہے ؟  بالکل یہی سوال صحابہ کرام نے رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ عمل کرتے رہو اس لیے کہ جو جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے وہ کام اس کے لیے آسان کردیا جاتا ہے ۔
          تقدیر کے سلسلے میں لوگ بات کرتے ہوئے بالعموم اس بات کو فراموش کردیتے ہیں کہ تقدیر اللہ کے محیط علم کا حصہ ہے اور ہمیں اس کی کوئی خبر نہيں ۔ دنیا کے کسی بھی میدان سے متعلق اگر آپ ایسی چیز کے بارے میں بولیں جسے آپ نہيں جانتے تو لوگ آپ کو بیوقوف ہی کہینگے ۔ پھر بھلا کس قدر تعجب کی بات ہے کہ لوگ تقدیر میں کیا ہے اس کو نہيں جانتے اور بے مطلب اٹکل پچو مارتے رہتے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انسان جان بھی نہیں سکتا تبھی تو اس کی ذمہ داری کرتے رہنے کی ہے ۔ اللہ فرماتا ہے۔ سیقول الذین اشرکوا لوشاءاللہ ما اشرکنا ولا آباؤنا ولا حرمنا من شیء کذلک کذب الذین من قبلھم حتی ذاقوا باسنا قل ھل عندکم من علم فتخرجوہ لنا ان تتبعون الا الظن و ان انتم الا تخرصون، سورۃ الانعام    
دیکھیں یہاں بھی کافروں اور مشرکوں کا استدلال یہی ہے کہ اگر اللہ نے چاہا ہوتا تو ہم ایسا بالکل بھی نہیں کرتے ۔ اللہ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس ایسا کوئي علم ہے تو بولو ۔ سچی بات یہ ہے کہ تم صرف گمانوں سے کام لیتے ہو ۔
         یہاں اس بات کو سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ اللہ نے انسان کو محدود اختیار دیا ہے ۔ یعنی انسان نہ تو پورے طور پر مجبور ہے اور نہ پورے طور پر مقید ۔ اسے پروردگار نے اس کائنات میں بھیجا ہے اور اسے اتنی صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے مطابق جو چاہے کرسکے لیکن اس کا یہ اختیار بہر حال کلی نہیں جس طرح وزیر بہت سارے معاملات میں آزاد ہوتا ہے لیکن بہرحال اسے وزیر اعظم کے اندر ہونا ہوتا ہے ۔ جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ کو اصل طاقت مانا جاتا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزراء کچھ نہيں کرسکتے لیکن کسی نہ کسی کو تو بہر حال سب سے اوپر ماننا ہوگا ۔ یہی حیثيت سب سے بڑے ہونے کی کائنات کے معاملے میں اللہ کو حاصل ہے ۔ و للہ المثل الاعلی ۔ اللہ نے اسی لیے انسان کو ان معاملات میں جوابدہ بتایا ہے جن میں اس کا اختیار کام کرتا ہے اور ان معاملات میں اس سے پوچھ گچھ بھی ہوگی ۔ بقیہ جہاں اس کے اختیارات معدوم اس کی جوابدہی بھی ختم ۔ پاگل سے، بچے سے اور بھول کر کچھ کرنے والے سے نہیں پوچھا جائے گا ۔ کسی معاملے میں ایک دم مجبور انسان سے نہیں پوچھا جائیگا ۔ یہاں تک کہ کلمہ  کفر بھی اگر محبوری کی وجہ سے ہے تو وہ بھی معاف ۔ الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان ۔ انسان کی جوابدہی اس کے اختیار کے مطابق ہے ۔ اللہ نے انسان کو شعور دی ۔ اس کے پاس نبیوں اور رسولوں کو بھیج کر یہ مطالبہ کیا کہ ان اچھی تعلیمات پر چلو اور دنیا آخرت سنوار لو ۔ انا ھدیناہ السبیل  اما شاکراو اما کفورا۔ وہیں اس نے اس بات کی بھی وضاحت کردی کہ اتنا ڈرو جتنا ڈر سکتے ہو ۔ فاتقواللہ استعطتم ۔
 جو لوگ تقدیر کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ اگر کوئی آدمی ان کو نقصان پہنچائے اور کہے کہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا ہوا تھا تو کیا وہ مان لے گا یا پھر اس آدمی کو مورد الزام ٹھہرائے گا ۔ اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو کیا وہ جیسی تیسی چیز کو قبول کرلے گا یا پھر اس کی کوشش ہوگی کہ وہ اچھی سے اچھی چیز حاصل کرے ۔ تو پھر اللہ اور اس کے حکم کے معاملے میں تقدیر کو بہانا بنانا کہاں کا انصاف ہے ؟
