Monday, 4 February 2013


'ظفر علی خاں –حیات، شاعری اور صحافت' پر ایک نظر
ثناءاللہ صادق تیمی 
جواہر لال نہرو یونیورسٹی 
انیسوی اور بیسویں صدی کے ہندوستان سے واقف لوگوں کے لیے ظفر علی خاں کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہوگی ۔ مولانا ظفر علی خاں علم و ادب کے اس شجر پر بہار کا نام ہے جس کے سایے کی افادیت مسلم رہی ہے ۔وہ چوطرفہ اور ہر فن مولی قسم کی شخصیت کے مالک تھے ۔ شاعری ، خطابت، صحافت ، ترجمہ نگاری سےلے کر تصنیف تالیف ہر جگہ آپ کے جو ہر کھلتے تھے ۔ اسلاف کے اس گروہ سے آپ کا تعلق تھا جو راست گوئی ، حق بیانی ، صدق و صفا، حرکت ، ایمانداری اور دینی غیرت کے معاملے میں قابل تقلید اثاثہ چھوڑ گئے ۔ہندوسان کی آزادی کی راہ میں اپنی ساری توانائی صرف کردی ۔ اور جہاں رہے اسلام اور مسلم قوم کے بہادر سپاہی بن کر رہے ۔
مولانا رفیع اللہ مسعود تیمی نے 'ظفر علی خاں حیات ،شاعری اور صحافت ' جیسی اہم کتاب لکھ کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ خاص طور سے آج کی نوجوا ن نسل جس قسم کی فکری بے راہ روی اور ذہنی آوارگی کی شکار ہے ایسے میں اس قسم کے علماء ، مصلحین اور دانشوران قوم کو بہتر عصری اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش قابل ستائش ہے اور اس تناظر میں اس کتاب کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ 'ظفر علی خاں – حیات،شاعری اور صحافت ' تین ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب میں مصنف نے ظفر علی خاں کے پیدائش کے وقت میں بر صغیر ہند وپاک کی سماجی ،سیاسی اور ادبی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی حالات زندگی کو بیان کیا ہے ۔ اس درمیان مسلمانوں کے بیچ اٹھنے والی شاہ ولی اللہ دہلوی کی اصلاحی تحریک، سید احمد اور سید اسماعیل دہلوی کی تحریک جہاد ،علی گڑھ تحریک اور دیوبند تحریک کے ہمراہ ہی مصنف نے راجہ رام موہن رائے کی برہمو تحریک اور دیا نند سرسوتی کی آریہ سماج تحریک کا بھی ذکر کیاہے ۔اختصار کے ساتھ تجزیاتی رویہ اپنایا گیاہے ۔ لیکن انصاف کے تقاضے ملحوظ رکھے گئے ہیں ۔تحریک دیو بند کے ذکر میں جہاں یہ لکھ کر تحریک دیوبند کو آئینہ دکھلایا گیا ہے کہ
'تحریک دیوبند رفتہ رفتہ تقلیدی جمود اور موہوم ہندی ویدانتی تصوف کے خول میں سمٹ کر رہ گئی حالانکہ اس کا خمیر بھی وہی تھا جو شاہ ولی اللہ اور ان کے خانوادے نے تیار کیا تھا ' وہیں یہ خراج تحسین بھی پیش کی گئی ہے ۔
'تحریک دیوبند کا مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح ، غلط رسوم ورواج کے استیصال ،دین کی ترویج واشاعت ،فرق ضالہ سے مناظرہ، ملک کے علمی و روحانی سرمایے کے تحفظ میں زبردست کردار رہاہے ۔ اس تحریک نے درس وتدریس کے لامتناہی سلسلے کے آغاز میں جو پیہم کوشش کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فارسی و عربی زبان وادب کے ساتھ اردو کو بھی فروغ حاصل ہوا۔'
لیکن یہی رویہ علی گڑھ تحریک پر قلم اٹھاتے ہوئے نہیں روا رکھا گیا ہے ۔ مصنف نے سرسید کی دینی کوششوں کو جس انداز میں بیان کیا ہے اس سے ایک قسم کی غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے ۔ 'سر سید ایک مذہبی آدمی تھے اور انہوں نے عقل سلیم کے ذریعہ اسلام کی مدافعت کی اور یہ ثابت کردیا کہ اسلام زمانے کے نئے تقاضو ں کو نہ صرف قبول کرتاہے بلکہ نئے حقائق کی توضیح کی بھی صلاحیت رکھتاہے ۔ علی گڑھ تحریک نے یہ بھی واضح کیا کہ انگریزی تعلیم اسلام کے بنیادی نظریات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔چنانچہ فقہ و فلسفہ کے ساتھ ساتھ اس تحریک نے اسلام کی تفہیم میں عقلی نقطہ نظر بھی استعمال کیا اور اس کی حقانیت کو ایک نیا ثبوت فراہم کیا۔'
سر سید اپنی جملہ خوبیوں کے باوصف دین کی تفہیم کے معاملے میں بڑی چوک کے شکار ہوئے ہیں ۔ عقل کے بے لاگ استعما ل سے اسلام کے بنیادی عقائد تک پر حرف آگئے ہیں ۔ان کی تعریف اور ان کے کارناموں کے ذکر کے ساتھ ہی اس طرف اشارہ بھی بہت ضروری ہے ۔
باب اول میں مصنف نے ان حالات اور ان کے پڑنے والے اثرات کی روشنی میں مولانا ظفر علی خاں کی شخصیت کو سمجھنے اور سمجھانے کی اچھی کوشش کی ہے ۔ان کی زندگی ، عملی اور علمی کارناموں پر محبت اور اپنائیت کے ساتھ روشنی ڈالنے کی کامیا ب کوشش کی ہے ۔ خاص طور سے ان کے اخلاق حمیدہ کا ذکر دلکش بھی ہے اور مسحور کن بھی ۔ان کی افتاد طبع اور نفسیات سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے اور اس طرح ان کی شخصیت کا اچھا مطالعہ سامنے آیا گیا ہے ۔ اس کا کچھ اندازہ ان ذیلی عنوانات سے لگایا جاسکتاہےجو اس طرح ہیں ۔ظفرعلی خاں کا خاندانی پس منظر ، ولادت، نشوونما، تعلیم وتربیت، عقیدہ و فکر، اخلاق و عادات ، ظفر علی خاں میدان عمل میں ، ظفر علی خاں بحیثیت مسلما ن،ظفرعلی خاں بحیثیت انسان ، ظفرعلی خاں بحیثیت سیاسی رہنما ، ظفر علی خاں اور جد وجہد آزادی ، ظفرعلی خاں اور ملکی اور بین الاقوامی مسائل ، تصنیفات وتراجم ، وفات ، اولاد ، ظفر علی خاں معاصرین کی نظر میں اور ظفر علی خاں مشاہیر کی نظر میں ۔اس باب کی ایک قابل ذکر خصوصیت یہ ہے کہ ظفر علی خاں کے ساتھ ساتھ اس عہد کے بہت سے سیاسی ، دینی اورعلمی مباحث کا بھی ذکر آگیا ہے جو بلاشبہ فائدے سے خالی نہیں ہے ۔
دوسرے باب میں ظفر علی خاں کی شاعری سے بحث کی گئی ہے ۔ان کی حمدیہ شاعری ، نعتیہ شاعری ، جدید نظم ، قصائد ، مراثی ، طنزو مزاح ، غزلیں اور مناجات کی روشنی میں ان کے فکرو فن کا جائزہ لیا گیا ہے ۔مثالوں اور ناقدین فن کے آراء نقل کرکے ان کی شاعری کی خصوصیا ت اجاگر کی گئی ہیں ۔اس معاملے میں مصنف پوری طرح کامیا ب نظر آتے ہیں کہ قاری اس کتا ب کو پڑھنے کے بعد کم از کم ظفر کی شاعری کے مختلف اور متنوع رنگ و آہنگ سے واقف ہو ہی جائے۔ ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری کے بارے میں مصنف شورش کاشمیری کے اس بیان کی تائید کرتے ہیں کہ ان کے یہاں غلو کا نام تک نہیں ۔لیکن جہاں اس قسم کی خرابیاں در آئی ہیں ، ان کی طرف اشارہ نہیں کرتے جیسے مولانا کا یہ حمدیہ شعر
نہ ہوتی گر خودی ہم میں تو جو تھا وہی ہم تھے
یہ پردہ کس لیے ڈالا ہے یارب درمیاں تونے
یا اسی طرح نعت کا ایک شعر
سب سے اونچا پایہ ہے اس کا اور تیرے اوپر سایہ ہے اس کا
ملت بیضا‌ء پھر تجھے کیا غم صلی اللہ علیہ وسلم
مصنف نے غالبا اس جانب اس لیے اشارہ کرنا ضروری نہیں سمجھا کہ ایسی لغزشوں کو بہت کم راہ مل پائی ہے ۔ ان کی شاعری ، اس کی خصوصیات اور اردوشاعری میں ان کے مقام و مرتبے کے تعین کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔ان کے جوش وجذبہ، فی البدیہ شعر کہنے کی لاجواب صلاحیت ، رونما ہونے والے حالات وواقعات پر ایک پر ایک دلکش نظموں کی سوغات اور ان کی شاعرانہ طبیعت کی روانی کا تذکرہ خوب ہے ۔تجزیے کی خاطر جن نظموں ، نعتوں ، حمدیہ کلام ، مراثی اور غزلوں کا انتخاب عمل میں آیا ہے وہ مصنف کے حسن انتخاب اور بہتر ذوق کا آئینہ دار ہے ۔یہ اشعار یاد رکھے جانے کے قابل ہیں ۔
قدسیوں میں ہو رہی تھیں آج یہ سرگوشیاں
عنقریب اسلام کی فصل بہار آنے کو ہے
سلیقہ مے کشی ہو کاہو تو کرلیتی ہے محفل میں
نگاہ مست ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی
ہوائیں نشیلی ، فضائیں رنگیلی
بہار اپنی تصویر کھنچوارہی ہے
انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت لکھے گئے یہ اشعار آج بھی داد کے طالب ہیں ۔
صدر اعظم کی سخاوت میں نہیں ہم کو کلام
لیکن ان سے پوچھتے ہیں ہم کہ ہم کو کیا دیا
کاغذی گھوڑا دیا ہم کو سواری کے لیے
5
اک کھلونا بھیج کر بچو ں کا دل بہلادیا
میوہ خوری کے لیےچننے لگے جب گول میز
رکھ لیا خود مغز چھلکوں پر ہمیں ٹرخادیا