     تقدیر پر ایمان در اصل ایک بڑا ہتھیار ہے کہ انسان کسی قسم کی ناامیدی کا شکار نہ ہو ۔ پریشانی لاحق ہوتو صبر کرے اور اگر خوشی حاصل ہو تو شکر بجالائے اور ہر دو صورت میں راضی بہ رضا رہے ۔ تقدیر در اصل آپ کے لیے قوت ہے لیکن یہ تب جب آپ اسے قوت بنا کر دیکھیں ۔ ایک ہی انسان ذمہ داری کو ذمہ داری سمجھ کر کیا سے کیا کارنامے انجام دیتا ہے اور ایک انسان ذمہ داری کو بوجھ سمجھ کر کیا کیا پریشانیاں کماتا ہے ۔ ذمہ داری تو ذمہ داری ہی رہتی ہے ۔ اس ایمان سے انسان کا اللہ پر ایمان مضبوط ہو تا ہے ۔ اس کے اندر کبر وغرور کی نفسیات جنم نہیں لیتی اور وہ صبر وشکر کے جذبے کے تحت جیتا ہے ۔ اسے یک گونہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ اللہ فرماتا ہے ۔ مااصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر۔ لکیلا تاسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتاکم واللہ لا یحب کل  مختال فخور ۔
تقدیر اللہ تبارک وتعالی کا راز ہے ۔ ہمیں ان باتوں پر ایمان لانا ہے جو بتلائی گئی ہیں اور جو نہیں بتلائی گئيں ان کے پیچھے پڑنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ۔ ایمان والے تقدیر کو اپنی سستی اور کاہلی کا ذریعہ نہيں بناتے وہ اسے اپنی قوت کا ذریعہ اور اپنی سعادت کا زینہ سمجھتے ہیں اور وہ کارہا ئے نمایاں انجام دیتے ہیں جن پر دنیا رشک کرتی ہے ۔ یاد رہے کہ تقدیر کا پتہ ہمیں اس وقت چلتا ہے جب وہ چیز وقوع پذیر ہو چکی ہوتی ہے ۔ واقع ہونے سے پہلے ہنگامہ کرنا حماقت کہ بغیر علم کی دعویداری اور وقوع پذیر ہونے کے بعد ہنگامہ غلط کہ جس پروردگار نے یہ تقدیر لکھی اسی نے صبر وشکر کی بھی تلقین کی ۔ ایک کو پکڑنا  اور ایک چھوڑنا صحیح نہیں ۔ اللہ ہمیں بہتر توفیق دے ۔ آمین ۔








Monday, 20 January 2014

غزل
ساگر تیمی
سفر کی بات ہے موت و حیات مت کیجیے
تمام عمر تو رونے کی  بات مت کیجیے
چلی ہے بات جب کردار کے بلندی کی
تو بیچ بیچ میں صوم و صلوۃ مت کجیے
خدا کی ذات کے جب آپ ٹھہرے انکاری
تو بات بات میں پھر اس کی بات مت کیجیے
تمام دن تو  یوں ہی ضائع کردیا بے کار
اسی کی نذر تو اب پوری رات مت کیجیے
کبھی کبھار تو کچھ  اپنے دم ہو سے آخر
ہر ایک کام میں " تیرا ہی ساتھ " مت کیجیے
اسے بڑھائيے لیکن حدود میں رہیے
وہ آنکھ ہے تو اسے کائنات مت کیجیے
اسے غرور ہے ساگر امیر ہونے پر

فقیر آپ ہیں تو التفات مت کیجیے 

Sunday, 19 January 2014

آپ کس کے ساتھ ہیں؟
ثناءاللہ صادق تیمی
میرے دوست جناب بے نام خاں نے آتے ہی یہ سوال پوچھا کہ آپ کس کے ساتھ ہيں اور میں بالکل ہی ہڑبڑا گیا کہ آخر انہيں کیا جواب دوں ۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا انہوں نے کہا بھائی آخر آپ کسی کے ساتھ تو ہوں گے ۔  اس لیے کہ ہر صورت میں آدمی کسی نہ کسی کے ساتھ تو ہوتا ہی ہے ۔ پھر بتلائیے کہ آپ کس کے ساتھ ہيں ؟ میں نے جلدی جلدی میں کہا میں تو آپ کے ساتھ ہوں ! اس پر ہمارے دوست ناراض ہوگئے ۔ جناب آپ مولویوں کو ہمیشہ مذاق کیوں سوجھتی رہتی ہے ۔ میں بالکل سنجیدہ ہوں ۔ آج کی زبان میں کہوں تو میں بالکل سیریس ہوں ۔ میں نے کہا اگر آپ سیریس ہیں تو بھائی ہاسپیٹل جائیے ۔ میرا دماغ کیوں کھا رہے ہیں  ۔  اگر اکیلے نہيں جا سکتے تو چلیے  بھائی میں ہی پہنچا دیتا ہوں ۔ اس پر بے نام خاں اپنی بتیسیوں کے ساتھ ہنسنے لگے اور بولے دیکھو تم کتنے سیدھے ہو ۔  میں سنجیدہ ہوں ۔ سیریس نہيں ۔ اگر سیریس ہوتا تو تم سے اس طرح کیسے بات کررہا ہوتا ۔ میں نے کہا تو پھر جھوٹ بولنے کی ضرورت کیا تھی ۔ اور ہمارے دوست سر پکڑ کر بیٹھ گيے ۔  تھوڑی دیر بعد پھر گویا ہوئے چلو اچھا بتاؤ تم کس کے ساتھ ہو ؟ بھائی میں تو کسی کے ساتھ نہیں ہوں ۔ تم پوچھنا کیا چاہتے ہو؟ اگر تم سیریس نہيں ہو تو مجھے لگتا ہے کہ میں ضرور سیریس ہوجاؤںگا ۔ ایسے میں مسلمان ہوں اور ہر اس چیز کے ساتھ ہوں جو مسلمان ہے اور ہر اس چیز سے الگ جو مسلمان نہيں ہے ۔ یعنی کہ تم پورے طور پر ایک انتہا پرست مسلمان ہو ۔ ہاں وہ تو ہوں اور نہ بھی رہوں تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ چہرا کچھ ایسا ہے کہ لوگ خواہ مخواہ ایک انتہا پسند مسلمان سمجھ لیتے ہیں ۔ خیر چلو اب بتاؤ کہ تم کس کے ساتھ ہو ؟  یعنی تمہيں یہ بات ابھی سمجھ میں نہيں آئی کہ میں کس کے ساتھ ہوں ۔ تم میرا دماغ مت خراب کرو ، میں کسی کے ساتھ نہيں ہوں۔  بے نام خاں اب میری ناراضگی سے پریشان ہورہے تھے ۔ انہوں نے پیار کے ساتھ میرے گال کو چھوا ، داڑھی پر تقدس آمیز نگاہ ڈالی اور کہا کہ میرے دوست ناراض ہونے کی کوئی بات نہيں بس اتنا ہی تو بتانا ہے کہ تم کس کے ساتھ ہو ؟ مجھے اس بار واقعی بہت غصہ آیا ۔ وہ تو اسلام میں غصہ حرام ہے سو میں نے برداشت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ دوست میں نہ کسی کے ساتھ تھا نہ کسی کے ساتھ ہوں۔ میں ایک عام سا انسان اور ایک بے عمل سا مسلمان ہوں ۔ لوگ میری داڑھی اور شکل و شباہت سے بالعموم دھوکہ کھا جاتے ہيں ۔ اس لیے جہاں کچھ لوگ مجھے خدارسیدہ ، بزرگ اور مستجاب الدعوات سمجھتے ہيں وہيں پڑھے لکھے سمجھدار لوگ جاہل ، احمق اور بے وقوف ہی نہیں دقیانوس بھی سمجھ لیتے ہیں اور میں تمہیں صحیح بتاتا ہوں کہ جہاں مجھے پہلے گروہ کی سادہ لوحی پر ترس آتا ہے اور ان سے محبت ہو جاتی ہے وہيں دوسرے گروہ کی حماقت پر ہنسی بھی آتی ہے اور میں اپنی ہنسی روک نہیں پاتا ۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ مجھے مولانا سمجھتے ہیں وہ میری اس لیے زیادہ عزت کرتے ہیں کہ میں انگلش میں بھی یس نو کر لیتا ہوں ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ یس اور نو بھی میں ان سادہ لوحوں کے سامنے ہی کرتا ہوں ۔ کبھی کسی انگریزی تعلیم یافتہ انسان کے سامنے ایسا بالکل بھی نہیں کرتا ۔ بعض جو سیدھے اور تعلیم یافتہ حضرات ہیں وہ اس لیے مجھ سے مرعوب رہتے ہيں کہ میں ان کے سامنے ہمیشہ بھاری بھرکم اردو میں بولتا ہوں ۔ وہ بیچارے سمجھتے ہیں کہ میری صلاحیت بہت زیادہ ہے تبھی تو اتنی بھاری زبان استعمال کرتا ہوں ۔ میں بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہوں اور کبھی کبھار عربی کے ایک دو جملے بول کر  اپنی قابلیت کا جھنڈا گاڑ دیتا ہوں ۔ بس یہی تو میں کرتا ہوں ۔
میرے دوست نے میری ان باتوں کو اتنی غور سے سنا تھا کہ میں نے سمجھا کہ ان کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ میں کیا ہوں اور کیا کرتا ہوں ۔ لیکن جب انہوں نے زبان کھولی تو پہلا سوال یہی کیا کہ اچھا  یہ تو سب تو ٹھیک ہے یہ بتلائیے کہ آپ کس کے ساتھ ہيں ؟ اب میرے لیے غصہ پر قابو پانا آسان نہيں تھا ۔ میرے اضطراب کی شدت بڑھ رہی تھی اور میں بہت بری طرح پریشان ہو رہا تھا۔ میں نے ایسے ہی  بغیر کچھ سمجھے بول دیا کہ میں لالو پرساد یادو کے ساتھ ہوں ۔ بے نام خاں اچھل پڑے۔ ارے تو اس ميں اتنی دیر لگانے کی کیا ضرورت تھی ۔ پہلے بھی تو بول سکتے تھے ۔ چلیے مولانا ہیں کچھ تو گھما پھرا کر ہی بولیں گے ۔ تو آپ لالو پرساد کے ساتھ ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ سیکولر پارٹی کے ساتھ ہيں ؟ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نتیش کے ساتھ کیوں نہيں ہیں ؟  سونیا جی سے آپ کو کیا پرابلم ہے ؟ اور کیجریوال نے آپ کیا بگاڑا ہے ؟ آپ عام آدمی کے ساتھ کیوں نہيں ہیں ؟؟؟
پے درپے سوالات نے مجھے بالکل ہی پریشان کردیا ۔ مجھے تو سمجھ میں آہی نہيں رہا تھا کہ کیا بولوں ۔ کوئی بات نہیں مولانا ! آپ کوئی اکیلے بے وقوف نہیں ہیں جو لالو پرساد کے آج بھی ساتھ ہيں ۔ بہت سے لوگ ہيں ۔ دنیا لالو سے ہو کر نتیش اور ان سے بھی بڑھ کر کیجریوال تک آگئي اور آپ ہيں کہ لالو تک ہی ہیں ۔ جواب ہی نہيں آپ کا تو ؟ واہ کیا پچھڑاپن ہے ! واہ واہ! سبحان اللہ !!  اچھا تو یہ بتلائیے کہ آپ خاندانی لالوئی ہیں یا پھر صرف آپ لالوئي ہیں اور آپ کے گھر کے دوسرے افراد نتیشی ہیں اور کچھ کانگریسی اور کچھ مودیائی ۔ معاف کیجیے گا آپ لوگ مودیائي تو نہيں ہو سکتے ؟  نہیں نہيں ہو بھی سکتے ہیں ۔ آپ لوگوں نے ہی تو اسے ٹوپی پہنایا تھا ۔ کبھی کھبی تو آپ لوگ بیان بھی دیتے ہیں اس کے حق میں ؟ بولیے بھی بھائي ؟  میں نے بے نام خاں سے پوچھا کہ کیا بولوں ؟  اس پر وہ ناراض ہو کر کرخت لہجے میں بولے یہی کہ لالوئی ہی کیوں ہیں آپ ؟  اور خدارا اب یہ مت بولیے گا کہ آپ مسلمان ہيں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے کہ پھر میں آپ سے پوچھونگا کہ آپ کون سے مسلمان کے ساتھ ہيں ؟ شیعہ مسلمان یا سنی مسلمان ؟  شیعہ مسلمان تو پھر زیدی شیعہ مسلمان یا اثناعشری شیعہ مسلمان ۔ رافضی شیعہ مسلمان یا رضوی شیعہ مسلمان ؟ سنی مسلمان تو پھر حنفی سنی مسلمان یا پھر شافعی سنی مسلمان ۔ حنبلی سنی مسلمان یا مالکی سنی مسلمان یا پھرا ہل حدیث سنی مسلمان ۔ حنفی سنی مسلمان تو پھر تبلیغی مسلمان یا خانخاہی مسلمان یا پھر جماعت اسلامی والا مسلمان ۔ اہل حدیث مسلمان تو سیدھا والا اہل حدیث مسلمان یا پھر غرباء والا اہل حدیث مسلمان ؟؟؟