تیسرے باب میں ان کی صحافت پرروشنی ڈالی گئی ہے ۔مصنف نے اس سلسلے میں ایک اچھا کام یہ کیا ہے کہ اردو صحافت کی تاریخ پر ایک سرسری لیکن کارآمد نظر ڈالی ہے ۔افسانہ، دکن ریویو ، پنجاب ریویو ، ستارہ صبح، ہفتہ وار زمیندار اور روزنامہ زمیندار پر قدرے مفصل گفتگو کرتےہوئے ظفرعلی خاں کی صحافتی خدمات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئ ہے ۔ان کے اسلوب نگارش کے امتیازات تلاشے گئے ہیں اور ان کی اداریہ نویسی کی خصوصیات پر بھی نطرڈالی گئی ہے اور اردو صحافت میں ان کے مقام و مرتبے کے تعین کی طرف بھی پیش قدمی کی گئی ہے ۔ جو ایک قابل تحسین عمل ہے ۔تیسرا باب اس لیے بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ بالعموم ظفرعلی خاں کو صرف زمیندار کی ادارت کے لیے ہی جانا جاتا ہے جب کہ ان کی خدمات صرف زمیندار تک محدود نہیں رہی ہے ۔ مولانا کی یہ کتا ب ظفر علی خاں کی ادارتی صلاحیتوں کو دوسرے رسائل کی روشنی میں بہتر طریقے سے پیش کرتی ہے ۔ ظفر علی خاں کے یہاں گھن گرج ، جوش ، خروش ،چھاجانےوالا اسلوب اور خطابت کے جو عناصر پائے جاتے ہیں ان تمام کا ذکر آیا ہے اور آب وتاب کے ساتھ آیاہے ۔ ہمارا ماننا ہے کہ تیسرا باب ظفر علی خاں کی صحافتی خدمات پیش کرنے میں پوری طرح کامیاب ہے ۔
مولانا رفیع اللہ مسعود تیمی علمی حلقوں میں اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں ۔ آپ کے تیز رو قلم سے کئی کتابیں منظر عام پر آکر اصحاب ذوق کی علمی تسکین کا ذریعہ بن چکی ہیں ۔ ان کی یہ کتا ب ظفر علی خاں کی شخصیت ، ان کی شاعری اور صحافت کی تفہیم کے باب میں ایک اہم تصنیف ہے ۔ کتاب کا اسلوب علمی ہونے کے باوجود خشک نہیں ہے ۔ قاری کے اوپر اکتاہٹ کی کیفیت طاری نہیں ہوتی ۔ تحریر میں دلکشی ہے اور رچاؤ بھی ۔ مصنف نے قابل قدر مواد فراہم کردیا ہے ۔کتا ب کی ایک بڑی خوبی اس کا حوالہ جات سے مزین ہو نا ہے جو اسے وقار واعتبار عطا کرتا ہے ۔ پروف ریڈنگ کی غلطیاں بھی کم ہیں ۔کتاب کی طباعت عمدہ ہے۔پیش گفتار میں پروفیسر ابن کنول نے درست لکھاہے کہ مصنف کا ذہن و مزاج محققانہ ہے ۔ کتاب میں اس کے نمونے بکھرے ہوئے ہیں ۔مقدمہ کے اندر مصنف نے کتاب اور ظفر علی خاں سے متعلق اجمالا گفتگو کی ہے ۔ یہ کتاب ظفر علی خاں کے محاسن وخدمات کا بہتریں مرقع ہے البتہ اگر ان کی فنی یا دینی کمیوں کی طرف بھی اشارے ہو جاتے تو سونے پر سہاگا ہو جاتا ۔ کتا ب اس قابل ہے کہ اسے خرید کر پڑھا جائے ۔ میں مصنف کو اس علمی کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔

Sunday, 3 February 2013


The World Accepts Islam
Sanaullah Sadique Taimi
Center Of Arabic And African Studies
Jawahar Lal Nehru University