 میں اس سے پہلے کہ بے نام خاں کے سوالات کے حصار کو توڑتا ، بے نام خاں گویا ہوئے ۔ تو بتاؤ کہ تم لالوئی کیوں ہو ؟ اور دوسرے کیوں نہیں ؟ میں نے بھی اب غصے کو موقع دیا اور کہا کہ بھائي کس کانگریس کے ساتھ رہوں ۔ سیکولر کانگریس کے ساتھ یا فاسسٹ کانگریس کے ساتھ ۔ کس نتیش کے ساتھ رہوں وہ جو مودی کے ساتھ تقریر کرتا ہے اور بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بناتا ہے یا اس نتیش کے ساتھ جو ان سے دوری بنا کر اپنے آپ کو سیکولر ثابت کرتا ہے اور اسکولوں ميں سورج نمسکار لاگو کرواتا ہے ۔ اس کیجریوال کے ساتھ جو انا ہزارے کے ساتھ تھا یا اس کیجریوال کے ساتھ جو ان سے الگ ہے اور ابھی دہلی کا وزیر اعلی ہے ۔ اس مودی کے ساتھ جو مسلمانوں کا باضابطہ قاتل ہے یا اس مودی کے ساتھ جو اب صرف اور صرف وکاس کی بات کرتا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی ریلی میں ٹوپی لگا کر آئيں ۔ بتاؤ کس کے ساتھ جاؤں ؟  اس لیفٹ کے ساتھ جو اعتدال پسند ہے اور سیکولزم میں وشواس رکھتا ہے یا اس لیفٹ کے ساتھ جو انتہا پسند ہے اور سیکولر حکومتوں کے بھی خلاف ہے ۔ کہاں جاؤں اور کس کے ساتھ رہوں ۔ ان ماڈرن لوگوں کے ساتھ جو دین کا مذاق اڑاتے ہیں ، مولویوں کوگالی دیتے ہیں اور اپنے آپ کو برہنہ کرکے روشن خیالی پر اتراتے ہیں یا ان روشن خیالوں اور ماڈرن لوگوں کے ساتھ جو گالی تو نہيں دیتے ، مذاق تو نہیں اڑاتے لیکن بےوقوف ضرور سمجھتے ہیں اور جو ہمیشہ لپیٹ کر بات کرتے ہیں اور گھما پھرا کر کہ کوئی مطلب ہی نہیں چھوڑتے ؟؟؟ اب تم بتلاؤ کہ میں کدھرجاؤں اور کس کے ساتھ رہوں ؟؟؟
       اب اتفاق سے پریشان ہونے کی باری بے نام خاں کی تھی ۔ اس لیے انہوں نے کہا : چھوڑو بھی یا ر کہاں ہم لوگ بے مطلب سیاست ویاست کے چکر میں پڑ گيے ۔ یہ بتاؤ کہ تمہاری شادی کب ہورہی ہے ؟؟؟ اور میں مسکرائے بغیر رہ نہيں پایا ۔






Saturday, 11 January 2014

غزل
اک موڑ پر تم بیٹھو، اک موڑ سنبھالیں ہم
اس طرح سے دنیا کی ، تصویر سدھاریں ہم
اک ہاتھ میں خنجر ہے، اک آنکھ میں آنسو بھی
خنجر کو کریں نابود، آنسو کو مٹائیں ہم
الفت کے پجاری ہم ، وہ ظلم کے ٹھیکیدار
محروم محبت کو، اک جام پلائیں ہم
تم حسن کی ملکہ ہو، میں عشق کا پاگلپن
شیریں کو سنوارو تم، فرہاد بنائیں ہم
اس طرح محبت کی، تعریف رقم ہوگی
اک شعر سناؤ تم ،اک شعر سنائیں ہم
اک روز حقیقت میں، یہ ظلم فنا ہوگا
اس خواب کی اچھی سی، تعبیر نکالیں ہم
اک تیرا تصرف ہے، اک میری ہنرمندی
اک شہر اجاڑو تم، اک شہر بسائیں ہم
اک شخص محبت ہے، اک شخص عداوت بھی
ان دونوں کو آپس میں، کس طرح ملائیں ہم
ساگر کو تلاطم سے ، کچھ فرق نہیں پڑتا
اک جست لگاؤ تم، اک جست لگائیں ہم

Monday, 18 November 2013



                  شرح النصوص الدینیۃ فیما بین العلماء و المفکرین


Text Box:  هناك مبادرات وتطورات تحمل فى طياتها أسباب السرور والسعادة فيما يبدو غير أنها تسبب مشاكل وفواجع لا تكون فى الحسبان وذلك لأن هذه المبادرات تتجاوز حدودها والتطورات تخرج من دائرتها شوتصل إلى مالا يجدر بها الوصول إليه. وحينئذ يندم الإنسان على ما شعر بتواجده السرور والتذ السعادة بمجرد إحساسه. ويتمثل هذا في المفكرين المسلمين الذين عنوا بالتعليم والثقافة وأحرزوا الفوز الباهر في ميادينهم الخاصة ثم إنهم تبادروا إلى العناية بالدين فهما وعملا. حملت هذه المبادرة إلى المسلمين أشعة جديدة وغمرهم الفرح ولكنها مالبثت ان انقلبت إلى الأسف و الحيرة. لأنهم جعلوا يتجاوزون الحدود فبدلا من أن يعتمدوا على العلماء فى شرح النصوص الدينية من القرآن والسنة, أنهم مالوا إلى الأخذ بناصية الأمر, فجعلوا يشرحونها حسب فهمهم وكثيرا ما يخطئ الفهم إذا لم يكن مقيداً بفهم السلف الصالح وعارفا بأصول الشرح ومبادئه.