            It's very possible to be fully surprised by reading the headline of this article. Where the whole world is against the Muslim community. They try their best to defame Islam and insult prophet Mohammad (peace be upon Him). They take every initiative  to alienate Muslim community from the main stream. Where there is no any value of what belongs to Muslims. The entire community lives in a sense of fear. They are usually taken for granted. In this critical situation if someone claims that the world is accepting Islam, then really it seems to be a miracle. Particularly when it does not mean to mention the increasing number of those who accept Islam and become Muslims. Undoubtedly the world reaches to Islam as well as Islam reaches the world. The number of intellectuals and academics entering Islam is highly inspiring. West fears the domains of Muslims on Europe if this continues. Ironically Hindu fundamentalist organizations like RSS and another extremist outfits are frightened to be surrounded by the population of India in which Muslims consist the majority. The most interesting point is that they feel that Muslims believe  in polygamy   and get marriages with four women and use them as the source of begetting uncountable children. There is no need to analyze the irrelevance of this false claim.
         To claim that the world accepts Islam here means that they willingly or unwillingly forced to bow down to the reality of Islam and the relevance of Islamic thoughts and teachings in resolving the problems facing them. This could be proved with many evidences. Let's try to explore it.
            Last month a Para-medical student was brutally gang-raped in New Delhi in a moving bus. The incident led to a multifaceted  discussion on the factors and solutions. Although there were many suggestions but the most forceful and prevailing was indicating towards intensifying the need of severe punishment , following Saudi Arabia model of conduct and the need of civilized dress of women in addition to morale education. Even some women rights activists and swamis demanded the   enforcement of Islamic Sharia in this particular respect. Delhi high court stressed in a report recently published in The Hindu that the link between alcohol and crime is very strong. It advised the government to take reformative steps to tackle the problem. Well known Bollywood actor Amir Khan's TV program SATYAMEV JAYATE  which successfully raised some social issues like child abuse, female feticide , parents' rights , dowry and so on. It also focused in a program on the dilemma of alcoholism. In an affective and appealing manner brought to the people the dangers of this inhumane habit. Jawed Akhtar  of film industry admitted that he committed all his mistakes when he was drunk. To  Islam     wine is the mother of evils. It is totally prohibited in Islam and those who defy it would be dealt with severe punishment to protect the society and human wisdom.
              Three years back the world witnessed a record breaking recession all over the globe. The economic system of America was fully unable to do  any good in this regard. World famous economists were clueless. Unemployment spread out from east to west and south to north. At that juncture when they wanted to find out the factors, interest and accumulation of wealth appeared as  the occupying main reasons behind the terrific failure. Islamic economic system is free from interest and monopoly. Interest is unlawful in Islam and a Muslim is bound to spend at least 2%5 of his wealth on poor section of the society. When this system was fully applied in the regime of  Umar bin Abdul Aziz, known as fifth caliph of Islam, there were abundance of wealth and prosperity. After math of recession people rushed towards Islamic banks, particularly European countries started experimenting Islamic banking system mainly to avoid the recession. That was  a reminder for the whole world to accept the reality and follow the rule of Allah. They actually realized the effectiveness of Islamic system but are afraid and little bit ashamed to announce it. China is known all over the world for its one child policy. In the recent past it was considered to be  a role model in controlling the birth ratio in another countries also. This policy made China a nation of old aged people. The system would be collapsed due to this unreasonable policy. The sign of change is apparent, hence it has been started. To the recent amendment, if a man has first child daughter , he will be allowed for second child  also. It was also forced to allow the people have  a limited ownership of their belongings. It’s a start ,the most has to come.
              In Europe people are rushing towards spirituality. They are tired of the culture of desires. Women are recovering their sense of chastity and dignity. They seek the  peace in Hijab. Although they didn't announce their Islam but their approach tends to announce it. A number of working women in India expressed their increasing tensions due to double responsibility of office and home. They advocated for the women to remain in homes , engaged in useful activities close to their nature like  home affairs and children care etc. The Hindu last year brought  these discussions on open page in its Sunday edition. In the light of these facts to claim that the world is accepting Islam is not a false claim. The people all over the world are compelled to accept the relevance of Islamic values and teachings. They are obedient to the rule of Allah in their natural demand , then why they are not willing to obey it by choice. This also calls on the Islamic scholars to focus on preaching more and more and tirelessly  try to uncover the veils of misconceptions  imposed on Islam advertently .The circumstance is fully in the favor of Islam if they are able to avail the opportunities. May Allah bless them.    
ش ةخرهىل d in New Delhi in  Indieart of India , the relevance of Islamic thuoughts

   
      

1
دنیا مسلمان ہور ہی ہے
ثناء اللہ صادق تیمی
جواہر لال نہرو  یونیورسٹی
           سرخی دیکھ کر تعجب کا پیدا ہو جانا بہت فطری ہے ۔جہاں ایک طرف پوری دنیا اسلام کو بدنام کرنے کی انتھک کوشش کر رہی ہو ،قدم قدم پر اسلام کی راہ میں روڑ ے اٹکا ئے جارہے ہوں ، اسلام کے نام لیواؤں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے سارے جتن کیے جارہے ہوں ،اسلام اور مسلمانوں سے جڑی ہوئی ہر ایک چیز بے وقعت یا خطرناک سمجھی جارہی ہو اور اللہ کے آخری دین کے نمائندے بظاہر ہر سطح پر پسپائی اختیار کر رہے ہوں ۔وہاں دوسری طرف کسی شخص کا یہ کہنا کہ دنیا مسلمان ہو رہی ہے  دیوانے کا بر  یا شیخ چلی کا خواب ہی نظر آتا ہے ۔لیکن یہ اتنا غیر متعلق بھی نہیں ہے ۔
            یہاں یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ دنیا کے مسلمان ہو نے کا مطلب یہاں پر یہ نہیں ہے کہ لوگ دین اسلام قبول کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ۔ہر چند کہ یہ ایک بہت بڑی سچائی بھی ہے اور بڑی تیزی سے خاص طور سے پڑھے لکھے لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور اللہ کا کلمہ بلند ہو رہا ہے ۔کفر و شرک کی غلاظتیں لوگوں پر ظاہر ہورہی ہیں ، خدا بیزار نظام حیات کا کھوکھلاپن سامنے آرہاہے  اور امن و سکو ن اور مسائل حیات کا واقعی حل ڈھونڈنے والے اللہ کے دین کوقبول کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔اور اہالیان کفر وشرک اور شیطنت کے خیمے میں ہلچل مچی ہوئی ہے کہ آنے والے وقت میں خود یورپ کے اندر اسلام کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہو جائیگی ۔ہندوستان کے تناظر میں دیکھیے تو آر۔ایس ۔ ایس اور اس جیسی ہندو انتہا پسندتنظیموں کو بھی یہ ڈر ستاتاہے کہ آنے والے وقت میں مسلمان ہندوستان کی اکثریت میں آجائیگا۔ہاں ہندوستان کی  یہ  انتہاپسند  تنظیمیں اس کا سبب مسلمانوں کی کثرت تولید اور انجاب کو بتلاتی ہیں  ۔جو بلا شبہ ایک لغو بات ہے ۔ یہاں پر یہ کہنے کا مطلب کہ دنیا مسلمان ہو رہی
2
ہے یہ ہے کہ دنیا چار و ناچار اسلام کی سچائیوں کو تسلیم کررہی ہے ۔وہ زبان سے بھلے قبول نہ کرے لیکن تسلیم کررہی ہے کہ اسلام ہی میں نجات ہے ۔اس دعوے کو کئی سطحوں پر دلائل و براہین سے ثابت کیا جاسکتاہے ۔
               پچھلے دنوں دہلی میں گینگ ریپ(اجتماعی عصمت دری ) کا ایک واقعہ پیش آیا ۔اس پر مختلف قسم کی آراء سامنے آئیں ۔ لیکن جو رائے سب سے مضبوط تھی وہ یہ تھی کہ خواتین پردے کا التزام کریں اور زانی کو سعودی عرب کی طرح پھانسی کی سزادی جائے بلکہ یہ بات بھی کہی گئی کہ نصاب تعلیم میں اخلاقیات کو باضابطہ طور پر داخل کیا جا ئے ۔تبھی جاکر اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے ۔یہاں یہ بتلانے کی ضرورت نہیں کہ اسلام کا اس سلسلے میں موقف کیا ہے ؟بلکہ بہت سے  مفکرین اور سماجی خدمت گاروں نے تو باضابطہ طور سے اس معاملے میں اسلامی شریعت کےنفاذ کا مطالبہ تک کیا۔خواتین کی بہبودی سے جڑی خواتین  کے ہمراہ بہت سے سوامی حضرات کا ماننا یہی ہے کہ اس معاملے میں اسلام ہی بہتر اپائے (حل) پیش کرتا ہے ۔
THE HINDU                         میں چھپی رپورٹ کے مطابق  دلی ہائی کورٹ کے ججوں کا ماننا ہے  کہ زنا بالجبر سمیت اور دوسری سماجی اور اخلاقی برائیوں کی بنیادی وجہ شراب نوشی ہے ۔اس لیے قانون کو اس سلسلے میں بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔اسلام کا مانناہے کہ شراب نوشی برائیوں کی ماں ہے ۔ہندوستانی سنیماکے مشہور ادا کار عامر خان کے ٹی وی پروگرام  SATYA MEV  JAYATE'سچ ہی کی جیت ہوگی ' کو بڑا  شہرہ ملا اورظاہر ہے کہ ایک فلم اسٹار کا کچھ  اس قسم  کےپروگرام کا پیش کرنا اپنے آپ میں ایک  قابل ذکر واقعہ ہے ہی۔اس کے اندر جہاں بہت سی سماجی برائیوں سے پردہ اٹھایا گیا اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی وہیں  شراب کی تباہ کاریوں کی تفصیلات بھی بتلائی گئیں اور ایک دن کا پورا پروگرا م اسی موضوع پر رکھا گیا ۔فلم جگت کی ایک دوسری مشہور شخصیت جاوید اختر بھی اس پروگرام میں شریک تھے ۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ زندگی کی ہر بڑی غلطی ان سے شراب کی حالت  میں  سرزد ہوئی۔ا سلام شراب کو ام الخبائث کہتاہے ۔ اور سمجھا جاسکتاہے کہ آج دنیا بہ شکل دگر ہی سہی یہ تسلیم کر رہی ہے ۔
            
3
 ابھی تین چار سالوں قبل دنیا ایک بڑے مالی بحران سے دوچار ہوئی ۔ امریکی معیشت کی کمر ٹوٹ سی گئی ۔ عالمی سطح پر بے روزگاری کے سنگین مسائل نے جنم لینا شروع کردیا ۔ معیشت کی دنیا کے بڑے بڑے دماغ پھسڈی ثابت ہوگئے۔اب اس کے اسباب کا پتہ لگایا جانے لگا تو بنیادی طورسے دو باتیں ابھر کر سامنے آئیں ۔ ایک تو یہ کہ سودی نظام کی وجہ سے یہ سارے مسائل پیدا ہوئے اور دوسرے یہ کہ مال کے احتکار و ادخار اور صرف چند افراد کے پاس  سرمایے کے جمع ہو جانے کے سبب یہ خطرناک منظر سامنے آیا ۔اسلام نے سود کو حرام قراردیا  اور مال صرف مالداروں کے پاس نہ رہ جائے اس کے لیے زکوۃ کا نظام  دیا ۔ اور یہ  معلوم ہے کہ جب بیت المال کا مکمل نظام  خلیفہ خامس عمر بن عبد العزیز  کے زمانےمیں نافذ کیا گیا تو خوشحالی کا یہ حال تھا کہ کوئی بھی آدمی زکوۃ لینے کی پوزیشن میں نہیں تھا ۔ معیشت کی اس صورت حال کے فورا بعد اسلامی بینکنگ اور اسلامی نظام اقتصاد کی معنویت پر چرچا بڑھنے لگا  اور دیکھتے دیکھتے امریکہ اور یورپ میں کئی ایک اسلامی بینک کھل گئے ۔
 دیا رنج  بتوں نے تو خدا یاد آیا
                  چین کو ایک انسان ایک بچے کی پالیسی والے ملک کے طور بڑی شہرت حاصل ہے اور ایک زمانے تک آبادی کنٹرول کرنے کے معاملے میں اس کی مثال دی جاتی رہی ہے ۔آج کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں اس پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ بڑھتا جارہا ہے ۔ وہاں نوجوا نوں کی بجائے معیشت کا دارومدار بوڑھوں پر ہے اور یہ  ا س کے لیے کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ تبدیلی کے آثار بہت واضح ہیں ۔اور یہ طے ہے کہ یہ تبدیلی آکر رہے گی جس کی شروعات ہو بھی چکی ہے ۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق اگر کسی کی پہلی اولاد بچی ہے تو وہ دوسری اولاد پیدا کرنے کا مجاز ہوگا۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
                خاص طور سے یورپ اور امریکہ کے اندر لوگوں نے مادیت سے بیزاری کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے ۔اب وہ تھک چکے ہیں ۔ وہ سکون کی تلاش میں کبھی تصوف تو کبھی اور دوسری روحانی قدروں کی طرف مائل ہونے لگے ہیں ۔اور یہ اس بات کا اشاریہ ضرور ہے کہ وہ اپنی شکست  کے معترف ہیں ۔ایسے لوگوں کا  اصل اسلام تک پہنچ جانا
4
کافی فطری ہے اور ان شاء  اللہ وہ دن دور نہیں جب وہ وہاں  ضرور پہنچ  جائینگے ۔ یورپی خواتین کے اندر حجاب کی طرف بڑھتا ہوا رجحان اور عصمت و عفت کے احساس میں آئی تیزی سے اس بات کا اندازہ لگانا قطعا مشکل نہیں کہ عملا ان خواتین نے اسلام کی حقانیت کو قبول کرلیا ہے  ہر چند کہ وہ باضابطہ اس کا اعلان واعتراف نہ کررہی ہوں ۔
THE HINDU  کے OPEN PAGE پر  نوکری پیشہ خواتین سے متعلق  کچھ مہینوں پہلے جس قسم کی ڈیبیٹ چلی اور جس طرح WORKING WOMEN   کی اچھی خاصی تعداد نے  خواتین  کے خاتون خانہ ہونے کو اس کا اچھا اور قابل فخر نصیب قراردیا  وہ کس طرف اشارہ کر رہا ہے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ۔
ان تمام حقائق کو سامنے رکھا جائے تو کیا یہ کہنا غلط ہے کہ  دنیا مسلمان ہورہی ہے ۔ اے کاش وہ دنیا جو مجبورا اس نعمت کو قبول کررہی ہے اپنی چاہت سے بھی قبول کر لیتی تو دین و دنیا کی ساری بھلائی اس کا مقدر ہو جاتی ۔ یہ انسان فطری تقاضوں کے مطابق تو ایسے بھی اللہ کے قوانین کا پابند ہے پھر وہ کیوں نہ اختیاری طور پر اس کو اپنا تاہے کہ سرخرو ہو جائے ۔ ساتھ  ہی علماے اسلام کو کیا اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ اللہ نے اتنے سارے مواقع فراہم کردیے ہیں پھربھی وہ اپنی دعوتی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کا سامان نہیں کرتے ۔