ومما لاشك فيه أن هولاء المفكرين يملكون بعض المهارة فى العلوم الحديثة من التكنالوجيا و الهندسة والطب وما إليها و أنهم يعشون حياة رغيدة هنيئة, يسبقون العلماء الإسلاميين فى بعض الأمور ولاسيما الشئون الدنيوية ولهم رسوخ فى السياسة واعتبار فى المجتمع. فكلما تميل هذه الطبقة المثقفة إلى الدين عملا به و فهما يسر به المجتمع المسلم ويمرح به مرحا. يجلها ويكرمها و يكثرمن ذكرها و يرجومنها خيرا كثيرا على مستويات الدين والدنيا و هذا بديهى ولاشك فى أنه أمر يجلب الفرح والسرور.

ولكن المشكلة التى تقلق بال المخلصين وتكدر صفو حياتهم هى تجاوزهم حدودهم وظنهم فى أنفسهم ظنونا تدفعهم إلى أن يشرحوا الدين بما يبدو لهم وأنما يشرحونه لابد من أن يعتبربه. ابتلئ بهذه الطبقة المثقفة العالم الإسلامى كله غير أن شبه القارة الهندية ابتليت بها أكثر. ولأجل ذلك تكثرهنا الانحرافات التعبيرية والمشوشات الفكرية وحماقات ظاهرها الشعور وباطنها السفاهة.
فهل لهذه الظاهرة أسباب أم أنها بدون أسباب؟؟؟ إذن تقتضى المشكلة أن نأخذها بعدة جوانب تفتح حقيقتها ويمكن الوصول إلى الحل.
العلماء وشرح الدين: العلماء ورثة الأنبياء يعرفون الكتاب والسنة. بالإضافة إلى إلمامهم بجهود المحدثين والفقهاء وفهمهم مبادئ الدين وأسراره, فهم يستحقون شرح الدين وتوضيح النصوص ومازالت الأمة المسلمة تعتمد على العلماء بهذا الخصوص ولكنهم لما يخالفون النصوص القرآنية و السنن النبوية الواضحة للحفاظ على هويتهم الفقهية وانتماءاتهم السياسية فى شرح الدين وأحكامه وكثيرا ما يحدث هذا. فإن هذه الطبقة المثقفة تفقد الاعتماد على العلماء وصورتهم الصافية تشوه لديها شيئا فشيئا وحينئذ يجترؤن على أن يشرحوا الدين بأنفسهم بدون أن يسئلوا العلماء ويرجعوا إليهم.
كذلك يخطئ العلماء حينما لا يلتفتون إلى الآراء الصائبة والرؤية العلمية المفيدة والإشارات ذات الجذور العميقة يتقدم بها هولاء المثقفون إليهم, فهم يظنون فى العلماء ظنونا سيئة من اللاعقلانية إلى الرجعية وما إليها ويفهمون خطأ بأنهم أجدر من العلماء بشرح الدين و توضيح النصوص. ثم إنه كل من يتفرغ فى المدرسة العلمية يظن أنه عالم يقدر على شرح الدين وتوضيح الأحكام مهما كانت مقدرته العلمية و فهمه للنصوص !!!
فلا بد للعلماء من محاسبة أنفسهم وتحسين سلوكياتهم وفتح أذهانهم وقبول الآراء الصائبة, كذلك إن الطبقة المثقفة فى حاجة ماسة إلى الاعتراف بقصورها وتجاوز حدووها ويجب عليها أن تفهم بأن شرح الدين وتفسير النصوص ليس أمرا سهلا, أنه يتطلب عمقا وصلاحيات ودراسات متأنية لمبادئ الدين وأصوله وما يتفرع منه, وذلك لا يوجد إلا لدى العلماء الأكفاء. فإنهم إن رؤوا بعض الزلات عند العلماء فعليهم أن ينبهوهم على أخطاءهم كشأننا مع المهند سين يخطئون بعض الأحيان فى العمارة. فهل يعقل أن نسلب من المهندس منصبه ونقوم بالهندسة بأنفسنامع أننا لسنا من مهرة الهندسة؟؟؟
المفكرون و شرح الدين: هناك رجال فى هذه الطبقة عرفوا مبادئ الدين وأصوله وطرق استخراج المسائل بالإضافة إلى شعورهم بالقضايا المتجددة الحديثة وهم رحمة للمجتمع المسلم ومتاع كريم لايستهان به, ولكن معظمهم كسبوا المهارة فى ميادينهم الخاصة, لايعرفون الدين فى مبادئه وطرق استخراج مسائله وأصول التشريع وهم عرفوا ما عرفوا من الدين عن طريق الترجمة لا بالمصادر الأولوية من القرآن والسنة. ولهذه الطبقة فرقتان. فرقة حسنت نيتها وهى مخلصة فى خدمة الدين والمجتمع, تريد أن تعطى المجتمع المسلم خيرا وتجنبه شرا. فإنه من الضرورى أن يمد إليها يد العون والمساعدة وأن تشجع جهودها بالإضافة إلى تصحيح خطأها وإرشادها إلى الطريق السوي المستقيم بالحكمة والموعظة الحسنة واستخدامها ضد العقول المنحرفة المضلة التى لاتسمع إلا لأصحاب العلوم الحديثة المثقفين. وعلى هذه الفرقة المثقفة أن تبذل قصارى مجهوداتها لتعرف أصل الدين وتقوم بنشره وذلك بواسطة العلماء المخلصين والاستفادة من مناهجهم الوسطى بالإضافة إلى الدراسة العميقة للقرآن والسنة وإلا فإن زلة فى هذا الطريق تدفع بالإنسان إلى مالا يحمد عقباه.
وهناك فرقة أخرى لهذه الطبقة المثقفة وهى ماكرة مستأجرة. باعت دينها وإيمانها وتتبحر بعقلها وعلمها.
كل مالديها من المعرفة والشعور إنما هو جهل وكبرياء وغرور. أنها تريد أن تتلاعب بالنصوص الشرعية فتقوم باختبار الأحكام الدينية حسب عقولهم الرهينة وتجترأ على شرح النصوص وتوضيح الأحكام بطرق غريبة لا تلاءم مع مواقف السلف من الصحابة والتابعين. إنها فرقة ماكرة واهية. تنقب المجتمع المسلم مستمدة برخاءها فى الحياة وتطوراتها فى التسهيلات الدنيوية. فلا بد من اتخاذ الحذر ضدها ولكن العاطفية أو الشدة لاتغنى من الأمر شيئا. إننا نحتاج إلى أن نشعر بواجبنا تجاه هذه الفرقة وأعمالها التخريبية وذلك يتطلب منا التركيز على عدة أمور. أولها أن نحسن نظامنا التربوى لكى لا تفسد على جيلنا هذه المحاولات الضالة وثانيها أن نستخدم الطلبة المثقفة المخلصة للرد على هذه المجهودات بالإضافة إلى تأهيل العلماء بالمواهب العلمية حتى يستطيعوا بها الرد على هذه الأفاعيل الماكرة متخذين وسايل ممكنة متوافرة فلو أننا قمنا بواجبنا, فإن الله سيقوم بوفاء وعده. إن تنصرواالله ينصركم ويثبت أقدامكم.


Saturday, 16 November 2013


سیر دلی کی سرکاری بس سے
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی
9560878759
بے نام خاں کا ماننا یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی سہولت ملے تو اس کا فائدہ بھر پور انداز میں اٹھانا چاہیے ۔ اور اگر نہ ملے تو اسے حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دینا چاہیے ۔ وہ اکثر اقبال کا یہ شعر گنگناتے رہتے ہیں کہ 
دمادم رواں ہے یم زندگی
ہر اک شی سے پیدا رم زندگی
وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ بیٹا اگر اقبال کی شاعری سمجھناہے تو بس ایک شعر سمجھ لے ان کا پورا فلسفہ اور ان کی پوری شاعری سمجھ میں آجائیگی ۔ اور جانتے ہو وہ شعر کیا ہے ۔ یہی کہ
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی
اس لیے وہ ہمیشہ پرواز بھرنے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چلتے رہنا چاہیے ۔ حرکت میں برکت ہے ۔ اقبال کا شاہین اسی لیے لپٹتا اور پلٹتا رہتا ہے ۔ یہ ذوق پرواز زندہ رہنا چاہیے ۔ آگے بڑھنے کی ہوس اور پیچھے نہ ہو پانے کی کوشش ہی انسان کی اصل روح ہے اور اسی میں اس کے کما ل کا راز پوشیدہ ہے ۔ ہمارے دوست کی باتیں گہری لگتی ہیں لیکن جب اس کا عملی مظاہرہ سامنے آتا ہے تو اقبال کی شاعری شرمندہ ہوجاتی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے خوبصورت دلہن کی تعریف کرتے ہوئے کوئی کہے کہ اس کی آنکھ  خراب نہيں ہے !  در اصل ہمارے دوست اقبال کی پوری شاعری کا یہ سارا فلسفہ بگھارنے کے بعد گویا ہوئے کہ چلو ڈی ٹی سی بسوں پر دہلی کی سیر کرتے ہيں ۔ بھائی اگر جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں داخلہ ملنے سے پاس کی سہولت میسر ہے تو کیوں نہ دہلی دیکھ لی جائے ۔ ہم نے پوچھا لیکن اس کے پیچھے کوئی مقصد؟ کوئی پلان ؟ بگڑ کربولے تبھی تو بیٹے مولانا لوگوں نے کوئی کارنامہ انجام نہيں دیا ۔ پہلے نکلو ، دنیا دیکھو ، لوگوں سے ملو ، کائنات کا مطالعہ کرو ، اپنے خول سے نکلو اور پھر تمہیں سمجھ میں آجائے کہ یہ دنیا کیا ہے ؟ اور مقصد خود کس طرح تمہارے پاس آجاتا ہے ۔ اقبال کہتے ہیں
خودی کو کربلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اور ہمیں اپنے دوست کی شعرفہمی اور اقبال شناسی کا قائل ہوجانا پڑا ! خیر ان کے کہنے پر نہیں بلکہ اتنے زیادہ اعلا افکار و خیالات سننے کے بعد ہم نے یہ فیصلہ لیا کہ بھائي نکلنا ہی پڑے گا ورنہ بے نام خاں ہمیں کچھ بھی ثابت کرسکتے ہیں! جاہل ، بے وقوف ،نادان، کم فہم اور ناعاقبت اندیش !!!