Friday, 25 January 2013


بسم   اللہ الرحمن الرحیم
مونس دہلوی کی شاعری – مہذب افکار کا   گلدستہ
ثناءاللہ صادق تیمی
جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی
ایک ایسے وقت میں  جبکہ شاعری پورے طور سے گمراہ کن نظریات و احساسات کی ترجمانی کا وسیلہ بنی ہوئی نظر آرہی ہو اور ہر چہار سو ایک فکری دیوالیہ پن کی کیفیت طاری ہو ۔ اہل علم و دانش اور صاحبان  فضل اسے بے کار کا مشغلہ مان کر اپنی الگ دنیا بسانے کی کوشش کررہے ہوں   اور باطل آب و تاب کے ساتھ اسے اپنی اشاعت کاذریعہ بنا کر اپنی کامرانی پر اترا رہا ہو تو سوچا جاسکتا ہے کہ ایسے میں کوئی ایسا شعری سرمایہ کا ہاتھ لگ جانا کتنا سکون بخش اور راحت افزا ہو سکتا ہے جو نہ صرف یہ کہ آپ کے ذوق جمال کی تسکین کرے بلکہ بیک وقت آپ کے جمالیاتی حس کی تہذیب کا فريضہ بھی  انجام دینے کی دولت سے مالا مال ہو ۔
بڑے بھائی اور  صاحب قلم سیال جناب رفیع اللہ مسعود تیمی  کی ترتیب دی ہوئی مونس دہلوی  کی' کلیات مونس دہلوی ' کچھ اسی قسم کی شاعری کے نمونوں سے مزین ہے ۔ پہلے پہل جب کلیات پر نظر پڑی تو تعجب بھری خوشی ہوئی کہ جناب خواجہ قطب الدین شاعر بھی ہیں اور جب مجموعہ کلام  کا مطالعہ شروع کیا تو اس بات کا افسوس کھانے لگا کہ آخر اس بات سے میں اب تک ناواقف کیو ں رہا ۔سچ پوچھیے تو میں جناب قطب الدین مونس دہلوی کو بس اتنا جانتا ہوں کہ ایک آک دفعہ ان کے محلے میں واقع مسجد میں خطبہ جمعہ دینے کی سعادت نصیب ہوئی تو محبت و اپنائیت کے ساتھ ظہرانہ  کا نظم انہوں نے اپنے ہی دولت کدے پر کیا اور تھوڑی دیر دینی مسائل پر بات چیت ہوئی لیکن مجموعہ کلام کو پڑھ کر اور لوگوں کی آرا‏ء سے واقفیت کے بعد اس بات کا یقین ہو گیا کہ آپ واقعۃ صاحب خلق ہیں اور بیباک بھی ۔ اور حق کے معاملے میں کسی قیل قال اور شش و پنج کے شکار نہیں ہوتے ۔
ان کی شاعری در اصل ان کی شخصیت کا اظہاریہ ہے ۔ وہ جن خوبیوں سے متصف ہیں  شاعری کے سارے ساز بھی اسی آہنگ میں بجتے ہیں اور  دیرپا اثر چھوڑجاتے ہیں ۔ عقیدہ وایمان ، سماجی معاملات، عشقیہ مضامین سب کے سب کا محور ان کا اپنا سرمیایہ تہذیب و شائستگی ہی ہے ۔وہ سلفی الفکر مسلمان ہیں ۔ اخلاق کی نعمت سے سرفراز ہیں ۔ بہتر سماج کی تشکیل کے متمنی  ہیں ۔حق کے علمبردار اور باطل کے خلاف صف آرا ہیں اور ان کی شاعری در حقیقت انہیں کاوشوں کی بازگشت ہے ۔
تیرا عروج اسی پر ہے منحصر مونس
ہو تیرے فکر کی حد لا الہ  الا اللہ
احمد مرسل کا  ثانی کوئی ہو سکتا نہیں
دست قدرت نے تراشا ہے کچھ ایسا آئینہ
آپ کو قرآن ناطق اس لیے کہتے ہیں سب
ہے وہی حکم خدا جو کچھ کہ فرماے رسول
یہاں حق بات کہ کر سو‏ئے مقتل کون جائیگا
روایت ہے یہ ہم جیسے ہی دیوانوں سے وابستہ
رہ دین خالص میں ہم سلفیوں کے
نمایاں نقوش قدم دیکھتے ہیں
عام طور سے وہ شعراء جو گردش ایام کا رونا روتے ہیں اور حالات کی مار پر شکوہ کناں ہوتے ہیں وہ دانستہ یا نادانستہ طور سے قنوطیت اور ناامیدی کے شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی پوری کی پوری شاعری ایک طرح کا نوحہ یا ایک قسم کا مرثیہ ہو جاتی ہے اسے مونس دہلوی کا امتیاز ماننا پڑیگا کہ وہ ایک طرف شہر آشوب لکھتے ہیں اور دوسری طرف بڑے اعتماد و یقین کے ساتھ بہتر تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور کسی قسم کی یاسیت کو اپنے قریب پھٹکنے بھی نہیں دیتے ۔
ہاں جہد مسلسل سے بدل جاتی ہے قسمت
ناکامی کو اے دوست مقدر نہیں کہتے
لاتقنطوا پہ مجھکو مکمل ہے اعتماد
میری نجات کی یہی بس اک دلیل ہے
میں تیرگی وقت سے مایوس نہیں ہوں
امید ہے سینے میں مرے یاس نہیں ہے
بہت سارے اشعار پڑھتےہوئے یہ محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر نے قرآن حکیم یا حدیث رسول کا ترجمہ کردیا ہو۔کہیں کہیں پر یہ ترجمہ پن بھی جھلک جاتا ہے لیکن بیشتر مقام پر فن کی تازگی متاثر نہیں ہوتی  اور اچھے اشعار کا تحفہ بھی ہاتھ آجا تاہے ۔
آلام و مصائب کی جو ہم پہ گھٹا چھائی
خود اپنے گناہوں کی یہ ہم نے سزاپائی
مجھے لینا ہے کیا غیروں کے در سے
مرا   داتا   مرا   معبود  تو   ہے
دین پسند شعراء و ادباء بالعموم ایک قسم کی خشکی کی زد میں رہتے ہیں اور بدلتے حالات اور تغیر پذیر روایات کی انہیں معرفت نہیں رہتی ، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر ادبی حلقوں میں ان   کی پہچان بھی نہیں بن پاتی اور  گمنامی کے اندھیروں میں  ہی ان کا سارا فن مدفون ہوجاتا ہے ۔ مونس دہلوی اپنی انتہائی دین پسندی کے باوجود فکری خشکی کے شکار نہیں ہیں اور یہ بلا شبہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے چہرے پر سجی ہوئی آنکھیں بصارت ہی نہیں بصیرت کی دولت سے بھی مالا مال ہیں ۔ان کے یہاں عصری شعور کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔ فکری جہات میں رنگا رنگی کے ساتھ ہی بے حیا اور ایمان سوز اقدارو روایات پر ان کے تیر و نشتر صرف شکوہ یا غصہ کی کیفیت نہیں  اجالتے بلکہ فکر و خیال اور شعور کی کئی راہیں وا کرتے ہیں ۔ اور ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ یہاں آکر ان کا فنی کمال زیادہ جلوہ گر نظر آتا ہے ۔
بھٹک رہا ہے خیالوں  میں آج کا انساں
اسے بھی فکر کی آوارگی کہا جائے
چشم ظاہر تجھے کب نظر آئیگا
وہ اندھیرا جو دن کے اجالے میں ہے
رات اپنی ظلمتوں کے پنکھ پھیلاتی رہی
ہم چراغوں کو لہو دے کر سحر کرتے رہے
اے اہل حرم شمع حرم لےکے تو آؤ
اک شور ہے مغرب میں اجالا نہیں ممکن
ساری پرانی قدریں زوال آشنا ہوئیں
اب زاویے نظر کے بدل کر تو دیکھیے
ماضی کے خرابے میں تا دیر بھٹکتا ہوں
احساس کو ڈستی ہے  جب حال کی تنہائی
یہ ارتقائے خرد کی تجلیاں توبہ
کہ ظلمتوں نے ہر اک سو پڑاؤ ڈالا ہے
قدروں کے اس زوال کا ادراک کر سکے
اتنا بلند وقت کا معیار بھی نہیں
شاعری اور وہ بھی اردو  کی غزلیہ شاعری  اگر عشق اور واردات عشق سے یکسر خالی ہو تو اسے معجزہ ہی سمجھنا چاہیے ۔ کم از کم اس معجزے کا الزام تو مونس دہلوی پر نہیں ڈالاجا سکتا ۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان کے یہاں بھی عشق اور واردات عشق کے افسانے عام شعراء کے جیسے ہی ہیں ۔ ہر چند کے عشق کا یہ تصور ان کے یہاں متصوفانہ نہیں لیکن ایک حد تک   مومنانہ ضرور ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی اس پہ دوسرے رنگ بھی نظر آجاتے ہیں ۔ لیکن کم از کم حیاسوزی اور اخلاق باختگی کا تو کوئی سان گمان ان کی شاعری پر نہیں گزرتا ۔
آؤ صلاے عام ہے یاران میکدہ
ساغر جھلک رہے ہیں کسی کی نگاہ سے
یہ درد عشق کی شعلہ گدازیا ں مونس
سلگ رہاہوں مگر آنکھ تر ہے کیا کہیے
مہک اٹھیں گی فضائیں لہک اٹھیں گے چمن
لپٹ کے تیرے بدن سے جدھر صبا جائے
مصحف رخ کے تصدق مست آنکھوں کے نثار
کردیا   دنیا   و ما  فیھا   سے   بیگانہ   مجھے
نہیں اتنے بھی ہم آداب میخانہ سے ناواقف
بہ انداز  دگر شغل   مے و مینا ب ھی  آتا ہے
شاعر پند ونصائح سے بھی نوازتا ہے لیکن زیادہ تر اس میں ملائیت کی کارفرمائی نہیں بلکہ ایک درد مند دل کی صدا ہے اور ایک مشفق انسان کا خلوص  جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے اورقابل ذکر یہ ہے کہ  فن کے دیے یہاں بھی مدھم نہیں پڑتے ۔
ایمان کی ضیا سے نکھرتی ہے زندگی
اس مشعل یقیں کو سدا اپنے پاس رکھ
تیری رفاقتوں کا زمانہ ہو معترف
تو اپنے حسن خلق کی ایسی اساس رکھ
آزار جسم و جاں بھی اٹھانا پڑے اگر
پھربھی نہ آپ حرف صداقت چھپائیے
پاکیزہ افکار وخیالات کے اس گلستاں میں پھولوں کے اوپر رعنائیوں کی کوئی باضابطہ کمی تو نہیں  البتہ پروف کی غلطیاں در آئی ہیں جو بسااوقات حسن و جمال کی جلوہ گری میں حائل ہو جاتی ہیں ۔خالص فنی نقطہ نظرسے دیکھا جائے تو شاعری کلاسیکل روایات کی امین نظرآتی ہے البتہ جہاں ا س گلدستے کے زیادہ تر پھول زینت چمن ہیں وہیں کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگرنہ ہوتے تو حسن کی تمازت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ کہیں کہیں پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے تھوڑی اور توجہ دی ہوتی تو فنی زاویہ اور بھی بلند ہو جاتا ۔متقدمین اور ہم عصر شعراء سے استفادے کا احساس بھی کہیں کہیں پر گہرائی سے ہو تا ہے لیکن سرقہ یا نقل کی کیفیت کہیں نہیں ۔
اخیر میں اگر  مدون و مرتب کو مبارکباد نہ دیا جاے تو ایک طرح کی ناانصافی ہوگی ۔اس مجموعہ کلام کی تدوین وترتیب کے ذریعہ مدون نے بلا شبہ ایک اہم دینی اور ادبی فریضہ انجام دیا ہے ۔ اس سے جناب رفیع اللہ مسعود تیمی  کے ادبی ذوق اور مسلک کا بھی پتہ چلتا ہے ۔البتہ  یہ امید تو کی ہی  جاسکتی ہے  کہ مدون  اگر اس کے دوسرے ایڈیشن میں  کچھ ضروری ترمیم سے کام  لینگے تو مجموعےکا حسن اور بھی بڑھ جائیگا ۔
میری نظر میں صاف ستھرے ادبی اور  دین کا کارآمد شعور رکھنےوالوں کو اس مجموعے سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے ۔ اور اہل حدیثوں کو تو بطور خاص اسے ہاتھوں  ہاتھ لینا چاہیے ۔