          جہاں سے پاس بنوایا تھا وہیں سے دس قدم دور بس اسٹاپ پر آکر آدھا گھنٹے کے انتظار کے بعد 615 نمبر کی بس آئی ۔ اب جو دیکھتا ہوں تو آگے پیچھے انسان ہی انسان ہیں ۔ وہی یونیورسٹی کہ جب پہلی مرتبہ اندر آئیے تو ایساسناٹا نظر آئے کہ جیسے یہاں کوئی رہتا ہی نہ ہو اور اسی دانش کدہ جواہر لال نہرو میں بس ایسے کھچاکھچ بھری ہوئی ہے کہ جیسے انسانوں کا سارا قافلہ یہیں آکر ڈیرے ڈالے ہوا ہو ۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ چڑھوں نہ چڑھوں کہ بے نام خاں کمال ہوشیاری اور دانشمندی سے سب سے پہلے سوار ہوگئے اور اندر جاکر خوب زور سے آواز دی کہ میں  بھی چڑھ جاؤں ۔ بے نام خاں کے آواز دینے کے انداز سے لوگ ڈر گئے اور اندر والے بھی باہر آگئے ۔ فائدہ بس یہ ہوا کہ ہم آسانی سے داخل ہی نہيں ہوئے بلکہ ہمیں سیٹ بھی مل گئی ۔ بعد میں جب ہم نے ان سے ادب و احترام کے ساتھ کہا کہ بھائی یہ تم نے کیا کیا تھا تو بولے بیٹا میری وجہ سے جگہ بھی ملی اور مجھے ہی سمجھا رہے ہو ۔ اب میں کیا بولتا !
            بھائی پھر ہم نے کہا کہ یہ بتلايے جانا کہاں ہے ؟ بولے ارے بھائی کونسا پیسہ خرچ ہورہا ہے ۔  جہاں پر کوئی دوسری سرکاری بس نظر آئیگی اسے چھوڑ کر اسے پکڑ لیںگے جہاں جائے گی چلینگے ۔ مختلف بسوں پر بیٹھین گے مختلف جگہوں کو دیکھینگے اور اس طرح پورا فائدہ اٹھائینگے پاس کا ۔ میں نے ایک بار پھر کہاکہ یار کچھ تو مقصد ہونا ہی چاہیے تو بولے اگر ایسی بات ہے تو یہ کرو کہ تم چلے جاؤ واپس اور میں گھومتاہوں بس میں ۔
         کیا کرتے بھائی ہم بھی بے نام خاں کے ساتھ لگے رہے ۔ زندگی کے سارے تجربات ایک ہی دن میں حاصل کرلینے کے ارادے سے نکلے تھے خان صاحب ۔ بسوں کی صورت حال کو دیکھ کر ساغر خیامی کی نظم بار بار یاد آرہی تھی ۔ ایسے بھی ہمیں بسوں میں' وہ' آتی ہے ۔ نہ معلوم کیوں اس دن تھوڑا زیادہ ہی آرہی تھی۔ ہماری بغل میں ایک محترمہ بیٹھیں تھیں ۔ ہم نے ان سے درخواست کیا کہ ہمیں کھڑکی کی  طرف جانے دیں اس لیے کہ ہمیں وہ آتی ہے اور محترمہ ناراض ہوکر بولنے لگیں ، صرف تمہیں ہی نہیں ہمیں بھی آتی ہے ۔ اور جب تھوڑی دیر بعد ان کے لباس فاخرہ پر ہمارے' وہ ' کی نظر کرم پڑی تو کیا منظر تھا بیان سے باہر ۔ ارے پہلے بھی تو بتا سکتے تھے ۔ کتنے غیر مہذب ہوتے ہیں یہ ۔ بسوں میں سفر بھی کرنے نہیں آتا ۔ اگر یہ سلیقہ نہیں تو بسوں میں چڑھتے ہی کیوں ہیں ۔ میں نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا کہ میڈم لیکن 'وہ' تو آپ نے کہا تھا کہ آپ کو بھی آتی ہے ۔ مجھے کیا خبر تھی کہ تمہاری 'وہ ' اتنی تباہ کن ہوگی ۔ میں نے تو سوچا تھا کہ تمہیں بھی میری طرح نیند آتی ہوگی ۔ اس درمیان بے نام خاں ہم سے اس طرح لاتعلق رہے جیسے ہمارا ان کا کوئی رابطہ ہی نہ ہو ۔ ہم نے شکایت کی تو بولے کون سا تم کمزور پڑرہے تھے کہ میں بیچ میں آتا اور یوں بھی جو کام اکیلے کر سکتے ہو ، اس میں مدد کی ذہنیت نہیں رکھنی چاہیے ۔ لیکن اصل مزہ تو تب آیا جب بے نام خاں ایک خاتونی سیٹ پر بیٹھ گئے اور ایک محترمہ نے انہیں اٹھ جانے کا اشارہ کیا اور بے نام خاں یہ کہ کر اڑ گئے کہ میں پہلے آیا تھا اس لیے سیٹ پر بیٹھنے کا حق ہمارا ہے ۔ اس درمیان ہم نے دیکھ لیا تھا کہ اوپر طرف جلی حروف میں ' مہیلائیں ' لکھا ہوا ہے ۔ ہم نے اشارے سے بے نام خاں سے گزارش کی کہ بھائی اٹھ جاؤ ۔ بے نام خاں کو لگا کہ میں اس سے اپنی مدد نہ کرنے کا بدلہ لے رہاہوں اور وہ مجھے بھی غصیلی نگاہوں سے دیکھنے لگے ۔ اب جو ان محترمہ نے ہمارے دوست کو جاہل ، بے وقوف ، بہاری ، گدھے اور ایک پر ایک اعلا القاب کی سوغات دینی شروع کی تو بقیہ دوسرے تمام سواری ہی نہیں ڈرائیور تک ان محترمہ کے ساتھ ہوگئے ۔ ڈرائیور نے یہاں تک کہ دیا کہ یہ لفنگے بے مطلب گھوم رہے ہيں ۔ پاس لیے ہوئے ہیں اور لوگوں کو پریشان کررہے ہیں ۔ پتہ چلا اس بس میں ہم لوگ دوسری مرتبہ سوار ہوئے ہیں اور ڈرائیور ہمیں پہچان گیاہے ۔ اب بے نام خاں کیا کرتے ۔ سیٹ تو انہیں چھوڑنی ہی تھی ۔ اگلے اسٹاپ پر بس سے اتر گئے اور دوسری بس آئی تو بغیر نمبر دیکھے سوار ہوگئے ۔ اور کیا بتایاجائے کہ وہ بس ہمیں کہاں لے گئی ؟؟؟
           رات کا گیارہ بج گيا اور ہم ادھر ادھر مارے مارے پھرتے رہے ۔ اب جہاں تھے وہاں سے کوئي بس نہيں تھی ۔ چارو ناچار آٹو رکشا لینا پڑا اور اس سے پہلے کہ  ہم  بے نام خاں کو لعن طعن کرتے بے نام خاں الٹے ہمارے اوپر شروع ہوگئے اور کیا کچھ سخت سست نہيں کہا ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ آخر بے نام خاں کے بتائے ہوئے سارے راستے غلط کیوں نکلتے تھے ۔ در اصل جب بے نام خاں کو پتہ نہیں ہوتا تھا تو وہ اور بھی زیادہ اعتماد سے بولتےتھے اور اس طرح ہم بھٹک جاتے تھے ۔ اس دن ہمیں پتہ چلا کہ صرف اعتماد ضروری نہیں ہے بلکہ اعتماد تب فائدہ مند ہوگا جب اس کے ساتھ دولت علم بھی ہو ۔
        ہم آج بھی جب جب پاس بنواتے ہیں تو وہ واقعہ یاد آجاتا ہے اور بے نام خاں ہم سے ناراض ہو جاتے ہیں ۔ دلی دیکھنا حالانکہ اپنے  آپ میں ایک خوشگوار تجربہ ہوتا ہے لیکن سرکاری بس میں یہ تھوڑا زیادہ ہی خوشگوار ہوجاتا ہے ۔ اور خاص طور سے جب آپ کے ہمراہ بے نام خاں ہوں ۔ ایک مرتبہ تو بھیڑ ایسی تھی کہ ہم نے ایک بزرگ کا ہاتھ یہ سمجھ کر پکڑ لیا کہ یہ بے نام خاں کا ہاتھ ہے اور اس پر جناب کیا بتلائیں کہ کیا ہنگامہ ہوا ۔ اس کے بعد تو ہم نے بس میں کسی کا بھی ہاتھ پکڑنے سے توبہ ہی کر لیا ۔ ایسے اگر دلی دیکھنا ہو تو اس سے اچھی اور کوئی شکل ہماری نظر میں ہے بھی نہيں ۔بے نام خاں کا ماننا ہے کہ سرکاری بس میں آدمی کی اہمیت گھٹتی ہو تو گھٹتی ہو لیکن پیسے کا بچاؤ ضرور ہوتا ہے ۔
            ہمارے دوست اسے اسلامی نقطہ نظر سے بھی ثابت کرتے ہيں اور کہتے ہیں کہ قل سیروا فی الارض تو کہا ہی گیا ہے ۔ لاتسرفوا اور ان المبذرین کا نوا اخوان الشیاطین بھی کہا گیا ہے ۔ اتنا ہی نہيں بلکہ اسلامی اعتبار سے دنیا کا مطالعہ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے ۔ ایسے بھی سفر وسیلہ ظفر ہے ۔ اور اگر انسان تھوڑی مشکلوں کا سامنا نہ کرے تو اس کی عادت بگڑ جائیگی اور وہ آرام پسند ہوجائیگا ۔  اصغر گونڈوی کا شعر ہے ۔
                    چلاجاتاہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
                    اگر آسانیاں ہوں ، زندگی دشوار ہو جائے
وہ مجھے میرا ہی شعر یاد دلاتے ہیں کہ
                   کٹھن حالات میں دنیا سمجھ میں اور آئی
                 مزہ سفینے کا اصلا بھنور میں رہتا  ہے
ہمارے دوست ہم سے اکثر کہا کرتے ہیں کہ تم یہ مت دیکھو کہ دنیا کیا کہے گی بلکہ یہ دیکھو کہ تم جو کچھ کر رہے ہو وہ تمہارے رب کے مطابق اور تمارے اپنے اصولوں کے اعتبار سے درست ہے یا نہيں ۔ بس میں اس لیے سفر نہ کرنا کہ اس سے آپ کو لوگ کمتر خیال کرینگے ، انتہائی درجے میں کمتر ہونے کی دلیل ہے ۔ اگر اللہ نے صلاحیت دی ہے تو موٹر کار پہ گھومیے نہیں تو بس میں سفر کرنا کوئي خراب بات نہیں ۔ میرا بس چلے تو سارے لوگوں کے لیے بس کی سواری کو لازم کردوں کہ ٹریفک کا سارا معاملہ درست ہوجائے ۔ لیکن کیاکروں ۔ اپنے بس میں ہے ہی کیا۔ بے نام خاں کی حسرت دیکھنے کے لائق ہوتی ہے ۔