Thursday, 10 January 2013


ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے

   ثناءاللہ صادق تیمی

 جواہر لال نہرو یونیورسٹی

پچھلے دنوں علماء صادقپور کی سرزمین پٹنہ میں دوچار دن گزارنے کی توفیق ارزانی ہو‏ئی۔ در اصل السلام ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مختلف قسم کے رفاہی اور دعوتی پروگرامز منعقد کیے گئے ۔ سعودی عرب سے بڑے بھائی جناب ڈاکٹر مولانا معراج عالم تیمی کا حکم ہوا کہ اگر بہار میں ان دنوں رہنا تو پروگرام میں شرکت کرنا اور نظامت کا فریضہ انجام دینا۔  حقیقت  تو یہ ہے کہ یہ شوشہ در اصل میرے دوست اور ساتھی مولانا آصف تنویر تیمی کاچھوڑا ہوا تھا ورنہ

کہاں میں اور کہاں یہ نکہت گل

نسیم     صبح   تیری   مہربانی

23 دسمبر سے یہ سفر شروع ہو کر 26 دسمبر تک چلا ۔ اس بیچ الحمد للہ کئی ایک کامیاب اور نہایت مفید پروگرام آرگنائز کیے گئے اور اہالیان پٹنہ نے بھر پور استفادہ کیا ۔  مختلف مساجد میں درس قرآن اور درس حدیث کے علاوہ اس پروگرام کی ایک خاصیت نے بطور خاص مجھے متاثر کیا کہ بڑا  پروگرام بھی  کافی زیادہ لمبا نہیں تھا۔ عصر سے شروع ہوکر عشاء تک ختم ہو گیا ۔ یعنی دعوتی کا م بھی ہو گیا اور معاملات زندگی متاثر بھی نہیں ہوے ۔ ایک دوسری بڑی اچھی بات یہ دیکھنے میں آئی کہ غریبوں کا نہ صرف خیال رکھا گیا کہ ان کہ درمیان کمبل تقسیم کیے گئے بلکہ دانشمندانہ قدم یہ اٹھایا گیا کہ جھگی جھوپڑی کے اندر ایک دینی مکتب بھی کھولا گیا کہ ان کی تعلیم کا بند و بست بھی ہو اور غریبی کے دیو سے مستقل پیچھا بھی چھوٹے۔ اس پروگرام کی ایک قابل ذکر بات یہ تھی کہ اس کے اندر ایک عرب شیخ  حمد بن محمد المھیزعی بھی شریک تھے ۔ آدمی متواضع اور دعوتی جذبے سے شرشار ۔ کئی ایک مواقع سے ان کے خطابات کو اردو زبان میں پیش کرنے کا خاکسار کو موقع نصیب ہوا۔ ہم پٹنہ سے مظفرپور موٹر کار سے شیخ کے ہمراہ جارہے تھے اور ہمارا ڈرائیور ہندو تھا ۔ مجھے جہاں یہ لکھتے ہوے انتہائی درجے میں خوشی ہو رہی ہے کہ شیخ نے اس آدمی کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی اور الحمد للہ اس شخص کا ریسپانس کافی پازیٹیو (جواب مثبت ) رہا وہیں اس بات کا انتہائی درجے میں افسوس ہے کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں اور بطور خاص  علماء نے اس طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ ورنہ صورت حال کچھ اور ہی ہوتی۔ آج بھی یہ میدان وسیع ہے ۔ دنیا حق جاننے کو آمادہ ہے لیکن افسوس کہ جن کے پاس حق کی نعمت ہے وہ خود اس سے نابلد ہیں ۔ اللہ خیر کرے ۔ خاص طور سے برادران وطن کے اندر جو مختلف معبودوں کا تصور ہے اور انسانوں کی طبقاتی تقسیم ہے اس کی قلعی کھول کر اور اسلام کا صاف و شفاف چہرہ پیش کرکے ان کو تو اسلام سے قریب کیا ہی جا سکتا ہے ۔

اس تین چار دن کے اندر جس بات کا احساس سب سے زیادہ ہوا وہ یہ تھا کہ مسلم عوام کے اندر حق جاننے کا جذبہ کافی زیادہ ہے خاص طور سے جوانوں کے اندر یہ جوش و جذبہ فراواں بھی ہے اور توانا بھی ۔ ان میں سے بعض کے اندر تو داعیانہ اسپرٹ اور احساس ذمہ داری کی بھی جھلک نظر آئی ۔

ان کے سوالات کرنے کے رنگ ڈھنگ سے ان کے  شوق و رغبت کا اندازہ لگانا کوئی اتنا مشکل بھی نہیں تھا۔ بلا شبہ یہ جوان مضبوط سرمایہ ہیں ، البتہ ان کی تربیت کی ضرورت ہے ۔ افسوس کہ اب ہمارے علماء کا رابطہ عوام سے کمزور پڑتا جارہا ہے اور مجھے ذاتی طور پر یہ ڈر ستا تا ہے کہ کہیں یہ جوش و جذبہ سے بھر پور جوان گمراہ کن عناصر کے شکار نہ ہو جائیں ۔ سلیم الفکر علماء کی غفلت کو نظروں میں رکھا جاے اور دوسرے لوگوں کے تگ و تاز کو بھی دیکھا جاے تو اسے اندیشہ ہاے دور دراز بھی نہیں  کہا جا سکتا ۔ تجربات بتلاتے ہیں کہ اپنی کاوش و لگن اور بغیر علماء کی تربیت کے بالعموم لوگ تشدد کی راہ اپنا لیتے ہیں اور تکفیری نقطہ نظر کے اسیر ہو جاتے ہیں ۔ انہیں ہر جگہ سب کچھ غلط ہی نظر آتا ہے اور اس طرح وہ کسی کو مسلمان تک ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔

اس پورے معاملے پر السلام ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے جوائنٹ سکریٹری اور بڑے بھائی مولانا صفات عالم زبیر عالم تیمی سے گفت و شنید ہوئی ۔ ان کے تجربات بھی کچھ ایسے ہی تھے ۔ واضح رہے کہ مولانا صفات عالم تیمی کویت میں دعوتی کاز سے جڑے ہوے ہیں ۔ اس کے علاوہ  آپ کی ادارت میں مقبول عام اردو ماہنامہ' المصباح ' پورے تزک و احتشام کے ساتھ شائع ہوتا ہے اور عوام و خواص میں یکساں دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے ۔

آج کل بالعموم میگزین نکالنے کو دعوتی کام سمجھا جاتا ہے ۔ کچھ لوگ مدارس کو دعوت کا اصل مرکز سمجھتے ہیں اور کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویزن کے سہارے ہی یہ کام کیا جا سکتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ ان تمام باتوں میں جزوی سچائی ہے جسے ہم نے غلطی سے کلی سمجھ لیا ہے ۔ مدارس علماء پیدا کرتے ہیں جو دعوتی فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ یہ ایک بالواسطہ طریقہ ہے اور ظاہر ہے کہ مدارس کے سارے فارغین دعوتی میدان میں تو رہتے بھی نہیں ۔ رسائل جرائد دعوتی کاز میں ممد و معاون ہوتے ہیں اور ہم اپنے مضامین کے ذریعے بلاشبہ یہ کام انجام دے سکتے ہیں لیکن نہ بھولیں کہ ہمارا ٹارگیٹ کم ہوجا تا ہے اور ساتھ ہی یہ نقطہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ دعوت و تبلیغ کا کام داعی کی سیرت اور اس کی عملی زندگی سے کافی جڑا ہوا ہوتا ہے ۔ مضامین دیرپا ہو سکتے ہیں لیکن وہ سب تک نہیں پہنچ سکتے اور داعی کا عملی رویہ یہاں پر ظاہر نہیں ہو سکتا۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویزن سے استفادہ وقت کی ضرورت ہے اور اس سے انکار نہیں لیکن لوگوں کی دینی تربیت ساتھ ساتھ انجام دینا اس سے کسی درجہ کم اہم نہیں ۔ ہماری تاریخ بتلاتی ہے کہ کس طرح ہمارے اسلاف نے گاؤں گاؤں اور بستی بستی گھوم گھوم کر اس فریضے کو انجام دیا ہے اور الحمد للہ کہ ان کی کوششیں کافی بارآور ہوئی ہیں ۔ ہمیں مولانا ثناءاللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی اور مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کی کوششوں اور ان کی جانفشانیوں سے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔

آج یہ بات اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ تبلیغی جماعت سب سے فعال اور دعوتی سطح پر کامیاب جماعت ہے ، اس لیے نہیں کہ ان کے یہاں سب کچھ ٹھیک درست ہے بلکہ اس لیے کہ ان کے جیالے لوگوں کے بیچ جاکر کام کرتے ہیں ۔ ان کا اور عوام کا بلاواسطہ رشتہ استوار ہوتا ہے اور پھر جو نتائج رونما ہوتے ہیں وہ دنیا کے سامنے ہے ۔ نہ معلوم کیوں بڑی بڑی تنظیموں کے ذمہ داران بھی اخبار نکالنے اور میگزین شائع کر لینے کو دعوت کا مکمل کام سمجھ بیٹھے ہیں ۔ جس کمیونیٹی کی آدھی سے زیادہ آبادی ان پڑھ ہو ان کے دانشوران کی یہ سوچ کس قدر مضحکہ خیز ہے ۔ یہ سب ہو اور ساتھ ہی لوگوں کے بیچ جاکر دعوتی اور تبلیغی مساعی بھی تو کیا کہنے ۔ اقبال نے کتنا درست کہا ہے ۔

نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو

ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں  کے لیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Saturday, 5 January 2013


بسم اللہ الرحمن الرحیم

زنا بالجبر،عورت، ہم اور ہمارا سماج

ثناءاللہ صادق تیمی

جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی -67

دہلی کی چلتی بس کے اندر ایک طالبہ کے ساتھ ہوے گینگ ریپ (جماعتی زنا بالجبر) کے شرمناک حادثہ نے نہ صرف یہ کہ پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اگر یہ کہا جاے کہ اس سے پوری دنیا ہل گئی تو کچھ مبالغہ نہ ہوگا۔ اس حادثہ کے بعد اس پورے مسئلے پر گرما گرم بحث شروع ہوگئی اور کئی طرح کے حل اور نقطہ ہاے نظر سامنے آئے ۔ جہاں ایک طرف کچھ لوگوں نے مجرموں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا وہیں کچھ اور لوگوں نے پھانسی کو مسئلے کا حل نہ مان کر عورتوں کی سیکوریٹی یقینی بنانے کے مختلف طریقوں کے اپنائے جانے پر زور دیا ۔ ایک طرف بعض حضرات نے اسے عورتوں کی غیر ذمہ دارانہ طرز رہائش اور حیا سوزلباس کا شاخسانہ قراردیا تو دوسری طرف کچھ اللہ کے بندے اسلامی سزا کے نفاذ کی مانگ بھی کر بیٹھے اور اس طرح جتنے منہ اتنی بات کی مثال ہمارے سامنے آگئی ۔ اس تعلق سے بیان بازیوں کو چھوڑ کر اگر سنجیدہ مضامین کی طرف نظر دوڑائی جاے تو وہاں بھی بالعموم عورتوں کی سیکوریٹی بڑھانے ،مختلف قسم کے سخت قوانین اپنانے ،عورتوں کو مزید آزادی دینے اور مساویانہ حقوق کو نافذ کرنے کی باتیں کہی گئیں لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس پورے مسئلے پر صحیح طریقے سے نظر نہیں ڈالی گئی ، شاید اس لیے بھی کہ بہی خواہان خواتین خود بھی کھلی بحث اور منظم حل کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دلچسـپ بات یہ ہے کہ اس بیچ ججوں کا ایک پینل بھی بنا دیا گیا ہے جو کارگر قانون پر غور وخوض کر رہا ہے ، اس سلسلے میں مختلف سیاسی پارٹیوں کی آراء بھی طلب کی گئی ہیں ۔

                یہ بات In General درست ہے کہ عورتیں مظلوم ہیں اور سماج میں ان کو ان کا واقعی مرتبہ اور حق نہیں مل پاتا۔ قدم قدم پر ان کی راہیں مشکلات سے بھری ہوئی ہیں اور ان کی عصمت پر ڈاکے کب پڑ جائیں ،اس کا ٹھکانہ نہیں اور بلا شبہ اس ترقی یافتہ دنیا کے لیے یہ شرم کی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس پورے مسئلے کا واقعی حل کیا ہے اور کہاں ہے۔

              نئی تہذیب کے متوالوں اور اشتراکی مفکرین کی مانیں تو عورت اور مرد برابر ہیں ۔ دونوں کے حقوق یکساں ہیں ۔ عورت پر عزت وعصمت کا اخلاقی دبا‎ؤ ڈالنا مرد کی چال ہے ۔ عورت کو پوری آزادی دستیاب ہونی چاہیے ۔ وہ کیا پہنے ، کیا اوڑھے ، کیا سوچے ،کس طرح پیار کرے اور کس طرح جیے ، یہ اس کا اختیار ہے ، اسے ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے روپ میں ہی نہیں بلکہ انسان کے روپ دیکھا جاے اور اسے Absolute Freedom (لامتناہی آزادی) دی جاے ۔ اگر کوئی اس کے ساتھ زنا بالجبر کرتا ہے تو اسے قرار واقعی سزا دی جاے لیکن موت یا پھانسی نہیں ۔ عورت کے ذہن سے خوف نکالا جاے اور زندگی کے ہر میدان میں عورت کی آدھی حصہ داری یقینی بنائی جاے تب جا کر ان مسا‏‏ئل سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے ۔

                انہیں افکار وخیالات کا اظہار ہندوستان کے مختلف صوبوں سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی روز نامہ The Hindu کے 30 دیسمبر 2012 کے صفحہ اول پر چھپے ایڈیٹوریل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔

But even if the six are hanged , and even if our legislators, in a fit of conveniently misplaced concern, prescribe the death penalty for rape, the pathology we are dealing with will not be so easily remedied…….It is this leader less vacuum that ordinary citizens must step into in order to affirm the right of women. The right to be born and fed, the right to dress and travel and love as they please.

                اس کے بالمقابل ایک دوسرا نقطہ نظر وہ ہے جسے ہم غیر انسانی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کہ سکتے ہیں۔ اس رویے کا اظہار مختلف قسم کے طنزیاتی پیرایہ بیان سے ہوتا ہے جس کے اندر ہر طرح کی ذمہ داری عورت کے سر باندھ دی جاتی ہے ۔ یہ نقطہ نظر سے زیادہ عیاش اور منحرف ذہنوں کا تبریری رویہ ہے لیکن بہر حال یہ بھی ایک پہلو ہے ضرور ۔

              ان دونوں کے بالمقابل ایک نقطہ نظر اور بھی ہے یعنی اسلامی نقطہ نظر۔ اسلام کے مطابق مرد و عورت اللہ کی تخلیق ہیں ۔ دونوں کے دونوں کو اللہ نے اس دنیا میں بھیجا کہ وہ بہتر عمل کے ذریعے جنت پانے کا حق حاصل کرلیں ۔ یہ دنیا فانی ہے اور اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے ۔ انسان مرد اور عورت کی ذمہ داری ہے کہ اللہ کی اس زمین پر جور و ظلم کی بجاے عدل و انصاف قائم کریں ۔ اسلام کے مطابق مرد و عورت ایک دوسرے کی ضرورت ہیں اور ایک دوسرے کے لیے ذریعہ سکون و تسکین ۔ دونوں بطور انسان برابر ہیں البتہ اپنی فطری ضرورتوں اور جسمانی تقاضوں کے مطابق ان کی ڈیوٹی قدرے مختلف ہے ۔ عورت بنیادی طور پر گھر، گھر ہستی اور بچوں کی پرورش و پرداخت کی ذمہ دار ہے اور مرد رزق  اور اس کے ذرائع حاصل کرنے کا ۔ اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ عورت کا تعلیم حاصل کرنا یا تجارت وغیرہ میں مصروف ہونا ممنوع یا معیوب ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ باہر جب نکلے تو با پردہ رہے اور حیا و شرم کی چادر اوڑھے رہے۔ اسلام کا یہ بھی ماننا ہے کہ بالغ ہونے پر مرد شادی کرلے جب وہ اپنی ہونے والی بیوی کی خاص ضرورت اور اس کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کا نظم کر سکتا ہو ۔ اور جب لڑکی بالغ ہو جاے تو اس کے اولیاء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی مناسب جگہ شادی کردیں۔ اسلامی ہدایات کے مطابق عورت و مرد یکساں طور پر اس بات کہ مکلف ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کی اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ خالص اسلامی نقطہ نظرسے دیکھا جاے تو عصمت وعفت صرف عورت کا ہی نہیں مرد کا بھی بے آمیز کردار سب سے اہم اور قیمتی سرمایہ  ہے ۔

                اسلام کی ان ہدایات کو صرف سماجی تناظر میں دیکھنا صحیح نہیں  ہوگا ۔ اسلام تو سب سے پہلے اللہ واحد کا عقیدہ دیتا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور جس کے ہاتھ میں انسان کی جان ہے ۔ یہ دنیا در اصل آخرت کی کھیتی ہے اور انسان اپنے اعمال کے مطابق ہمیشہ کی زندگی میں جنت یا جہنم کا مستحق ہوگا ۔ ایک ایک عمل کا انسان کو بدلہ دیا جائیگا ۔ اور ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ بلا شبہ انسانی کردار کو بہتری کی طرف مہمیز کرنے میں سب سے مضبوط اور دیرپا اثر ڈالتے ہیں ۔ اسلامی نقطہ نظر کے مطابق اگر اللہ اور آخرت پر ایمان کی قوت اور ایک صالح معاشرے کے دوسرے اسلامی ہدایات انسان کو برا‏‏ئي سے نہ روک سکیں تو ویسی صورت میں شادی شدہ زانی مردوعورت کو سنگسار کیا جائیگا اور غیر شادی شدہ کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطن۔

             اس تناظر میں دیکھا جاے تو ان لوگوں کی بات بے وزن معلوم ہونے لگتی ہے جو ہندوستان میں اسلامی سزا کے نفاذ کی مانگ کرتے ہیں ۔ سزا کی یہ بات تب کارگر ہوگی جب ہم اسلامی معاشرہ بھی بنا پائیں ۔ ایک ایسا سماج جس میں خواتین اور حضرات اپنی حدوں میں جیتے ہوں اور پھر کوئی اگر اپنی حدوں سے باہر نکلے تو سزا لاگو کی جاے تبھی جاکر اسلامی سزائیں اور حدود و تعزیر کا نظام اپنا اثر دکھلا پائیگا ۔

           اس پورے معاملے میں سب سے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی آج کی بے حیا اور بے پردہ تہذیب پر انگلی نہیں اٹھاتا ۔ ٹی وی ،فلم، اشتہارات، پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور ان سب کے اوپر انٹرنیٹ کا پورا کا پورا جال بس اور بس بے حیائی کے فروغ میں کوشاں ہے۔ اس قدر گرے ہوے اور گھٹیا نغمے دن رات چلتے رہتے ہیں کہ الاماں والحفیظ ۔ کسی بھی چیز کا اشتہار ہو نیم عریاں دوشیزہ کا جلوہ ضروری ہوتا ہے ۔ گویا ہر چہار جانب سے ہم عورت کو سامان تعیش و مستی بنا کر پیش کرتے ہیں اور پھر اس کی Dignity اور Honor کی بات کرتے ہیں ۔ خدا بیزار دنیا کے سامنے اتنے ہیجان انگیز مناظر پیش کیے جاتے ہیں ، اخلاق حمیدہ اور  عمدہ خصائل کی باتوں کو گئے دنوں کا بکواس سمجھا جاتا ہے اور پھر جب اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو بے مطلب ہم ہنگامہ شروع کر دیتے ہیں ۔

                 اگر ہم واقعۃ اس قسم کے مسائل کا پائیدار حل چاہتے ہیں تو ہمیں اس پورے معاملے پر از سرے نو غور کرنا ہوگا ۔ اگر بر سر روز گار خواتین (Working Women ) کو جنسی استحصال کا سامنا ہے ، اگر خواتین گھروں کے باہر غیر محفوظ ہیں ، اگر مردوں کا رویہ عورتوں کے تئیں غیر منصفانہ ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا علاج نہ تو احتجاج ہے نہ ہی سرکار پر الزام اور نہ ہی عورت کی مکمل آزادی کا غیر عملی اور نہایت خطرناک مطالبہ۔

                    عورتوں کو خوف کی نفسیات سے نکالنے اور اسے ہر میدان میں مرد کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کرنے والے بھول جاتے ہیں عورت کی کچھ دوسری فطری ضرورت بھی ہے اور نفسیاتی مانگ بھی ۔ وہ نہ تو اپنی جسمانی ساخت میں اور نہ ہی نفسیاتی رسا‏ئی ميں مردوں کی طرح ہے ۔

                   اگر انسان کے اندر اللہ کا خوف ، جنت کی چاہت ، جہنم سے نفور اور بہتر اخلاقی تربیت کے زیور سے آراستگی آ جاے تو ایک ایسے سماج کی تشکیل عمل ميں لانا عین ممکن ہے  جہاں ہر کوئی اپنی حد میں جیے اور مسرت بھری زندگی کا لطف حاصل کرے ۔ میرے اپنے ایمان  اور سمجھ کے مطابق سوائے اسلامی نظام حیات کے اور کوئی بھی نظام کے پاس انسان کے جملہ مسائل کا کوئی پائیدار حل نہیں اور اس معاملے میں تو اور بھی نہیں ۔ اور ہر چند کہ بھارت میں اسلامی سوسائٹی نہیں لیکن اگر سنگساری کا نظام نافذ کر دیا جاے تو دوسرے قوانین سے زیادہ اثر انگیز تو ضرور ہوگا ۔ ہاں اسلامی قانون کا اصل مزہ تو تبھی سمجھ میں آئيگا جب اسلامی سماج بنانے کی کوششیں بھی ہونگی ۔ اس معاملے میں اشتراکی نقطہ نظر تو حد درجہ گمراہ کن ہے اور غیر عملی بھی ۔ اشتراکی فکر کے مطابق انسان سماج کی پیداوار ہوتا ہے ،بے قید Sex  انسان کی ضرورت ہے ،شراب نوشی انسان کا داخلی معاملہ ہے ، اس میں اسے آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آ خر یہ خدابیزار فکر انسان کو لے کہاں جانا چاہتی ہے ، کس قسم کا انسانی سماج بنانا چاہتی ہے جہاں عصمت وعفت کا تصور بھی غلط ہو ، بے حیائی کے ذرائع بھی درست ہوں اور یہ یقین بھی رکھا جاے کہ معاشرہ ہر طرح سے مامون بھی رہیگا ۔ مرضی سے ہو تو ہر طرح کے        Sex  کو نہ صرف یہ کہ درست سمجھا جاے بلکہ اس کو زیادہ سے زیادہ بڑھاوا بھی دیا جاے ۔ اوپر سے اللہ کو مانا ہی نہ جاے اور آخرت میں جوابدہی کے کسی تصور سے کوئی مطلب بھی نہ ہو ۔ تضاد کی مثالیں دنیا میں اور بھی ہوںگيں لیکن اس کے مقابلے کی شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے ۔